اسلامی نظام کے نفاذ کے بعد افغانستان میں دودھ اور شہد کی نہریں


جب بھی پاکستان میں کوئی مسئلہ پیش آتا ہے، کوئی اخلاقی جرم ہوتا ہے، کوئی غربت کے باعث اپنے بچے مار کر خودکشی کرتا ہے، چوری ہوتی ہے، ڈاکا پڑتا ہے، قتل ہوتا ہے تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ سب دین سے دوری کا نتیجہ ہے اور اسلامی نظام نافذ ہوتا تو ایسا نہ ہوتا جو ہوا ہے۔ مغرب زدہ لوگ تو اپنے معاشرے کی ہر اچھی بات پر شرمندہ ہوتے ہیں اور مغرب کی مثالیں دیتے ہیں۔ یہاں بھی وہ جھٹ سے اعتراضات اٹھا دیتے ہیں کہ مغرب میں جو فلاحی نظام ہے، حکومت اپنے شہریوں کا خیال رکھتی ہے، قانون کے سامنے عام شہری بھی طاقتور اور طاقتور بھی کمزور ہوتا ہے، تو کیا وہ مسلمان ہیں؟ وہ تو مسیحیت کو بھی ترک کیے بیٹھے ہیں۔ وہاں حکومت تو سیکولر ہوتی ہی ہے، شہری بھی لادینیت کی طرف جا رہے ہیں۔ تو وہاں ایسا اچھا نظام کیوں ہے کہ اسلامی ممالک سے لوگ وہاں منتقل ہوتے ہیں؟ اصل چیز تو انسانیت اور علمی ترقی ہے جو ان کے عروج کا راز ہے۔

دیکھیں ان مغرب زدہ معترضین سمجھنا چاہیے کہ یہ دنیا جائے امتحان ہے۔ یہاں نیک بندوں کا ہر پل امتحان لیا جاتا ہے اور بدی کی راہ پر چلنے والوں کی رسی دراز کی جاتی ہے۔ اہل مغرب اس فانی دنیا میں ہم سے اس وقت بڑھ گئے ہیں لیکن اخروی زندگی میں وہ بہرحال پسماندہ ہی ہوں گے۔ جبکہ ہم جنت کے مزے لوٹیں گے۔ لیکن ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ ہمارے مصائب کی وجہ یہ ہے کہ ہم دین سے دور ہو چکے ہیں۔

یہ نہایت معقول اور منطقی بات سن کر مغرب سے متاثر لوگ کٹ حجتی پر اتر آتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کوئی ایک اسلامی ملک تو دکھاؤ جہاں اسلامی نظام نافذ ہو۔ یہ سن کر ہم ہمیشہ لاجواب ہو جاتے تھے۔ شکر ہے کہ اب افغانستان میں طالبان کی فتح کے بعد ہم ایک ایسی ریاست کی مثال پیش کر سکتے ہیں جہاں بہت پکے سچے مسلمان اپنی فہم کے مطابق اسلامی نظام کو سمجھ کر نافذ کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ وہاں اب دین سے دوری کا مسئلہ باقی نہیں رہا۔

طالبان کے متعلق ہم جانتے ہیں کہ وہ دنیا داروں کی طرح مال دولت کے پجاری نہیں ہیں۔ وہ حرام مال پر لعنت بھیجتے ہیں۔ پانچ وقت کی نماز خود بھی پڑھتے ہیں اور اپنے زیر نگین لوگوں کو بھی پڑھاتے ہیں۔ وہ مخلمیں لباس میں ملبوس نہیں ہوتے۔ وہ کھدر پہننے والے بوریا نشین ہیں۔ وہ ہر وقت لرزاں رہتے ہیں کہ جب یوم قیامت ان سے سوال ہو گا کہ تمہاری حکومت میں بچے بھوکے کیوں ہیں تو وہ خدا کو کیا جواب دیں گے اور وہ ایسی نوبت ہی نہیں آنے دیتے کہ ان سے ایسا سوال کیا جائے جس کا جواب وہ نہ دے پائیں۔

اب جبکہ افغانستان میں دین سے دوری کا مسئلہ حل ہو گیا ہے اور درویش صف مومن مسند اقتدار سنبھال چکے ہیں تو امید ہے کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے بعد افغانستان کے تمام معاشی اور معاشرتی مسائل حل ہو چکے ہوں گے۔ نہ صرف جرائم اور اخلاقی مسائل کی بیخ کنی ہو چکی ہو گی بلکہ سودی بینکاری نظام کے خاتمے سے معیشت دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہی ہو گی۔ حکمران وہاں کمر پر اناج کی بوریاں اور ہاتھوں میں تیل کی کپیاں اٹھا کر گھوم رہے ہوں گے کہ کوئی بھوکا ہے تو اسے دیں لیکن کوئی مستحق ملتا نہیں ہو گا۔ عورتوں کو اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی پانے کے لیے ملازمتیں نہیں کرنی پڑتی ہوں گی بلکہ ان کا مقرر کردہ وظیفہ ان کے گھر پہنچتا ہو گا۔ شیر خوار بچوں کا وظیفہ بھی ان کی پیدائش کے وقت سے مقرر کیا جا چکا ہو گا۔

امریکہ سے فرانس اور چین سے ڈنمارک تک غیر مسلم ملک ان کی ہیبت سے لرزتے ہوں گے، ایران جیسا شیعہ ملک اور تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان جیسے سیکولر ملک ان کا حال دیکھ کر سیکھتے ہوں گے۔ ساری دنیا کے مسلمان یہ کہتے ہوں گے کہ اب افغانستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے بعد وہ ایک سپر پاور بن گیا ہے تو آئندہ کشمیر سے لے کر برما اور فلپائن سے لے کر بوسنیا تک کوئی ان کی طرف میلی نظر ڈالنے کی جرات نہیں کرے گا۔

افغانستان نہ صرف سود سے چھٹکارا پا کر ایک معاشی سپر طاقت بن چکا ہو گا بلکہ اس کے مسلم سائنسدان اسے ٹیکنالوجی کی سپر پاور بھی بنا چکے ہوں گے۔ یا کم از کم بھی اس راستے پر سفر شروع ہو چکا ہو گا۔ ہر طالب وہاں ایک ہاتھ میں لوٹا اور دوسرے میں لیپ ٹاپ اٹھائے پھرتا ہو گا کہ وقت نماز آئے تو وضو کرے اور باقی وقت لیپ ٹاپ سے صنعت، حرفت، تجارت اور سوشل میڈیا کی دنیا میں اپنی فتح کے جھنڈے گاڑ دے۔

بعید نہیں کہ اس وقت کووڈ کی وبا کی وجہ سے بدحال مغربی ممالک کے سفارت کار کابل میں ڈیرے ڈالے بیٹھے ہوں کہ شاید افغانستان انہیں دو چار کھرب ڈالر دے دے۔ عین ممکن ہے کہ وہ جزیہ بھی دینے پر آمادہ ہو چکے ہوں۔ امکانات کی ایک دنیا آباد ہے۔ خواہشات کا ایک سمندر موجزن ہے۔ حقائق کی ایک کائنات رقصاں ہے۔

گمان غالب ہے کہ اس وقت مغرب کے چند ایجنٹ یہ دعویٰ کر رہے ہوں گے کہ افغانستان میں لوگ بھوکے مر رہے ہیں، اپنے گھروں کا سامان بیچ رہے ہیں اور خریدار کوئی نہیں ملتا، افغان حکومت اس وقت مغرب سے خیرات مانگ رہی ہے اور کہتی ہے کہ پیسے دو ورنہ تم سے افغان مہاجرین کا سیلاب سنبھالے نہیں سنبھلے گا، مگر آپ نے اس پروپیگنڈے پر یقین نہیں کرنا۔ کیونکہ غیور افغان اس وقت مسلم دنیا کا وہ سب سے بڑا مسئلہ حل کر چکے ہیں جس کی وجہ سے مسلم ممالک تنزلی کی کھائی میں گرے پڑے تھے۔ وہاں اب دین سے دوری باقی نہیں رہی۔

ہاں یہ تسلیم کہ افغانستان میں دنیا سے دوری کا معمولی سا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے لیکن یوں اوج ثریا پر پہنچے والوں کے قریب دنیا کہاں پھٹکتی ہے؟ ہم پاکستانیوں کا آئیڈیل بھی دنیا سے دور پہنچا افغانستان ہے، کوئی امریکہ یورپ جیسا دنیا دار ملک نہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1516 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments