ایم بی ایس نے انسانی خوشیوں کی اہمیت تسلیم کر لی


شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے ویژن 2030ء کے مطابق دوسرے عرب ممالک کے سربراہان کے سامنے اس بات کا واضح طور پر اعلان کیا کہ" اگلے پانچ سال میں مشرق وسطی نیا یورپ ہوگا "اس ضمن میں انہوں نے تمام مذہبی انتہا پسندانہ سوچ کو”ٹوتھ لیس” یعنی بے اثر بنانے کا انقلابی بنیادوں پر موثر اقدامات کرنے کا آغاز کر دیا۔ اس میں بہت سے اقدامات ایسے ہیں جن پر ماضی میں بھی پابندی لگ چکی تھی مگر ڈھکے چھپے انداز میں یہ مذہبی سرگرمیاں جاری تھیں لیکن اب ان سرگرمیوں کو بڑی سختی سے ممنوع قرار دے کر کالعدم کا درجہ دے دیا گیا ہے جس میں سرفہرست تبلیغی جماعت کو معاشرے کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کرنا اور یورپ کے متعلق انتہا پسندانہ رویہ رکھنے والے اخوان المسلمون کے بانی حسن البنا سیدقطب اور جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالاعلی مودودی سمیت کئی دوسرے مصنفین کی کتابوں پر پابندی عائد کرکے انھیں ضبط کرنے کا فرمان جاری کرنا وغیرہ شامل ہے ۔

یہ سخت اقدامات ایک ایسا ملک کرنے جارہا ہے جو دنیا کے مسلمانوں کا روحانی مرکز ہے جس کے ساتھ کروڑوں لوگوں کے مذہبی جذبات جڑے ہوئے ہیں۔ تاریخ میں ایسا بہت کچھ ہونے جارہا ہے جس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی خاص طور پر اسرائیل کے پرائم منسٹر کا متحدہ عرب امارات کے دورے پر روانہ ہونا اور شیخ زید بن انہیان نے ان کا گرم جوشی سے استقبال کرنا شامل ہے۔ حالانکہ تقریباً ایک سال پہلے ہی یو۔ اے ۔ ای نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا اور تھوڑے ہی عرصہ میں دوریاں قربتوں میں بدل گئیں۔ ہمیں یہ چورن بیچا گیا ہے کہ یہود و نصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے جبکہ اسلامی مراکز تمام پرانے مذہبی تصورات کو پیچھے چھوڑ کر ان سےقربتوں کی پینگیں ڈالنے میں کئی قدم آگے بڑھ کر اپنے ممالک کو یورپ بنانے کے سفر پر روانہ ہو چکے ہیں۔ دنیا اتنی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے اور وہ بڑی تبدیلی مذہبی انتہا پسند سوچ کا تبدیل ہو کر دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر ساتھ چلنے کا عزم ہے۔

سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک اس حقیقت کو جان چکے ہیں کہ انسانوں کے انفرادی حقوق کی اہمیت کو تسلیم کئے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا اور انہیں کسی روایتی جبری پنجرے میں قید کر کے زیادہ دیر تک سدھایا نہیں جا سکتا اور قوموں کی ترقی کا راز انسانی آزادی اور ان کے چہروں پر مسکان میں چھپا ہوا ہے وہ اپنی ریاست کو دنیا کے ساتھ جوڑ کر دوسری ثقافتوں کے لوگوں کے آنے جانے کا مرحلہ آسان کر کے دوسری تہذیبوں کو بھی اپنے اندر سمو نا چاہتے ہیں اور ان تاریخی لمحات کو اپنی تہذیب میں سمونے کے لیے وہ سعودی عرب میں ایک "وال آف فیم "بنانے جارہے ہیں جس پر دنیا کے مختلف ممالک کی اہم شخصیات کی باقیات ہوں گی۔ بالی وڈ اسٹار سلمان خان کے ہاتھوں کا نقش لینے کا بھی یہی مقصد تھا اس شبیہ کو ریاض کی اہم جگہوں پر نصب کیا جائے گا۔ سعودی عرب والے خود کو یورپ میں ضم کرنا چاہتے ہیں جبکہ دوسری طرف ہمارے وزیراعظم ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہیں اور انہوں نے یونیورسٹیز کو اس بات کی ریسرچ کرنے کی تاکید کی ہے کہ ہمارے فیملی سسٹم پر مغرب کے نقصان دہ اثرات کیوں بڑھ رہے ہیں ؟

پوری دنیا گھومنے اور یورپی ثقافت پر بڑی گہری نظر رکھنے کا دعوی کرنے والے ہمارے وزیراعظم کو زندگی کے اس حصے میں کیا انوکھی سمجھ آئی ہے کہ وہ ملک کا رخ مذہبی رجعت پسندی کی طرف موڑنا چاہتے ہیں جبکہ ایم بی ایس اپنے ملک کو مذہبی رجعت پسندی سے نکالنا چاہتے ہیں اور دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر اپنی ریاست کو جدید فلاحی ریاست کی ڈگر پر لانا چاہتے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مذہبی رجعت پسندی سے اب تک ہم نے کیا حاصل کیا ہے؟ ضیاء الحق کے دور میں لگائی گئی یہ انتہا پسندی کی پنیری جواب تقریبا 30 ہزار مدارس کی صورت میں جوان ہو کر اپنی انتہا پسندی کے جوہر دکھا رہی ہے مدارس سے پیدا ہونے والی پروڈکٹ منبر پر شعلہ بیانی کے علاوہ معاشرے میں کوئی تعمیری کردار ادا کرنے کے قابل بالکل نہیں ہے اور مارکیٹ میں اپنی اہمیت بڑھانے کے لئے پہلے پہل اہل حدیث اور دیوبندی سکول آف تھاٹ نے اپنی اپنی عسکری تنظیم بنا کر حکومتی سسٹم میں اپنی جگہ پکی کی اور اب جنہیں بڑے عرصے سے مسلمانوں کا بے ضرر سا فرقہ سمجھا جاتا تھا جنھیں بریلوی سکول آف تھاٹ کہا جاتا ہے وہ اپنی عسکری سرگرمیوں کے ذریعے حکومتی سسٹم میں اپنی جگہ بنانے میں مصروف ہیں اور کافی حد تک کامیاب بھی ہو چکے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسے دور میں جب کلیشے ٹوٹ رہےہوں ہم پھر بھی مذہبی کارڈ ہی کھیلتے رہیں گے؟ سعودی تفریحی سرگرمیوں کے بارے میں پاکستان میں یہ بیانیہ تشکیل پا رہا ہے کہ حجاز مقدس میں گانے بجانے کے کنسرٹ اور فحاشی و بے حیائی کا فروغ نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ وہ مقدس سرزمین ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عوام کا کیا قصور ہے کہ وہ حادثاتی طور پر سعودیہ میں پیدا ہو جانے کی وجہ سے خوشیوں سے محروم رہیں اور ہم اپنے ملک میں جو مرضی کرلیں کو ئی ہرج نہیں ہے ۔ کیا مقدس جگہوں پر پیدا ہونے والے لوگوں کا خوشیوں پر کوئی حق نہیں ہوتا اور وہ اپنی زندگی اپنے طور پر جی نہیں سکتے؟ یورپ اپنی تہذیب اور ملکوں کو ترقی دینے کے لیے دوسرے ممالک کے ذہین لوگوں کو اپنے ملکوں میں آباد کرنے کے ساتھ ساتھ نیشلنٹی تک دے دیتے ہیں مگر کیا یہ آج کے دور کا المیہ نہیں ہے کہ عرب ملک کے مسلمان یا دوسرے ممالک کے مسلمان عرب دنیا میں آباد ہونے کی بجا ئے یورپ میں آباد ہونے کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے رکھتے ہیں۔

حیرانی سیکولر ممالک میں رہنے والے مسلمانوں پر ہو رہی ہے کہ وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں یہ سب کچھ سعودیہ میں نہیں ہونا چاہیے تھا ،تو جناب یہ تو کھلا تضاد لگتا ہے ۔ خود سب کچھ انجوا ئے کرو اور دوسروں کو ایسا کرنے سے منع کرتے رہو ۔ کبھی غور کریں اس کی کیا وجہ ہے ؟ کفار پر ہی لعنتیں اور کفار میں ہی اپنا مستقبل بنانے کا خواب آخر یہ چکر کیا ہے؟ ہم ابھی بھی یہ سمجھنے سے کیوں عاری ہیں کہ سلفیوں کو فنڈنگ کرنے والا سعودی عرب ہمیں بند گلی میں بند کرکے خود پتلی گلی سے نکل گیا اور خود کو ماڈرنائز کرنے لگا مگر ہم ابھی بھی اسی ڈگر پر چل کر خود کو غار والے کیمپ میں جس کا افغانستان بھی حصہ ہے خود کو قید رکھنا چاہتے ہیں دوسری طرف ہمیں مذہبی طور پر استعمال کرنے والے سول لبرٹی اور اپنے معاشرے میں انفرادیت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے شخصی آزادیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں ہم ترقی کی طرف اس وقت تک قدم نہیں بڑھا سکیں گے جب تک ہم مذہب کو انسان کی ذاتی زندگی کا حصہ نہیں بنائیں گے اور یہ بات ہمیں اپنے برادر ملک سے سیکھ لینی چاہیے کہ جب آپ ترقی کرنے کا سوچ لیتے ہیں تو پھر آپ ماضی کی تمام رکاوٹوں کو توڑتے چلے جاتے ہیں اور یہی آج کے وقت کا تقاضا ہے انہوں نے ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر سجدہ سہو کر کے خود کو بدلنے کا فیصلہ کر لیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم خود کو کب بدلیں گے۔

Facebook Comments HS