100 بچوں کے قاتل جاوید اقبال پر فلم: ’اس میں کچھ نہ کچھ تو ہے جو 24 دسمبر کو آپ کو دیکھنے کو آنا ہو گا‘
یہ کہنا ہے کہ 100 بچوں کے قاتل جاوید اقبال پر بننے والی فلم کے ڈائریکٹر ابو علیحہ کا۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ 24 دسمبر کو جب ٹکٹ کر خرید کر سینما پر لوگ فلم دیکھیں گے تو وہ بالکل مایوس نہیں ہوں گے۔
مگر اس فلم کے ٹریلر کے بعد کئی تنازعات بھی سامنے آئے ہیں۔
فلم سے جڑے تناعات، اس کی تیاری کے مراحل اور اس کے مرکزی خیال سے متعلق بی بی سی اردو کے لیے صحافی براق شبیر نے اس فلم کے ڈائریکٹر ابوعلیحہ اور اس فلم میں جاوید اقبال کا کردار میں نظر آنے والے اداکار یاسر حسین سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔
جاوید اقبال کا ٹریلر
یاسر حسین کہتے ہیں کہ لاہور شہر کی کوئی دو کروڑ آبادی ہو گی۔ ٹریلر کے بعد فیڈ بیک بہت اچھا آ رہا ہے۔
’ مجھے لگتا ہے کہ جتنی تعریف کی جائے ابو علیحہ کی تو اتنی ہی کم ہے۔ اس میں جو شاٹس ہیں ابوعلیحہ کا کام ہے اور جو وائس اوور ہے وہ ابو علیحہ نے لکھی ہے۔‘
’میرے خیال میں ساری تعریفیں ابو علیحہ کے لیے ہونی چائییں کیونکہ ٹریلر میں انہی کا کام نظر آ رہا ہے۔‘
ٹریلر جتنا اچھا ہے کیا مووی بھی اتنی اچھی ہے؟ اس کے جواب میں ابو علیحہ نے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ میرے لیے یہ پہلی فلم ہے، جس کا ٹریلر فلم سے انصاف نہیں کر پا رہا ہے اور اس فلم کی جتنی بھی ’ہائپ‘ بن رہی ہے اور لوگوں کو اس فلم کا جتنا بھی شدت سے انتظار ہے، میں ان سب سے بس ایک ہی بات کہنا چاہتا ہوں کہ جب آپ اسے سینما پر دیکھنے آئیں گے تو ٹریلر سے بہت بہتر ’مواد‘ آپ اس کے اندر پائیں گے۔‘
لیکن ابو علیحہ نے اس کہانی کو پہلے کتابی شکل میں شائع کیا تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’میں نے سب سے پہلے تحقیق کر کے اسے کتابی شکل میں شائع کیا۔ جب اس کے تین ایڈیشن بِک چکے تھے تو پھر میں نے اس سکرپٹ میں شیئر کیا اور پھر میں یاسر حسین کے پاس گیا کہ آئیے اس پر مل کر فلم بناتے ہیں۔ جب اس پر کچھ اس قسم کی ٹویٹس بھی آئیں تو میں نے ان کو بھی ’انکاؤنٹر‘ کیا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ میرا آج بھی یہ کہنا ہے کہ آپ کو اگر اس فلم کے رائٹس یا مواد کے حوالے سے کوئی مسئلہ ہے تو آپ فلم ریلیز ہونے کا انتظار مت کریں، آپ کے پاس وہ کتاب موجود ہے جس پر یہ فلم بنی ہے، اس کتاب کو پڑھیں، اس میں اگر ایک جملہ بھی آپ کو لگ رہا ہے کہ آپ کا اٹھا کر ہم نے لگا لیا ہے تو پلیز آپ ہم پر س کیجیے۔
آخر اس عنوان پر فلم کیوں بن رہی ہے؟
ابوعلیحہ کا ماننا ہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ ہے جسے دوبارہ یاد کرنا چاہیے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ایک برا کیریکٹر ہے ہماری تاریخ کا تو اسے بھولنے کے بجائے اسے دوبارہ یاد کیا جائے اور دیکھا جائے کہ کیوں ایسا ہوا۔ اس پر ذرا روشنی ڈالی جائے اور چھوڑ دیا جائے عوام پر، ایک تاریخ کا حصہ ہے، کوئی ایسی چیز نہیں ہے یہ۔ اگر تقسیم ہند پر مووی بن سکتی ہے تو خود تقسیم کوئی اچھی یادداشت نہیں ہے تو یہ بھی ایک بری یادداشت ہے ہماری، اس پر بھی مووی بن سکتی ہے۔
’میں چاہتا ہوں ایدھی صاحب پر موودی بنے وہ تو بہت اچھی ہو گی۔ ہر جگہ جا کر جس طرح عوام ان کے پاس جمع ہوتی تھی۔ میں چاہتا ہوں کہ ایدھی پر ہم ہی فلم بنائیں۔۔ لگائیں پیسے۔‘
اس فلم بنانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے وہ بیرونی دنیا کی کچھ مثالیں اور پاکستانی صارفین کے رحجانات پر بھی بات کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں ہر عنوان پر فلم بننی چاہیے اور بنتی رہی ہیں۔
’امریکن سائیکو جب انھوں نے بنائی تھی تو لوگوں نے تھوڑا ہی کہا تھا کہ اس پر مووی نہیں بننی چائیے۔ یہ تو ایک ایسی بات ہے جو پاکستان میں لوگ کرتے ہیں حالانکہ یہی سارے لوگ سکوئڈ گیمز بھی دیکھتے ہیں جس کا کوئی پیغام نہیں ہے۔ اور اسی طرح ’یو‘ ایک سیریز آئی ہوئی تھی جو پاکستان میں ٹرینڈنگ پر تھی، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان اسے دیکھ رہا ہے۔ اس میں ایک بندہ ہے جو سٹاکر ہے، تو آپ سٹاکر کو کیوں دیکھ رہے ہیں، کیا میسیج مل رہا ہے آپ کو۔۔ تو ہر چیز کا میسیج نہیں ہوتا۔‘
ابو علیحہ نے بتایا کہ میں چار سال سے پرعزم تھا کہ مجھے یہ پروجیکٹ کرنا ہے۔ اور کبھی بھی کسی بھی جگہ یہ آئیڈیا نہیں تھا کہ آپ کے پاس ایک سریل کلر ہے اور کیونکہ ایمازون اور نیٹفلکس بھرے پڑے ہیں سریل کلر کی فلموں سے تو ہم بھی ایک سریل کلر کی کہانی بناتے ہیں۔
وہ کہنے لگے کہ ’جاوید اقبال کو آپ دیکھ لیں۔ اس سے متعلق آپ کو جو بھی کلپ ملتا ہے، وہ ایک نارمل آدمی تھا۔ ایسا آدمی اگر آپ کے پاس سے سڑک سے گزر کر چلا جائے تو آپ دوبارہ نگاہ نہیں ڈالیں گے۔ وہ ماچو نہیں تھا، وہ ایک نارمل آدمی تھا۔ جاوید اقبال کے کیریکٹر کو بنانا چیلنج تھا۔ اس فلم میں جب آپ دیکھنے جائیں گے تو آپ کو یاسر حسین نہیں یں گے، عائشہ عمر اور ربیعہ کلثوم نہیں ملے گی، آپ کو ایک پولیس آفیسر ملے گی، آپ کو ایک ماں ملے گی، آپ کو ایک سریل کلر ملے گا۔‘
فلم کے اداکاروں کا انتخاب کیسے کیا؟
ابوعلیحہ کہتے ہیں کہ ایسا بالکل نہیں ہے کہ یاسر کی شکل جاوید اقبال سے ملتی جلتی ہے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ یاسر حسین کا مجھے پتا تھا کہ وہ ایک بہت اچھا اداکار تھا، وہ اس کیریکٹر کو بڑا اچھا نبھا سکتے ہیں۔ لیکن لوگ انھیں ’کراچی سے لاہور‘ جانتی ہے۔ عائشہ عمر پر خوبصورت کے کیریکٹر کی ایک چھاپ لگ چکی ہے۔ وہ اتنا بڑا ڈرامہ ہے،، مجھے لگا کہ جو ہم حیرانی کا عنصر دینا چاہتے ہیں، چونکا دینا چاہتے ہیں، اس حوالے سے عائشہ عمر ایک بہتر چوائس ہوں گی، جو دس سال سے آپ کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتی ہوئی آ رہی ہیں۔ اور اب وہ روئے گی، وہ سو بچوں کی ماؤں کے لیے روئے گی، اور وہ اسے نفرت سے دیکھے گی تو یہ ایک سرپرائز تھا، عائشہ نے کمال کر دیا ہے۔
ابو علیحہ کے لیے جہاں اس موضوع پر فلم بنانا چیلنج تھا وہیں بڑے سٹارز کو منانا بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میرے لیے سب سے بڑا چیلنج تو محدود بجٹ تھا کہ کیسے یاسر حسین اور عائشہ عمر جیسے سٹارز کو مناؤں کہ وہ یہ فلم کریں اور یہ کہ انھیں کسی بھی قسم کی مایوسی نہیں ہو گی۔ انھیں اب اس بات پر قائل کرنا تھا کہ میں ان سے ایک ’رِسکی پروجیکٹ‘ پر مہینوں کی محنت مانگ رہا ہوں۔ اور میں انھیں ان کا جائز معاوضہ بھی نہیں دے پا رہا ہوں۔‘
جب جاوید اقبال کا کردار آفر ہوا تو آپ کے کیا کیا تاثرات تھے؟
اداکار یاسر حیسن کہتے ہیں کہ انھیں تین مختلف لوگوں نے جاوید اقبال پر فلم میں کام کرنے کی آفر کی تھی اور تینوں کو انھوں نے ہاں ہی کی تھی۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’میرے لیے تو جاوید اقبال کا ایک الگ تعلق ہے۔۔ وہ یہ ہے کہ چھ، سات سال پہلے لاہور میں مجھے ایک شارٹ فلم کی سکریننگ کے لیے بلایا گیا تھا، تو جنھوں نے وہ شاٹ فلم بنائی تھی انھوں نے بھی مجھے یہ بتایا تھا کہ میں اگلا پروجیکٹ جو کر رہا ہوں وہ جاوید اقبال پر کر رہا ہوں۔ تو کیا آپ کریں گے؟ تو میں نے کہا کیوں نہیں، یہ تو ایک بہت اچھا پروجیکٹ ہو گا۔ ایک ایسی کہانی آپ بنا رہے ہیں جو بہت ڈراؤنی ہو گی۔ میں نے کہا یہ میں ضرور کروں گا۔‘
یہ بھی پڑھیے
دلِ مومن: ’اداکار کی کوئی عمر نہیں ہوتی، کردار کی ہوتی ہے‘
’ڈراموں میں باوقار، اچھی عورت وہی ہے جو سمجھوتہ کرنے پر راضی ہو جائے‘
ابتدا میں اسود کا کردار ادا کرنے سے منع کر دیا تھا: عثمان مختار
’پھر ایک اور صاحب آئے میرے پاس کہ میں جاوید اقبال پر فلم بنا رہا ہوں۔ تو کیا آپ اس میں کام کریں گے۔ میں نے کہا جی میں کروں گا، مجھے پہلے بھی کسی نے کہا تھا۔ پھر میرے پاس ابوعلیحہ آئے کہ میں جاوید اقبال پر فلم بنا رہا ہوں تو میں نے کہا کہ یار میرے ساتھ یہ مذاق ہو رہا ہے، بہت عرصے سے۔ ظاہر ہے میں فوراً ہی ہاں کر دی تھی۔ مجھے یہ پتا تھا کہ یہ بنا لیں گے کیونکہ پہلے بھی فلمیں بنائی ہیں اور یہ کسی بھی بجٹ میں فلم بنا لیتے ہیں۔ تو میں اب انھیں یہ کیوں کہوں گا کہ اب نے کریں ایسا
جاوید اقبال کی لُک سے متعلق کیا سٹڈی کی تھی؟
یاسر حسین کہتے ہیں کہ میں نے سٹڈی کیا تو ان سے متعلق کوئی ذیادہ مواد نہیں ملا۔
’جاوید اقبال سے متعلق ایک چھوٹی سی ویڈیو سامنے آئی تھی۔ اس میں جاوید اقبال کا جو رویہ نظر آ رہا ہے کیونکہ اس نے خود سرینڈر کیا تھا، تو اس میں ایک چیز تھی کہ یار میں خود آیا ہوں، آپ کا کوئی کمال نہیں ہے اس میں۔ وہ غرور اور تکبر کا مظاہرہ کر رہا تھا ۔۔ اس سے مجھے اندازہ ہو گیا۔ اور پھر جس طرح ڈائریکٹر نے مجھے سمجھایا کہ وہ خود کو پولیس اور تھانوں سے اوپر سمجھتا ہے، وہ خود آیا ہے کہ مجھے گرفتار کرو، میں نے 100 بچے مار دیے ہیں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اس میں پھر اس کردار کو بھی پرسکون ہونا چاہیے کیونکہ وہ کوئی دہشتگرد تھوڑا ہی تھا کہ جو برقعہ پہن کر بھاگ رہا ہو، یہ خود آیا ہے۔ اس کو جو میں آگے لے کر بڑھا ہوں۔ جس پر لوگوں نے بتایا کہ وہ جس طرح آپ کا پولیس موبائل سے اترنے کا انداز ہے، جس طرح آپ دیکھ رہے ہیں، وہ ہمیں بہت زبردست احساس دیتا ہے۔۔۔ جب جاوید اقبال پولیس موبائل سے اتر رہا تھا تو وہ اس کے لیے فخریہ لمحہ تھا کہ آپ لوگ مجھے ایسے اتار رہے ہیں کہ جیسے آپ پکڑ کر لائے ہوں۔ میں خود آیا ہوں تو وہ ایک چیز تھی جسے میں نے فالو کیا۔‘
یاسر کہتے ہیں کہ مجھے میرے ایک نئے ایکٹر نے سوال کیا کہ جب وہ آپ کر رہے تھے تو آپ کیا سوچ رہے تھے۔ میں نے جواب دیا کہ اس وقت میں کچھ نہیں سوچ رہا تھا، میں اس سے پہلے سوچ چکا تھا کہ جب آپ اداکاری کرتے ہیں تو پھر آپ اس کو لے کر چلتے ہیں جو نیچرلی ذہن میں آتا ہے۔ اس وقت خاص کچھ نہیں سوچ رہے ہوتے ہیں۔
’کٹ کا نہیں کہا جاتا تو میں دھاڑیں مار مار کر رونے لگتا‘
یاسر حسین کہتے ہیں کہ اچھی بات یہ تھی کہ اس فلم کو جلدی بنا لیا گیا کیونکہ وہ جاوید اقبال کی پوری زندگی پر نہیں تھی۔ کچھ حصہ تھا اس کی زندگی کا، وہ جلدی شوٹ ہو گیا، (جو) میرے لیے خوشی کی بات تھی کیونکہ میں ذیادہ دیر اس کو نہیں کر سکتا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں دوبارہ اس کیریکٹر میں آ سکتا ہوں کیونکہ آپ کے ساتھ ایک بٹن لگ جاتا ہے۔ اسے آپ جب دباتے ہیں تو پھر اس کردار میں جا سکتے ہیں۔ مگر میں اب (اس کردار میں) نہیں جانا چاہتا، اس کردار میں ذیادہ وقت کے لیے رہنے سے متعلق وہ کوئی اچھے احساسات نہیں تھے
ایک سین کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ربیعہ کلثوم بڑی اچھی اداکارہ ہیں، وہ اس بچے کی ماں بنی تھیں، جن کا بچہ کھو گیا ہے، وہ جاوید اقبال سے پوچھنا چاہ رہی ہیں کہ وہ تمھارے پاس تو نہیں ہے۔ تو یہ ایک بڑا تکلیف دہ منظر تھا۔ وہ جب ربیعہ نے پرفارم کیا تو ایک اداکار کے طور پر میں اتنا غیر محفوظ تھا کہ اس وقت شاید مجھے کٹ کا نہیں کہا جاتا تو میں دھاڑیں مار مار کر رونے لگتا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’مجھ سے اپنے جذبات سنبھالے نہیں جا رہے تھے کیونکہ وہ میں کردار ایک اداکار کے طور پر کر رہا تھا مگر ایک انسان کے طور پر میں کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا۔‘

