تحریک انصاف کے پہلے سیکریٹری جنرل معراج محمد خان نے اپنے استعفیٰ میں کیا لکھا؟
2 مئی 2003
مسٹر عمران خان
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف
اسلام آباد۔
مائی ڈئیر عمران خان،
پاکستان تحریک انصاف میں آپ کے ساتھ 5 برس سے زیادہ کا عرصہ گزارنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ کے چند ایک غیر سیاسی ساتھی جس طرح پارٹی کو بنانا اور چلانا چاہتے ہیں ؛ وہ میرے تجربے، فہم اور سمجھ سے بالاتر ہے، اس لیے میں سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر اور سیکریٹری جنرل کے عہدے سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔
پارٹی کا طرز عمل:
با ایں ہمہ ہمارے پاس آپ جیسی دلآویز اور معروف شخصیت موجود تھی، نیز سیاسی خلا کی موجودگی کے ساتھ ساتھ ملک کے معروضی حالات بھی سازگار تھے۔ مگر پاکستان تحریک انصاف کے قیام کے سات سالہ طویل عرصہ کے بعد بھی ہم پارٹی کو مضبوط بنیادوں پر استوار نہ کرسکے جو ظالمانہ نظام کو تبدیل کرنے کے لیے عوام کی جدوجہد کی رہنمائی کر سکتی۔
عظیم نصب العین اور مقاصد۔ ایک مضبوط اور گھٹی ہوئی تنظیم کے پرچم تلے جدوجہد اور قربانیاں دے کر ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اسے بد قسمتی سمجھیے کہ جو قیادت کے منصب پر براجمان ہیں۔ ان میں اجتماعی سوچ اور مشترکہ وژن کا فقدان ہے۔ بہت سے کمٹمنٹ کے احساس سے محروم ہیں اور اپنے مشن کی حقانیت پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر پی ٹی آئی ایک حقیقی جمہوری پارٹی بن کر ابھری اور جب صلاحیت سیاسی کارکنان اور شخصیات پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گی تو ان کا پارٹی پر سے کنٹرول ختم ہو جائے گا اور عمران خان بھی ان کے دائرہ اثر میں نہیں رہیں گے۔ اس لیے انھیں پارٹی میں گروہ بندی، خلفشار اور بدنظمی پیدا کرنے میں اپنا مفاد نظر آیا اور اسی میں انھوں نے اپنی عافیت جانی۔ علاوہ ازیں انھوں نے مشتبہ، مشکوک حتیٰ کہ مجرموں کو پارٹی میں شامل کیا تاکہ پارٹی غیر موثر رہے۔ آپ ان کی چرب زبانی اور پرفریب اسٹائل سے دھوکا کھا گئے، نیز آپ ان کی اصل حقیقت پہچان نہ سکے اور ان پر انحصار کیا۔ لہٰذا پارٹی کی موجودہ افسوس ناک صورت حال اسی کا منطقی نتیجہ ہے۔
ماضی میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں بشمول سرگرم سیاسی کارکنان نے مثالیت کے احساس سے پارٹی میں شمولیت اختیار کی کہ پاکستان تحریک انصاف وطن عزیز کو درپیش بحرانوں پر قابو پاکر نظام میں ایسی تبدیلی لائے گی جو عوام کی آرزوؤں اور امنگوں کی آئینہ دار ہوگی۔ ہم ان کی سیاسی تربیت کر کے مرکزی، صوبائی اور مقامی سطحوں پر اعلیٰ پاے کے لیڈر پیدا کر سکتے تھے ؛ تاہم اجتماعی قیادت کے فقدان، سیاسی جدوجہد کے بغیر بے سمت سیاسی سفر، فیصلوں پر عمل درآمد ہونے کی وجہ سے ان کی بڑی اکثریت بد دل اور بیزار ہو کر پیچھے ہٹ گئی اور آہستہ آہستہ پارٹی ”فین کلب“ بن کر رہ گئی۔
آپ نے جن لوگوں کو چیف آرگنائزر اور چیف انتخابی مینیجر کے عہدوں کے لیے نامزد کیا اور دوسرے بھی جو آپ کے قریب تھے وہ درحقیقت پارٹی بنانے میں دل چسپی نہیں رکھتے تھے اسی لیے انھوں نے بلدیاتی انتخابات یا عام انتخابات کے لیے سنجیدگی سے تیاری نہ کی۔ ان کی بنیادی حکمت عملی اور کاوشوں کا مقصد صرف حکومت کی حمایت حاصل کرنا تھا تاکہ وہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ سکیں۔ اسی لیے انھوں نے دانستہ طور پر یہ تجزیہ پیش کیا کہ نواز شریف اور بے نظیر ملک سے باہر ہیں لہٰذا فوجی حکومت کے لیے عمران خان ہی بہترین چوائس ہو گا لہٰذا وہ حلقے کی سیاست کرنے والے مضبوط امیدواروں کو پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑانے کے لیے مجبور ہو جائے گی۔ اسی مقصد کے لیے انھوں نے آپ کو اور پارٹی کو ریفرنڈم کی حمایت پر مجبور کیا، جس کا کوئی اخلاقی، قانونی یا سیاسی جواز نہ تھا۔ جس کے نتیجے میں جمہوری حلقوں میں ہمارا وقار گر گیا اور ہم عوام سے کٹ گئے۔ مگر ایسے مضبوط امیدوار نہ آنے تھے اور نہ آئے اور جس معجزہ کی انھیں امید تھی وہ رونما نہ ہوا۔ بہر کیف جب یہ واضح ہو گیا کہ حکومت مسلم لیگ (ق) کی حمایت کر رہی ہے تو آپ نے گجرات کے چوہدریوں کو ہدف تنقید بنانا شروع کیا، مگر اس وقت تک بہت تاخیر ہو چکی تھی۔ یہ اکثر کہا جاتا ہے کہ کرکٹ بائی چانس ہے مگر میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ سیاست بائی چانس نہیں ہوتی۔
تاہم ہمیں پارٹی کے امیدواروں کے حوصلے کی داد دینی چاہیے جنھیں الیکشن کے آخری دنوں میں نامزد کیا گیا۔ جو سیاسی حلقوں میں معروف نہ تھے اور پارٹی بھی ان کی مالی یا تنظیمی لحاظ سے مدد کرنے کی پوزیشن میں نہ تھی۔ آپ کی میانوالی میں کامیابی میں کارکنان، مقامی لیڈر اور خصوصی طور پر الیکشن مہم کے انچارج حفیظ اللہ خان کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ اس کے علاوہ اکبر ایس بابر نے میڈیا اور پریس میں پارٹی کا علم بلند رکھا اور حامد خان نے قانونی محاذ پر 3791 ء کے آئین کی بحالی اور ایل ایف او کے خلاف جدوجہد کرنے والے وکلا اور دوسری تنظیموں کی قیادت کی۔ دونوں کی پارٹی کے لیے خدمات کو قابل رشک قرار دیا جا سکتا ہے۔
ضائع کردہ مواقع:
پچھلے کئی برسوں سے پاکستان کثیرالجہتی بحران کا شکار ہے۔ جب روزافزوں مہنگائی اور بے روزگاری کے نتیجے میں سیکڑوں لوگ خود کشی کرنے کے لیے مجبور ہوں، جب خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جائے، جب نسلی، فرقہ وارانہ تشدد، دہشت گردی بلا روک ٹوک جاری ہو، جب اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہوں، جب صوبوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہو، جب عدلیہ کا نظام منہدم ہو چکا ہو، جب 3791 کے آئین کو ایل ایف او کے ذریعے پامال کیا جا رہا ہو اور پارلیمان کی بالادستی ختم کردی جائے، بالفاظ و دیگر جب تمام معروضی حالات پارٹی کو بنانے اور فروغ دینے کے لیے سازگار ہوں اور پارٹی نہ احتجاج کرے نہ مظاہرے کرے تو عوام کو ان اہم ایشوز پر کیسے متحرک کیا جاسکتا ہے؟ اگر ہم نے اپنی توجہ اس صورت حال سے استفادہ کرنے پر مرکوز کی ہوتی اور اس کے لیے وقت اور فنڈز مختص کیے جاتے ( جنھیں جلسوں، جلوسوں پر بے دردی سے ضائع کیا گیا) تو ہم عوام کو منظم اور متحرک کر کے موجودہ استحصالی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی صلاحیت پیدا کر سکتے تھے۔ مگر ہم تو اس کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت اور تعاون کے طلب گار بنے رہے اور اس طرح نہ صرف قیمتی وقت ضائع کر دیا بلکہ پارٹی کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔
تنظیمی بد انتظامی:
پارٹی آئین کے مطابق پارٹی تنظیم کی دیکھ بھال اور پالیسیوں پر عمل درآمد کرانا سیکریٹری کی ذمے داری ہے تاہم روز اول سے ہمارے ہاں ایڈہاک بنیادوں پر فیصلے کرنے کا رجحان پایا گیا، مختلف اوقات میں کبھی ایک اور کبھی دوسرے شخص کو چیف آرگنائزر مقرر کیا گیا، اس طرح سیکریٹری جنرل کے رول اور اہمیت کو کم تر کرنے کی کوشش کی گئی، اختیارات کے دہرے پن کے نتیجے میں بد نظمی اور انتشار نے جنم لیا جس سے پارٹی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ میرے خیال میں آپ کو کمرشل یا سماجی تنظیم چلانے اور سیاسی جماعت کے معاملات نپٹانے میں فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اگر آپ اب بھی پارٹی کو ذاتی دوستوں اور ریٹائرڈ سول اور فوجی افسران یا پیشہ ور منتظمین کے ذریعے چلانے کو ترجیح دینا چاہتے ہیں تو آپ اسی غلطی کا اعادہ کر رہے ہوں گے۔ اس طرح آپ ایک پریشر گروپ یا این جی او تو تخلیق کر سکتے ہیں مگر سیاسی جماعت تشکیل نہیں دے سکتے جو عوام کی رہنمائی کر سکے۔
پارٹی میں اس وقت سوائے مرکزی عہدے داروں کے اور کوئی منتخب آرگن نہیں کیونکہ تمام صوبائی تنظیمیں غیر ضروری طور پر توڑی جا چکی ہیں، میں سینئیر نائب صدر حامد خان سے اتفاق کرتا ہوں کہ مرکزی عہدے داروں کو سرسری طور پر ان کے عہدوں سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم اگر آپ عہدے داروں کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو صحیح راستہ یہ ہے کہ نیشنل کونسل کا اجلاس بلایا جائے اور نئے انتخابات کرائے جائیں۔
قیادت کا بحران:
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ عالمی کپ جیتنے پر لوگ آپ کو ہیرو تصور کرتے ہیں اور شوکت خانم کینسر ہسپتال قائم کرنے پر آپ عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ مگر آپ نے جس انداز سے سیاسی امور نپٹائے ہیں لوگ آپ کو نجات دہندہ نہیں سمجھتے ہیں اور نہ ہی پارٹی کو وہ ذریعہ سمجھتے ہیں جس سے نظام میں تبدیلی سے انھیں خوش حالی نصیب ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ہمارے امیدواروں کے حق میں ووٹ نہیں ڈالے۔
پارٹی پیغام میں ابہام:
پارٹی نے کبھی اپنا سیاسی پیغام نہیں دیا کہ ہمارے دوست کون ہیں اور دشمن کون ہیں۔ وہ کون سے طبقات ہیں جن کے مفادات ہمیں عزیز ہیں اور وہ کون ہیں جن کے ہم مخالف ہیں۔ نیز اس سماجی اور معاشی نظام کے خد و خال کیا ہیں جنھیں ہم نافذ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ فیوڈل ازم، نو آبادیاتی طرز حکمرانی، طاقت و اختیارات کا ارتکاز اور عوام کے ننگے استحصال پر مبنی موجودہ گلے سڑے نظام کے خاتمے کی بات کرنے کی بجائے ہم نے صرف بد عنوانی کے خاتمے کی بات کی اور پھر نہایت سادہ حل پیش کیا کہ عدلیہ کی اصلاح سے ہمارے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔ اسی قسم کے ابہام سے عوام کو یہ معلوم نہ ہوسکا کہ ہم کس نوع کی پارٹی ہیں۔
تنہا پرواز کا رجحان:
ہم اپنی حد سے تجاوز کردہ خود پنداری میں اس قدر گم تھے کہ ہم نے تنہا پرواز کی پالیسی وضع کی اور اہم قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر ہم خیال جماعتوں کے ساتھ اشتراک عمل مناسب نہ سمجھا۔ ہم کسی اتحاد میں شریک نہ ہوئے اور نہ ہی قابل احترام اور ستھرے سیاسی لیڈروں سے اتحاد بنانے کی کوشش کی۔ اگر ہم ان کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرتے تو ممکن تھا کہ ان میں سے کچھ ہماری پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیتے۔
حال ہی میں جب سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی تنظیم نو کے سلسلے میں 4 اپریل 2003ء کو میری آپ سے ملاقات ہوئی اور ہم نے مشترکہ طور پر سی ای سی کے ممبران کی فہرست مکمل کی، جس کی اس وقت نفی کر دی گئی جب 6 اپریل کے اجلاس میں آپ نے تمام موجود ممبران (جن میں کچھ غیر متعلقہ لوگ بھی شامل تھے) کو 6 ماہ کے لیے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بنانے کا اعلان کر دیا۔ میں آپ کو اور آپ کی نامزد کردہ سی ای سی کے ممبران کو مبارک باد ہی دے سکتا ہوں۔ (ان میں سے چند کے لیے میرے دل میں بہت احترام ہے) مگر میں موجودہ حالات میں اس کا حصہ نہیں بن سکتا۔ اختتام سے قبل میں یہ کہنا چاہوں گا کہ سوشل ڈیموکریٹک سیاست میں تجربے کی بنیاد پر میں نے جتنا ممکن تھا آپ کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ اس قدر تفصیل میں جانے کا مقصد یہ ہے کہ میں دیانت داری سے اپنا نقطہ نظر پیش کروں اور یہ وہی کچھ ہے جو ماضی میں زبانی طور پر میں اکثر بیان کرتا رہا ہوں۔ غالباً آپ کسی وقت اس پر غور کرنا پسند فرمائیں۔
والسلام
معراج محمد خان






