ٹیچر ہونے کا سوال


صبح سویرے جب نیند سے بیدار ہوتا ہوں تو پہلا خیال یہ آتا ہے کہ سکول جانا ہے۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ کو ٹیچر ثابت کرنے میں جھٹ جاتا ہوں۔ ایک استاد کی وہ کون سی صلاحیتیں یا خاصیتیں مجھ میں موجود ہیں جو مجھے اس کی عظمت سے منسلک کر سکیں۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر زور زور سے اپنی خوبیاں گنوانا شروع کر دیتا ہوں۔ میں بولتا چلا جاتا ہوں آئینہ ہنستا چلا جاتا ہے۔ میری تقریر زور پکڑتی چلی جاتی ہے اور آئینہ بھی دو دو ہاتھ کرنے پر آ جاتا ہے جونہی میری تقریر ختم ہو جاتی ہے تو سامنے کھڑا شخص مجھے ”جھوٹا ہے جھوٹا ہے“ کے نعروں سے نوازتا ہے۔ سوچتا ہوں کہ آئینے کو وہ کیا دکھا دوں کہ کبھی وہ بھی میری وکالت کر کے مجھے پیشہ ور استاد ثابت کرے۔

جس سکول سے وابستہ ہوں اس پر ہائی کا ٹیگ لگا ہوا ہے لفظ ہائی کو دیکھ کر ہائی بلڈپریشر یاد آ جاتا ہے مگر سکول کا بلڈپریشر اتنا لو ہے کہ اگر اسے سال بھر گلوکوز کا ڈرپ چڑھایا جائے تب بھی اس کی بلڈپریشر نارمل پوزیشن پر آ نہیں پاتا۔

ہیڈماسٹر کی سیٹ گزشتہ دو ماہ سے خالی ہے۔ مجھے اس کی صحت پر تشویش لاحق ہو گئے تھے کہ صحت کی صورتحال دریافت کرنے مجھے خود کوئٹہ کا رخ کرنا پڑتا اگر میری نظر سوشل میڈیا پہ چلنے والی ایک صحت مند تصویر پر نہیں پڑتی جس میں موصوف وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

کرسی ہے کہ منہ تکتا ہی رہتا ہے۔ مگر طفل تسلی کے سوا کچھ نہیں۔ اب ایسی صورتحال میں سکول کا نظام بھلا کیسے چل پائے۔ نظام تعلیم کی ضلعی گدی پر جسے براجمان کیا جاتا وہ بیچارہ اس ڈر و خوف سے سانس ہی نہیں نکال پاتا کہ کہیں اسے اپنی کرسی سے ہاتھ دھونا نہ پڑ جائے۔

اب بھلا کیا کیا جائے کہ جب کپتان ہی ندارد ہو تو ٹیم کا کیا کیا جائے۔ مجھے ذمہ داری لینے اور ذمہ داری سونپنے والے دونوں کی صحت پر شدید تشویش لاحق ہیں۔

اسی تشویش کا شکار سکول بھی ہے۔ تشویشناک صورتحال دن بدن اس کی صحت پر اثرانداز ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ مرض نے اب اپنا دائرہ کار بڑھا کر پوری سکول کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

ہیڈماسٹر کے نقش قدم پر ہم ٹیچرز بھی چل نکلے ہیں ایک نے بیماری کا نعرہ لگایا تو دوسرے نے خانہ شماری کا، تیسرے نے آوارہ گردی کا تو چوتھے نے ذہنی تفریح کا تو کسی کا نعرہ سیاسی تھا۔ فضا میں نعروں کی ایسی گونج سما گئی کہ تحلیل ہونے کا نام نہیں لے رہا فلک شگاف نعروں کی بلند ہوتی ہوئی آواز میں بھلا کون اپنے آپ کو سزاوار ٹھہرائے۔ ورنہ فتویٰ کسی بھی وقت لگ سکتا ہے یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ فتوؤں کی نوعیت کیا ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments HS