پنجاب میں پیپلز پارٹی کی سیاسی واپسی ممکن ہو سکے گی؟
پنجاب میں پیپلز پارٹی کی سیاسی واپسی یقینی طور پر ایک بڑے سیاسی چیلنج کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ کیونکہ 1988 کے انتخابات کے بعد عملی طور پر پیپلز پارٹی پنجاب میں سیاسی واپسی کی جدوجہد کر رہی ہے۔ اس وقت لاہور میں ایک حالیہ ضمنی انتخاب این اے 133 کے نتائج نے پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ نون کے مقابلے میں ایک بڑا سیاسی ریلیف دیا ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی یہ انتخاب ہار گئی ہے لیکن 32,313 ووٹ لے کر اس نے دوبارہ پنجاب کی انتخابی سیاست میں ایک بڑی سیاسی انگڑائی لی ہے۔
اسی طرح اس انتخاب میں کئی انتخابات کے بعد پہلی بار دو بڑے سیاسی حریفوں یعنی مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کا براہ راست سیاسی مقابلہ ہوا ہے۔ کیونکہ پی ٹی آئی ایک تکنیکی غلطی کی بنیاد پر اس حلقہ انتخاب سے باہر ہو گئی تھی۔ حالیہ خانیوال کے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کا پندرہ ہزار ووٹ حاصل کرنا بھی ان کے لیے یقیناً امید کی نئی کرن کہی جا سکتی ہے۔ اس کامیابی کو بنیاد بنا کر پیپلز پارٹی کی سیاسی قیادت، ان کے حامی دانشور، ووٹرز اور کچھ سیاسی پنڈتوں کے بقول پنجاب میں پیپلز پارٹی کی سیاسی واپسی کا عمل شروع ہو گیا ہے اور وہ ایک متبادل قیادت کے طور پر اگلے عام انتخابات میں اپنے سیاسی مخالفین کو ایک بڑا سرپرائز دے سکتی ہے۔
پنجاب کی عملی سیاست کو اگر آج کے حالات میں دیکھیں تو اس میں مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف ایک دوسرے کے لیے بڑے طاقت ور فریق کے طور پر موجود ہیں۔ سابقہ 2018 کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے مقابلے میں تیسری بڑی قوت کے طور پر تحریک لبیک نے اپنی سیاسی صلاحیتوں کو منوایا اور پیپلز پارٹی چوتھے نمبر پر آ سکی۔ ایک تجزیہ یہ بھی کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر این اے 133 میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے مقابلے میں تحریک انصاف کا امیدوار بھی میدان میں موجود ہوتا تو کیا پیپلز پارٹی کے لیے یہ ہی نتیجہ نکلتا جو اب سامنے آیا ہے تو جواب نفی میں ہوتا۔ پیپلز پارٹی کو یقینی طور جو اس حلقہ میں سیاسی فائدہ ہوا وہ تحریک انصاف کی عدم موجودگی کا ہی تھا اور اس عدم موجودگی نے عملی طور پر پیپلز پارٹی کو براہ راست مسلم لیگ نون کے مدمقابل کھڑا کر دیا ہے۔
اس لیے پیپلز پارٹی کی پنجاب کی انتخابی سیاست میں بحالی کو محض این اے 133 کے انتخابی نتیجہ کی بنیاد پر دیکھ کر مستقبل کی منظرکشی کرنا ایک غلط تجزیہ ہو گا۔ یہ دیکھنا ہو گا جہاں بھی مسلم لیگ ن، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، تحریک لبیک، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ق ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی وہاں پیپلز پارٹی سیاسی میدان میں کہاں کھڑی ہوگی۔ اس وقت بھی مجموعی طور پر مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور تحریک لبیک اپنی سیاسی پوزیشن کے طور پر پنجاب کی سیاست میں مستحکم نظر آتی ہیں۔
ایسے میں پیپلز پارٹی کے لیے اپنی سیاسی جگہ کی تلاش انتخابی عمل یا سیاست میں ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ پیپلز پارٹی کی پنجاب میں انتخابی سیاست میں عدم موجودگی یا غیر اہمیت کی ایک بڑی وجہ خود پیپلز پارٹی کی داخلی سیاست بھی ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے باہمی سیاسی رومانس اور ایک دوسرے کے لیے پنجاب اور سندھ کے سیاسی میدان کو کھلا چھوڑنے کی پالیسی نے بھی ان کو سیاسی طور پر تنہا کیا ہے۔
پیپلز پارٹی کو پنجاب میں اپنی انتخابی سیاست میں جگہ بنانے کے لیے مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف سمیت تحریک لبیک کو بھی سیاسی طور پر بڑا چیلنج یا مزاحمت دینا ہوگی۔ کیونکہ یہ تینوں سیاسی قوتیں آسانی سے پیپلز پارٹی کو سیاسی میدان میں جگہ نہیں دیں گی۔ اسی طرح اگر پیپلز پارٹی نے پنجاب میں ان دونوں بڑی جماعتوں کے مقابلے میں ایک متبادل سیاسی اتحاد بنانا ہے تو اس میں ان کے ساتھ کون کھڑا ہو گا یہ خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
پنجاب کی شہری سیاست میں مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کو آسان فریق سمجھنا یا یہ سمجھنا کہ یہ جماعتیں اپنی سیاسی سطح پر مقبولیت کھو چکی ہیں ایک درست تجزیہ نہیں ہو گا۔ پیپلز پارٹی کا المیہ یہ ہے کہ اس کے پاس شہری سیاست میں بحالی یا بالخصوص نوجوانوں کی سطح پر ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا کوئی بڑا سیاسی ایجنڈا نہیں۔ پیپلز پارٹی کافی برسوں سے پنجاب کی سیاست میں جنوبی پنجاب کا سیاسی کارڈ کھیلتی رہی ہے۔ لیکن اب نئی صورتحال میں کیا وہ جنوبی پنجاب میں خود کو بحال کرسکے گی اس کا بھی ایک بڑا دار و مدار انتخابات سے قبل مقامی سیاسی جوڑ توڑ اور اسٹیبلیشمنٹ کی سیاسی مرضی کے بغیر کچھ ممکن نہیں ہو سکے گا۔
دراصل پیپلز پارٹی پنجاب میں جو دوبارہ سرگرم ہوئی ہے اس کے پیچھے ایک سیاسی پس منظر یا موجودہ سیاسی صورتحال ہے۔ پیپلز پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ اس وقت دو منظر نامے ہیں۔ اول مسلم لیگ نون اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان ایک بڑی سرد جنگ جا رہی ہے اور اس سرد جنگ کے نتیجہ میں مسلم لیگ نون کی اقتدار کی سیاست میں واپسی فی الحال مشکل نظر آتی ہے۔ دوئم وہ سمجھتی ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ اور عمران خان کے درمیان بھی معاملات بہت بہتر نہیں اور ان کو نئے انتخابات میں فری ہینڈ نہیں مل سکے گا۔
اسی لیے آصف علی زرداری اسی صورتحال کو بنیاد بنا کر اپنے لیے انتخابی سیاسی جگہ یا خود کو اسٹیبلیشمنٹ کے سامنے ایک متبادل قوت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ آصف زرداری کی اس وقت جو حکمت عملی نظر آتی ہے وہ پورے پنجاب کی سیاست نہیں بلکہ وہ فی الحال جنوبی پنجاب کی سیاست میں بڑے خاندانوں کو یا الیکٹ ایبلز کو بنیاد بنا کر اگلے انتخابات میں اپنی انتخابی سیاست کا میدان سجانا چاہتی ہے۔ اس کے لیے ان کو نہ صرف مضبوط سیاسی خاندانوں کی حمایت درکار ہے بلکہ یہ لوگ انتخابی سیاست میں پیسے بھی خرچ کرسکیں۔
پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ جنوبی پنجاب کی سیاست میں وہ اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت لینے میں کامیاب ہو سکتی ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ معقول عددی تعداد میں نشستیں حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کی یہ بھی کوشش ہے کہ انتخابات سے قبل جو تحریک انصاف میں دھڑے بندی ہوگی اس کا بھی فائدہ اٹھانا اور مسلم لیگ ق کے ساتھ مل کر انتخابی حکمت عملی کو ترتیب دے کر کچھ کرنے کے خواہش مند ہیں۔ کیونکہ زرداری سمجھتے ہیں کہ ان کی سیاسی واپسی کسی نظریاتی سیاست، عوامی لہر اور پارٹی کو بہت زیادہ منظم کرنے کی بجائے ایک انتظامی و سیاسی حکمت عملی کے تحت ہو سکتی ہے۔
یہ ہی وجہ ہے کہ اب ان کی سیاسی حکمت عملی میں مسلم لیگ نون بھی سیاسی ٹارگٹ بن گئی ہے۔ مسلم لیگ نون کا خیال تھا کہ وہ محض اینٹی عمران کی بنیاد پر ووٹ حاصل کر کے اپنی سیاسی برتری قائم کر سکتی ہے۔ لیکن اب صورتحال ایک طرف اینٹی عمران خان ووٹ ہو گا تو دوسری طرف ان اینٹی عمران خان ووٹوں میں پارٹیوں کی بنیاد پر سیاسی تقسیم بھی ہوگی۔ پیپلز پارٹی بھی مسلم لیگ نون کے ساتھ کھڑی ہوگی کہ اسے دو طرفہ طور پر اینٹی عمران خان اور اینٹی نواز شریف بھی ووٹ ملے۔
پیپلز پارٹی البتہ یہ اپنا تشخص قائم کرنے کی کوشش کرے گی کہ اسے لبرل یا پروگریسو طبقہ کا ووٹ ملے اور جو لوگ بھی انتہا پسندی کے خلاف ہیں وہ پیپلز پارٹی کا انتخاب کریں۔ لیکن اس کے لیے اسے بہت محنت کرنا ہوگی۔ کیونکہ پیپلز پارٹی کے بارے میں یہ تاثر بہت مضبوط ہے کہ وہ اس وقت اسٹیبلیشمنٹ کے لیے سہولت کا ر کا کردار ادا کر رہی ہے تو جو لوگ اینٹی اسٹیبلیشمنٹ بیانیہ رکھتے ہیں ان کی چوائس بھی پیپلز پارٹی نہیں ہوگی۔ خود مسلم لیگ نون بھی اسی بیانیہ کو پیپلز پارٹی کے خلاف پیش کرے گی کہ تحریک انصاف کی طرح یہ بھی اسٹیبلیشمنٹ کی بی ٹیم ہے اور ہم ہی حقیقی جمہوریت کے لیے لڑ رہے ہیں۔ حالانکہ شہباز شریف کا بیانیہ بھی وہی ہے جو پیپلز پارٹی کا ہے کہ ہمیں اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراؤ کی بجائے مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔
پیپلز پارٹی کی ساری حکمت عملی کو دیکھیں تو اس میں ان کی واحد امید عوام یا ووٹ سے زیادہ اسٹیبلیشمنٹ کے اندر خود کو قبولیت کے طور پر پیش کرنا ہے۔ کیونکہ پیپلز پارٹی یا زرداری کو یہ بات سمجھ آ گئی ہے کہ ہمیں طاقت کے مراکز کے اندر ہی اپنے سیاسی کارڈ کھیل کر سیاسی یا اقتدار کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ اب دیکھنا ہو گا کہ طاقت کے کھیل میں چاروں فریق جن میں مسلم لیگ ن، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور تحریک لبیک کس حد تک اپنے لیے اقتدار کے کھیل میں حصہ لینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
فی الحال پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کا ماحول بن رہا ہے۔ عام انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی کا بڑا امتحان مقامی حکومتوں کے انتخاب میں ایک معقول سیاسی حصہ لینا ہے، لیکن کیا پیپلز پارٹی عام انتخابات سے قبل مقامی انتخابات میں اپنا سیاسی اثر دکھا سکے گی، ایک مشکل سوال ہے اور اس کا جواب بھی بدستور مبہم اور ناممکن نظر آتا ہے کہ پیپلز پارٹی خود کو سیاسی طور پر بڑے حصہ کے طور پر بحال کرسکے۔


