نواز شریف کی مقبولیت سے انکار کیوں ممکن نہیں؟


نواز شریف پاکستان کے تین دفعہ وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ اور کچھ حقائق ایسے ہیں جو ان کی مقبولیت کی بنیاد ہیں جن میں پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا، پاکستان میں موٹرویز اور مواصلات کا جال، کراچی کا امن، دہشت گردی کا خاتمہ، انرجی کی ضرورت کا پورا ہونا، پاکستان کی معاشی ترقی کے منصوبوں، سی پیک اور کئی اور کئی دوسرے بڑے بڑے منصوبوں کا آغاز، گیس سٹیشنوں پر لگی لائنوں کا ختم ہونا، میثاق جمہوریت اور جمہوری حکومتوں کا تسلسل قائم ہونا، عدلیہ کی بحالی میں سب سے بڑا کردار، کسی جرنیل کے خلاف مقدمہ چلنا، جن کی ایک لمبی فہرست ہے، محض اتفاقات نہیں بلکہ ان کی لگن، محنت اور کارکردگی کے وہ منہ بولتے ثبوت ہیں جن سے انکار ممکن نہیں۔

انکے ادوار میں پاکستان کی ترقی کی مثالیں بھی ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ دو ہزار تیرہ اور دو ہزار اٹھارہ کے پاکستان کا فرق ہر ایک کے سامنے ہے۔ جب ان کی حکومت ختم ہوئی تو پاکستان کی شرح نمو پانچ اشاریہ چھ پر تھی، پاکستان کی اقتصادی حالت ترقی کی طرف گامزن تھی اور آئندہ چند سالوں میں پاکستان کی عالمی سطح پر متوقع بلندیوں کی پشین گوئیاں پڑھے لکھے اور کاروباری طبقے میں ایک امید تھیں جو موجودہ حکومت کی پالیسیوں اور کارکردگی سے ٹوٹ گئیں اور یہ ساری باتیں موجودہ حکومت کی مقبولیت میں کمی اور نواز شریف کی حکومت کی مقبولیت میں اضافے کا سبب ہیں۔

ان کی کارکردگی کی طرح ان کا بیانیہ بھی مقبولیت میں سب سے آگے ہے۔ اور اس کے ساتھ کھڑے ساتھی بھی اپنی منفرد پہچان میں سامنے آئے۔ ان کی طاقت بننے والی بیٹی جو ان کے بیانیے کو لے کر چلی پاکستان کی سب سے بڑی عوامی بھیڑ کی متوجہ (Crowd Puller) بن چکی ہیں۔ انہوں نے جیسے حالات اور جس انداز اور جراٰت کے ساتھ کچھ رازوں سے پردا اٹھایا ہے یا اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگائے ہیں اس سے سیاسی قائدین اور عوام کے اندر حوصلہ پیدا ہوا ہے اور زمینی حقائق میں تبدیلی بھی اس کی گواہ ہے۔ ان کی قید کی صعوبتوں اور خاص کر اپنی بیٹی کے ساتھ، معلوم ہوتے ہوئے بھی کہ جاتے ہی جیل میں ڈال دیا جانا ہے، آ کر گرفتاری دینے کی جراٰتمندانہ مثال پر ان سے عوام کا جذباتی لگاؤ اور مقبولیت اپنی مثال آپ ہے۔

اور اب جو پاکستان میں مہنگائی، غربت اور اس کے اقتصادی حالت پر اثرات کے نتائج اور مقتدر حلقوں کی طرف سے ان پر تشویش اور اپنے فیصلوں پر پچھتاوے کی خبروں نے نواز شریف کے دور کی یادوں کو تازہ کر دیا ہے اور عوام جب اپنی آمدن اور اخراجات کے حوالے سے اس دور کا نواز شریف کے دور سے موازنہ کرتے ہیں تو ان کا نواز شریف اور ان کی جماعت سے اظہار چاہت اور بھی بڑھ جاتا ہے۔

ماضی میں نواز شریف سے بھی غلطیاں ہوئیں ہیں مگر ان کے اعتراف اور بعد میں میثاق جمہوریت کے بعد کی سیاست نے ان پر سے ماضی کے تمام داغ دھو دیے اور ان کی مزاحمتی سیاست کی وجہ سے ان کی قربانیوں نے ان کو ایک نئے روپ میں پیش کیا جو عوام اور جمہوری حلقوں میں سراہا گیا۔

ان کو مصالحت پسند سیاستدان کے طور پر جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ ان کی کوششوں سے جمہوری حکومتوں کا تسلسل شروع ہوا وہ حزب اختلاف میں تھے تو سنجیدہ سیاست کی جس کے نتیجہ میں پہلی دفعہ کسی جمہوری حکومت نے اپنا وقت پورا کیا اور اگر اقتدار میں آئے تو بھی، جب عمران خان نے دو ہزار سولہ میں دھرنے کا پروگرام بنایا تو وہ چل کر بنی گالہ گئے اور مل جل کر کام کرنے کی پیشکش کی، ان کی حالیہ حکومت گرانے کے الزامات میں ایک الزام ہندوستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات بھی ہیں، وہ نریندر مودی کی حلف برداری تقریب میں گئے اور ان کو بھی پاکستان میں دعوت دی اور وہ غیر علانیہ طور پر نواز شریف کی دعوت پر پاکستان آئے۔ وہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات کے خواہ تھے۔ ہمسایہ ملک افغانستان میں مصالحت کی کوششوں میں بھی کردار کا ذکر ملتا ہے۔ ان کے چائنہ، امریکہ اور اسلامی ممالک خاص کر سعودی عرب کے ساتھ خوشگوار تعلقات بھی ان کی مقبولیت کی ایک اعلیٰ مثال ہیں۔

اور پھر حالیہ سالوں میں ذمہ دار حلقوں سے سامنے آنے والے ایسے بیانات جن میں پاکستان کے اندرونی معاملات کے پاکستان کے بیرونی تعلقات پر اثرات اور ان سے نواز شریف کے خیالات اور کوششوں کی توثیق کے تاثرات سامنے آئے ہیں اور ماضی میں یہ سب کچھ ان کی مشکوکیت کے طور پر سامنے لانے کی کوشش سمجھا جاتا رہا ہے اور اس سے نواز شریف کی سوچ اور کوشش کو مقبولیت ملی ہے۔

نواز شریف پر لگائے جانے والی مالی بے ضابطگیوں کے الزامات، جن کی بنیاد پر ان کو سبکدوش کرنے کے بعد نا اہل کیا گیا، بھی کمزور ترین تھے جو تنقید کا نشانہ بنے ان میں سے کئی تو ثابت نہیں ہو سکے، کئی میں بے گناہی کے ثبوت سامنے آئے ہیں اور چند ابھی بھی عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ مگر ان مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کی شفافیت اور غیر جانبداری کے خلاف جو شہادتیں سامنے آئی ہیں وہ جوابات حاصل کرنے سے قاصر ہیں جن میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بیانات، احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی وڈیو، گلگت بلتستان کے چیف جج کا حلفیہ بیان، جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو ٹیپ، سر فہرست ہیں۔ ان گواہیوں کے سامنے آنے کے بعد وہ نہ صرف عوامی عدالت میں سرخرو ہوئے بلکہ یہ ان کی مقبولیت میں اضافے کا سبب بھی بنی ہیں۔

ان فیصلوں کو آئینی ماہرین اور سیاسی مبصرین کی رائے میں بھی کمزور ترین سمجھا جا رہا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ اس سے پاکستان کے اداروں کے کردار کو شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور ان سے اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے اور احتساب کے عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھے ہیں جس سے ان کی مقبولیت کو اور دوام ملا ہے۔

ان کی مقبولیت میں کچھ حکومتی پالیسیوں اور کارکردگی کا بھی عمل ہے مثلاً میڈیا پر پابندیوں اور ان کے بارے حکومتی قانون سازی کی کوشش کو نواز شریف کے دور سے جب موازنہ کر کے دیکھا جاتا ہے تو صحافت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والی کئی شخصیات اور خاص کر موجودہ حکومت کے حامی سمجھے جانے والے جن میں مبشر لقمان، کامران شاہد، بھٹی کے تجزیے اور عمومی رائے بھی نواز شریف کی مقبولیت میں ایک اضافہ ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔

موجودہ حکومت کے منشور کو اگر مختصراً بیان کیا جائے تو وہ ”بدعنوانی کا خاتمہ“ تھا اور عوام میں تحریک انصاف کی مقبولیت کی ایک بہت بڑی وجہ بھی تھا اور اب حکومت کے اندر موجود شخصیات پر بعد عنوانیوں کے الزامات اور حکومت کی اپنی رپورٹس کی وجہ، جیسا کہ حال ہی میں کرونا کے لئے امدادی رقوم میں بڑے درجے پر خرد برد پر آڈیٹر جنرل کی رپورٹس، سے بھی حکومت کے بیانیے کو بہت دھچکا لگا ہے اور جس کا فائدہ یقیناً اپوزیشن جماعتوں کو ہوا ہے اور جن میں سر فہرست نواز شریف ہیں۔

تو اس طرح اگر نواز شریف کی کارکردگی کی بنیاد پر عوام میں مقبولیت کو دیکھا جائے تو ان کے ووٹ بینک سے عیاں ہے جو پاکستان کی تمام جماعتوں سے زیادہ ہے اور دوسرا اس کا اندازہ ان کی مخالفت سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کو سیاست سے دور کرنے کی کتنی کوششیں کی گئیں، وفاداریاں تبدیل کروائی گئیں، جماعت کو توڑنے کی کوششیں کی گئیں، مین سٹریم میڈیا پر ان کے بارے مثبت پہلوؤں کو دکھانے کی بجائے ان کی کردار کشی کو دکھایا جاتا رہا، جن میں کوئی بھی کام نہیں آ سکی۔ اور ان کی وزارت عظمیٰ سے سبکدوشی کے بعد سے اب تک ان کا ووٹ بینک کم نہیں ہوا بلکہ بڑھا ہے۔

وہ صرف عوام میں ہی نہیں بلکہ پاکستان کے سیاستدانوں، ادبی حلقوں، سرکاری عہدیداران اور قائدین کے اندر بھی حسن اخلاق کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اپنے مخالفیں کو بھی اچھے انداز میں مخاطب کرتے ہیں۔ ان کی حلیم طبیعت، مزاج اور ملنساری ان کی منفرد پہچان ہے۔ کسی دور میں، تحفے تحائف دینا اور نوازشات کا عمل ان پر اٹھنے والے الزامات کی فہرست میں شامل رہے ہیں۔

وزیراعظم اور ان کے وزرا کا نواز شریف مخالف بیانیہ اور اس پر تبصروں میں کچھ ایسے حقائق سامنے آتے ہیں جن سے حکومت کے ماضی کے بیانات اور حالیہ کارکردگی کے موازنے سے حکومتی رسوائی ہوئی ہے جیسا کہ بیرونی قرضوں کے حصول بارے عمران خان کا موقف وغیرہ اور جب عمران خان اپنی کامیابیاں گنواتے ہیں تو نواز شریف کی نیک نامی کی شہادتیں سامنے آجاتی ہیں۔ مثلاً جب عمران خان کہتے ہیں کہ ان کو سیاست میں آنے سے پہلے بھی لوگ جانتے تھے اور اپنے کرکٹ ورلڈ کپ کی جیت کی بات کرتے ہیں تو مبصرین اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے ذکر اور ان کی عمران خان کو عزت دینے کی وضاحت سامنے لاتے ہیں اور جب وہ شوکت خانم کے قائم کرنے کی بات کرتے ہیں تو شوکت خانم کے سب سے بڑے عطیہ دینے والے نواز شریف اور ان کے خاندان کا ذکر بھی چل پڑتا ہے۔

اور پھر لوگ بتاتے ہیں کہ عمران خان چندہ اکٹھا کرنے کے لئے پاکستان کے کونے کونے میں جہاں بھی جاتے تھے ان کو انتظامیہ کی طرف سے پروٹوکول اور مکمل تعاون مہیا کیا جاتا تھا اور اس کا سہرا اس وقت کی حکومت کو جاتا ہے جس کے سربراہ نواز شریف تھے جس کے خود عمران خان معترف بھی رہے ہیں۔ اور نواز شریف کے بڑے پن کی اس سے زیادہ بڑی کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ انہوں نے آج تک اپنے عطیات اور امداد کا کسی جگہ ذکر تک نہیں کیا۔

اور اگر ان دنوں ملکی سیاست پر تبصروں کی روشنی میں دیکھا جائے تو حکومت میں مبینہ متوقع تبدیلی پر میڈیا، سیاسی اور مقتدر حلقوں میں پیدا ہونے والی ہلچل میں فیصلہ کن کردار نواز شریف کو سمجھا جا رہا ہے اور اگر رابطوں، جن کی خبروں کی مختلف ذرائع سے تصدیق مل رہی ہے، کو سچ مان لیا جائے تو ان کا مرکز بھی نواز شریف ہے اور نواز شریف کی مزاحمت اور اس پر قائم رہنے کی میڈیا رپورٹس بھی بہت اہمیت حاصل کرتی جا رہی ہیں۔

سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر ایک جمہوری ملک کے اندر کسی کی عوامی مقبولیت، کارکردگی اور قومی جذبہ خدمت کی بنیاد پر اس کے جائز مقام کے حصول کی کوششوں میں رکاوٹ کا نہ تو کوئی جواز ہے اور نہ ہی اس کو سراہا جا سکتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments