جہیز، معاشرے کا ناسور
آج کے نفسا نفسی کے دور میں جب ہر شخص سے زیادہ زیادہ دولت کے لیے سرگرداں ہے، جہیز کو آسان طریقے سے حصول دولت کا ایک ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے آج کل معاشرے میں ناک اونچی رکھنے کے لیے جہیز بھی خواتین کے حقوق کے استحصال کا ایک آلہ ہے۔ لوگ بیٹی کی پیدائش پر یہ سوچ کر ہی پریشانی میں ڈوب جاتے ہیں کہ اس کے لیے جہیز کیسے تیار کیا جائے یہی وجہ ہے کہ جب کسی کے ہاں بیٹی پیدا ہو جائے تو اس کے لیے بچت کر کے ناگزیر ہوجاتی ہے باپ پہلے سے کہیں زیادہ محنت کر کے روپیہ بچانے کی کوشش کرتا ہے تو ماں پائی پائی کی بچت کر کے اپنی لاڈلی بیٹی کا جہیز تیار کرتی ہے
افسوس کے ساتھ ہمارے معاشرے کے متمول گھرانے سادہ طرز حیات اختیار کرنے کی بجائے بے جا اسراف کی طرف مائل ہیں اس طبقے کی دیکھا دیکھی سفید پوش غریب گھرانوں میں بھی جہیز کی روایت جڑ پکڑتی جا رہی ہے لڑکی کے والدین اس ضمن میں مجبور ہوتے ہیں کیونکہ لڑکے والوں کے تقاضے پورا کرنا بیٹی کی خاطر ان کے لیے ضروری ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف لڑکے والے ہیں کہ لڑکی کے گھر والوں کی مخدوش حالت دیکھتے ہوئے بھی انہیں رحم نہیں آتا اور جہیز میں ہر شے لینے کا تقاضا کرتے ہیں۔
اس کے باوجود سفید پوش طبقے کو معاشرے میں اپنا بھرم برقرار رکھنے کے لیے آخر کثیر مقدار میں رقم قرض لینا پڑتی ہے اس بڑھاپے میں عمر بھر کی کمائی لٹانے کے بعد بھی والدین کا بال بال قرض میں جکڑا جاتا ہے یہ سب کچھ اس لیے ہے کیونکہ آج کل جہیز کے بغیر بیٹی کی شادی کا تصور محض دیوانے کا خواب بن کر رہ گیا ہے۔
ہماری معاشرتی روایات کے ماتم کے لیے یہی بات کافی ہے کہ ہمارے ہاں لڑکی کو جہیز کے ترازو میں تولا جانے لگا ہے، عورت کو جہیز کے ترازو میں تولنا اس کے تقدس کو مجروح اور اس کی ہستی کو بے مایہ ثابت کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے نہ جانے کب تک عورت کے وقار کو جہیز کے نام پر قربان کیا جاتا رہے گا۔ جہیز کو عورت کی کمزوریوں کا مداوا قرار دیا جانے لگا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جہیز کیسی بھی کمزوری کی تلافی نہیں کر سکتا یہ صرف ہماری زوال پذیر قدروں کا مرثیہ ہے کہ آج کل ہم صرف مصنوعی چکا چوند کے قائل ہوچکے ہیں اور یہ بات فراموش کر چکے ہیں کہ
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
حقیقت میں جہیز کی موجودہ روایت کا ایک اسلامی معاشرے میں کوئی جواز نہیں ہمارے ہاں یہ رسم ہندوانہ تہذیب کا تحفہ ہے ہندوؤں کے ہاں چونکہ عورت کو وراثت میں حصہ دار نہیں سمجھا جاتا بلکہ جہیز کی صورت میں اس کے والدین کی طرف سے حصہ دیا جاتا ہے جبکہ ایک اسلامی معاشرے میں وراثت میں عورت کے لیے حصہ رکھا ہے اور جہیز کی روایت سرے سے بلا جواز اور بے بنیاد ہے۔ بعض لوگ جہیز کے جواز میں عذر پیش کرتے ہیں کہ خاتم النبیین ﷺ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ کو جہیز دیا حالانکہ وہ صرف چند چیزیں تھیں علاوہ ازیں آپ نے عورت کے نان و نفقہ اور ضروریات زندگی کی فراہمی کو مرد کا فریضہ قرار دیا ہے جبکہ آج کل جہیز کی روایت کا فروغ اس بات کا بھی مظہر ہے کہ مردوں میں غیرت کا عنصر مفقود ہو چکا ہے۔
جہیز کی روایت کے فروغ میں معاشرے کا عمل دخل ہے، اس ضمن میں نمائش اور دکھاوے کا عنصر بہت نمایاں ہے جہیز کی بدولت لڑکی انتخاب میں دولت کی حیثیت بنیادی اور لڑکی کی نسوانیت، سلیقہ مندی، دینداری، حسن اخلاق اور شرم و حیا سب صفات ثانوی حیثیت اختیار کر گئی ہیں آج کا معاشرہ حقائق سے چشم پوشی اختیار کر کے محض سراب کے پیچھے بھاگ رہا ہے آج ہم نے اپنے ناقص شے کا انتخاب کر لیا ہے اور گویا خود اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے لیے گڑھا کھود رہے ہیں۔
جہیز کی کوئی شرعی حیثیت امور نکاح میں نہیں اس کے باوجود آج کل کے مادیت پرست معاشرے میں اسے امور شادی کلیدی حیثیت تفویض کردی گئی ہے، جہیز میں صرف بساط بھر سامان شامل نہیں بلکہ اس میں وہ تمام تعیشات زندگی شامل کردی گئی ہیں جو آج بلند معیار زیست کی علامت سمجھی جاتی ہیں، مشرقی معاشرے میں جہیز کی روایت سماج کے لیے ایک ناسور کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ معاشرے میں جہیز کی روایت فروغ میں مادیت پرستی، بے پناہ دولت کے حصول کی خواہش، لالچ و حرص، نمائش، دکھاوا اور اسراف پسندی وغیرہ جیسے عوامل کار فرما ہیں۔
یہ فکر کا مقام ہے کہ جہیز کی اس روایت کو فروغ دینے میں ہم سب کی بے حسی کار فرما ہے آخر کب تک ہم ان جھوٹی اور خود ساختہ روایات کے پھندوں میں گرفتار رہیں گے۔ نمود پرستی اور تکلف جیسے رویے ہماری معاشرتی اقدار کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ مادیت پسندی کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب میں ہماری روحانی قدریں خس و خاشاک کی طرح بہہ رہی ہیں اور ہم خاموش تماشائی کی طرح خود اپنی بربادی کا تماشا دیکھ رہے ہیں یہ اندھی تقلید ہمارے لیے باعث فخر نہیں، مقام عبرت ہے
جہیز کی روایت کے خاتمے کے لیے نوجوان نسل کو فعال کردار ادا کرنے کی بھر پور ضرورت ہے تاکہ معاشرے سے اس روایت کی جڑیں ختم کی جاسکیں۔ اس کے علاوہ حکومتی سطح پر جہیز کی روایت کے خاتمے پر خاص اقدامات کرنے چاہیے اور جہیز کی اس روایت کے خلاف قلم زبان اور عمل ہر لحاظ سے بھرپور انداز میں کام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم کہنہ روایات کے گرویدہ بن کر نہ رہ جائیں بلکہ ایک روشن مستقبل کے معمار ثابت ہو سکیں۔

