سہاگ رات کی سفید چادر کی حقیقت


انسپکٹر اکبر خان بہت توجہ سے حلیمہ کی بات سنتے ہوئے ساتھ ساتھ سوچ رہا تھا کہ یہ ایک پڑھی لکھی لڑکی ہے، جو معاشرے کی روایات اور رسم و رواج سے بھی اچھی طرح واقف ہے۔ یہ جو کچھ کہہ رہی ہے غلط نہیں ہو سکتا۔ کوئی ایسی سمجھدار لڑکی بغیر کسی ٹھوس وجہ کے ایسی بدنامی کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ یقیناً اسے اس الزام سے، جو اس کے نزدیک بے بنیاد بھی ہے، نہایت ہتک کا احساس ہوا ہے۔ مگر خود اکبر خان کا مسئلہ یہ تھا کہ حلیمہ کی شکایت کے ضمن میں کوئی باقاعدہ قانون ہی موجود نہیں تھا جس کے تحت وہ کوئی مقدمہ درج کرتا۔ اس نے اپنی مجبوری کا اظہار حلیمہ سے بھی کر دیا۔ تو حلیمہ نے اس سے درخواست کی کہ جیسے بھی ہو، کوئی راستہ نکالیں۔ میں صرف یہ جاننا چاہتی ہوں کہ اصل ماجرا کیا ہے؟ اس ضمن میں ولید کا اور میرا میڈیکل ٹیسٹ ہی بہتر راستہ ہو سکتا ہے۔ آپ معاملہ اپنے ہاتھ میں لے کریہ ٹیسٹ کروائیں اور رپورٹ کو پبلک کریں۔

اکبر خان نے ولید احمد کو سمجھایا کہ اگر وہ اس ٹیسٹ کے لئے راضی ہو جائے تو وہ ان کے خلاف کوئی دوسری رپورٹ درج نہیں کرے گا، جو کہ وہ کر سکتا ہے۔ اس نے کہا ”میں حلیمہ بیٹی کی درخواست پر تم دونوں کا میڈیکل ٹیسٹ کر اؤں گا اور پھر اس کی روشنی میں آگے بڑھوں گا۔ اس طرح سب لوگ کسی بڑی اور مسلسل مصیبت سے بچ جائیں گے۔ ولید کو کچھ تو اپنے دعوے کی سچائی کا زعم بھی تھا اور کچھ اسے اپنی عزت بھی عزیز تھی، اس نے ہامی بھر لی۔

اکبر خان نے دونوں کو ساتھ چلنے کے لئے کہا۔ کچھ ہی دیر میں حلیمہ کے والدین اور کچھ دوسرے لوگ بھی وہاں پہنچ گئے۔ لیکن تب تک اکبر خان متعلقہ ڈاکٹروں سے رابطہ کر چکا تھا۔ وہ دونوں کو ساتھ لے گیا۔ دونوں کو تفصیلی معائنہ کروانے کے بعد فارغ کر دیا۔ رپورٹ کے بارے میں انہیں بتا دیا گیا تھا کہ اس کے لئے ابھی کئی دن انتظار کرنا پڑے گا۔ چنانچہ ولید اپنے گھر آ گیا اور حلیمہ اپنے والد کے ساتھ چلی گئی۔

حلیمہ گھر پہنچی تو وہاں سکوت مرگ کا سماں طاری تھا۔ اس کی شادی پر آئے ہوئے زیادہ تر رشتہ دار تو اس معاملے کی خبر سنتے ہی اپنے اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔ وہ جو ابھی تک موجود تھے وہ حلیمہ کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ ان کی خوشیوں کی قاتل ہو۔ اس کی والدہ تو اس کے واپس آنے سے پہلے اپنی بہنوں کے ساتھ مل کر اپنے نصیبوں کو رو چکی تھیں۔ جو لوگ بظاہر حلیمہ کی والدہ سے ہمدردی جتاتے ہوئے لڑکے والوں کو برا بھلا کہہ رہے تھے وہ بھی کہیں دل ہی دل میں حلیمہ کے کردار پر شک بھی کر رہے تھے۔ اور یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔

اگر کسی شخص کو حلیمہ کے کردار پر مکمل اعتماد تھا تو وہ تھے اس کے والد یا پھر وہ خود تھی کہ ان حالات میں بھی پوری طرح پر سکون اور مطمئن تھی۔ اس کے سکول کی کچھ ٹیچرز نے بھی باری باری اس سے فون پر رابطہ کیا تھا۔ وہ سب لوگ بھی بظاہر تو اسے حوصلہ دے رہے تھے اور ہر طرح کے حالات میں اس کا ساتھ دینے کا وعدہ بھی کر رہے تھے، لیکن حلیمہ جانتی تھی کہ انہیں بھی میڈیکل رپورٹ کے آنے کا انتظار تھا۔

ادھر ولید احمد کی طرف زیادہ تر مرد تو اسے شاباشی دے رہے تھے مگر کچھ بزرگوں کا خیال مختلف تھا۔ ان کا موقف تھا کہ ہر صورت میں ولیمہ کی رسم گزر جانی چاہیے تھی۔ اور طلاق اگر ضروری بھی تھی تو اس کا اعلان ابھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ایسے دونوں طرف

کے مہمانوں کی دل آزاری اور لڑکی کی بدنامی سے بچا جا سکتا تھا۔ ولید کے والد مکمل خاموش تھے۔ وہ اس موضوع پر کسی سے بھی کوئی بات کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ بیگم خیر النساء البتہ اپنے انداز فکر پر بری طرح ڈٹی ہوئی تھیں۔ وہ بضد تھیں کہ ان کی جانچ پڑتال غلط نہیں ہو سکتی۔ ضرور اصل بات کچھ اور ہے۔ اور یہ بھی کہ ولید نے فیصلہ لینے میں ضرورت سے زیادہ جلدی دکھائی ہے۔ ولید کی بہنیں بھی اپنی والدہ کی ہمنوا تھیں۔

اسی لئے ولید کو اس رپورٹ کا شدت سے انتظار تھا تاکہ وہ سب کو بتا سکے کہ وہی سچا ہے۔ چنانچہ تقریباً ً ایک ہفتے بعد جونہی رپورٹ کے جاری ہونے کی خبر ملی تو ولید بھاگم بھاگ وہاں پہنچا۔ اس کے کچھ قریبی دوست بھی اس کے ساتھ تھے۔

رپورٹ ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے نہایت غور و خوض کے بعد اور پوری تفصیل سے لکھی تھی۔ رپورٹ کے آغاز میں عورت کے پر دۂ بکارت کے بارے میں مندرجہ ذیل حقائق درج تھے۔

”عورت کا پردہ ء بکارت جسے انگریزی میں ہائمن
(Hymen)

کہتے ہیں، کوئی ڈھکن نہیں ہوتا جسے کسی ضرب سے کھولنا یا توڑنا پڑے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ عورت جب آغاز نوجوانی میں پہلا قدم رکھتی ہے تو بھی اس کی ماہواری اسی رستہ سے آتی ہے۔ پردہ ء بکارت دراصل کسی ر نگ کی شکل میں، عورت کی ویجائنا کی دیواروں سے چمٹی ہوئی، ایک لچکدار سی جھلی ہوتی ہے۔ جسے عام پردوں کی طرح ہٹایا بھی جا سکتا ہے۔ یہ زور سے ضرب پڑنے یا زیادہ کھینچے جانے سے بھی پھٹ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سپورٹس اور جمناسٹک کرنے والی اکثر لڑکیاں بغیر کسی مجامعت کے آغاز جوانی میں ہی اس سے محروم ہو جاتی ہیں ”۔

حلیمہ اور ولید کی رپورٹ

امر اولیٰ: سہاگ رات کی مباشرت کے باوجود حلیمہ کا پر دۂ بکارت اپنی جگہ قائم ہے۔
دوسری بات: ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ حلیمہ اس سے پہلے بھی کبھی جنسی عمل سے گزری ہو۔

حلیمہ کے پر دۂ بکارت کی ابھی تک کی موجودگی کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ بہت لچکدار ہے۔ اس نے پیچھے ہٹ کر ولید کے عضو تناسل کو راستہ تو دیا مگر خود اپنی جگہ موجود رہی۔ دوسری اور زیادہ اہم وجہ یہ ہے کہ ولید کے عضو تناسل میں وہ موٹائی اور سختی ہی نہیں تھی جو حلیمہ کے پر دۂ بکارت کو ایسی ضرب لگا سکتا، جس سے وہ زخمی ہوتا یا پھٹ جاتا، اس لئے سفید چادر سفید ہی رہی۔

رپورٹ پڑھتے ہی ولید کے تو پیروں تلے سے زمین ہی نکل گئی۔ رپورٹ بڑے ماہر ڈاکٹروں نے لکھی تھی۔ شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔ اگر اسے ذرا بھی خیال ہوتا کہ رپورٹ ایسی بھی ہو سکتی ہے تو شاید وہ کسی طرح اسے تبدیل کروانے کی کوشش بھی کرتا۔ لیکن اب تو معاملہ ہاتھ سے ہی نکل چکا تھا۔

رپورٹ کا پہلا حصہ جو حلیمہ کی دوشیزگی کے بارے میں تھا، اس سے تو وہ ابھی بھی خائف نہ تھا۔ مگر آخری سطور میں جو خود اس کے مردانہ عضو اور اس کی صلاحیت کے بارے میں درج تھا، اس کے ہوش اڑانے کے لئے کافی تھا۔

وہ واپس اس کلرک کے پاس پہنچا، جس سے چند منٹ پہلے ہی یہ رپورٹ حاصل کی تھی اور جاننا چاہا، آیا حلیمہ کی طرف سے بھی کوئی اس رپورٹ کی کاپی لے کر جا چکا ہے یا ابھی تک نہیں؟ جواب ملا کہ وہ تو دونوں باپ بیٹی صبح صبح ہی اپنی کاپی لے کر جا چکے ہیں۔ اگلے سوال پر یہ جانکاری بھی دی گئی کہ یہ پولیس کیس ہے اور یہ رپورٹ پبلک کی جا چکی ہے۔ اب کوئی بھی شخص فیس ادا کر کے اس رپورٹ کی کاپی حاصل کر سکتا ہے تو ولید کے تو ہاتھوں کے طوطے ہی اڑ گئے۔

اس کے دوستوں نے یہ بتا کر اسے حوصلہ دینے کی کوشش کی کہ چند ہفتوں کے علاج سے اس کی کمزوری مکمل طور پر دور ہو سکتی ہے مگر ولید تو اس وقت کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔ اسے یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ اب وہ ان لوگوں کا سامنا کیسے کرے گا، جن کے روبرو وہ حلیمہ کی بدکرداری کے دعوے کرتا رہا ہے؟

دوستوں کے ساتھ مشورہ کر کے اس نے پہلا فیصلہ یہ کیا کہ فوری طور پر حلیمہ کے گھر پہنچے اور صلح صفائی کرنے کی کوشش کرے۔ اسے امید تھی کہ وہ منت سماجت کر کے انہیں راضی کر لے گا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ لوگ بھی بگڑی ہوئی بات کو بنتے دیکھ کر مان جائیں گے۔ سو وہ دوستوں کو لے کر پہلے سیدھا حلیمہ کے والد کے گھر پہنچا۔ وہاں پہنچ کر اس نے جو دیکھا تو رہی سہی امید بھی جاتی رہی۔

حلیمہ اپنے گھر کے لان میں، ایک پریس کانفرنس کو ایڈریس کر رہی تھی۔ پریس کے ہر نمائندے کو اس رپورٹ کی کاپی فراہم کی جا چکی تھی۔ اوریجنل انہیں دکھا کر محفوظ کر لی گئی تھی۔ ولید نے پھر بھی کوشش کی کہ حلیمہ اس پریس کانفرنس کو روک دے کیونکہ اب وہ آ گیا ہے اور وہ ہر شرط پر صلح کرنے، یہاں تک کہ پریس کے سامنے معافی مانگنے کے لئے بھی تیار ہے۔ مگر حلیمہ نے نہ صرف یہ کہ اس کی بات سننے سے ہی انکار کر دیا بلکہ پریس کے نمائندوں کو بھی بتا دیا کہ وہ کون ہے؟

اور اس وقت یہاں کیوں آیا ہے؟ پریس والوں نے ولید پر نہایت تیز، نوکیلے اور ذلت آمیز سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ ولید بصد مشکل ان نے جان چھڑوا کر وہاں سے بھاگ سکا۔ حلیمہ نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ان حالات و واقعات کی روشنی میں ضروری ہو گیا ہے کہ اب لڑکی والے بھی شادی سے پہلے لڑکے کی صحت کے سرٹیفیکیٹ کا مطالبہ کیا کریں۔ صحت مطلب، ہر نوع کی صحت، ورنہ لڑکیوں پر اسی طرح الزام لگتے رہیں گے اور ان کی زندگیاں برباد ہوتی رہیں گی۔

شام کو ہی مختلف ٹی وی چینلز نے یہ خبر خوب چٹخارے لے کر چلائی۔ دوسرے دن اخبارات کی زینت بھی بن گئی۔ حلیمہ کے سکول سٹاف نے اس کے اعزاز میں ایک جلسے کا انعقاد کیا اور اس کی بہادری پر اسے خراج تحسین پیش کیا۔

ولید نے بدنامی سے گھبرا کر کسی دور کے شہر میں ٹرانسفر کرا لی۔ حلیمہ کی چند ماہ بعد ہی ایک ایسے بڑے بزنس مین سے شادی ہو گئی جو کافی دیر سے اس جیسی پراعتماد، قابل اور بہادر لڑکی کی تلاش میں تھا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2