بنگلہ دیش ہر لحاظ سے پاکستان سے پیچھے ہے


سقوط ڈھاکہ کو آج پچاس برس ہو گئے۔ حال ہی میں بنگلہ دیش نے اپنی آزادی کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر اپنی معاشی کارکردگی کے اشاریے پاکستان کے معاشی اشاریوں کے ساتھ تقابل میں شائع کیے اور بڑے فخر سے اپنی عوام میں پاکستان پر اپنی معاشی برتری کی تشہیر کی۔ آج بنگلہ دیش کی اوسط فی کس سالانہ آمدن 2138 ڈالر سالانہ ہے جب کہ پاکستان کی اوسط فی کس سالانہ آمدن 1190 ڈالر ہے۔ بنگلہ دیش کی معیشت کی سالانہ شرح نمو 5 فی صد ہے اور اگلے سال کا تخمینہ 7 فی صد ہے۔ جب کہ پاکستان کی ترقی کی شرح صرف ڈیڑھ فی صد ہے۔ آج بنگلہ دیش کی آبادی میں اضافے کی شرح ایک فی صد سے بھی کم ہے جب کہ پاکستان کی آبادی میں اضافے کی شرح 2 فی صد ہے۔ پاکستان میں بنیادی شرح خواندگی 72 فی صد ہے جب کہ بنگلہ دیش میں 98 فی صد ہے۔ بنگلہ دیش کی اوسط عمر 72 سال جب کہ پاکستان کی 67 سال ہے۔ پاکستان میں پیدائش پر بچوں کی شرح اموات بنگلہ دیش سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ بنگلہ دیش کے بیرونی ذخائر 48 ارب ڈالر جب کہ پاکستان کے 22 ارب ڈالر ہیں۔

لیکن میری ذاتی رائے میں یہ سب جھوٹ کا پلندا اور ایک بین الاقوامی سازش ہو سکتی ہے۔ اور میرے پاس اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے بہت مضبوط دلائل ہیں جو میں آپ کے گوش گزار کر کے نہ صرف آپ کو قائل کر لوں گا بلکہ قوی امید ہے کہ اپنا گرویدہ بھی بنا لوں گا۔

میری سب سے پہلی دلیل یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے پاس پاکستان جیسا چھ فٹا ہینڈ سم اور کلر سمائل والا وزیراعظم نہیں ہے۔ جو آج بھی ستر برس کی عمر کے باوجود پنڈلیوں کی ساتھ اضافی وزن با ندھ، بنی گالہ کی پہاڑی پر عربی گھوڑے کی طرح دوڑ سکتا ہے۔ شیخ حسینہ ایسے نابغہ روزگار کے آگے پانی بھرتی ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا ہمارے وزیراعظم نے فرما یا تھا کہ میرے پاکستانیوں گھبرانا نہیں ہے۔ یہ ہوتا ہے ویژن، یہ ہوتا ہے لیڈر۔ اب یہ ویژن شیخ حسینہ کے پاس نہیں ہے، ہو ہی نہیں سکتا، اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے حال ہی میں فرمایا ہے کہ میں امریکہ اور چین کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہوں۔ ہے کوئی اور دنیا میں ایسا۔ کوئی نہیں، کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ پھر آپ کا فرمان کہ پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ہے۔ کچھ لوگ جو کہ اقلیت میں ہیں کہتے ہیں کہ پاکستان مہنگائی میں اضافے کی شرح کے لحاظ سے چوتھا مہنگا ترین ملک ہے لیکن میرا ووٹ جناب وزیراعظم کے ساتھ ہے کیوں کہ ایک تو وہ خود نہایت ایمان دار ہیں دوسرا اس بات کی گواہی جناب عطا اللہ عیسیٰ خیلوی نے بھی دے دی ہے انہوں نے نیا ترانہ بنایا ہے ”اچھے دن آئے ہیں“ ۔

میری دوسری سب سے مضبوط دلیل، ایک لاجواب اور ہر لحاظ سے تیار ٹیم۔ ایک سے بڑھ کر ایک، جیسا کہ ارسطو ثانی جناب اسد عمر، یہ لمبا قد، مدلل گفتگو، پیٹرول کی قیمت کے تعین کا فارمولا آپ کی ایجاد ہے، اور پھر سب سے اہم کہ آپ پاکستان کے مسائل حل کر نے کے لیے نہایت سنجیدہ ہیں۔ اتنے کہ جنون گروپ والا مشہور گانا ”ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار“ بلا ناغہ سنتے ہیں۔ رضا باقر المعروف آئی ایم ایف والی سرکار، کرنسی کی بے قدری کے دفاع کا فارمولا آپ کا کارنامہ ہے۔ پھر سب سے بڑھ کر پنڈی بوائے لال حویلی والی دور اندیش شخصیت، ڈاکٹر طاہر قادری صاحب اور بابا جی گالیوں والی سرکار جیسے محب وطن رہنماؤں کی اپنی سیاسی اور عسکری صلاحیت کے ساتھ اس ٹیم کی بھرپور حمایت اس بات کی عکاس ہے کہ سمت درست اور صفحہ ایک ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ ایسا ملک بنگلہ دیش سے پیچھے رہ جائے۔

جہاں اعلی ترین عدالت کا قاضی القضاۃ اپنے فرائض کی انجام دہی کے ساتھ قوم کا آبی قلت کا مسئلہ بھی حل کرتا ہو ڈیم کی اہمیت پر نہ صرف شعور بیدار کیا، بلکہ ڈیم فنڈ قائم کر اس کی نگرانی بھی کی ہو، اشیائے خور و نوش کی قیمت کا تعین بھی کرتا رہا ہو۔ پنڈی کے انتخاب میں صحیح امیدوار کی انتخابی مہم بھی خود اپنی نگرانی میں چلوائی ہو۔ ایسے جاں نثار، شہاب ثاقب اور کس ملک کے پاس ہیں۔ نہیں ہیں یقیناً نہیں ہیں۔ ایسا ملک کیسے پیچھے رہ سکتا ہے۔

میری تیسری مضبوط ترین دلیل یہ ہے کہ جب تحریک نے الیکشن جیتا تھا تو صاحب نگاہ، صاحب عرفان اور صاحب بصیرت لوگوں نے بھی ٹویٹ کیا تھا اور ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کی قوم کو نوید دی تھی۔ اس کے ساتھ میڈیا کو ایک تاکید بھی فرمائی تھی کہ اگر میڈیا صرف چھ ماہ مثبت رپورٹنگ کر لے تو پاکستان کی ساری مشکلات حل، لیکن پاکستانی میڈیا، وہی ڈھاک کے تین پات۔ صاحب بصیرت لوگ کیسے غلط ہو سکتے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ میری اس دلیل کے بعد آپ اختلاف کی جرات نہیں کر سکتے۔

میری چوتھی دلیل یہ ہے کہ موجودہ ٹیم اتنی قابل اور اس قدر ناگزیر تھی کہ ریاست کے اداروں کو بھی جا نداری کا الزام اپنے سر لینا پڑا اور تمام تر ریاستی وسائل بروے کار کر قابل ترین لوگوں کو سامنے لا نے کا بے بنیاد الزام برداشت کیا۔ جب ریاست کے ادارے عوام اور ریاست کے لیے اس قدر مخلص ہوں کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ دن رات ملکی بہتری، معاشی استحکام، اور ترقی کی خاطر دل و جان سے وہ قرض بھی اتاریں جو واجب بھی نہ ہوں، تو حاسدین الزام تراشی کرتے ہیں۔ دوستو اتنے مضبوط دلائل کے بعد آپ کو تقریباً یقین آ چکا ہو گا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں کوئی موازنہ ممکن ہی نہیں۔ یہ معلومات پاکستان کے خلاف ایک غیر ملکی سازش اور پانچویں نسل کی دوغلی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

 

Facebook Comments HS

محمد سجاد آہیر xxx

محمد سجاد آ ہیر تعلیم، تدریس اور تحقیق کے شعبے سے ہیں۔ سوچنے، اور سوال کرنے کا عارضہ لاحق ہے۔ بیماری پرانی مرض لاعلاج اور پرہیز سے بیزاری ہے۔ غلام قوموں کی آزادیوں کے خواب دیکھتے اور دکھاتے ہیں۔

muhammad-sajjad-aheer has 38 posts and counting.See all posts by muhammad-sajjad-aheer

One thought on “بنگلہ دیش ہر لحاظ سے پاکستان سے پیچھے ہے

  • 17/12/2021 at 7:37 شام
    Permalink

    شا ندار دلائل سر۔ میں بھی مان گیا ہوں پاکستان بنگلہ دیش سے بہت آ گے ہے

Comments are closed.