ایک رانی کے نام


پیاری مریم سلامت باشد

سب سے پہلے تو بیٹے کی شادی کی مبارکباد قبول کرو۔ خدا کا شکر کہ تمہیں یہ مبارک دن دیکھنا نصیب ہوا۔ پوری قوم کی طرف سے جنید بیٹے اور بہو رانی کے لئے بہت دعائیں۔ دودھوں نہاؤ پوتوں پھلو۔

شادی کی تصاویر دیکھیں دل شاد ہوا۔ نیہر کے گھر سے آئے جوڑے کے دن سے مہندی تاں رچدی منڈے دی ماں نچدی (مہندی تو جب رچتی ہے جب لڑکے کی ماں ناچتی ہے) اور پھر ساڈے گھر آئی بھرجائی (ہمارے گھر آئی بھاوج) تک ہم سب عورتیں منڈے کی ماں کے ساتھ ساتھ ناچیں۔ ظاہر ہے ماؤں کے دل میں بیٹے کے سر سہرا سجانے کا خواب تو اسی دن جنم لے لیتا ہے جس دن نرس اس کے کانوں میں مبارکباد کا رس گھول کر مٹھائی کا تقاضا کرتی ہے۔ بھلا ہو الٹرا ساؤنڈ مشینوں کا نرسوں سے یہ اعزاز بھی چھین لیا۔

تمہاری تصویریں دیکھ کر دل بہت خوش ہوا۔ خوبصورتی کسے پسند نہیں ہوتی۔ ہم سب خوبصورتی کے دیوانے ہیں مگر کیا کریں ایک بدصورت معاشرے میں پیدائش ہماری بے بسی کا اظہار ہے۔ تمہاری تصویریں دیکھ کر یہی بدصورت الفاظ اور رویے سامنے آنے لگے۔ کسی نے تمہاری خوبصورتی کو مصنوعی کہا۔ کسی کو تمہارے قیمتی ملبوسات کا حساب چاہیے کوئی اس سرمائے کا دکھ منا رہا ہے جو ان کے بقول ان کے بچوں کی صحت اور تعلیم پر خرچ ہونا۔ چاہیے تھا مگر راجے بیٹے کی خوشیاں بہرحال زیادہ اہم ہیں۔ تم سمجھدار عورت ہو جانتی ہو ہم من حیث القوم حاسد ہیں۔ اپنوں کی خوشیاں ہم سے برداشت نہیں ہوتیں۔

پیاری بہن تمہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ تم ابھی اٹھارہ کے ہندسے سے باہر نہیں نکلیں اسی لئے تو وہ اٹھارہ سالہ لڑکی تم سے حسد کرتی ہے جو تیرہ برس کی عمر میں بیاہی گئی اور اٹھارہ برس کی عمر میں تین رینگتے بچے اور چوتھا کوکھ میں لادے دن بھر دھرتی کوٹتی ہے۔ جس کا دل شادی بیاہ صرف گڈے گڑیا کا کھیل یا رنگین کپڑوں اور سامان آرائش دکھا کر برمایا گیا تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ اس سفر کا اختتام اس بھٹی پر ہو گا جس میں جل کر اس کا جسم کندن نہیں صرف راکھ بنے گا۔ پھر وہ لڑکی کیا کرے جسے اس کے باپ یا بھائیوں کے کالے کرتوتوں نے ونی کر دیا۔ اس نرک کو تو اس کا سسرال بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ گھر کے مردوں کے پیٹ اور جسم کے لئے ایندھن فراہم کرنا بھی اس کی شرعی اور سماجی ذمہ داری ہے وہ تمہاری چمکدار جلد اور روشن آنکھوں سے کیسے نفرت نہ کرے۔

تم تعلیم یافتہ اور جدید زمانے کی عورت ہو اس لئے تمہارے لئے ان سب باتوں کی کوئی اہمیت نہیں اور یہ یقیناً قابل رشک بات ہے تمہیں خدا نے اس لئے تھوڑی بنایا ہے تم تو بابل کے گھر اور اس ملک پر راج کرنے کے لئے پیدا ہوئی ہو۔ اچھا کیا شوہر کے گھر کو اس قابل نہیں سمجھا بھلا محلوں کی رانی کسی پسماندہ علاقے میں رہ سکتی ہے سب کتابی باتیں ہیں سر کے تاج بھی پاؤں کی جوتی بن سکتے ہیں تم تو ان بے بس عورتوں کے لئے روشنی کا استعارہ ہو۔

ویسے سنا ہے شوہر تمہارے عشق میں اپنا گھر بار چھوڑ کر تمہارے ابا کے گھر رہنے لگا ہے۔ بھئی لوگوں کا کیا ہے ان کا تو کام ہی ہر چیز میں نقص نکالنا ہے۔ پھر اس معاشرے میں تو جیسے بڑی عمر کی عورت کے بناؤ سنگھار کو لے کر لطیفے محاورات اور روزمرہ گھڑے جاتے ہیں اس طرح جوائی کا بھی فٹے منہ کیا جاتا ہے پھر اگر وہ گھر جوائی ہو تو سونے پہ سہاگہ بندہ بندہ در در کرتا ہے بس بہن یہی دنیا ہے

خیر ان باتوں کو چھوڑو یہ تو عام لوگوں کے قصے ہیں جنہیں کوئی اور کام نہیں دن بھر مارا مار دو وقت کی روٹی کے لئے دھکے کھاتے ہیں اور دن ڈھلے تھان پر آ پڑتے انہیں کسی کی خوشیاں کیسے برداشت ہوں۔

اچھا سنو میرے ہمسائے میں دو لڑکیاں رہتی ہیں بڑی ذہین اور محنتی۔ ان کے بچپن میں ماں باپ میں علیحدگی ہو گئی تھی۔ ماں محکمہ تعلیم میں اچھی خاصی افسر ہے۔ شروع شروع میں میں اسے آتے جاتے دیکھتی۔ آہستہ آہستہ سلام دعا ہوئی ایک دن میں نے اس چائے پر گھر بلا لیا۔ باتوں باتوں میں پوچھا بیوی یہ کیا ماجرا ہے۔ اچھا خاصا کماتی کھاتی ہو کم از کم لباس تو ڈھنگ کا پہنو۔ پاکستانی عورت کا لباس تین کپڑوں پر مشتمل ہے تو کم از کم ایک جیسا تو ہو یہ کیا کہ تین جوڑوں سے ایک جوڑا کشید کر کے پہن لیا۔

افسردہ نظروں سے مجھے دیکھ کر بے بسی سے مسکرائی اور کہنے لگی کیا کروں شوہر نے بیٹا پیدا نہ کرنے کے جرم میں چھوڑ دیا۔ اب اپنا اور بیٹیوں کا پیٹ پالنے کے ساتھ ان کی تعلیم کا انتظام کرنے کے لئے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ شروع شروع میں ایسے ہی باہر جاتی تھی جیسے شوہر کے ساتھ جاتی مگر جلد ہی اندازہ ہو گیا یہاں تو سادہ اور صاف ستھرا لباس پہن کر باہر نکلنے کا مطلب ہے شکاری پیچھے لگا لیے جائیں اب شکاری بیل تو نہیں جو صرف لال رنگ پر لپکے گا اسے تو کھینچنے کے لیے گوشت کی بو ہی کافی ہے۔

پھر بڑی رازداری سے پوچھنے لگی سنا ہے مریم کا شوہر گھر کی انیکسی میں رہتا ہے اسے اتنا تیار ہونے پر کوئی کچھ نہیں کہتا۔ میں نے کہا خدا کا خوف کرو کیسی باتیں کرتی ہو وہ انیکسی میں سہی رہتا تو وہیں ہے بوقت ضرورت جھاڑ پونچھ کر سماج اور اداروں کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے۔ میں نے بہت سمجھایا کسی کی خوشیوں سے حسد نہیں کرتے ٹھنڈی سانس بھر کر کہنے لگی جس تن لاگے سو تن جانے۔ خیر تم ایسوں کی باتوں کی ہرگز پروا نہ کیا کرو ٹینشن لینے سے سنا ہے چہرے پر جھریاں آجاتی ہیں۔

اب کل کا قصہ سنو میری کام والی ماسی آئی تو منہ سوجا ہوا چہرہ اور بازو نیلو نیل۔ ہائے ہائے یہ کیا ہوا کہیں پھسل گئیں۔ میری بوکھلاہٹ پر روہانسی ہو کر بولی لو دسو باجی جی ساڈے گھراں اچ ٹیلاں لگیاں نے جو اسی پھسل جانا اے۔ کل گھر جاتے ہوئے آپ نے جو جوڑا دیا تھا اس کا انجام ہے میں نے حیرت سے کہا یہ کیا کہہ رہی ہو لیرولیر بدبودار جوڑا جگہ جگہ سے مسکا ہوا تن ڈھانپے میں بھی ناکام تھا میں نے خدا ترسی کی تمہیں اچھا خاصا نیا جوڑا دیا حالانکہ ہم باجیاں تو تمہیں اپنی اس اترن کے لائق سمجھتی ہیں جو تمہارے بدن پر چار دن بھی نہ چلے اور تم مجھے ہی باتیں سنا رہی ہو۔

ہائے باجی میرا اے مطبل نہیں تسی بڑے سادہ ہو۔ گھر جاکر نہادھو میں نے وہی جوڑا پہن لیا نکے کا پیو خورے کیڑی گل تے چوہدری ہوراں تو بے اجت ہو کر گھر آیا مجھے دیکھتے ہی سوٹی اٹھائی اور دے دنادن میرا یہ حشر کر دیا کہ تونے کس یار کو ملنے جانا ہے جو تیار ہو کر بیٹھی ہے۔ بتاؤ باجی ہمیں تو اترن بھی ہنسی خوشی نصیب نہیں ہوتی۔ پھر کہنے لگی باجی جی میں نے سنیا ہے مریم باجی نے پتر کا ویاہ بڑی دھوم دھام سے کیا ہے اور ہرے جوڑے میں بڑی کھوب صورت دکھے ہے ذرا موبیل کھول کر دکھاؤ تو تصویر۔ میں نے دل رکھنے کو تمہاری تصویر دکھائی یقین کرو غریبنی نے اتنے دل سے دعائیں دیں کہ اللہ پاک ہور بھاگ لگائے ہر کوئی اپنی قسمت کا کھاتا ہے۔ جسے اللہ دے کیوں نہ عیش کرے۔ اب اسے کون سمجھائے خواب دیکھنے کے لیے آنکھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

کہنے والے تو کہتے ہیں اپنی مرضی کا لباس پہننا انسان کا حق ہے مگر وہ بھول جاتے ہیں یہ حق انسان کا ہے عورت کا نہیں۔ عورت کی تو پیدائش کے ساتھ ہی اس کے پردے اور لباس کی فکر شروع ہو جاتی ہے اسی لئے تو ہمارے وزیراعظم تک عورت کے لباس کو لے کر اتنے پریشان ہیں بھئی عورت کا لباس وزیراعظم سمیت تمام مردوں کے جذبات بھڑکا دیتا ہے حالانکہ ہمارے سماج میں تو مردوں کے جذبات کے ساتھ ساتھ مزاج بھی ہر وقت بھڑکتے رہتے ہیں۔

اب کوئی سادہ لباس میں چھپی عفیفہ ہو یا شعلۂ جوالا مرد کو آتش فشاں بنتے کتنی دیر لگتی ہے شاہین بچہ ہے آسمان کی بلندیوں سے بھی عورت کے نشیب و فراز جانچ لیتا ہے۔ تن سجانے اور تن ڈھانپنے کے ملبوس میں بہت فرق ہے یہاں تو وہ لڑکیاں بھی موجود ہیں جنہیں مخصوص ایام میں غلیظ کپڑے کی دھجی کا محتاج ہو کر جان لیوا امراض کا شکار ہونا پڑتا ہے اب کیا تمہارے شاندار اور قیمتی مہکتے ملبوسات سے وہ حسد بھی نہ کریں ایک یہی تو ان نمانیوں کے بس میں ہے سو کرنے دو۔

وہ تمہیں یا تم جیسی اور خوش نصیب ’خوش لباس اور خوش گلو عورت (تم پر تو لفظ عورت بھی نہیں جچتا ابھی لڑکی کہنا ہی درست ہے ) کو دیکھتی ہیں اور پھر اپنے تن پر موجود سیاہ لبادے کو جو مذہب کے نام پر ان پر لاد دیا گیا ہے یا پھر سر سے پیر تک ایسی چادر جس میں سے ایک آنکھ وہ بھی کانی کر کے دنیا کو دیکھنا پڑے تو دنیا بھی اسے کانی نظر آئے وہ اس کانی دنیا میں سیدھے قدم کیسے دھرے

مریم جی دو لت سیا ست اور حکومت تمہارے گھر کی باندی ہے۔ ہو سکے تو ایک وعدہ کرو کہ اگر اللہ اور ”عبد“ اللہ کے فضل و کرم سے تم سی حسین و جمیل وزیراعظم اس معاشرے کو مل گئی تو ان عورتوں کی طرف صدق دل سے دھیان دو گی۔ ان کے میلے تن اور ملبوس تمہارا راستہ روکیں گے کہ کہیں یہ تمہارے بے داغ حسن کو داغ دار نہ کر دیں ان کے آنسو پونچھ کر انہیں گلے تو شاید نہ لگا سکو بس اتنی مہربانی ضرور کرنا کہ جب اپنی مملکت میں غریبوں کا حال جاننے کے لئے دورہ کرو تو کسی سڑک پر روڑی کوٹتی یا کھیت میں اپنا لہو پانی کرتی آنکھوں میں خواب بنتی کسی معصوم لڑکی کو دیکھو تو اپنی کروڑوں کی بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ تھوڑا سا سرکا کر اپنی مسحورکن مسکراہٹ ان کی طرف اچھال دینا وہ بدنصیب تمہاری خوش نصیبی پر مزید ایمان لے آئیں گی۔

خط کافی طویل ہو گیا ہے باقی باتیں پھر کبھی کریں گے۔ جنید بیٹے کو بہت پیار دینا اور بہو رانی کی بلائیں چاہو تو قوم کی عورتوں کے سر کر دینا۔ ہم تو تم سے لیڈروں کی انہی اداؤں پر سو سو بار قربان ہیں۔ تمہارے گھر کی رونق ’وارڈ روب کی چمک اور ڈریسنگ ٹیبل کی مزید سجاوٹ کے لئے نیک خواہشات۔ اور ہاں کبھی آئینے سے گفتگو ہو تو اس میں ان عورتوں کا عکس ضرور دیکھنا۔ اللہ اور ارب پتی باپ کی امان میں رہو۔

والسلام
تمہاری راج دھانی کی ایک عام عورت

Facebook Comments HS