کیا مولانا طارق جمیل کا نوجوانوں کو ذہنی اسیر بنانا مناسب ہے؟
انگریزی کی ایک اصطلاح ہے جسے ”کلٹ آف پرسنیلٹی“ کہتے ہیں جس کا عام فہم مطلب ”شخصیت کا فرقہ“ بنتا ہے۔ جیسا کہ ایک مذہب میں کئی فرقے ہوتے ہیں اسی طرح سیاسی جماعتوں میں بھی کئی دھڑے ہوتے ہیں اور اسی طرح ہر فرقے اور دھڑے کا ایک راہنما ہوتا ہے جس کی قیادت میں لوگ ایک منشور یا پرچم تلے جمع ہو کر کام کرتے ہیں۔ یہ دنیا کے تقریباً ہر بندے کا مزاج ہوتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی سے ضرور متاثر ہو کر ارادتاً یا غیر ارادتاً اس کی پیروی کرنے لگتا ہے۔
بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے مزاج و رویہ میں کسی سے متاثر ہونے کا عنصر بہت کم ہوتا ہے اور وہ اپنی زندگی کے ذاتی تجربات کو امام بنا کر اس کے پیچھے چلتے ہیں۔ بدھا نے بھی اسی رویہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ہر انسان کا ذاتی تجربہ اس کا راہنما ہوتا ہے“ آشنائی و آگہی کے مراحل طے کرتے کرتے کچھ لوگ سحر انگیزیوں کے چنگل سے خود کو آزاد کروا لیتے ہیں اور بہت سوں کے لیے ”شخصی سحر“ ان کے پاؤں کی زنجیر بن جاتا ہے اور وہ ساری عمر کولہو کے بیل کی مانند مخصوص شخصیات کے گرد طواف کرتے رہتے ہیں۔
یہ انسان کے اپنے بس میں ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے لمحات کو کیا معنی دیتا ہے اور کیا کچھ الگ سے سرانجام دے کر انسانی ورثہ میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ جو لوگ کچھ منفرد کر کے کامیابی کی مچان تک پہنچتے ہیں وہ کوئی آسمان یا ماں کی کوکھ سے سیکھ کر نہیں آتے بلکہ اپنے معاشرے میں رہ کر وہ سب کچھ کر جاتے ہیں جن کا ایک آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ دنیا کی تاریخ سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ انسانوں کے لئے کچھ الگ سے یا روایت سے ہٹ کر کوئی کارنامہ سرانجام دیتے ہیں دراصل وہ لوگ غیر روایتی ہوتے ہیں اور گھسے پٹے راستوں کے تارک ہوتے ہیں۔
عوام کی اکثریت ایک ریوڑ کی طرح ہوتے ہیں جو بھیڑوں کی مانند پیچھے پیچھے چلتے ہوئے سامنے کا منظر و نظارہ نظر انداز کر کے گزرتے رہتے ہیں اور اسی بھیڑ چال کا فائدہ کچھ لوگ اسی ریوڑ میں سے مقبولیت حاصل کر کے اٹھانے لگتے ہیں۔ یہ شخصیت کا سحر اتنا ظالم ہوتا ہے جو عام لوگوں کی اکثریت سے ان کی عام سمجھ بوجھ کو چھین لیتا ہے اور اس کا فائدہ یہ سحر انگیز راہنما اپنی عقیدت کے نام پر ان کی عام سمجھ بوجھ کو گروی رکھ کر اٹھاتے رہتے ہیں، تصور کریں اس قوم کا کہ جس کی ”کامن سینس“ جسے ہم عام سمجھ بوجھ کہتے ہیں جو روز مرہ کے کاموں میں برتی جاتی ہے وہ ایک ساحر رہنما گروی رکھ لے اور اس کے عوض اپنی عقیدت کا بت ان کے ہاتھوں میں تھما دے تو ایسی قوم کے دماغوں سے چند لوگ کھیلتے رہتے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات کی آبیاری کر کے اپنی نسلوں کا مستقبل سنوار لیتے ہیں۔
مگر عقیدت کی محکوم عوام ساری عمر انہیں چوم چاٹ کر خوش ہوتی رہتی ہے اور ان کا عقیدتی حلقہ روز بروز بڑھتا رہتا ہے۔ اس شخصی فرقہ کی فہرست میں طارق جمیل کا بھی نام آتا ہے جنہیں تبلیغی حلقہ میں کافی شہرت حاصل ہے۔ حالانکہ اس جماعت میں ایسے بھی لوگ ہیں جو اسی جماعت میں جوان سے بوڑھے ہو گئے مگر ان کو کوئی جانتا تک نہیں ہے۔ طارق جمیل میں وہ تمام صلاحیتیں ہیں جو ایک عام بندے کی سوچ کو اپنی گرفت میں لینے کا بھرپور ملکہ رکھتے ہیں۔
اسی سحر انگیز شخصیت کی بدولت انہوں نے ایسے باصلاحیت لوگوں کو بھی اپنا اسیر کر لیا ہے جو معاشرے میں اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر بہت سے لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکتے تھے۔ ان باصلاحیت لوگوں کی ایک لمبی فہرست ہے جس میں سنگرز، کرکٹرز، ڈرامہ نویس، اداکار اور شو بزنس کے وہ مہان لوگ شامل ہیں جو ان کی سحر انگیزی کا شکار ہو کر دنیا سے کٹ کر صرف تبلیغ کا کام کرنے میں مشغول ہو گئے اور اپنے ہنر سے بے نیاز ہو کر بہت سے لوگوں کی آس و امید کو کچل کر خود کو داخلی زندگی کے لئے وقف کر چکے ہیں۔
عقیدت کے سحر میں گرفتار ہو کر ان کو اس بات کا بالکل بھی ادراک نہیں ہوا کہ ان کا ہنر جو انہیں ایک لمبا عرصہ کی ریاضت کی عوض حاصل ہوا تھا اور ان کے والدین نے اپنا پیٹ کاٹ کر ان کو اس قابل بنایا تھا اور انہوں نے وہ سب کچھ طارق جمیل کی ایک تقریر پر قربان کر دیا۔ ان کو اس بات کا گمان بھی نہ گزرا کہ آپ کے ہنر کی موت ہو چکی ہے۔ اس اعتراض کا جواب تبلیغی ذہنیت یہ دیتی ہے کہ ہم کسی ہنر مند کو اس کے کام کرنے سے نہیں روکتے، اس کا جواب یہ ہے کہ آپ ان کرکٹرز کی پرفارمنگ جماعت میں لگنے سے پہلے دیکھ لیں اور پھر جماعت میں داخل ہونے کے بعد کی دیکھ لیں آپ کو فرق صاف نظر آ جائے گا۔
اس کے علاوہ بہت سے فنکار تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پکے تبلیغی بن چکے ہیں۔ کیا مولانا صاحب کو اس بات کا ادراک ہے کہ یہ بے ہنر لوگوں اور بے روزگار لوگوں کا معاشرہ ہے جہاں پہلے ہی لوگ کسمپرسی کا شکار ہو کر خودکشی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور آپ انہیں ایک ہی سمت میں دھکیلنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ مذہب ہر انسان کا ذاتی فعل ہوتا ہے اور ہر کوئی اپنی مذہبی سوچ کے مطابق اپنے اپنے طریقہ سے روحانیت حاصل کرنے میں آزاد ہے مگر ہنر اور مذہبی روحانیت کے درمیان فرق کو واضح کرنا ہو گا۔
دونوں رویوں کا ایک دوسرے سے ٹکراؤ اور مکس اپ کرنا کوئی دوراندیشی والی بات نہیں ہے، جو اندر کی چیز ہے اسے خالق اور بندے کا راز دارانہ تعلق ہی رہنا چاہیے اور جو باہر کی چیز ہے مثلاً آپ کا ہنر جو آپ نے بڑی مشکل کے بعد حاصل کیا ہوتا ہے جس سے لاکھوں لوگوں کی معیشت جڑی ہوتی ہے اسے محض عقیدت کی بنیاد پر پامال یا ختم نہیں ہونا چاہیے۔ چونکہ آپ کا ہنر بہت سے بے روزگار اور نا امید لوگوں کے چولہے جلا سکتا ہے۔
مبلغین میں تو ہم پہلے ہی بہت خود کفیل ہیں اور اس کے لیے کوئی زیادہ قابلیت کی ضرورت بھی نہیں ہوتی مگر ہنر مندی میں ہم بہت پیچھے ہیں۔ جب کوئی ہنر مند اپنی فیلڈ کو ترک کرتا ہے تو نہ صرف اس کے ہنر کی موت ہوتی ہے بلکہ اس فنکار کے رویے سے متاثر ہو کر بہت سے مزید ہنرمند بھی اپنا ہنر چھوڑ کر آخرت کی تیاری میں لگ جاتے ہیں۔ چونکہ آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے اور سب کچھ چند سیکنڈ میں ڈیجیٹل سکرین پر نظر آنے لگتا ہے گزشتہ دنوں طارق جمیل نے جی سی یو کا دورہ کیا اور اپنی پڑھائی کے دنوں والے ہاسٹل کے کمرے میں بیٹھ کر جو گفتگو کی وہ بہت سوں کو سحر میں مبتلا کر دے گی۔
وی آئی پی لوگوں کے ساتھ کیمرہ ساتھ ساتھ چلتا ہے مولانا نے مغموم ہو کر فرمایا کہ ”میں اس کمرہ میں پڑھنے آیا تھا مگر تبلیغ کی وجہ سے میرا دل پھرا اور میں مبلغ بن گیا“ ۔ ذرا سوچیں اس گفتگو کے اثرات ان بچوں کے ذہنوں پر کس طرح سے اثر انداز ہوں گے جو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنا مستقبل بنانے یونیورسٹی میں آئے ہیں جن کے والدین نے اپنا پیسہ ان پر لگایا ہے، اگر وہ بھی انہی باتوں کے سحر میں مبتلا ہو کر رائیونڈ کا رخ کر لیں تو ان کا کیا بنے گا؟
مولانا صاحب معاشرے میں غربت بہت زیادہ ہو چکی ہے، لوگوں کے پاس پینے کا صاف پانی نہیں ہے، لوگ غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلوا سکتے اور بہت سوں کے پاس رہنے کو مکان نہیں ہے اور وہ فاقوں مرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ مولانا صاحب اس قوم کے مسائل کچھ اور ہیں انہیں ہنر مند رہنے دیں بے ہنر مت بنائیں۔ آپ کو تو تبلیغ راس ا گئی ہے اور آپ وی آئی پی پوزیشن کو انجوائے کر رہے ہیں مگر ہر ایک کو یہ راس نہیں آتی اور نہ ہر کوئی طارق جمیل بن سکتا ہے۔



بہت کھری کھری تحریر لکھی ہے آپ نے۔ لکھتے رہا کریں