سقوط ڈھاکہ: بھارت کا گھناٶنا کردار


14اگست 1947 کودنیا کے نقشے پر ایک آزاد خودمختار اور دنیائے اسلام کی سب سے بڑی مملکت کا اضافہ ہوا جس کا نام "پاکستان” تھا، بھارت نے دنیا کی اس سب سے بڑی اسلامی مملکت کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ بھارت کی دونوں بڑی جماعتیں کانگریس اوربھارتیہ جنتاپارٹی پاکستان کے حوالے سے اچھے جذبات نہیں رکھتیں۔بی جے پی کے وزیراعظم واجپائی جب لاہور کے دورے پرآئے انہوں نے مینارپاکستان جاکرکہاکہ پاکستان ایک حقیقت ہے۔لیکن اسی انتہاپسند پارٹی کے موجودہ وزیراعظم نریندرمودی پاکستان کونقصان پہنچانے کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اس لیے بھارت نے  پاکستان کے قیام کے بعد ہی اس کے خلاف سازشوں کے جال بننا شروع کر دیے کیونکہ 1948ء اور1965ء کی جنگ کے بعد بھارت میں یہ احساس بڑھ گیاتھاکہ وہ فوجی محاذ پرپاکستان کوشکست نہیں دے سکتا۔پاکستان کواندرسے کمزورکیاجائے۔جنگ ستمبر1965میں بھارت نے بھاری نقصان کے باعث جنگ بندی قبول کرلی،لیکن سازشوں کوتیز کردیا۔ کیونکہ 6 دسمبر 1965ء کی جنگ میں پاکستان کی برتری سے بھارت کی ساکھ کو بین الاقوامی طور پر ایک زبردست دھچکا لگا اور جس کیباعث بھارت  کی بین الاقوامی سطح پر خوب بدنامی ہوٸی۔ اُسے بدنامی کا انتقام لینے کے لیے بھارت نے مشرقی پاکستان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور مشرقی پاکستان کو الگ کرنے میں بھارت نے  پانچ سالوں میں کھربوں روپے خرچ کئے تھے۔

اس بات سے  انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سقوط ڈھاکہ میں بھارت کا بڑا کردار تھا اور بھارتی قیادت کو آج بھی پاکستان کا وجود گوارا نہیں کیا مشرقی پاکستان کی عوام کا مغربی پاکستان کے حکمران طبقے کے ہاتھوں استحصال اور جلسے جلوسوں میں ملک کے خلاف نعرہ بازی کرنے والوں کی پشت پناہی کرنے والا اور کوٸی نہیں بھارت  تھا،  عوام میں یہ تاثر پھیلانا شروع کیا کہ مغربی پاکستان اُن کو لوٹ کر کھا رہا ہے، یوں ایک تناٶ  روز بروز بڑھتا چلا گیا۔ بھائی بھائی آپس میں اجنبیت محسوس کرنے لگ گئے، شکایات کے انبار لگنے لگ گئے حتیٰ کہ یہاں تک باتیں ہونے لگ گئیں کہ مغربی پاکستان بھی بنگالیوں سے وہی سلوک کرنے جارہا تھا جو قیامِ پاکستان سے پہلے ہندویا انگریز روا رکھے ہوئے تھے۔یہ بھی بھارت کی  سازش کا حصہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے فوری بعد مشرقی پاکستان میں دو قومی نظریے کے خلاف مہم شروع کردی گئی تھی۔ کہا جانے لگ گیا تھا کہ دوقومی نظریہ نئے تناظر میں درست نہیں ہے۔
بعدازاں قیامِ پاکستان کے موقع پر بھارت سے ہجرت کرکے مغربی پاکستان آنے والے تعلیمی اعتبار سے مضبوط تھے۔ سرکاری نوکریوں میں پڑھے لکھے لوگوں کی وجہ سے مغربی پاکستان میں نوکریاں بھی زیادہ دی گئیں۔ بھارت نے اس بات کو بھی بنگالیوں میں پروپیگنڈے کے طور عام کیا کہ مغربی پاکستان، مشرقی پاکستان کی حق تلفی کررہا ہے،اس کے علاوہ تقسیمِ ہند کے وقت مشرقی بنگال میں آٹھ سے نو فیصد ہندو آباد تھے۔ مغربی پاکستان کے ہندو تو ہجرت کرکے بھارت چلے گئے تھے مگر مشرقی بنگال کے ہندوؤں نے مشرقی پاکستان میں ہی رہنے پر اکتفا کیا کیونکہ یہ بھی بھارت کی  سازش کا حصہ تھا۔بعد ازاں مشرقی پاکستان کے اسکولز، کالجوں اور یونيورسٹيوں میں ہندو اساتذہ کرام کی تعداد بھی زیادہ تھی جس کے ذریعے مشرقی پاکستان کے طالب علوں کے دماغموں میں مغربی پاکستان کے خلاف منفی نظریات بھرنے شروع کردیے،مشرقی پاکستان کی یونیورسٹیوں اورکالجوں میں زبان کے مسئلے کولے کرعام نوجوانوں کوغیربنگالیوں کے خلاف خوب بھڑکایاگیا۔ان کے ذہنوں میں یہ بات بٹھادی گئی تھی کہ مغربی پاکستان ان کااستحصال کررہاہے اور انہیں نے مشرق پاکستان کے  طالب علموں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ مغربی پاکستان کی طرف سے مشرقی پاکستان کے حقوق سلب کئے جا رہے ہی اور پھر تین بنگالی وزراء اعظموں کو اقتدار کی مدت پوری نہ کرنے دی گئی تو بھارت نے اسے بھی پنجابی  بنگالی نفرت کا رنگ دے کر خوب اچھالا اور اس کے علاوہ مغربی پاکستان کے حکمران اور بیوروکریسی پاکستان کے مشرقی حصے کی فلاح و بہبود اور ترقی کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور اسی منفی پروپیگینڈے، لسانی،قومی تعصب اورنفرت کی آگ نے مشرقی پاکستان کو آہستہ آہستہ  اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس صورتحال کا پاکستانی حکمران شاید ادارک نہیں کر سکے اور ہمارا رویہ بھی کچھ ٹھیک نہیں تھا اور بھارت نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا

۔اس میں کوئی شک  نہیں کہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے علاقائی خدوخال میں بہت بُعد ہے یوں مختلف المزاج کے یہ دونوں حصے اپنے اپنے مزاج اور تشخص کی بھینٹ چڑھ گئے، دشمنوں نے خوب بھڑکایا۔ ملک دشمن عناصر اور بھارتی جاسوسوں نے عوامی سطح پر جا کر پروپیگنڈہ کیا، اور پھر بھارت کو مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کے روپ میں ایک غدار بھی مل گیا، شیخ مجیب الرحمن کے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تعلقات تھے،وہ مشرقی پاکستان اورلندن سمیت کئی جگہوں پران سے خفیہ ملاقاتیں کرچکے تھے۔جب1970 کے انتخابات  ہوٸے تو اس کے بعد شیخ مجیب الرحمان نے بھارتی ایما پر احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا اورجب بھی کوئی ساتھی اُن دنوں مشرقی پاکستان سے واپس آتا تو ہم سب اُس کے گرد جمع ہو جاتے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ ہر جھاڑی کے پیچھے اور دیوار کی اوٹ سے گولیوں کی بوچھاڑ،  ہر انچ پر مکتی باہنی کی بچھائی ہوئی مائنز پھٹ رہی تھیں مکتی باہنی اورانتہاپسند وں نے مشرقی پاکستان میں لوٹ مار،سول نافرمانی اورقتل وغارت کاسلسلہ شروع کردیاتھا۔مکتی باہنی ایک چھاپہ مار گوریلا تنظیم تھی جس نے بنگلا دیش کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔بھارت کی مدد سے تخلیق کردہ اس،دہشت گرد بنگلالیوں پر مشتمل، گروہ نے 1971میں قتلِ عام اورخواتین کی عصمت دری کی۔ ایک سروے کے مطابق مکتی باہنی کے دہشت گردوں نے ہزاروں بہاری عورتوں کی آبروریزی کی اور الزام پاکستانی فوج پر لگا دیا،اس نسل کشی میں مکتی باہنی کے غنڈے بنگالی پرست طبقہ اور بھارتی فوج کے لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے خصوصی گوریلاجنگ کی تربیت حاصل کر رکھی تھی۔بھارت نے پاکستان دشمنوں کو عسکری، مالی اور سفارتی مدد فراہم کی جس کی مدد سے دہشت گرد تنظیم مکتی باہنی نے لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ آپریشن سرچ لائٹ سے حالات مزید بگڑگئے۔بھارت نے باقاعدہ مشرقی پاکستان پرحملہ کردیا پھر وہ وقت بھی آیا جب بھارتی فوج نے بنگالی مہاجرین کے بہانے مشرقی پاکستان پر پاکستان کی عمل داری ختم کرنے کے لئے بین الاقوامی سرحدیں عبور کرنا شروع کردیں اور پھر جے پور سے سلہٹ راج شاہی سے نارائیں گنج تک ہزاروں کلو میٹر میں پھیلے دریاٶں، ڈیلٹاٶں، گھنے جنگلات اوربھرپور آبادی والے شہروں، قصبوں، دیہاتوں اور گاٶں میں جو کل تک اپنی سر زمین تھی،وہی زمین اب خود پر تنگ ہوتی چلی گئ،بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گزشتہ برس بنگلا دیش کا دورہ کیا اور اپنی ایک تقریر میں برملا اس بات کا اعتراف کیا کہ مشرقی پاکستان کے قیام میں شامل بنگالی گوریلا فورس مکتی باہنی کو بھارت کی مدد حاصل تھی۔ بھارت کے موجودہ وزیراعظم  مودی نے کہا کہ بھارتی فوج نے مکتی باہنی کے ساتھ مل کر اپنا خون گرایا اور آنے والی نسلوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بھارتی فوج ہی تھی جس نے مکتی باہنی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملایا۔  بالاآخر اُس کا نتیجہ علیٰحدگی کی صورت میں بھگتناپڑا۔ پاکستان کو دولخت کرنے بعد اس وقت کے بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے بڑ ماری تھی کہ آج ہم نے نظریۂ پاکستان خلیج بنگال میں ڈبو کر مسلمانوں سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا ہے یہ بات واضح ہے کہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں بھارت کااہم کردار ہے اورساتھ بنیادی رول بھی اگر بھارت اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل نہ کرتا اورہوائی فوج استعمال نہ کرتا وہ مشرقی پاکستان حاصل نہ کرسکتا تھا لیکن بھارت نے کھلم کھلاجارحیت کی اپنی افواج کو استعمال کیا اوراپنی ہوائی افواج کو بھی استعمال کرکے اُس نے بالاآخر مشرقی پاکستان پرقبضہ کرلیا اور تقریبا  34 ہزار فوجیوں نے جنرل نیازی کے کہنے پر ہتھیار دیے۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج کی تعداد مشرقی پاکستان میں کتنی تھی

مشرقی پاکستان میں بھارت کے ساتھ باقاعدہ جنگ شروع ہونے سے پہلے نومبر1971ء تک پاکستانی فوج کے 237 افسر،136 جے سی اوز اور3559 سپاہی اور این سی او شہید ہو چکے تھے،  ہر چند کہ ایسٹ بنگال رجمنٹ کی باغیانہ اور تخریبی سرگرمیوں کی وجہ سے ان سے ہتھیار جمع کرلئے گئے تھے مگر وہ بھارتی علاقوں کی طرف بآسانی نکل گئے اور بھارت سے بہت زیادہ اسلحہ حاصل کرکے پاکستانی فوج کے خلاف صف آرا ہوگئے۔پاک فوج اپنے ہی ملک کے ایک حصے میں محصور ہو کر رہ گئی تھی،امریکی سی آئی اے اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹس سمیت بیشتر رپورٹس کے مطابق 25مارچ 1971 کو مشرقی پاکستان میں پاکستان کی فوج کی کل تعداد تقریباً 20ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ بھارت نے پاکستان سے مشرقی پاکستان کا ہوائی راستہ بند کر رکھا تھا۔ نومبر دسمبر 1971میں فوجیوں کی کل تعداد 41ہزار کے لگ بھگ تھی۔جبکہ بھارت دنیا کو باوا کرواتا ہے کہ اس کے پاس 93 ہزار پاکستانی افواج کے سپاہی اور افسران قیدی تھے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ان میں صرف 34 ہزار پاکستانی سپاہی اور افسران تھے جبکہ باقی قیدیوں کا تعلق پولیس، کسٹم اور دوسرے سول اداروں سے تھا۔ اور یوں مشرقی پاکستان میں فورسززکے قائدجنرل نیازی نے لڑنے اورشہادت کی موت حاصل کرنے کے بجائے جنرل اروڑہ کے آگے سرینڈرکرنے کو ترجیح دیکر وہ کلنک کاٹیکہ لگایا جس کاتصور تک نہیں کیاجاسکتا۔

ہم تاریخی حقائق کو جانتے ہوئے اور حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کے منظر عام پر آجانے کے باوجود ان عناصر کو سزا دینے میں ناکام رہے ہیں جو اس المناک سانحے میں ملوث تھے اگر ہم آئندہ ایسے واقعات سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں فوری طور پر اغیار کی غلامی سے نکل کر آزادانہ داخلہ وخارجہ پالیسیاں تشکیل دینا ہونگی بہرحال پاکستان جواسلام کے نام پروجودمیں آیا تھا اوردنیامیں سب سے بڑی مسلمانوں کی ریاست تھی اُس کاٹوٹ جانا ایک بہت بڑاحادثہ تھا اورجن لوگوں نے بھی اس کے توڑنے میں کرداراداکیا وہ بھی بالاآخر اپنے انجام کو پہنچے۔شیخ مجیب الرحمن، ذوالفقارعلی بھٹو اور اندراگاندھی یہ تینوں کرداربھی اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکے ہیں۔

Facebook Comments HS