مُوکُوہاتوجُو کی مایا

  گزشتہ دنوں پڑوسی ملک سے حالات کشیدہ ہونے کی خبریں عام ہونے کی صورت میں سوشل میڈیا پر رنگ برنگی مِیمز دیکھنے کو ملیں۔ دشمن کو للکارنے کا یہ انداز سمجھ سے بالا تر تھا۔ ایسی ہی صورتحال میں بچوں کے جاپانی ادب کے بہت بڑے نام موکوہاتوجو کا ناول ”مایا“ پڑھنے کا موقع ملا جس کو اردو میں ترجمہ کرنے والی خاتون کا تعلق بھی اگرچہ جاپان سے تھا لیکن انہوں نے بہت عمدہ انداز میں کتاب کا

Read more

سن رسیدہ بھنورا

دفتر سے واپسی پر اپنی سوچوں میں گم تیزی سے چلتی وہ گھر کی طرف گامزن تھی، دن بھر کی تھکا دینے والی تگ و دو کے بعد گھر جا کر ابھی کھانا بھی پکانا تھا، بچوں کو ہوم ورک بھی کروانا تھا، راستے سے انڈے اور سبزی بھی لیتے ہوئے جانا تھا۔ کوئی مزید چیز تو نہیں جو راستے سے خریدنی ہو، ایک مرتبہ گھر جا کر دوبارہ نہیں نکلا جاتا، یہی سوچتی اپنی دھن میں مگن جب وہ

Read more

بیمار کے تیماردار

  تیمار دار اور بیمار کا رشتہ ماں بچے کی طرح ہوتا ہے۔ جیسے ماں بچے کی ہر ضرورت اور تکلیف کا احساس بہت اخلاص کے ساتھ کرتی ہے۔ اگر مریض کے لیے ایسا احساس تیماردار کے دل میں نہ ہو تو وہ محض ایک تماش بین ہے جو مریض کے لیے زحمت بن جاتا ہے۔ زمانہِ طالبِ علمی میں ایک مضمون بہت شد و مد کے ساتھ یاد کیا کرتے تھے کیونکہ وہ ہر سطح کے امتحان میں گھومتا

Read more

جانچتی نظریں

انسانوں کی آنکھیں تو ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہی ہیں لیکن نظروں کا انداز بھی ان کی سوچ اور شخصیت کے مطابق مخصوص ہو جاتا ہے۔ جیسے آنکھیں چھوٹی، بڑی، کھیچی ہوئی اور بادام سی ہوتی ہیں ایسے ہی نظروں کو بھی الگ نام اور پہچان حاصل ہے۔ کہیں تو موبائل پر مصروف بچے کو ذرا سی پڑھائی کے لیے کہنے پر بچہ قریب رکھی ہوئی کھلی کتاب پر بس ایک طائرانہ نظر ڈال کر نصیحت کرنے والے کو

Read more

ریاضت بے ثمر

ارے شاہ میر آپ کیوں رو رہے ہیں؟ وہ بھی یہاں ہسپتال میں اتنی رات گئے۔ یہ بستر پر پڑی میری ہم شکل عورت کون ہے؟ آپ مجھے بتاتے کیوں نہیں؟ بچے بھی نظر نہیں آ رہے۔ آپ سارہ کو سکول سے لینے گئے تھے ناں اور علی کو بھی ساتھ ہی اٹھا کر لے گئے تھے۔ کہاں ہیں دونوں بچے؟ آپ تو ایسے روئے جا رہے ہیں جیسے میری بات سن ہی نہ رہے ہوں۔ کچھ تو بولیں! میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔

اسی دوران کمرے کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر نے کہا آپ فی الحال گھر جا سکتے ہیں۔ میت ابھی ہسپتال میں ہی رکھنی ہو گی۔ جب تک میڈیکل بورڈ موت کی وجہ دریافت نہیں کر لیتا تب تک انگلینڈ کے قانون کے مطابق آپ کو میت نہیں دی جا سکتی۔

Read more

عزت کی بھوک

اس نحیف جسامت کے ساتھ بیس اینٹوں کو رسی سے باندھ کر اس نے کمر پر لادا اور زیر تعمیر چار منزلہ عمارت کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اسے دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ ابھی گرا ہی گرا۔ اس کے ساتھی ذو معنوی مسکراہٹ کے ساتھ اپنا کام کرتے ہوئے اسے بھی کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے۔ آج اسے مستری نے طعنہ جو دے ڈالا تھا کہ یہ کیا بچوں کی طرح تین تین جوڑی اینٹیں لے آتا ہے؟ پھر

Read more

فادرز ڈے: میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے

مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے نومبر کے ایک روز سنہری دھوپ میں اسلام آباد سپورٹس کمپلیکس کے کشادہ گراؤنڈ میں ہر طرف بچے رنگ برنگے لباس میں اپنے اپنے سکولوں کی نمائندگی کرنے کے لیے موجود تھے۔ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے والدین اور دوسرے بہن بھائی بھی رونق کو بڑھا رہے تھے۔ اسی دوران ایک خوبصورت اور چمکتے دمکتے لباس میں ملبوس چھوٹی سے بچی بیٹھنے کے

Read more

دور حاضر کی اکبری و اصغری

”ہائے! میری نازوں سے پلی معصوم بچی، کیسے لوگوں سے تیرا واسطہ پڑ گیا؟ کبھی نہ رشتہ دیا ہوتا ان بے قدروں کو۔ ارے! اس نے تو کبھی خود سے پانی تک نہیں پیا تھا۔ آج دس دس لوگوں کی روٹیاں پکانے کو کہہ رہے ہیں کم بخت مارے! ”رشیدہ بیگم کی دہائیاں سن کر دروازے سے اندر داخل ہوتے شفیق صاحب لمحے بھر کو ٹھٹھکے اور پھر بیگم کے ہاتھ میں موبائل دیکھ کر سمجھ گئے کہ یقیناً بیٹی کا سسرال سے فون آیا تھا۔ پھر بھی انجان بننے کی کمال اداکاری کرتے آگے بڑھے اور بیگم سے پریشانی کی وجہ دریافت کی۔

بڑی بی نے منہ پر دوپٹہ رکھ کر رندھی ہوئی آواز میں دہائی دی ”اجی دیکھتے ہو پنکی کے ابا کتنا ظالم سماج ہے۔ میری نازوں سے پلی بچی کس عذاب میں پھنس گئی! میں کہاں جاؤں۔“

اب کہہ بھی چکو بھلی لوک! ہوا کیا ہے؟ شفیق صاحب بولے۔

Read more

مٹی کا قرض

آج اس کا بیٹا اپنی قسمت آزمانے گاؤں چھوڑ کر شہر چلا گیا تھا۔ اس گاؤں میں ان کا خاندان کئی پشتوں سے آباد تھا۔ یہی وجہ تھی کہ گاؤں کے تمام لوگ ایک خاندان کی طرح رہتے تھے۔ دکھ سکھ میں سب اکٹھے ہوتے۔ مشکل میں کسی کو بھی اکیلا نہ چھوڑا جاتا تھا۔ جیسے کہ ماسی بھاگاں نے اماں کو دوپٹے سے آنسو صاف کرتے دور سے ہی دیکھ لیا تو اپنا کام چھوڑ کر اماں کے پاس چلی آئی اور بولی ”کیا بات ہے رحمتے؟ روتی کیوں ہے؟“

Read more