لوگوں کی اقسام
لکھو اپنی بی چارگی کی داستان۔ کیسے تم نے اک عمر سے زہریلے گھونٹ پیے۔ وحشتوں کے سلسلے جو دل و دماغ میں رچ بس گئے ہیں۔ الفاظ کا ظرف بہت وسیع ہے۔ یہ تمہارے دکھوں کو پی جائیں گے۔ کسی ہمدرد ماں کی طرح تم اپنے سارے بوجھ، حسرتیں اور ملال ان کے سپرد کر دو۔ اپنے من کی سیاہی، اجلی صبحوں کے منظر نامے سسکتی روح کی فریاد سب لکھ دو۔ یہ تو مرتے بھی نہیں۔ تا ابد دنیا کی کوئی طاقت ان کو ہرا نہیں سکتی۔ راج کرتے ہیں دلوں پر۔
اپنا قدردان بھی خود ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ان کے پر بھی ہوتے ہیں، تم انہیں قید نہیں کر سکتے۔ یہ تمہیں نئی زندگی دیں گے امید بھری، جہاں امنگیں سانس لیتی ہیں۔ تمہارا اپنا جہان۔ تمہیں پتہ ہے دنیا میں کوئی ایسا عظیم انسان نہیں گزرا جس نے زندگی میں بد ترین شکست نہ کھائی ہو، وہ سب کے سب اوندھے منہ گرے مگر اٹھے اور لکھا ایک نیا باب جو ناقابل فراموش ہے۔ لوح دل پہ لکھی تمام تحریریں قیمتی ہیں بالکل تمہاری طرح ان مٹ۔ چند دن، سال، زمانے بے ثمر ٹھہرے بھی تو کیا غم آخری صفحہ تو باقی ہے۔
تو لکھو میری جان زندگی کی خوشیوں اور امیدوں کی داستان، زمانہ سنے گا۔ اب رونا نہیں، ٹوٹنا نہیں، جینا ہے۔ دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
تالیاں!
اپنے آس پاس نظر دوڑائیے آپ کو اس قسم کے افراد مل جائیں گے۔ انہیں موٹیویشنل اسپیکر کہتے ہیں۔ انہیں جہاں کہیں افسردہ چہرہ نظر آئے لیکچر چالو کر دیتے ہیں۔ اچھا کاروبار ہے، آپ بھی کر لیجیے۔
دوسری قسم کے لوگ ہیں ملامتی۔ یہ ہر وقت روتے رہتے ہیں۔ یہ اول الذکر کا پسندیدہ شکار ہوتے ہیں۔ یہ خود کو حقیقت پسند بتاتے ہیں، مگر ہوتے فقط قنوطی، خبطی اور گفتار کے غازی ہیں۔
تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو ہر وقت فروعی سرگرمیوں میں مگن رہتے ہیں۔ ان کا واحد مشغلہ خراٹے لینا ہے۔ یہ زیادہ روگ نہیں پالتے اور خوش رہتے ہیں۔ ان پر آسمان کبھی نہیں ٹوٹ پڑتا، موبائل بے تحاشا استعمالتے ہیں۔
اس کہ علاوہ لوگوں کی اقسام پوچھنے کے آپ مجاز نہیں اور میں بتانے کا روادار نہیں۔
اب سو جائیے، مگر سن لیجیے کامیابی واضح نصب العین، محنت کی گیدڑ سنگی اور بہت ساری قربانیوں سے آتی ہے۔ محض الفاظ کے تیر چلانے سے نہیں آتی۔


