الیکٹرانک ووٹنگ نظام کا جائزہ



ترقی کا عمل پیہم اور مسلسل ارتقاء پذیر ہے، پتھر کے دور سے لے کر خلاؤں پر کمند ڈالنے اور مریخ کو مسخر کرنے کی کوششوں تک انسان نے علم و حکمت، تہذیب و تمدن، صنعت و حرفت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ایک طویل سفر طے کیا ہے ترقی کا یہ عمل جاری و ساری رہے گا اور کسی بھی طور، اس کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔ سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی نے صحت، تعلیم، کاروبار، مواصلات، صنعت و حرفت، طرز حکومت اور نمائندوں کے چناؤ، غرض یہ کہ تمام شعبہ ہائے زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور روایتی طریقے اب جدید انداز میں بدل رہے ہیں۔

دنیا کے بیشتر ممالک میں عوامی نمائندگان کے چناؤ اور حکومتوں کے قیام کے لئے انتخابات کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کا سب سے مقبول اور کثیرالاستعمال طریقہ، کاغذی بیلٹ پیپر ہے، اس کے برعکس کچھ ممالک اس کو اب جدید الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے بدل رہے ہیں، جن ممالک میں الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کسی نہ کسی شکل میں رائج ہے ان میں امریکہ، آسٹریلیا، بیلجیئم، برازیل، اسٹونیا، بھارت، جرمنی، فرانس، اٹلی، نمیبیا، نیدرلینڈ، پیرو، ناروے، سوئزرلینڈ، برطانیہ، وینزویلا، فلپائن وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

حال ہی میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے رائے عامہ کے جائزے اور بحث و مباحثہ کے انعقاد کے بغیر، انتہائی عجلت میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کا قانون منظور کر لیا ہے، باوجود یہ کہ الیکشن کمیشن نے اس پر سینتیس اعتراضات کیے تھے، تاہم یہ قانون الیکٹرانک گورنمنٹ (e۔ Govenment) کی جانب ایک مثبت قدم ہے، اس قانون کی منظوری کے بعد پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر اس سسٹم کے حق اور مخالفت میں نئی بحث چھڑ گئی ہے، اس ضمن میں اس نظام کے فوائد اور نقصانات کے حوالے سے ایک جائزہ پیش ہے۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال آسان، برق رفتار اور قابل بھروسا ہونے کے علاوہ معاشی نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ بیلٹ پیپروں کی چھپائی، انتخابی فہرستوں کی تیاری اور چھپائی، بیلٹ بکسوں کی تیاری، ترسیل، حفاظت، عملے کی تربیت اور معاوضوں پر زر کثیر صرف ہوتا ہے اس لاگت میں الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کے استعمال سے قابل ذکر کمی لانا ممکن ہے، جبکہ بیلٹ پیپر کا عدم استعمال ماحولیاتی نقطہ نظر سے بھی انتہائی مفید ہے۔

الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم میں ووٹروں کی شناخت اور تصدیق کا عمل شفاف اور آسان ہے، اس میں بائیومیٹرک تصدیقی نظام کے اضافے سے جعلی اور بوگس ووٹنگ کا خاتمہ بھی ممکن ہے جبکہ ووٹوں کی گنتی اور نتائج کی تیاری کا عمل سہل اور تیزرفتار ہے اور پولنگ کے خاتمے کے محض دو گھنٹے کے اندر نتائج کا اعلان ممکن ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں طویل عرصے تک کارآمد ہیں یعنی خریداری کے بعد ان کو بارہا استعمال کیا جا سکتا ہے جو بیلٹ پیپر کے استعمال سے ممکن نہیں ہے۔

الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم میں فاصلاتی اور انٹرنیٹ ووٹنگ کے باعث پولنگ کا عمل تیز رفتار ہوتا ہے اور جو لوگ روزگار یا اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے باعث بیرون ممالک یا دوسرے شہروں میں مقیم ہونے کے باعث اپنے حلقہ انتخاب میں ووٹ دینے سے محروم رہ جاتے ہیں وہ بھی باآسانی انتخابی عمل میں شریک ہو سکتے ہیں علاوہ ازیں مریض اور معذور افراد جو ہسپتال یا قیام گاہ سے پولنگ اسٹیشن پر جانے سے قاصر ہوتے ہیں اس سہولت سے باآسانی استفادہ کر سکتے ہیں اور یوں زیادہ افراد کی انتخابی عمل میں شرکت اور تیز رفتار نظام کے استعمال سے ووٹ دینے کی شرح (Turnover) میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔

ووٹروں کا دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں رہائش کے باعث پولنگ اسٹیشن پر بر وقت نہ پہنچ پانا، سفری سہولیات کی عدم دستیابی، جعلی ووٹ، ایک سے زائد بار ووٹ پول کرنا یا مرحومین کے نام پر ووٹ پول کرنا، ووٹوں کی گنتی کا درست نہ ہونا، انتخابی نتائج میں رد و بدل یا غلط ہونا، پولنگ کا وقت ختم ہونے کے باعث ووٹ دینے سے محروم رہ جانا، انتخابی فہرستوں میں رد و بدل اور حلقہ انتخاب کا غلط ہونا یا تبدیل ہو جانا جیسے عوامل کا تدارک الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کے رائج سے ممکن ہے۔

الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کے استعمال کا سب سے کمزور پہلو، اس کا ہیکنگ (Hacking) اور سائبر حملوں (Cyber Attacks) کا با آسانی شکار ہونا ہے کیوں کہ ہر وہ کمپیوٹر نظام جو تنہا روبہ عمل (Stand alone Operated) ہو یا کسی نیٹ ورک سے منسلک ہو، لا سلکی (Wireless) یا نیٹ ورک کے ذریعے با آسانی ہیکنگ (Hacking) اور سائبر حملوں (Cyber Attack) کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے، یوں ہیکرز یا شر پسند عناصر انتخابی عمل اور نتائج کو اپنی مرضی سے تبدیل کر سکتے ہیں یا ان پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، اور دنیا کے جدید ترین ممالک بھی، ابھی تک ان سائبر حملوں (Cyber Attacks) کا توڑ کرنے سے قاصر ہیں، جن میں امریکی صدارتی انتخابات (جن میں ڈونلڈ ٹرمپ فاتح رہے ) میں روسی ہیکروں کی دخل اندازی، پینٹاگون کے نظام پر ہیکروں کا قبضہ اور ایرانی جوہری پروگرام پر سائبر حملہ (Cyber Attack) واضح مثالیں ہیں اور چھوٹے موٹے واقعات کا تو ذکر ہی کیا، حال ہی میں پاکستان کے جدید ترین سائبر سیکورٹی نظام (Cyber Security System) کے حامل، چند بڑے بینکوں کے نظام کو ہیکروں نے سائبر حملوں کا نشانہ بنایا ہے جو سائبر سیکورٹی نظام (Cyber Security System) کی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اس لئے الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کو کسی بھی طور محفوظ، ناقابل رسائی اور ناقابل تحریف (untempered) قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔

اس نظام کے نفاذ کا معاشی پہلو، انتہائی اہم ہے، موقر اخبار، ایکسپریس ٹریبیون (Express Tribune) میں شائع ہونے والے ایک وفاقی وزیر کے بیان کے مطابق، پاکستان میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی خریداری پر پچیس ارب سے زائد لاگت آئے گی، امریکہ میں اس مشین کی قیمت چار سو سے پانچ سو ڈالر ہے اور روزنامہ ڈان اور دی نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن نے آٹھ لاکھ مشینوں کی مانگ کی ہے، اس لحاظ سے یہ لاگت اکہتر ارب روپے سے زائد ہو گی، بھارت میں 2019 کے انتخابات میں ایک کھرب سولہ ارب پاکستانی روپے خرچ کیے گئے یوں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر اور پاکستانی روپے کی گراوٹ کے تناظر میں ان اخراجات کا تخمینا ڈیڑھ کھرب روپے تک بھی لگایا جا سکتا ہے جو پاکستان کی تباہ حال معیشت کے تناظر میں، نا قابل برداشت بوجھ ہو گا، جب کہ ان مشینوں کی تنصیب، ان کو نیٹ ورک سے منسلک کرنے، مرمت، دیکھ بھال، سٹوریج، حفاظت اور سافٹ ویئر کی ترقی (Software Upgradation) کے لئے درکار اضافی اخراجات قومی خزانے پر اضافی بوجھ بنیں گے۔

پاکستان کے پچھلے قومی انتخابات میں آر ٹی ایس سسٹم (RTS System) کی سست روی یا خرابی کے تناظر میں الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کا کلی یا جزوی طور ناکارہ (Total or partial collapse) ہونے کا احتمال ہے علاوہ ازیں دوبارہ گنتی کی صلاحیت نہ ہونا، عوام کی اکثریت کا کمپیوٹر اور جدید نظام سے عدم واقفیت (Computer illiteracy) ، انٹرنیٹ نظام کی سست روی اور عدم دستیابی، ووٹر کا پراکسی (proxy) سے خفیہ نہ ہونا اور اور ووٹروں کا عدم اعتماد بھی اس نظام کے منفی پہلو ہیں۔

ایک اور اہم قابل ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو ، کسی ٹیسٹ اور ٹرائل سے گزارے بغیر براہ راست انتخابات میں استعمال کرنے کا پروگرام ہے جو کہ انتہائی غیر دانشمندانہ اقدام ہو گا، اس ضمن میں بھارت اور برازیل کی مثالوں کو مد نظر رکھنا ہو گا جو کافی عرصے سے انتخابات میں ان مشینوں کا استعمال کر رہے ہیں، بھارت میں یہ مشینیں مقامی طور پر تیار کی جاتی ہیں اور ان مشینوں کو ستر سے زائد ٹیسٹ کوالی فائی کرنے کے بعد عملاً استعمال میں لایا گیا، برازیل میں ان مشینوں نے چھیانوے کوالیفیکیشن ٹیسٹ پاس کیے ہیں اور پچھلے انتخابات میں ان مشینوں کا بارہواں ورژن (Version) استعمال میں لایا گیا، ان دو ممالک نے ایک طویل عرصے تک ان مشینوں کی ممکنہ خرابیوں پر قابو پانے اور ان کی بہتری کے لیے انھیں ٹیسٹنگ اور کوالیفیکیشن (Testing & Qualification) کے عمل سے گزارا ہے اور اب بھی ان کی بہتری کے لئے کام جاری ہے، لیکن پاکستان وہ واحد ملک ہو گا جہاں ان کو براہ راست عام انتخابات میں استعمال کیا جائے گا۔

دنیا کے اکتیس ممالک میں ان مشینوں کے استعمال کے تجربات کیے گئے اور ان ممالک کی اکثریت نے ان کو ناقابل عمل قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، امریکہ میں حالیہ صدارتی انتخابات (جس میں جو بائیڈن منتخب ہوئے ) میں صرف% 25 ووٹ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے ڈالے گئے جب کہ % 75 ووٹ بیلٹ پیپر کے ذریعے ڈالے گئے، فرانس نے بیرون ملک مقیم شہریوں کے لئے صرف اوورسیز کونسل کے انتخابات کے لئے ووٹ دینے کا حق دیا ہے، برطانیہ نے 2007 میں سکاٹ لینڈ میں صرف ووٹوں کی گنتی کے لئے اس نظام کو استعمال کیا، جبکہ نیدرلینڈ نے 2007 اور جرمنی نے 2009 میں اس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔

بیرون ملک مقیم ووٹروں کا پاکستان میں موجود انتخابی حلقوں اور حالات کے زمینی حقائق سے لا علم ہونا اور کسی پارٹی یا حکومتی پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر درست انتخاب نہ کر سکنا بھی اس نظام کا ایک ممکنہ منفی پہلو ہے۔

دنیا کی جدید ترین اور عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹیوں میں اس نظام کی خرابیوں پر قابو پانے، اس کو آسان، ہر لحاظ سے محفوظ اور قابل عمل بنانے کے لئے تحقیق (Research) جاری ہے اور امید ہے کہ محققین اس نظام کو محفوظ اور قابل عمل بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments