للی پوٹ پارا کا ایک اور افسانہ: ہائی وے


(سلووینین زبان میں لکھی گئی اس کہانی کی مصنفہ للی پوٹ پارا ہیں۔ وہ سلوینین ادب کی ایک معروف اور انعام یافتہ ادیبہ اور مترجم ہی۔ موجودہ ترجمہ کرسٹینا ریئرڈن کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے جو ”ایلکیمی جرنل آف ٹرانسلیشن“ میں شائع ہوا تھا۔

اس کہانی کی راوی خود ہی اس کا مرکزی کردار بھی ہے۔ وہ عجیب جذباتی کشمکش سے گزر رہی ہے۔ ابتدا میں ایک روحانی انکشاف نے اس پر ایک مسرت کی کیفیت طاری کر دی ہے اور اسے لگتا ہے یہ احساس دیر تک قائم نہیں رہے گا اور جلد ہی فنا ہو جائے گا۔ اور شاید یہی فنا کا احساس اسے ایک قبرستان میں لے جاتا ہے۔ پھر وہ ہائی وے پر نکل جاتی ہے اور وہاں دو ہچ ہائیکرز کو اپنی کار میں لفٹ دیتی ہے۔ لیکن فوراً ہی وہ نروس ہو جاتی ہے یہ سوچ کر کہ شاید اس نے غلط لوگوں کو لفٹ دی ہے اور وہ اسے لوٹ لیں گے یا اسے مار ڈالیں گے۔ پھر اس کا خوف اور عدم اعتماد ان دو ہچ ہائیکرز میں خوف کا جذبہ ابھارتا ہے اور وہ اسے پاگل سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یہاں سے آگے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ عورت پاگل ہے۔

میں نے مصنفہ للی پوٹ پارا سے دریافت کیا کہ یہ عورت اس طرح کی حرکتیں کیوں کر رہی ہے۔ کیا وہ پاگل ہے؟ وہ گھر سے کیوں نکل پڑی ہے؟ ایک جگہ وہ خود کشی کی ایک مثال پیش کرتی ہے تو کیا وہ خود کشی کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے؟ مصنفہ کا جواب تھا کہ نہیں وہ عورت پاگل نہیں ہے۔ بس اس کو ایک پیش بینی ہوئی ہے کہ اس کا مسرت کا احساس زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گا۔ اور انکشاف کی اس مختصر مدت میں وہ زندگی کی بہاؤ پر مکمل بھروسا کر کے کھلے دل سے اسے قبول کر رہی ہے۔ اس میں ایک الہامی قوت بیدار ہو گئی ہے۔ اس کے دل میں ہر چیز کے لئے شدید محبت کا جذبہ امنڈتا ہے۔ لیکن دوسرے حصے میں اسے کچھ گہری مایوسیوں کا سامنا ہوا ہے (جس کا ذکر اس کہانی میں نہیں ہے۔ شاید اس شخص نے اسے ٹھکرا دیا ہے جس سے اسے محبت تھی یا کوئی اور صدمہ ) ۔ پھر وہ اپنے ذہن کو بند کر لیتی ہے۔ اس کی الہامی قوت زائل ہو گئی ہے اور اس وقت اس کے احساسات سن ہیں اور وہ محض ایک ”نارمل“ عورت ہے۔ مصنفہ اسی کیفیت کے بیان کو کہانی لکھنے کا جواز بھی بتاتی ہیں : مترجم)

(1)

میں تیز رفتار سے کار چلا رہی ہوں۔ اپنی دو کاربوریٹر والی ائر کنڈیشنڈ کار میں بیٹھی، میں گاڑی کی رفتار کو اپنے جسم میں دوڑ رہے خیالات اور جذبات کی رفتار سے بھی زیادہ تیز کر دینا چاہتی ہوں۔ لیکن میں انھیں قدرتی طور پر اپنے پیٹ، اپنے سر اور اپنی بانہوں میں دوڑتا ہوا محسوس کر رہی ہوں۔ ذہن میں خیال اٹھتا ہے کہ یہ احساس زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گا۔ یہ سنسنی خیز انکشاف کہ ”زندگی کا واقعی کوئی معنی نہیں ہے،“ یا یہ کہ ”میری زندگی کا کوئی خاص مقصد نہیں ہے۔“ (یہ مقصد کیا ہے؟ متذکرہ انکشاف کے فوراً بعد یہ سوال میرے سینے میں ایک تیکھا درد بن جاتا ہے۔ ) یہ احساس دیر تک قائم نہیں رہے گا۔ غم اور مسرت کا یہ احساس دیر تک قائم نہیں رہے گا۔ اس دنیا سے رابطہ بھی دیر تک قائم نہیں رہے گا۔

میں قبرستان میں قبروں کے بیچ ٹہل رہی ہوں۔ کتبوں پر ان لوگوں کے نام پڑھتی ہوں جو بہت پہلے مر چکے ہیں۔ ان سب کے لئے مجھے افسوس ہوتا ہے۔ ”تم لوگ اتنی جلدی کیوں چلی گئیں؟“ میں ایک قبر کے پاس کھڑے ہو کر اونچی آواز میں مایوسی سے پوچھتی ہوں۔ یہ ایک چھوٹی سی قبر ہے جس پر تین بچیوں کے نام لکھے ہیں۔ ان کے ایک ہی سر نیم ہیں۔ ایک سنگ مرمر پر تین چھوٹے چھوٹے چہرے بنے ہوئے ہیں۔ موت کی تاریخوں میں کچھ ہی دنوں کا وقفہ ہے۔ میں قبر کے گرد پڑی چھوٹی بجری پر ننگے پاؤں چل رہی ہوں اور پتھر میرے نرم تلوؤں میں چبھ رہے ہیں۔ قریب کی ایک قبر کے اوپر عیسیٰ کا ایک عظیم مجسمہ ہے۔ ان کے ہاتھوں اور پیروں میں زنگ لگی ہوئی میخیں ٹھکی ہوئی ہیں۔ کیا انھیں کچھ معلوم تھا؟ ”کیا آپ کو کچھ معلوم ہے؟“ میں نے اوپر دیکھا اور غور سے سننے کی کوشش کی۔ گویا مجھے جواب کا انتظار ہو۔

میرا خیال ہے کہ یہ احساس زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گا۔ ریڈیو پر اسکاٹش گلوکار ڈونووان کی آواز اور کار کی ہلکی گھرگھراہٹ میرے دل کو ایک جھوٹے سکون سے بھر دیتی ہے۔ سامنے آسمان پر کالے گھنے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ میں کار سیدھے ایک طوفان کے رخ پر چلا رہی ہوں۔ حالانکہ میں دو گیس اسٹیشنوں سے ہو کر گزری لیکن کار میں پٹرول ڈالنا بھول گئی۔ گیس اسٹیشن بھی مجھے یاد نہ دلا سکے کہ پٹرول ختم ہو رہا ہے۔ اب پیلی روشنی مجھے آگاہ کر رہی ہے کہ پٹرول کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔ میں ایکسیلریٹر پر پاؤں کا دباؤ کم کرتی ہوں۔ مجھے پکا یقین ہے کہ جلد ہی کوئی گیس اسٹیشن آ جائے گا۔ میں اس روڈ کے چپے چپے سے واقف ہوں۔

بیٹے کو ماں کے پاس چھوڑ کر آنا میرے لئے بہت مشکل مرحلہ تھا۔ پہلے بھی میں اسے ماں کے پاس چھوڑ کر باہر جا چکی ہوں۔ لیکن آج اسے چھوڑنا خاص طور پر مشکل لگا۔ میرا پیارا بچہ! اب وہ بہت کچھ سمجھنے لگا ہے۔ یہاں تک کہ پیکی، ہمارا پوڈل (کتا) ، مجھ پر اچھلتا رہا اور مجھے آنے سے روکتا رہا۔ میں ڈھیر سارے بوسوں اور وعدوں کے بعد گھر سے نکلی۔ یہ کہ ہم ایک دوسرے کو فون کریں گے، وہ مجھے خط لکھے گا، جتنی جلدی ممکن ہو سکا میں واپس آؤں گی۔ لیکن مجھے فوراً واپس جانا پڑا کیونکہ میں کار سے کار سیٹ نکالنا بھول گئی تھی۔ وہ ڈرائیو وے میں کھڑا تھا، جیسے اسے معلوم ہو کہ میں واپس آؤں گی۔ ”ممی، کل کام کے بعد واپس آ جائیے نا پلیز!“ اس کی گزارش کا انداز جو عموماً ضدی اور شرارت آمیز ہوا کرتا تھا، اس بار سچ مچ میں اداس اور منت آمیز تھا۔ یا کہیں یہ محض میرا تخیل تو نہیں کہ دنیا زیادہ مخلص ہو گئی ہے اور یہ کہ لوگ فطرتاً اچھے ہوتے ہیں۔ یا یہ کہ میں جو کچھ کر رہی ہوں وہ لوگوں کی بیزاری اور خباثت کو مٹا کر انھیں نیک، خوش مزاج اور ترو تازہ بنا رہا ہے؟ اور بے حد تکلیف دہ بھی؟ اگر عشق ہر چیز کو مٹا دینے کی قوت رکھتا ہے تو کیا واقعی یہ کچھ بدل سکتا ہے؟ سب لوگ مجھ سے ہمدردی رکھتے ہیں اور میرے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف وہ مجھ پر کڑی نظر بھی رکھتے ہیں کہ میں کیا کرنے جا رہی ہوں؟ میں چلی جاؤں گی؟ یا ٹھہروں گی؟ یہاں صرف میں ہوں جو کچھ کر رہی ہوں۔ دوسرے لوگ بس ان تماشائیوں کی طرح ہیں جو گویا کسی عمارت کی ریلنگ پر بیٹھی اس عورت کو دیکھ رہے ہوں جو خود کشی کرنے کا ارادہ کر رہی ہو۔ وہ اسے دیکھتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں۔ کچھ لوگ نیچے ایک چادر پکڑے کھڑے ہیں۔ کیا وہ کودے گی؟ یا نہیں کودے گی؟ شرط لگاؤ گے؟ کتنے کی؟

مجھے گھر سے نکلتے وقت ڈر محسوس ہو رہا تھا۔ میرا گلا رندھا ہوا تھا اور میں ایک منحوس اندیشے میں مبتلا تھی۔ ہر چیز بہت شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے اتنا کم کھایا تھا اور اتنا کم سوئی تھی کہ میں ایک اینٹینا ہو گئی تھی جو میرے اطراف کے باریک سے باریک فرق کو بھی پہچان رہا تھا۔ میرے آس پاس کے لوگوں کے آنکھوں کی ہر چمک کو، ہر ان کہی سوچ کو۔

یہ احساس زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گا۔ میں نے خود کو قائل کرنے کی کوشش کی۔ دل ہی دل میں یہ خواہش بھی پالتی رہی کہ یہ احساس زیادہ دیر تک قائم رہے۔ یہ مجھے اندر سے چاہے جتنا بھی چیڑ پھاڑ ڈالے، چاہے جتنی بھی تکلیف دے لے۔ سارے فریب اور سارے ڈرامائی دکھاوے، تمام جھوٹ اور بربادی اور تمام اخلاقی ملبوں کے باوجود بھی، جن کا سامنا مجھے آئینے میں ہر روز کرنا پڑتا ہے، بالآخر میری زندگی منظم ہو جائے گی اور میں اپنے لئے کچھ کر سکوں گی اور ایسا کرتے وقت دوسروں کے لئے بھی کچھ کر سکوں گی۔ خلوص دل سے۔ میں خود کو اچھی لگنے لگی ہوں، حالانکہ مجھے نہیں معلوم کہ میں اگلے دو منٹ میں کیا محسوس کروں گی۔

میں ان دونوں کو کنکھیوں سے دیکھتی ہوں۔ وہ سڑک کی پٹری پر ایک ڈفل بیگ پر اس جگہ بیٹھے ہیں، جہاں مقامی سڑک ہائی وے سے ملتی ہے۔ ان میں سے ایک مجھے دیکھ کر کھڑا ہو جاتا ہے، اور انگوٹھا ہلاکر لفٹ مانگتا ہے۔ میں فراٹے سے آگے نکل جاتی ہوں۔ داہنا بلنکر آن ہے۔ پھر میں بریک لگاتی ہوں۔ اے بی ایس (اینٹی لاک بریکنگ سسٹم) کو چیک کرنے کے لئے میں تیز بریک لگانے سے ڈرتی ہوں۔ میں ریورس گئیر میں ان کی طرف پیچھے لوٹتی ہوں۔ وہ مسکراتے ہوئے کار کی طرف دوڑتے ہیں۔

” میم، آپ کہاں جا رہی ہیں؟“ نوجوان ہانپتے ہوئے پوچھتا ہے۔ لڑکی کچھ قدم پیچھے ہے۔
” لبلانا۔“
” ہم بھی وہیں جا رہے ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ چل سکتے ہیں؟“
” ضرور، بیٹھ جائیے۔“

میں ریئر ویو مرر میں دیکھتی ہوں۔ عورت پچھلی سیٹ پر بیٹھی ہے۔ اس نے ڈفل بیگ کو میری سیٹ کے پیچھے ٹھونس رکھا ہے۔ اچانک مجھے کوئی چیز پریشان کرنے لگتی ہے۔ میرے اندر کوئی آواز کہتی ہے کہ یہ دونوں لبلانا نہیں جا رہے ہیں۔

میں گاڑی چلاتی رہتی ہوں اور میوزک کی آواز دھیمی کر دیتی ہوں۔ میں اپنے داہنی طرف دیکھ کر مسکراتی ہوں اور پرسکون آواز میں کہتی ہوں : ”آپ مجھے لوٹیں گے تو نہیں؟ میری کار تو نہیں چھین لیں گے؟ مار تو نہیں ڈالیں گے نا؟“

دونوں ہنستے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ کچھ زیادہ ہی زور سے ہنس رہے ہیں۔

نہیں، ہم ایماندار لوگ ہیں۔ میں ایمانداری کی کمائی کھاتا ہوں۔ میرا دھندا صاف ستھرا ہے۔ اس دنیا میں بے ایمانی بہت زیادہ ہے۔ لیکن آپ یقین کیجئے ہم واقعی میں ایماندار ہیں۔ ہم ماریبور میں خاندان کے ساتھ تھے۔ کیا آپ بھی ماریبور میں تھیں؟ ”

میں ہر اس فقرے کا نوٹس لیتی ہوں جس کا بنیادی لفظ ”ایمان“ ہے۔ میں رئیر ویو مرر میں جھانکتی ہوں۔ لڑکی بیٹھی ہے اور باہر دیکھ رہی ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ شاید میرا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ لیکن کچھ گڑبڑ لگتی ہے۔ کوئی بات مجھے پریشان کر رہی ہے۔ جب آدمی بولتا ہے تو کوئی چیز مجھے بے چین کرتی ہے۔

”آپ ایسے سوال کیوں کر رہی ہیں؟ کیا ہم لوگ آپ کو ایماندار نہیں لگتے؟ کیا آپ کے ساتھ کبھی کچھ گڑبڑ ہوا ہے۔“

نہیں، کچھ نہیں ہوا۔ میرے ساتھ آخر کیا گڑبڑ ہو سکتا ہے؟ میں صرف اپنی تسلی کے لئے پوچھ رہی تھی۔ ”میں ایک پر اعتماد تبسم کے ساتھ کہتی ہوں۔ وہ ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ہنستے ہیں۔“ بات یہ ہے کہ میں آپ کو اپنی کار میں بٹھا کر ایک جوکھم مول لے رہی ہوں۔ لیکن یہ میرا فیصلہ ہے۔ آپ کی جو مرضی ہو آپ وہ کریں۔ میں ڈرتی نہیں ہوں۔ ”تھوڑی دیر تک ہم خاموش رہتے ہیں۔

”آپ کی کار شاندار ہے، بہت ہی شاندار اور آرام دہ۔“ وہ پسندیدگی سے سر ہلا کر کہتا ہے۔
”ہاں، یہ واقعی آرام دہ ہے۔ بہت اچھی ہے۔“

ہم کچھ لمحے چپ رہتے ہیں۔ میں پیلی روشنی کو دیکھ رہی ہوں۔ ”ہمیں پٹرول کے لئے رکنا پڑے گا،“ میں تقریباً خود سے کہتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے ہم تینوں میں زیادہ بات نہیں ہوگی۔ آخر میں نے انھیں کار میں بٹھایا ہی کیوں؟ مجھے سکون چاہیے، نہ کہ راہ چلتے اجنبی۔ آخر مجھے ان کی کیا ضرورت ہے؟ میں لڑکی کے جھکے ہوئے جسم کو محتاط انداز سے دیکھتی ہوں۔ وہ اب ڈفل بیگ کو گود میں لئے بیٹھی ہے۔ اس کے دونوں پیر سٹے ہوئے ہیں۔ چہرہ کالا ہے۔ میں نے دیکھا کہ آدمی بھی بہت کالا ہے۔ پہلے میں نے غور نہیں کیا تھا۔ میرے خیال سے ہمیں بات کرنی چاہیے۔

” آپ دونوں کیا کام کرتے ہیں؟ اور آپ لبلانا کیوں جا رہے ہیں؟“

لڑکے کی آنکھوں کے انداز سے مجھے لگتا ہے کہ وہ لڑکی کی آنکھوں میں دیکھنا چاہتا ہے۔ لیکن وہ پیچھے بیٹھی ہے۔ وہ مڑتا نہیں اور میری طرف دیکھتا ہے۔

” کوئی خاص کام نہیں۔ جو بھی کام مل جائے۔ یہ سمجھ لیجیے کہ ایمانداری کا کوئی کام۔ بس تھوڑا سیر سپاٹے کے لئے ہم لبلانا جا رہے ہیں۔ اسی لئے تو یہ ڈفل بیگ لائے ہیں۔ ہلکا پھلکا سیر سپاٹا کریں گے۔“ وہ دھیرے سے ہنستا ہے۔ میں بھی ہنستی ہوں۔ حالانکہ مجھے ہنسنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ مجھے لگا کہ یہ گھبراہٹ بھری ہنسی ہے۔

” پٹرول پمپ! میں گاڑی روک رہی ہوں۔ پٹرول بالکل نہیں بچا ہے۔“ میں بڑبڑاتی ہوں۔

میں ہرے پمپ کے سامنے گاڑی روکتی ہوں۔ کار سے نکلنے پر مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں نے گاڑی غلط پمپ کے سامنے روکی ہے۔ مجھے اب پٹرول ڈالنے کا پائپ کار کے اوپر سے کھینچ کر لانا ہو گا۔ آخر مجھے کیوں کبھی یاد نہیں رہتا کہ کار کا ٹینک کس طرف ہے؟ میں لگ بھگ غصے سے سوچتی ہوں۔ آدمی ابھی بھی دھیمے دھیمے مسکرا رہا ہے۔ وہ میری مدد کرنا چاہتا ہے۔ ادھر کچھ دنوں سے ہر کوئی میری کچھ نہ کچھ مدد کرنا چاہتا ہے۔ ”نہیں، شکریہ! میں خود کر لوں گی۔“ میں کار سے تھیلا باہر نکالتی ہوں۔ اگنیشن سے چابی نکالتی ہوں، لیکن میں الیکٹرانک بٹن سے کار کے اندر سے ہی ٹینک کھولتی ہوں۔ گندا کولتار میرے پیروں میں لگ جاتا ہے۔ میں لمبی پونی ٹیل اور ہندوستانی لباس میں خود کو ہپی محسوس کرتی ہوں۔ نقلی ہپی۔ مجھے لگتا ہے کہ لوگ مجھے عجیب نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ میں آدھا ٹینک بھرتی ہوں۔ کار کے اندر جھانکتی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ اس زاویے سے وہ آدمی مجھے نہیں دیکھ سکتا، لیکن میں اسے دیکھ سکتی ہوں۔ وہ لڑکی کی طرف مڑا ہوا ہے اور دونوں جلدی جلدی اور گھبرائے ہوئے انداز میں باتیں کر رہے ہیں۔ وہ اپنی سیٹ بیلٹ تک ہاتھ لے جاتا ہے۔ وہ بیلٹ کھولنے ہی والا ہے کہ مجھے آتا دیکھ کر ہاتھ ہٹا لیتا ہے۔ میں محسوس کر رہی ہوں کہ میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ کوئی گڑبڑ ضرور ہے۔ میں چکر لگا کر کار کے دوسری طرف جاتی ہوں اور دروازہ کھولتی ہوں۔ ”سب ٹھیک تو ہے؟“ میں پوچھتی ہوں۔

وہ دانت نکوستا ہے۔ ”ہاں سب ٹھیک ہے۔ کوئی گڑبڑ نہیں۔ میم، آپ فکر نہ کریں۔ ہم ایماندار ہیں۔ سچ مچ!“ لڑکی دھیمے سے مسکراتی ہے۔ اس کے ہاتھ اس کی گود میں ہیں۔

میں کچھ سوچ نہیں رہی ہوں، لیکن تبھی اچانک میں اپنے کو یہ کہتے سنتی ہوں : ”آپ جائیے، بل پے کر کے آئیے، اور رسید لے لائیے گا۔“

” ٹھیک ہے، بہت اچھا۔“ وہ جلدی سے بیلٹ کھول کر کار سے باہر نکلتا ہے اور پیسے لے کر جاتا ہے۔ میں اسے جاتے ہوئے دیکھتی ہوں اور پچھلا دروازہ کھولتی ہوں۔ یہ صرف باہر سے کھل سکتا ہے۔ حفاظت کی وجہ سے تاکہ چلتی کار سے بچہ باہر نہ گر پڑے۔ کیا لڑکی کو یہ سب معلوم ہے؟

دو کالی آنکھیں مجھے گھورتی ہیں۔ ”سب ٹھیک تو ہے نا؟“ میں مسکراتے ہوئے سوال دہراتی ہوں۔
” سب ٹھیک ہے،“ وہ اطمینان دلانے والی مسکان کے ساتھ سربین زبان میں کہتی ہے۔

” تو پھر میرے پیٹ میں درد کیوں ہو رہا ہے؟ اور میرے ہاتھ کیوں کانپ رہے ہیں؟ ایسا کیوں ہے؟ تم مجھے اس کے بارے میں کچھ بتا سکتی ہو؟“

” شاید آپ کی ماہواری شروع ہو گئی ہو۔“ وہ سربین میں کہتی ہے اور انکساری سے کندھا اچکاتی ہے۔ وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتی ہے۔ تقریباً سہمی ہوئی سی۔

”کچھ گڑبڑ ہے۔“ میں دہراتی ہوں اور اسے دیکھتی ہوں۔

” شاید آپ کو سردی لگ رہی ہو۔ لیکن آپ کا کپڑا پیارا ہے، بہت پیارا۔“ اس کی نظریں میرے ننگے پیروں پر پڑتی ہیں۔

” نہیں میں کچھ اور کہہ رہی ہوں۔“ میں اس زبان میں کہتی ہوں جسے وہ زیادہ بہتر سمجھتی ہے۔ ”جب سے آپ لوگ میری کار میں بیٹھے ہیں مجھ کو یہاں درد ہو رہا ہے۔“ میں اپنے پیٹ کی طرف اشارہ کرتی ہوں۔ میرے چہرے پر ابھی بھی ایک پرسکون مسکان ہے۔ کیا مجھے سچ مچ میں کچھ معلوم ہے یا یہ سب میرے تخیل میں ہو رہا ہے؟ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ یہ سوال میرے ذہن میں بار بار اٹھ رہا ہے۔ تبھی مجھے اس کے چہرے پر گھبراہٹ نظر آتی ہے، جو ویسے تو ایک حسین اور خوشگوار طور پر پر سکون چہرہ ہے۔ وہ میرے کندھے کے پیچھے آدمی کو آتے ہوئے دیکھتی ہے۔ میں دیکھتی ہوں کہ آدمی کی جینس بری طرح گندی ہے اور اس کے ہونٹ بہت سوکھے ہوئے ہیں۔ رسید میری طرف بڑھاتے وقت اس کے چہرے پر ایک اینٹھی ہوئی سی مسکان ہے۔ لڑکی پہلے ہی اٹھنے لگی ہے۔

” ہنی، بیگ پکڑو، یہ عورت ٹھیک نہیں ہے۔“ بیگ تیزی سے باہر آتا ہے۔ چہروں کے تاثر پوری طرح بدل چکے ہیں۔ گھبراہٹ اور دھمکی آمیز تاثر۔ تبھی کالے بالوں والی لڑکی رک کر زور سے پھنکارتی ہوئی کچھ کہتی ہے۔ پہلے تو میں کچھ نہیں سمجھ پاتی۔ میں انھیں دیکھتی ہوں اور مجھے نہیں معلوم کی کیا کرنا چاہیے۔ تبھی اچانک مجھے احساس ہوتا ہے کہ کون سا لفظ بار بار دوہرایا جا رہا ہے۔ ”چڑیل!“ وہ چیختی ہے۔ ”پاگل چڑیل!“ میں دیکھتی ہوں کہ آدمی بانہیں پکڑ کر اسے کھینچ رہا ہے، لیکن وہ پیچھے مڑ مڑ کر مجھے گالیاں دے رہی ہے اور گندے کولتار پر تھوکتی ہے۔

میں وہیل کے پیچھے بیٹھ جاتی ہوں۔ ریڈیو پر ڈونووان کا گانا لگاتی ہوں اور اگنیشن اسٹارٹ کرتی ہوں۔ پھر ان کے گرد کافی دور سے چکر لگا کر کار کو گھماتی ہوں۔ میں کار پوری رفتار سے بھگاتی ہوں۔ کچھ دیر تک میرا دماغ بالکل سن رہتا ہے۔ میں کچھ نہیں سوچ پاتی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2