پاکستان میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تازہ گیلپ سروے کے مطابق پاکستان میں سال 2020 اور 2021 میں طلاق کی شرح میں کافی اضافہ دیکھا گیا ہے- سروے کے مطابق 70 فیصد خلع کے کیسز تھے جو خواتین نے دائر کئے تھے- یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ خواتین اب مصلحت اور اذیت کی زندگی گزارنے کی بجائے، خلع کو ترجیح دے رہی ہے جس کا حق انہیں مذہبی اور سماجی طور پر حاصل ہے-

طلاق کا معاملہ یقینی طور پر ایک تکلیف دہ عمل ہے جس میں مرد اور عورت کے علاوہ بچے بھی آزمائش سے گزرتے ہیں- اگر تعلقات میں بہتری کی گنجائش اور امید ہے تو ضرور ایک دوسرے کو موقع دینا چاہیے لیکن میرے نزدیک طلاق سے زیادہ اذیت ناک چیز ایک ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزارنا ہے جس کا مزاج، طبیعت، عادت، اطوار اور اخلاق ناقابل برداشت ہو- ساحر لدھیانوی نے شاید سچ ہی کہا تھا-

تعارف روگ بن جائے تو اس کا بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے تو اس کا توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے ایک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا

طلاق یقیناً کوئی برا فعل نہیں ہے لیکن ہمارے معاشرے میں طلاق کو نجانے کیوں مرد اور عورت کی شخصیت پر ایک بد نما داغ سمجھا جاتا ہے- طلاق یافتہ شخص کو بالخصوص عورت کو ہمیشہ شک اور حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جو کہ انتہائی غلط رویہ ہے- یہ رویہ کیسے پروان چڑھا، اس کی کئ وجوہات ہیں- تعلیم کی کمی اور سب سے بڑی وجہ ہمارا منبر ہے جہاں سے ایسے ایسے خطبے دئیے جاتے ہیں کہ جن کو سن کر کوئی بھی شخص جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی بھی قدم اٹھا سکتا ہے اور کسی کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کر سکتا ہے- کیاعورت کے لئے ، ایسے شخص کو بھی خدا کے بعد سجدہ کرنے کا حکم ہوتا، جو اس پر ظلم کرتا ہے، ہاتھ اٹھاتا ہے اور تیزاب پھینکتا ہے؟ جو خود تو 60 سال کا ہے اور شادی کرتا ہے 14 سال کی لڑکی سے-

اسی گیلپ سروے کے مطابق خواتین نے زیادہ تر اپنے شوہر کے گھر والوں اور جوائنٹ فیملی سسٹم کو طلاق کی وجہ بتایا- خواتین نے بتایا کہ کس طرح ان کی آزادی اور سوچ کا گلا گھونٹا گیا اور زبردستی دوسروں کے مطابق زندگی گزارتے گزارتے بالآخر تھک کے اور تنگ آ کے خلع کی طرف جانا پڑا-

ہمارا مسئلہ ہر چیز میں انتہائی حدوں کو چھونا ہے- میانہ روی کا استعمال ہم کم ہی کرتے ہیں- منبر والے ماں کے حقوق بتانے پر آئیں گے تو ایسا لگے گا کہ بیوی تو کوئی بہت ہی حقیر سی شئے ہے- شاعر جاوید اختر صاحب نے سوال اٹھایا تھا کہ ” ماں کی عزت ہونی چاہیئے لیکن کیا میری بچوں کی ماں کی عزت نہیں ہونی چاہیئے "- شوہر کے حقوق بتانے پر آئیں گے تو سمجھایں گے کہ ہر ظلم و ستم سہہ لو پر اف نہ کرنا- بیوی کے حقوق کا درس دیں گے تو لگے گا کہ دوسرے رشتے وجود ہی نہیں رکھتے- اس کا آسان سا حل یہ ہے کہ ہمیں حق اور سچ کے ساتھ دینا چاہیے اور انصاف کی بات کرنی چاہیے-

ہمارے معاشرے میں بالخصوص دیہی علاقوں میں عورت کے ساتھ جو ظلم ہو رہا ہے ، اس کو بیان کرنے کے لئے شاید پوری کتاب لکھنی پڑے- پسند کی شادی کرنے پر غیرت کے نام پر قتل، شادی سے منع کرنے پر تیزاب پھینکنا، کم عمری میں شادی، جبری مذہب کی تبدیلی، وراثت میں حصہ، بیٹا نہ پیدا کرنے پر طلاق اور جبری عزت لوٹنے والے کے واقعات ہمارے یہاں عام ہے لیکن جب عورت میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگاتی ہے تو اس کو غلط معنوں میں لے کر اس کو چپ کرانے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ وہ اوپر بیان کئے گئے معاملات پر ہی سوال اٹھا رہی ہوتی ہے-

اس نعرہ کا مطلب ہے کہ میں کم بچے پیدا کروں گی یا اپنی صحت کو دیکھ کر یہ فیصلہ کروں گی- اس نعرہ کا مطلب ہے کہ کوئی میرے جسم کو میری مرضی کے بغیر ہاتھ نہیں لگا سکتا- نہیں کا مطلب نہیں ہے- اس نعرہ کا اصل مطلب حمل، اسقاط حمل، جبری شادی، جسم فروشی، ہیومن ٹریفکنگ اور جنسی ہراسانی کے ساتھ منسلک ہے- لیکن کچھ مردوں نے اس کا مطلب یہ سمجھا کہ عورتیں جسم فروشی کی اجازت مانگ رہی ہیں-

ویسے جسم فروشی ضمیر فروشی سے تو کہیں بہتر ہے!


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments