میں نے تو خیر اعتماد کیا، بچوں کا کیا جرم ہے؟


بطور صحافی اور ایک عام انسان میرے لیے پچھلے چند ہفتے زندگی کے مشکل ترین دن تھے۔ قاتلانہ حملے کے بعد ایک طرف اپنی اور بچوں کی جان کی فکر تو دوسری طرف اپنے رشتے کے بارے میں لوگوں کو صفائیاں دینا۔ یہ سب اس انسان کے لیے جس کے لیے میں نے دوسری بیوی بننا بھی گوارا کیا، شادی کے بعد اس کی مسلسل بے رخی جھیلی، اس کی لاتعلقی سے تنگ آ کر حمل کے دوران اپنی جان لینے کی کوشش تک کی۔

میرے اوپر حملہ ہوا تو جیسے میرے شوہر کو میرے خلاف زہر اگلنے کا موقع مل گیا ہو۔ دو دودھ پیتے بچوں کی شادی شدہ ماں کے خلاف پراپیگنڈا کیا گیا اور اسے ایک حساس ادارے کی ایجنٹ بتایا گیا، اس پر قاتلانہ حملے کو حساس ادارے کی سازش کہا گیا۔ الزامات کی ایسی بارش کی گئی کہ مشکلات کی شکار عورت کا جینا مشکل کر دیا گیا۔ ایک مرد نے جو کہا، باقی مردوں نے یقین کر کے پوری شدت کے ساتھ ایک بے قصور اور کمزور عورت کو خوب رسوا کیا، کیونکہ یہی ہمارے معاشرے کا رواج ہے کہ عورت کے سامنے ہمیشہ مرد ہی سچا ہے چاہے وہ بیوی کو بے یارومددگار اور بچوں کو لاوارث ہی کیوں چھوڑ جائے، اپنے نومولود بچے کو دیکھنا تک گوارا نہ کرے۔

دوہری مصیبت میں پھنسی اس عورت نے بیرون ملک بہن کے پاس جا کر سانس لینے کو ترجیح دی تو اتنی شدت سے ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا گیا کہ مجھ پر ہوئے حملے سے زیادہ میرا نکاح اور طلاق اہم ہو گئی۔ افسوس یہ کہ میرے شوہر نے تو کسی مقصد کے تحت طلاق یافتہ، حساس ادارے کی ایجنٹ کہا لیکن اس کے دوستوں نے جس طرح سے آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس کے جھوٹ پر اعتبار کیا اور میرے خلاف مہم میں حصہ لیا اس کو دیکھ کر میری نظر میں ان کے اپنے کردار مشکوک ہو گئے ہیں۔ وہ مرد و خواتین جو عورتوں کے حقوق پر بھاشن دیتے نہیں تھکتے، ان میں سے کسی نے اس شخص سے یہ تک پوچھنا گوارا نہیں کیا کہ بھائی صاحب طلاق ہو چکی ہے تو طلاق نامہ کہاں ہے؟ ہر خبر کے ثبوت پاس رکھنے کا دعویٰ کرنے والے سے یہ نہیں پوچھا کہ میرے حساس ادارے کی ایجنٹ ہونے کا ثبوت کہاں ہے؟ کچھ خواتین اینکرز نے فون پر تو مجھ سے اصل کہانی تو سن لی لیکن سوشل میڈیا پر سچ بولنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ ان ساتھیوں سے یہی کہوں گی کہ جب آپ کسی بات کی حقیقت جانتے ہوں تو کسی کا ”ذاتی مسئلہ“ کہہ کر آگے نکل جانا آپ کے بزدل ہونے کی دلیل ہے۔ ان رویوں نے سوسائٹی میں موجود فرق اور پاور کی اہمیت کو ننگا کر کے رکھ دیا ہے۔ مردوں کی اس سوسائٹی میں عورتوں کو عورت کی سپورٹ میں کھڑے ہونا یا نہ ہونے پر بھی سوالیہ نشان تو ہے۔ میں نے اپنے کیس میں کم از کم یہی دیکھا ہے۔

میں کمزور تھی، میرے ساتھ دو بچوں کا ساتھ تھا، میرا صحافت میں وہ مقام نہیں تھا شاید کہ میرے لیے کوئی خاتون کھڑی ہوتی، یا آواز اٹھائی جاتی۔ اس سارے کھیل میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیا جاتا۔

میں نے شادی بڑے چاؤ سے کی تھی۔ کسی کے وعدوں پہ اعتبار کر کے گھر والوں سے ٹکر لے کر اور دنیا کی نظر میں بری بن کر اپنی زندگی ایک آدمی کے حوالے کردی، لیکن بد قسمتی یہ رہی کہ میں ایک دن کی دلہن بھی نہیں تھی۔ دوسری بیوی ہونے کی وجہ سے ظلم اور زیادتیاں سہنے کی ہر حد کو عبور کیا، اپنا ہر کام اکیلے کیا، کسی لمحے کسی جگہ مجھے شوہر کے نام اور اس کے پیار کی چھاؤں محسوس نہیں ہوئی، دوسری بیوی ہونے کی وجہ سے مجھے سسرال والوں نے اپنی خوشیوں اور غموں سے دور رکھا۔ وہ سسرال والے جو باقاعدہ رشتہ لینے آئے، نکاح اور شادی میں بخوشی شامل ہوئے لیکن شادی کے بعد مجھے اون نہیں کیا گیا۔ بند کمروں میں بھابھی اور بہو کہا جاتا تھا لیکن دنیا کے سامنے سب مجھے پہچاننے سے انکاری ہو جاتے۔ میرے شوہر نے امریکہ جانے سے پہلے مجھ سے جو ملاقات کی، وہ آخری ملاقات تھی۔ یہ اسے پتہ تھا لیکن مجھے نہیں، کیونکہ امریکہ جیسے ملک میں وہ اپنے ساتھ رہنے کے لیے کاغذات میں پہلی بیوی کا نام دے چکا تھا جس سے میں لاعلم تھی۔ اس کے چھ ماہ بعد جب مجھ پہ بتا کر بجلی گرائی گئی کہ پہلی بیوی ساتھ رہے گی، تم نہیں، تم لاہور میں رہو گی۔ میں نے پوچھا کہ بیٹی کا اور میرا کیا ہو گا؟ جو بچہ اس دنیا میں آ رہا ہے، اس کا کیا ہو گا؟ تو کہا گیا کہ ماہانہ خرچ مل جایا کرے گا۔ سوال کیا گیا کہ بچوں اور مجھے جو ضرورت ہوگی آپ کی، اس کا کیا ہو گا؟ تو جواب ملا بچے پل جایا کرتے ہیں۔ میں نے سوال کیا کہ مجھے تو آپ نے یہ کہہ کر قائل کیا تھا کہ پہلی شادی میں نفرت والے معاملات ہیں، مجھے تمہارے ساتھ ہی رہنا ہے۔ تو کیا یہی تعلق کی خرابی تھی؟ جواب میں رابطہ منقطع کر دیا گیا۔

چھ ماہ کے بعد میرے والد محترم نے معاملات سلجھانے کے لیے داماد کو کال کی تو داماد نے فون نہ اٹھایا اور دوست کے ذریعے مجھے پیغام بھجوایا کہ وہ کسی سے رابطہ نہیں رکھنا چاہتا، کوئی رابطہ نہ کرے۔ یہ پیغام اس باپ کو بھجوایا گیا جس کو میری ہی طرح رو رو کے شادی کے لیے قائل کیا تھا۔ اس کے بعد ذلت محسوس کرتے ہوئے میں نے جب کہا کہ اس سے بہتر ہے کہ طلاق دے دو لیکن معاملات طے کرو۔ اس عرصے میں کی گئی ایسی ای میلز کو بعد ازاں اس وقت خوب استعمال کیا گیا جب مجھ پہ حملہ ہوا کہ عنبرین نے مجھ سے طلاق مانگی تھی۔ تاہم لوگوں کو سیاق و سباق نہیں بتایا گیا کہ یہ جو میں پڑھا رہا ہوں یا سکرین شاٹ بھیج رہا ہوں، اس کے پیچھے کہانی یہ تھی کہ عنبرین کو پاکستان ہمیشہ کے لیے چھوڑ آیا تھا۔ جب عنبرین کو پتہ چلا تو اس نے کچھ سوال کیے جن کا میرے پاس جواب نہیں تھا، اس لیے میں نے رابطہ ختم کر دیا تھا۔ وہ حاملہ تھی اور میں اس کو پوچھتا نہیں تھا۔ اس کے باپ کا فون آیا تو رابطہ نہ کرنے کا پیغام بھجوایا۔ بس اسی طرح پونے دو سال گزر گئے۔

اپنے شوہر کے ہائی پروفائل صحافی ہونے کی وجہ سے پریشر رہتا تھا، دھمکیاں ملتی تھیں، ٹینشن دی جاتی تھی۔ لیکن میں نے کبھی سوشل میڈیا پر یہ گمان بھی نہیں ہونے دیا کہ ہمارے معاملات ٹھیک نہیں یا میں مشکلات سے گزر رہی ہوں۔ یہاں تک کہ دوسرا بچہ پیدا ہوا تو اس کی سیریس حالت کا ڈاکٹر کا لکھا پیپر دیکھ کر شوہر نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ بیٹی کی آنکھ کا آپریشن ہوا باپ نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ پونے دو سال طرح طرح کی آپشنز دیں۔ رشتہ قائم رکھنے کی لیکن کسی کو یہ نہ بتایا گیا کہ اس نے بہت ساری چیزوں پر کمپرومائز کر لیا تھا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ پونے دو سال ایک عرصہ ہوتا ہے اس میں مجھ سے رابطہ ختم کر کے پہلی بیوی کی طرف سارا رجحان تھا۔ وعدے وعید ہو چکے تھے۔ شاید یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ مجھے چھوڑ چکے ہیں۔ لیکن حملہ ہوا تو بات پھر سے کھل گئی کہ عنبرین تو ابھی بھی بیوی ہی ہے۔ اس لیے بغیر سوچے سمجھے کہہ دیا کہ طلاق دے دی ہے۔ چلو اس سے پہلا گھر تو بچ گیا لیکن خود کی حقیقت بھی میرے سامنے واضح کردی کہ میں اس عورت کے سامنے تمہارا بوجھ نہیں اٹھا سکتا جس سے نفرت کا تعلق بتا کر تمہیں شادی کے لیے قائل کیا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

One thought on “میں نے تو خیر اعتماد کیا، بچوں کا کیا جرم ہے؟

  • 16/12/2021 at 10:27 صبح
    Permalink

    تم نے سہا ہے اور سہنے والے ہی کمال کرتے ہیں۔۔ اللہ تعالیٰ تمہیں صبر دے اور ہمت دے ۔ آمین ثم آمین

Comments are closed.