جانچتی نظریں
انسانوں کی آنکھیں تو ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہی ہیں لیکن نظروں کا انداز بھی ان کی سوچ اور شخصیت کے مطابق مخصوص ہو جاتا ہے۔ جیسے آنکھیں چھوٹی، بڑی، کھیچی ہوئی اور بادام سی ہوتی ہیں ایسے ہی نظروں کو بھی الگ نام اور پہچان حاصل ہے۔ کہیں تو موبائل پر مصروف بچے کو ذرا سی پڑھائی کے لیے کہنے پر بچہ قریب رکھی ہوئی کھلی کتاب پر بس ایک طائرانہ نظر ڈال کر نصیحت کرنے والے کو شکایتی نظر سے دیکھتا ہے تو جواب میں ملامتی نظر اس کا استقبال کرتی ہے۔
جیسے محبوب کی زیارت دزدیدہ نظر سے ہی کر لی جاتی ہے یا پھر ترچھی نظر کے وار سے کون واقف نہیں، اگرچہ محبوب کے والد کی آتشیں نظر سے اس وقت نظر بچا کر کھسک جانے میں ہی عافیت جانی جاتی ہے۔ جہاں تک نظر بد کا تعلق ہے تو اس کے خوف نے دور حاضر کی اکثر خواتین کو اپنا اسیر بنا رکھا ہے۔ وہ چاہ کر بھی اس کی قید سے خود کو آزاد نہیں کروا سکتیں۔
ان سب نظروں سے قطع نظر آج کے دور میں ”جانچتی نظریں“ عام ہو رہی ہیں۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دوسرے شخص نے آنکھوں میں ایکسرے مشین لگوا رکھی ہے جو سامنے والے کے ظاہری حدود اربعہ سے ہوتی ہوئی اس کے احساسات، جذبات اور عزائم تک کو اپنے ذاتی پیمانے پہ پرکھ لینا چاہتی ہے۔ کسی ڈاکٹر یا وکیل کے پاس جائیے تو نظروں ہی نظروں میں جانچ لیتا ہے کہ آسامی تگڑی ہے یا نہیں۔ ماں باپ بچے کی فریاد پر نظروں کا زاویہ سیٹ کر کے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کہیں بچہ جھوٹ تو نہیں بول رہا۔
استاد کو تو خیر طالبعلم کو جانچتی نظر سے دیکھنے کا حق حاصل ہے۔ شادی کے لیے رشتہ طے ہونا کا مرحلہ ایک اذیت ناک رسم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جہاں لڑکے اور لڑکی کو ایسی بے شمار نظروں کا سامنا کرتے ہوئے اپنا آپ منوانا ہوتا ہے۔ اپنی اچھائیوں کے ثبوت فراہم کرنے ہوتے ہیں جنہیں پھر مختلف پیمانوں سے جانچا جاتا ہے۔
شوہر یا بیوی ایک دوسرے کی تعریف کر دیں تو انہیں نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ اس تعریف کے پیچھے کوئی غرض تو نہیں چھپی؟ یا طنزیہ ایسا کہا جا رہا ہے۔ اس سارے قصے میں سرفہرست وہ رشتہ دار ہوا کرتے ہیں جو گپ شپ کے شوقین ہوا کرتے ہیں۔ انھیں خاندان کے ہر گھر کے ہر فرد کی سرگرمیوں کی خبریں درکار ہوتی ہیں تاکہ کوئی ان کے سامنے آئے تو اس سے سوالات کر کے تصدیق کی جائے اور ایسے میں اپنی جانچتی نظروں کو اس پر گاڑ دیا جائے تاکہ وہ چکمہ نہ دے سکے۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں، ایک فہرست تیار ہو جائے گی۔
یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس قدر خوف اور بے اعتباری کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے۔ مثبت سوچ رکھنے میں کون سے عوامل آڑے آ رہے ہیں۔ ہم کیوں خود کو بے عیب اور دوسروں کو عیب دار سمجھتے ہیں۔ اگر ہم غیر جانبداری سے اپنا احتساب کریں تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا اور اگر اپنے اندر عیب تلاش کرنے میں دقت ہو تو کسی رشتہ دار سے ہی مدد کا تقاضا کر لیجیے۔ آپ کے عیبوں کی طویل فہرست حاضر خدمت ہو گی۔
اس میں سے اپنے اصلی عیب چھانٹ کر نکال لیں اور پھر انھیں ٹھیک کرنے کی فکر کریں۔ دوسرے کیسے ہیں اور کیا کرتے ہیں اس سے ہمارا سروکار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اعمال کا حساب تو رب نے لینا ہے۔ یہ کام وہ بخوبی جانتا ہے۔ اس کے لیے اس کا اپنا طریقہ کار ہے۔ اس کے کام اپنے ہاتھ لینے کی گستاخی مت کیجیے۔ وہ ہم سے ہمارے اعمال کا حساب لے گا۔ اس دن کی تیاری کریں۔ اپنی اور دوسروں کی زندگی آسان بنائیں۔


