برمنگھم میں موسیقی کی ایک مدھر شام صابر مرزا کے نام
صابر مرزا سے پہلی ملاقات کافی عرصہ پہلے میری ڈڈیال پوسٹنگ کے دوران ہوئی تھی۔ اس وقت ہم انھیں ایک کامیاب برطانوی کاروباری آدمی کے طور پر جانتے تھے۔ کچھ عرصہ قبل ان کے مرحوم بھائی کے گھر دعوت پر انہوں نے گانوں کی ایک سی ڈی عنایت کی جو ان کے گائے ہوئے گیتوں پر مشتمل تھی۔ اس میں سی ڈی میں شامل صوفی غلام مصطفی تبسم کا گیت ًمیرے شوق دا نہیں اعتبار تینوں ً انہوں نے بڑی سرا ور لے میں گایا ہوا تھا۔ ان سے مزید ملاقاتوں میں پتہ چلا کہ وہ نہ صرف ایک مستند گائیک ہیں بلکہ غزل گانے میں ان کو یدطولی حاصل ہے۔
لڑکپن میں برطانیہ آنے کے بعد انہوں نے اپنے بچپن کے گلوکاری کے شوق کو پورا کرنے کے لئے تعلیم کے ساتھ ساتھ موسیقی سیکھنا اور ریاض کرنا جاری رکھا۔ انہوں نے پاکستان اور برطانیہ دونوں جگہ سینکڑوں پروگراموں میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔ ان کے گائے ہوئے گانوں کی چھ سات سی ڈیز اب تک ریلیز ہو چکی ہیں۔ صبا قمر سمیت پاکستان کی صف اول کی ماڈلز ان کے گیتوں کے ویڈیوز میں کام کر چکی ہیں۔
صابر مرزا نے برطانیہ میں کلاسیکی موسیقی کی ترویج اور نوجوان گلوکاروں کی حوصلہ افزائی اور تربیت کے لئے برمنگھم میں پندرہ برس قبل ً ا یسٹرن ہارمنی اکیڈمی ً کے نام سے ایک میوزک اکیڈمی بنائی۔ اس کے ساتھ انہوں نے موسیقی کے جدید آلات سے مزین ایک ریکارڈنگ سٹوڈیو بنانے کے علاوہ موسیقی کی تقریبات کے لئے ایک خوبصورت ہال بھی تعمیر کروایا۔ اب تک اس ہال میں موسیقی کے سینکڑوں پروگرام منعقد ہو چکے ہیں جن میں درجنوں انڈین اور پاکستانی گلوکاروں نے اپنی پرفارمنس دی ہے۔ درجنوں نو آموز اور نوجوان گلوکار اس اکیڈمی سے مستفید ہو چکے ہیں۔
پاکستان سے واپس لوٹنے پر دسمبر کے پہلے ہفتے کی ایک حسین شام مرزا صاحب نے اپنے اس ہال میں موسیقی کے چاہنے والوں کے لئے ایک محفل موسیقی کا اہتمام کیا۔ برطانیہ کے مختلف شہروں اور برمنگھم شہر کے موسیقی کے قدر دانوں کی ایک بڑی تعداد نے اس محفل میں شرکت کی۔ راقم کو بھی برطانیہ میں موجود ہونے پر انہوں نے مہمان خصوصی کے طور پر اس پروگرام میں مدعو کیا۔ میں حسب معمول تقریب شروع ہونے سے قبل ہی ہال میں پہنچ گیا جہاں مرزا صاحب اپنے ایک دوست کے ہمراہ انتظامات میں مصروف تھے۔
انہوں نے بڑی خوش دلی سے استقبال کیا۔ تقریب شروع ہونے میں کچھ وقت ابھی باقی تھا اس لئے انہوں نے اپنے دفتر، ریکارڈنگ سٹوڈیو اور ہال کا تفصیلی دورہ کرایا۔ اپنے دفتر میں قائم شاندار لائبریری، جدید ریکارڈنگ سٹوڈیو اور اس میں موجود موسیقی کے دوسرے آلات کے بارے میں آگاہی دی۔ اتنا منظم اور جدید آلات سے مزین ریکارڈنگ سٹوڈیو اور خوبصورت سٹیج سے سجا ہال صابر مرزا کا موسیقی سے عشق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
آٹھ بجے تقریب کا آغاز ہونا تھا جس لئے مہمانوں کی آمد شروع ہو چکی تھی۔ مرزا صاحب ہر مہمان کا خوشدلی سے استقبال کر رہے تھے۔ مہمان گلوکار بلوندر سنگھ سفری بھی وقت پر پہنچ چکے تھے جو مرزا صاحب کے پرانے دوست اور جالندھر سے تعلق رکھنے والے ایک منفرد لہجے کے پنجابی گلوکار ہیں۔ تقریب کی نظامت کے فرائض وقار صاحب نے ذمہ تھے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے صابر مرزا نے سب مہمانوں کو محفل کی رونق بننے پر شکریہ ادا کیا۔
اس کے بعد شہر کے کالم نگار اور ریڈیو کے صداکار محمد خلیل نے مختصر خطاب کیا۔ ٹی وی کے میزبان دھرم چند نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو غزل سے ہمیں کچھ سیکھنے کو ملتا ہے جبکہ فوک سننے سے ایک جوش پیدا ہوتا ہے۔ راقم کو بھی خطاب کی دعوت دی گئی، جس میں راقم نے اپنا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے تصوف پر اپنی حالیہ جستجو اور اس پر اپنی آنے والی کتاب پر بات کی۔ مانچسٹر سے آئی ہوئی ممتاز سماجی کارکن اور پروموٹر رضیہ چوہدری نے اتنی خوبصورت محفل سجانے پر صابر مرزا کو مبارک باد دی اور تقریب میں مدعو کرنے پران کا شکریہ ادا کیا۔
گانے کی محفل کی ابتدا مقامی گلوکار محمد عامر نے ً سوچتا ہوں وہ کتنے معصوم تھے ً گا کر کی۔ طبلہ پر سنگت طبلہ نواز صابر مسیح نے کی ڈرم پر رمیش اور ہارمونیم پر نوجوان فنکار وشال نے ساتھ دیا۔ صابر مسیح کے والد یونس مسیح نے بھی چند گانوں پر طبلہ پر سنگت کی۔ اس کے بعد احمد غالب نے ماہیے ً وگدی نہر ہوئے ًسے آغاز کرتے ہوئے کملی یار دی کملی بڑے اچھے انداز میں چمٹے کے ساتھ گا کر سامعین سے داد وصول کی۔ گلوکار بابر نے ً میں لج پالاں دے لڑ لگیاں میرے توں غم پرے رہندے ً ہارمونیم اور طبلے کی سنگت میں گا کر ایک سماں باندھ دیا۔
مانچسٹر سے آئے ہونے مہمان گلوکار کاشف نے بھی گیت ً کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے ً گا کر سامعین سے داد وصول کی۔ اس کے بعد مہمان گلوکار بلوندر سنگھ سفری کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی۔ جتنا بڑا فنکار ہو وہ اتنا ہی جھک جاتا ہے، کی مثال بلوندر سنگھ نظر آئے۔ انہوں نے سٹیج سنبھالا اور میاں محمد بخش کے کلام ً ا ول حمد ثنا الہی جو مالک ہر ہر دا ً سے آغاز کر کے ان کا باقی کلا م پرسوز انداز اور خالص پنجابی لہجہ میں گا کر پوری محفل پر ایک سحر طاری کر دیا۔
اس کے بعد نصرت فتح علی خان کا گیت ًسانسوں کی مالا سے لکھ دوں کسی کا نام ً انہی کے انداز میں بہت اچھا گا یا۔ طبلے پر صابر مسیح کی سنگت نے کمال کر دیا۔ اس کے بعد حاضرین میں سے کسی کی فرمائش پر ً ہو سکے تو میرا ایک کام کرو ً اپنے منفرد آواز میں گایا تو سب حاضرین نے تالیاں بجا کر اپنی پسند کا اظہار کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ًشہر بھنبور وچ وسیدیو کڑیو نک نتھلی نہ پائیو ًسے آغاز کیا اور کملی یار دی کملی گایا تو سب اس کی لے میں جھومنے لگے اور بار بار تالیاں بجا کر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ اب محفل اپنے جوبن پر آ رہی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے شوکت علی مرحوم کو یاد کرتے ہوئے ان کا گیت ً ً
ًکیوں دور دور رہنے ہو حضور میرے کولوں ً گا کر ان کو خراج تحسین پیش کیا۔ چھلا پنجابی گائیکی کی ایک مقبول صنف ہے جسے ہر گلوکار نے گایا ہے۔ حاضرین کی فرمائش پر انہوں نے چھلا نوں نوں تھیوے درد بھرے انداز میں پیش کیا اور سامعین کو مسحور کر دیا۔ آخر میں انہوں نے اپنا مقبول گیت ً توں ایں امبراں تو آئی ہوئی حور سوہنیے گایا جو جوش سے بھرپور تھا۔ ڈرم پر پنجابی بیٹ اور طبلہ پر طبلہ نواز نے سامعین میں بھی جوش بھر دیا تھا سب کے ہی پیر تھرک رہے تھے۔ اس پر پروگرام میں تھوڑا سا وقفہ کیا گیا جس میں سامعین کی چائے، کافی اور سنیکس کے ساتھ تواضع کی گئی۔
وقفہ کے بعد صابر مرزا نے سٹیج سنبھالا۔ سب سے پہلے انہوں نے ایک بار پھر سامعین کی تقریب کو رونق بخشنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے فیاض ہاشمی کی مشہور غزل سے اپنی گائیکی کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ غزل پندرہ سولہ سال بعد دوبارہ گا رہے ہیں۔ فلم ً شب بخیر ً کے لئے اس غزل کو مہان گلوکار مہدی حسن نے موسیقار صفدر حسین کی موسیقی میں گایا تھا۔
مجھے کوئی غم نہیں تھا غم عاشقی سے پہلے
نہ تھی دشمنی کسی سے تیری دوستی سے پہلے
طبلہ نواز صابر مسیح نے طبلے پر سنگت کی اور نوجوان فنکار وشال نے ہارمونیم پر ان کا ساتھ دیا۔ پہلی بار سامنے بیٹھ کر صابر مرزا کو گاتے ہوئے سنا تو لگا واقعی انہوں نے غزل گانے کا حق ادا کر دیا۔ غزل ختم ہونے پر سامعین کی تالیوں کی گونج ان کی پسندیدگی کی سند تھی۔ اس کے بعد انہوں نے فاروق روکھڑی کی غزل شروع کی۔ غزل کی گائیکی میں صابر مرزا کا ایک خاص انداز ہے۔ جس میں لفظوں کی ادائیگی اور طبلے اور ہارمونیم کی سنگت سے ایک خاص ردھم بنتا ہے جسے سن کر لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ غزل کا مطلع۔
دل کے معاملات سے انجان تو نہ تھا
اس گھر کا فرد تھا کوئی مہمان تو نہ تھا
سبھی ہماتن گھوش تھے۔ غزل کے نفیس الفاظ اور صابر مرزا کی منفرد گائیکی کے انداز نے سامعین پر ایک سحر طاری کر دیا تھا۔ غزل ختم ہونے پر دو تین سامعین نے پنجابی گیت سننے کی فرمائش کی۔ دھرم چند نے پروگرام کے آغاز میں کہا تھا کہ کہ غزل سے ہمیں کچھ سیکھنے کو ملتا ہے جبکہ فوک میں ایک جوش ہوتا ہے۔ ہمیں صابر مرزا میں ان دونوں کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ صابر مرزا نے اپنا نیا ریلیز ہونے والا پنجابی گیت ًٹینشن نہیں لینی ً شروع کیا۔ پنجابی گیت میں میوزک کی لے اور ڈرم کی بیٹ بھی تبدیل ہو گئی تھی جس سے سامعین میں بھی جوش و خروش بڑھ گیا۔ یہ گیت ختم ہونے پر اسی لے میں انہوں نے ایک اور پنجابی نغمہ ً وچھڑ جان جد یار تے رونا پیندا اے ً کا منظور میاں کے اس شعر سے آغاز کیا۔
آسجناں رل کٹھیاں بہیے تے وچھوڑیاں نوں اگ لائیے
منظور میاں غم دلاں وچ وسدے کتے نکھڑیاں نہ مر جائیے
یہ گیت بھی جوش سے بھرپور تھا۔ رات اب بھیگ چلی تھی پھر بھی کسی کا محفل سے اٹھنے کو دل نہیں چا ہ رہا تھا لیکن کچھ مہمانوں نے اپنے شہروں کو واپس جا کر صبح کام پر بھی جانا تھا اس لئے صابر مرزا نے محفل ختم کرنے کا عندیہ دیا تو ایک اور کلاسیک گیت کی فرمائش آئی جو اس حسین محفل کا آخری گیت تھا۔ ً زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں میں تو مر کر بھی میری جان تمہیں چاہوں گا۔ ً قتیل شفائی کے لکھے اس گیت کو مہدی حسن صاحب نے ناشاد کی موسیقی میں فلم ً عظمت ً کے لئے گایا تھا۔ گانے کے پیار بھرے الفاظ اور صابر مرزا کی کلاسیکی گائیکی کے منفرد انداز میں گایا ہوا یہ گیت حاصل محفل رہا جس کے ساتھ ہی مدھر موسیقی کی مدتوں یاد رہ جانے والی اس خوبصورت محفل کا اختتام ہوا۔


