راجہ انور اور بھٹو خاندان


مشہور طالب علم لیڈر راجہ محمد انور پر لکھا ہوا بلاگ پڑھا اور دل بہت ہی اداس ہوا. گارڈن کالج راولپنڈی کے اس طالب علم لیڈر نے ایوب خان کے خلاف علم بغاوت بلند کیا. اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا. زندگی کی اٹھارہ بہاریں دیار غیر میں گزارنے کے بعد جب وہ اپنے گاؤں واپس لوٹا. تو اس کی قیمتی متاع لٹ چکی تھی. اس کے ماں باپ اپنے جوان بیٹے کی راہ تکتے تکتے منوں مٹی تلے جا سوئے. راجہ انور کی شفیق ماں اپنے لاڈلے بیٹے کے سر پر سہرہ سجانے کی آس لگائے یہ فانی دنیا چھوڑ گئی. اسی گارڈن کالج سے سیاست شروع کرنے والے شیخ رشید نے نسبتا´ایک آسان راستہ منتخب کیا جو اقتدار کی طرف جاتا تھا. جس کا اس کو بے پناہ فائدہ ہوا. وہ زمانے کی گرمی سردی سے بھی بچا رہا. اور اس کو چھ مرتبہ وفاقی کابینہ کا رکن بننا بھی نصیب ہوا. شیخ صاحب آج بھی وزارت کے مزے لے رہے  ہیں.
فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی مرکزی کابینہ سے مستعفی ہونے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو شہید نے ایک نئی سیاسی پارٹی کی داغ بیل ڈالی. یہ جماعت داہیں اور باہیں بازو سے تعلق رکھنے والے قدآور راہنماؤں کا مجموعہ تھی. جن کی قابلیت اور اہلیت مسلمہ تھی. انیس سو ستر کے انتخابات میں بھٹو صاحب نے مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد کو پارٹی ٹکٹ جاری کیا. جنہوں نے اس دور کے ہیوی ویٹ سیاستدانوں کو شکست فاش سے دوچار کرکے سیاسی میدان میں بھونچال پیدا کر دیا. پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی اور شائد آخری بار حقیقی سیاسی کارکنوں نے اسمبلیوں کو رونق بخشی. وہ بڑے یادگار اور خوش نما لمحات تھے جب غیر معروف وکلاء, مزدور لیڈر, کسان اور غریب کارکن اسمبلی کی لابیوں میں مٹر گشت کرتے دیکھے گئے. بدقسمتی سے جلد ہی جاگیرداروں, سرمایہ داروں اور سیاست کے مفاد پرست کھلاڑیوں نے پیپلزپارٹی کا رخ کرنا شروع کر دیا. جس کی وجہ سے پارٹی کو خون اور پسینے سے سینچ کر پروان چڑھانے والے پس منظر میں جانے لگے. دراصل تمام سیاسی پارٹیوں میں دو قبیل کے لوگ موجود ہوتے ہیں. جن میں سے ایک طبقہ وہ ہے جو اپنے کام سے مطلب رکھتا ہے. جبکہ دوسرے طبقے کا کام لیڈر کی خوشامند اور چاپلوسی کے سوا کچھ نہیں ہوتا. جمہوریت کے نہ پنپنے اور ملک کے زوال کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے. کہ  سیاسی جماعتوں میں موجود مفاد پرست گروہ لیڈر کی بے جا خوشامند کرکے اس کا دماغ ساتویں آسمان تک پہنچا دیتا ہے. جس کی وجہ سے پارٹی میں موجود شرفا گھٹن محسوس کرتے ہوئے گوشہ نشین ہو جاتے ہیں. اسی طرح پیپلزپارٹی میں بھی ایک ایسا گروپ موجود تھا. جس نے بھٹو صاحب کے کان بھرنے کا فرض سنبھال رکھا تھا. پارٹی کا منشور تیار کرنے والے ترقی پسند بزرگ راہنما جے اے رحیم کے ساتھ پیش آنے والا افسوس ناک واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا. جناب جے اے رحیم  طبعیت خراب ہونے کی وجہ سے ضیافت سے اٹھ کر چلے ہی گئے تھے. تو باقی راہنماؤں کا فرض بنتا تھا کہ وہ کوئی معقول بہانہ بنا کر معاملے کو ٹھنڈا کر دیتے. اس طرح پارٹی کی بھی بدنامی نہ ہوتی اور جناب جے اے رحیم کا بھرم بھی قائم رہ جاتا. بجائے ایسا کرنے کے بھٹو صاحب کے سامنے بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا. جس کے نتیجے میں ایف ایس ایف کے دستے نے رات گئے بزرگ راہنماء کے گھر پر ہلہ بول دیا. اور انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا. اینٹی پی پی ایلیمنٹس آج بھی اس واقعے کو بنیاد بنا کر بھٹو کی میراث کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں.
 راجہ انور نے بھی اپنی جوانی پیپلزپارٹی اور بھٹو خاندان کی نذر کردی. اس دوران قید و بند کی صہوبتیں بھی برداشت کیں اور جلاوطن بھی ہوئے. اپنے لیڈر کے لیے انہوں نے اپنا دکھ سکھ بھی قربان کردیا. اپنی  شفیق ماں اور عزت دار باپ کو کھویا. سٹیٹس کو کے خلاف راجہ انور نے طویل جدوجہد کی تاکہ انصاف پر مبنی نظام قائم ہو. اگر سابقہ دور کا آج کے دور کے ساتھ مقابلہ کیا جائے. تو کیا کوئی فرق نظر آتا ہے. ملک آگے بڑھا یا پستی کی جانب رواں دواں ہے. ایوب خان کی حکمرانی اور آج کے حاکم میں راجہ صاحب کیا فرق محسوس کرتے ہیں. انہوں نے اپنی طویل جدوجہد سے وطن کے لیے کچھ حاصل بھی کیا یا نہیں. ان کی قربانیوں کو مشعل راہ بنا کر گاؤں اور ملک کے جوانوں نے کیا سیکھا. جمہوریت  کو کیا فائدہ ہوا.  کیا قانون اور انصاف کا بول بالا ہوا. اظہار رائے کی آزادی کا سورج طلوع ہوا. منصفوں نے انصاف کا ترازو برابر رکھا. حقداروں کو ان کا جائز حق ملا یا آج بھی وہ اپنے حقوق کے لیے سراپا احتجاج ہیں. میری رائے کے مطابق ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ہے کیوں کہ موجودہ دور میں بھی لوگ انصاف کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں.  کسان, طالب علم, مسیحا, اساتذہ , سرکاری ملازمین اور کسان چوکوں اور چوراہوں میں روتے پیٹتے نظر آتے ہیں. ایوب خان کے دور میں آمریت ضرور تھی مگر ملک کی معاشی حالت آج کی نسبت بدرجہا بہتر تھی. خارجہ پالیسی ملکی تاریخ کی بلندیوں پر تھی. وطن عزیز میں امن اور سکون کا دور دورہ تھا.
میرے ذاتی خیال میں راجہ انوار نے ایک سعی لا حاصل میں اپنا قیمتی وقت برباد کیا. اگر وہ اپنی تعلیم مکمل کرکے ڈاکٹر, وکیل یا سرکاری افسر بنتے تو کسی حد تک ملک کی بہتر خدمت کرسکتے تھے. ان میں اتنی قابلیت موجود تھی. فوج میں بھرتی ہونے کی صورت میں کم از کم تھری سٹار جنرل تو بن ہی جاتے. اس طرح ان کے والدین کے  دکھوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی رک جاتا. بھٹو صاحب کے قافلے کے ہم رکاب راجہ انور کو لوگوں کی ایک قلیل تعداد جانتی ہوگی. مگر بھٹوز کے چاہنے والے لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں. عقیدت مندوں کا ایک بہت بڑا اکٹھ ان کے مزار پر ہر سال جمع ہوتا ہے.
بھٹو کے چاہنے والوں کی ایک کثیر تعداد پاکستان میں موجود ہے. مگر ان کو بھٹو بنانے والے گمنامی کے سمندر میں ڈوب چکے ہیں.
تالپور برادران, ڈاکٹر مبشر حسن, شیخ رشیداحمد, معراج محمد خان,  محمود علی قصوری ,حنیف رامے, افتخار تاری, ڈاکٹر خالق, خورشید میر اور دوسرے کئی قابل راہنما دلبرداشتہ ہوکر پارٹی چھوڑ کر چلے گئے. مگر راجہ انور  نے وفاداری کی ایک عظیم مثال قائم کرتے ہوئے پہلے بھٹو صاحب اور بعد میں ان کے بیٹوں کا ساتھ آخر تک نہ چھوڑا.
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ایک وفادار اور مخلص ترین کارکن بھی کبھی نہ کبھی کسی چھوٹی سی بات پر لیڈر کی نظروں سے گر جاتا ہے اور معتوب ٹھہرتا ہے. پیپلزپارٹی کے بےشمار بانی اراکین کی طرح راجہ انور کو بھی یہ دن دیکھنا پڑا. کیوں کہ سیاست ایک بے رحم کھیل ہے. سیانے کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا. لہذا  پارٹی لیڈر کی گاڑی کے آگے پیچھے بھاگنے والوں کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے.
Facebook Comments HS