ازدواجی رشتوں کا مسائل اور ان کا حل


ازدواجی رشتوں میں پائی جانے والی  تلخیاں, مسئلے اور دراڑیں کیا کسی ماہر نفسیات کے مشوروں سے کم یا ختم کی جا سکتی ہیں. یہ ایک اہم سوال ہے. نفسیاتی الجھنوں کی ماہر ایک مشہور شخصیت کا کالم میری نظروں کے سامنے سے گزرا. بلاشبہ موصوف نے بڑے اہم موضوع پر قلم آزمائی کی ہے. ان کا مضمون میاں بیوی کے رشتے میں پیش آنے والے اتار چڑھاؤ کو ایڈریس کررہا ہے. بقول ان کے دونوں کے درمیان اعتماد اور محبت میں کمی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے. وہ شائد اس کیفیت کو نفسیاتی بیماری کی ایک قسم قرار دیتے ہیں.
بطور ماہر نفسیات وہ اس بارے میں بہتر سوچ رکھتے ہوں گے. مگر میری ناقص رائے کے مطابق میاں بیوی سے زیادہ کوئی دوسرا فرد بہترین سائیکوتھراپسٹ ہو ہی نہیں ہوسکتا. ایک کہاوت کے مطابق میاں بیوی ایک دوسرے کے لباس کا درجہ رکھتے ہیں. لہذا وہ کسی دوسرے انسان کی مدد کے بغیر بھی اپنے مسئلوں سے بہتر انداز میں نمٹ سکتے ہیں. کیوں کہ وہ زندگی کا ایک بڑا حصہ ایک ساتھ گزار چکے ہوتے ہیں. اور ان کو ایک دوسرے کی خوبیوں اور خامیوں کا بھی اچھی طرح علم ہوتا ہے. لہذا جب بھی انہیں کسی الجھن یا مسئلےکا سامنا کرنا پڑے. یا ان کے درمیان کسی وجہ سے بداعتمادی پیدا ہو جائے. تو اس صورت میں مل بیٹھ کر کھلے ذہن کے ساتھ اس کا حل ڈھونڈنا چاہئے. شرط یہ ہے کہ انہیں اپنی انا, ضد اور ہٹ دھرمی کو پست پشت ڈال کر فیصلے لینا ہوں گے. تبھی ازدواجی زندگی کو خوش گوار اور پرسکون بنایا جا سکتا ہے.
یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ کسی چھوٹی سی بات کو رائی کا پہاڑ بنا کر میاں بیوی جیسے  مضبوط رشتے کو تماشا بنا دیا جائے. درحقیقت انسانی زندگی دکھ اور سکھ کا مجموعہ ہوتی ہے. کسی بھی انسان کو اپنی زندگی میں کئی طرح کی پریشانیوں اور الجھنوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے. ان پریشانیوں کو ہم اپنی ہمت اور دانائی کے ساتھ حل کرنے کی  پوری صلاحیت رکھتے ہیں. ایک انسان اپنی زندگی میں پیش آنے والے مسائل سے ہی سیکھتا ہے. اس کے اندر اچھے برے کی پہچان پیدا ہوتی ہے. جس کی وجہ سے اس کی شخصیت کا مثبت پہلو نکھر کر سامنے آتا ہے. بجائے اس کے ہم چھوٹے چھوٹے مسئلوں پر ماہر نفسیات یا تعویذ گنڈوں والوں کے پاس بھاگے چلے جاہیں. ہمیں اپنے اندر چھپے ہوئے جوہرقابل کو تلاش کرنا چاہئے. اپنی وحشت کو ایک طرف رکھ کر اندر کے اچھے انسان کو جگانا چاہئے. جگہ جگہ پیسے ضایع کرنے کے بجائے اپنی دانش کو بروئے کار لا کر غلطیاں درست کرنا  ہی عقلمندی کی علامت  ہے.
 دراصل ازدواجی زندگی کے ابتدائی لمحات بڑے حسین اور ناقابل یقین حد تک شاندار ہوتے ہیں. مگر کچھ عرصے کے بعد  بعض دیگر وجوہات  کی وجہ سے کچھ مسائل سامنے آجاتے ہیں. جو میاں بیوی کے  لیے پریشان کن ہوتے ہیں. مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہوتا کہ ان کے درمیان بداعتمادی پیدا ہو رہی ہے یا محبت میں کمی آرہی ہے.
 دراصل ازدواجی زندگی کے سو طرح کے بکھیڑے ہوتے ہیں. خاص کر مشترکہ خاندانی نظام کا باوا آدم ہی نرالا ہوتا ہے. جہاں والدین اور بھائی اور ان کے بیوی بچوں اور کنواری بہنوں کے کئی طرح کے مسائل پیش آتے رہتے ہیں. بہنوں کی شادی ,والدین اگر بیمار ہوجاہیں تو ان کا علاج معالجہ اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات. اس طرح کی صورت حال میں میاں بیوی کے درمیان  پیار اور رومانس کا کم ہونا ایک فطری عمل ہے.
میاں بیوی اور ان کے بچے, ساس سسر, دیور جیٹھ نند اور دیورانی جیٹھانی پر مشتمل  گھرانہ ایک سٹیج ڈرامے یا فلم کے سیٹ کی مانند ہوتا ہے. جس میں مختلف کردار اپنی  سوچ , مزاج اور فطرت کے مطابق اپنا کردار نبھاتے ہیں. اس طرح کے ماحول میں میاں بیوی بعض اوقات پس جاتے ہیں. شوہر دن بھر کا تھکا ہارا گھر میں داخل ہوتا ہے. تو اسے بیگم منہ پھلائے بیٹھی ملتی ہے. کبھی ماں کو بہو سے شکایت ہوتی ہے. اور کبھی بجلی, گیس اور پانی کے مسائل کا سامنا ہے. اس صورت میں شوہر بیچارے کا مزاج تلخ ہونا خارج از امکان نہیں ہوتا.
اس سارے معاملے کا ایک اور پہلو بھی ہوتا ہے جس میں اصلاح حوال ناممکن ہوتا ہے. اور وہ ہے بے جوڑ شادیاں. جن میں لالچ, بدنیتی اور دھوکے کا عنصر شامل ہوتا ہے. بعض اوقات روپے پیسے کی لالچ میں آکر لوگ اپنے بچوں کے رشتے طے کردیتے ہیں. جن کا انجام بالآخر علیحدگی کی صورت میں برآمد ہوتا ہے. اگر میاں بیوی میں عمر کا فرق زیادہ ہو. یا کالی اور گوری رنگت کا معاملہ ہو. یا پھر میاں بیوی میں ایک زیادہ  پڑھا لکھا ہو اور دوسرے فریق نے واجبی تعلیم حاصل کر رکھی ہو. تو اس صورت میں بھی رشتوں میں دراڑیں پڑنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے. اگر شوہر کالا اور بیوی گوری ہوگی تو جب شوہر نامدار بیوی کے قریب جانے کی کوشش کرتے ہیں.تب بیوی کو اس سے کراہت محسوس ہوتی ہے. اگر معاملہ اس کے الٹ ہوگا تو  خاوند بیوی کے قریب جانے سے گریز کرے گا. اس طرح کی سچوایشن میں کوئی شخص ان کے مسئلے حل نہیں کرسکے گا.   سوائے اس کے ایسے جوڑوں کی اولاد ہو جائے. اور وہ جیسے تیسے اپنی ازدواجی زندگی آگے لے کر چلیں. دوسری صورت میں ان کا اکٹھا چلنا ناممکنات کا کھیل ہے.
آخر میں سوال یہ ہے.کیا کسی مسئلے پر شادی شدہ جوڑے کو ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہئے یا دونوں کو مل بیٹھ کر اس کا حل تلاش کرنا چاہئے. یہ ایک سنجیدہ سوال ہے. فرض کریں کہ آپ  نفسیاتی ماہر کے پاس چلے ہی جاتے ہیں تو اس صورت میں کیا فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں. ایک ایسا شخص جو آپ کو جانتا بھی نہیں اور اس کو مسئلے کی اصل نوعیت کا علم بھی نہیں ہے تووہ آپ کی کیا مدد کرے گا. اس بیچارے کو آپ کے مسائل کو سمجھنے کے لیے کافی عرصہ درکار  ہوگا. بعض اوقات نفسیاتی الجھنو ں کے ماہر کا ترتیب دیا گیا سوالنامہ بھی آپ کے لیے فائدہ مند نہیں ہوسکتا. لہذا آپ کو سنجیدگی اور متانت کے ساتھ معاملے کا خود جائزہ لے کر حل کے طرف جانا ہوگا. آپس میں مل بیٹھیں. دماغ کو ٹھنڈا کرکے اشو کو حل کریں. غصے اور نفرت کی آگ سے اپنے آپ کو بچاہیں. اپنے اردگرد کے تمام رشتوں کو عزت دیں. بغض اور کینہ اپنے اندر سے ختم کریں.  اس طرح آپ کی ازدواجی زندگی شاندار ہوسکتی ہے.
Facebook Comments HS