پی پی 206خانیوال کا ضمنی الیکشن: ن لیگ اور پی ٹی آئی کا بڑا امتحان


خانیوال کے صوبائی حلقہ پی پی206میں 16دسمبر کو ضمنی الیکشن ہونے جارہا ہے۔ خانیوال 1985میں ضلع بنا اور 1988میں یہاں سے پہلی بارحاجی عرفان احمد ڈاہا میاں نواز شریف کے ساتھ آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے 30241 ووٹ لے کر سات ہزار کی لیڈ سے ایم پی اے منتخب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل پیپلزپارٹی کے عبدالرزاق خان تھے۔ 1990کے الیکشن میں بھی حاجی عرفان احمد ڈاہا آئی جے آئی کی ٹکٹ پر35045ووٹ لے کر گیارہ ہزار کی لیڈ سے ایم پی اے بنے جبکہ ان کے مدمقابل پی ڈی اے کے عبدالرزاق خان تھے۔ 1993کے الیکشن میں حاجی عرفان احمد ڈاہا مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر مسلسل تیسری بار ایم پی اے منتخب ہو گئے اور 26377ووٹ حاصل کئے۔ ان کے مدمقابل پیپلزپارٹی کے میاں مصعب حیدر شاہ کھگہ نے 19004، آزاد امیدوا ر عبدالرزاق خان نے 10957ووٹ اور پہلی بار الیکشن میں حصہ لینے والے آزاد امیدوار نشاط احمد خان ڈاہا نے 7194ووٹ لئے۔ 1997کے الیکشن میں ایک بار پھر حاجی عرفان احمد خان ڈاہا مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر 34092ووٹ لے کر ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوگئے اور ان کے مقابلے میں پیپلزپارٹی نے نشاط احمد خان ڈاہا کو ٹکٹ دیا تھا جنہوں نے 15501ووٹ لئے۔ اس الیکشن میں پی ٹی آئی پہلی بار آئی تھی اور اس کے ٹکٹ ہولڈر رانا جعفر علی خان نے 1549ووٹ لئے۔ 2002کے الیکشن میں نشاط احمد ڈاہا کے بھائی آزاد امیدوار ظہور احمد خان 24573ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے اور بعد میں مسلم لیگ ق کی حکومت میں شامل ہوکر صوبائی پارلیمانی سیکرٹری فنانس بن گئے جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ ن کے امیدوار سہیل سکندر خان ڈاہا نے 20771ووٹ، مسلم لیگ ق کے مہر عمران دھول نے 11094 ووٹ اور متحدہ مجلس عمل کے شیخ اکمل نے 9888ووٹ حاصل کئے یوں پہلی بار اس سیٹ سے مسلم لیگ ن کو شکست ہوئی۔ 2002

کے جنرل الیکشن سے پہلے نشاط احمد ڈاہا تحصیل ناظم خانیوال منتخب ہوچکے تھے۔ 2008کے الیکشن میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہونیوالے الیکشن میں نشاط احمد خان ڈاہا پیپلزپارٹی کی ٹکٹ پر 44525ووٹ لے کر پہلی بار ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ ان کے مدمقابل مسلم لیگ ق کے ٹکٹ ہولڈر مہرعمران پرویز دھول نے 23604ووٹ حاصل کئے جبکہ مسلم لیگ ن نے اس حلقے سے امیدوار لانے کی بجائے نشاط احمد ڈاہا کی سپورٹ کی تھی اور حاجی عرفان ڈاہا کے بیٹے محمد خان ڈاہا نے مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر اسی حلقے سے ایم این اے کا الیکشن لڑا تھا۔ نشاط احمد ڈاہا جو کہ پیپلزپارٹی کے ایم پی اے تھے لیکن ن لیگ میں باقاعدہ شامل ہوکر پارلیمانی سیکرٹری برائے مائنز اینڈ منرل بن گئے۔ 2013کے جنرل الیکشن میں نشاط احمد ڈاہا مسلم لیگ ن کے امیدوار بنے اور 34465ووٹ لے کر کامیاب ٹھہرے جبکہ ان کے مدمقابل رانا محمد سلیم نے ق لیگ کی ٹکٹ پر 21657ووٹ اور ق لیگ سے پی ٹی آئی میں جانیوالے عمران پرویز دھول نے 16021ووٹ لئے۔ 2018کے جنرل الیکشن میں نشاط احمد ڈاہا ایک بارپھر مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوگئے اور ریکارڈ 51353ووٹ حاصل کئے۔ ان کے مدمقابل رانا محمد سلیم اس بار پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر آئے تھے اور 47807ووٹ حاصل کئے تھے، پیپلزپارٹی کے سید واثق حید ر نے 6617اور تحریک لبیک کے عامر سہیل نے 5764ووٹ حاصل کئے تھے۔ یاد رہے2008، 2013اور2018 میں نشاط احمد ڈاہاایم پی اے بنے اور تینوں بار انہیں مسلم لیگ ن کے حاجی عرفان احمد ڈاہا کی بھرپور سپورٹ حاصل رہی ہے۔

2018 کے جنرل الیکشن میں اس سیٹ پر کامیاب ہونے والے ممبر صوبائی اسمبلی حاجی نشاط احمد خان ڈاہا کی وفات کے بعد یہ سیٹ خالی ہوئی ہے۔ نشاط ڈاہا پاکستان مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے لیکن پی ٹی آئی کی حکومت بننے کے بعد وہ عثمان بزدار سے جا ملے اور میاں نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے بعد کھلے عام مسلم لیگ ن کی قیادت اور ان کی پالیسیوں پر تنقید کی جس وجہ سے چند دن وہ میڈیا کی خوب زینت بنے اور کچھ ترقیاتی سکیموں کے فنڈز لینے میں بھی کامیاب ہوگئے۔ یوں نشاط احمد خان ڈاہا کا پیپلزپارٹی سے مسلم لیگ ق اور وہاں سے دوبارہ پیپلزپارٹی اور پھر وہاں سے ن لیگ اور پھر ن سے پی ٹی آئی کا سیاسی سفر مکمل ہوا۔ اس دوران پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر رانا سلیم نے رانا ثناء اللہ کے ذریعے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی جو کہ مسلم لیگ ق سے پی ٹی آئی میں آئے تھے اور پھر نشاط احمد ڈاہا کے پی ٹی آئی میں چلے جانے سے مسلم لیگ ن سے جا ملے تھے۔ نشاط احمد خان ڈاہا خالق حقیقی سے جاملے تو خانیوال میں ضمنی الیکشن آن پہنچا۔ نشاط احمد ڈاہا چونکہ پی ٹی آئی کی حکومت کے مشکل وقت میں ان کے ساتھ جا ملے تھے اس لئے عثمان بزدار نے ذاتی دلچسپی لے کر ٹکٹ ان کی بیوہ کو دینے کا فیصلہ کیااس دوران مہر عمران پرویز دھول اور نشاط ڈاہا کے بھانجے مسعود مجید ڈاہا بھی پی ٹی آئی کی ٹکٹ لینے کیلئے پورا زور لگاتے رہے لیکن ٹکٹ نورین نشاط ڈاہا کو مل گیا۔ نورین نشاط ڈاہا پاکستان تحریک انصاف کے ملتان سے ممبرقومی اسمبلی احمد حسن ڈیہڑ کی بہن ہیں۔

دوسری طرف مسلم لیگ ن میں ٹکٹ کے حوالے سے بہت زیادہ اختلافات رہے اورمسلم لیگ ن کے پہلے دن کے ساتھی حاجی عرفان احمد ڈاہا نے اپنے بیٹے ممبرقومی اسمبلی محمد خان ڈاہا کے ہمراہ شہباز شریف سے ملاقات کی اور ٹکٹ کی درخواست کی لیکن شہباز شریف نے رانا ثناء اللہ خان سے مشاورت کے بعد حاجی عرفان ڈاہا کو اعتماد میں لے کر ٹکٹ رانا محمد سلیم کو دے دی اور صوبائی جنرل سیکرٹری اویس خان لغاری کی رہائش گاہ پر پارٹی میٹنگ میں باقاعدہ اعلان کردیا۔ اسی دوران حمزہ شہباز نے بھی خانیوال کا ایک روزہ دورہ کیااور تمام مقامی قیادت کو ایک جگہ بٹھا کہ روایتی منظم طریقے سے الیکشن لڑنے کی پلاننگ کی۔ ڈویژنل صدر پاکستان مسلم لیگ عبدالرحمان خان کانجو کو خصوصی ٹاسک دیا گیا کہ ڈویژن بھر کے عہدیداران، ٹکٹ ہولڈرز اور منتخب نمائندوں کی ڈیوٹی لگائیں اورمقامی قیادت اپنی ذاتی لڑائیاں، رنجشیں بھلا کر صرف اور صرف الیکشن جیتنے پر فوکس کرے۔ عبدالرحمان خان کانجو پہلی بار تنظیمی سیٹ اپ میں آئے ہیں اور انہوں نے اپنے ذاتی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے ڈویژن بھر میں ناراض پارٹی رہنماوں کو ایک چھتری تلے اکٹھا کیا ہے اوراب وہ خانیوال کے ضمنی الیکشن کے ٹارگٹ کو حاصل کرنے کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ اسی طرح عطااللہ تارڑ، طلال چوہدری اور سنٹرل پنجاب کے اراکین اسمبلی نے بھی خانیوال میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور ڈور ٹو ڈور بھرپور کیمپئین کررہے ہیں۔

مریم نواز بیٹے کی شادی میں مصروف ہیں اور حمزہ شہباز مسلسل الیکشن کمیپئین کو دیکھ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی طرف سے جنوبی پنجاب کے صدرسینیٹر عون عباس بپی، صوبائی وزیر حسین جہانیاں گردیزی، ممبرقومی اسمبلی احمد حسن ڈیہڑ، ممبرصوبائی اسمبلی حامد یار ہراج، ممبرصوبائی اسمبلی فیصل اکرم نیازی، چئیرمین میونسپل کمیٹی خانیوال مسعود مجید ڈاہا، احمد یار ہراج و دیگرمقامی قیادت بھرپور انداز میں کیمپئین چلا رہی ہے اور اعلانات کئے جارہے ہیں کہ حکومت الیکشن کے بعد خزانے کا منہ اس حلقے میں کھول دے گی۔ ضمنی الیکشن میں نورین نشاط ڈاہا کو ذاتی ووٹ بنک کے ساتھ ساتھ ہمدردی کا ووٹ بھی مل رہا ہے۔ اس کے علاوہ حکومتوں والے روایتی حربے بھی استعمال ہورہے ہیں۔ ایک ایس ایچ او کو صرف اس لئے پولیس لائن بھجوا دیا گیا ہے کیونکہ حکومتی امیدوار نے خدشہ ظاہر کیا کہ وہ راجپوت برادری کے رانا سلیم کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ اس حلقے میں حاجی عرفان احمد خان ڈاہا کا ذاتی ووٹ بنک اور1985سے اب تک ان کامسلسل مسلم لیگ ن سے جڑے رہنا ووٹر پر گہرا اثر رکھتا ہے۔ حاجی عرفان ڈاہا اس حلقے سے چار بار ممبرصوبائی اسمبلی رہے ہیں اور یہیں کے قومی حلقے سے ان کا بیٹا2013کے بعد2018میں دوسری بار ممبرقومی اسمبلی ہے جبکہ 2002 میں حاجی عرفان ڈاہا کے بڑے بھائی رضوان خان ڈاہا اور 2008میں محمد خان ڈاہا مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر ایم این اے کا الیکشن ہارے ہیں۔ 2013اور 2018کے الیکشن میں نشاط احمد ڈاہا ان کے نیچے ایم پی اے منتخب ہوئے لیکن اس بار ضمنی الیکشن میں نشاط احمد ڈاہا کی بیوہ کو ان کی مخالفت کا سامنا ہے۔

پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر رضا حیات ہراج نے بھی دو دن پہلے مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے درمیان بظاہر ون ٹوون مقابلہ ہے لیکن کسی کی بھی ہارجیت میں تحریک لبیک اور پیپلزپارٹی کا بہت اہم کردار ہوگا۔ پیپلزپارٹی یہ الیکشن بہت سنجیدگی اور محنت سے لڑ رہی ہے اور لاہور این اے 133میں ریکارڈ ووٹ لینے کے بعد اب ان کی نظر اس حلقے پر ہے۔ جنرل الیکشن میں پی پی پی کے امیدوار سید واثق حیدر نے 6617ووٹ لئے تھے اور اس بار وہ اپنا ٹارگٹ بیس ہزار سے زائد رکھ کر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی اور ان کے بیٹے بھرپور کیمپئین کرتے نظر آرہے ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ پورے خانیوال میں ہر طرف پیپلزپارٹی کے پرچموں کی بہار ہے۔ پیپلزپارٹی کی آنے والے جنرل الیکشن میں جنوبی پنجاب پرخاصی توجہ ہے اوراس سلسلے میں سید یوسف رضا گیلانی اور مخدوم احمد محمود خاصے متحرک ہیں۔ تحریک لبیک کا خانیوال میں بہت زیادہ اثر ہے اور اس بار تحریک لبیک نے میدان میں امیدوار بھی خاصا تگڑا اتارا ہے۔ لبیک کے امیدوارمعروف کاروباری شخصیت شیخ اکمل بڑی برادری اور شہر میں کافی اثر رکھتے ہیں۔ شیخ اکمل اس سے پہلے 2002میں متحدہ مجلس عمل کی ٹکٹ پر دس ہزار ووٹ لے چکے ہیں۔ اب بیس سال بعد ان کا دوبارہ الیکشن میں حصہ لینا دوسرے امیدوارو ں کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ جنرل الیکشن میں تحریک لبیک نے پورے پنجاب میں مسلم لیگ ن کو نقصان پہنچایا تھا لیکن یہاں خانیوال کے الیکشن میں حکومتی اور ن لیگی دونوں امیدواروں کیلئے شیخ اکمل ایک سخت مدمقابل ثابت ہوتے نظر آرہے ہیں۔

Facebook Comments HS