شکریہ عمران خان: ہم صادق و امین قرار پائے


ہوش سنبھالتے ہی ہمیں مطالعے کے شوق نے آن گھیرا، شاید اس کی وجہ ہمارے گھر میں آنے والے دائیں بازو کے ایک نمائندہ اخبار کا ہفتہ وار بچوں کا ایڈیشن تھا جس کا ہمیں شدت سے انتظار رہتا، شوق نے زور پکڑا اور ہمیں مقامی پبلک لائبریری تک پہنچا دیا، اس وقت تک ہمارا اخبار نظریاتی طور پر ہمیں متاثر کر چکا تھا اس لیے لائبریری میں بھی ہم نے چن چن کر دائیں بازو کا ادب پڑھا اور یہ سمجھنا شروع کر دیا کہ اصل دنیا یہی ہے باقی سب لوگ تو بھٹکے ہوئے ہیں،

حتیٰ کہ پنجاب یونیورسٹی لاہور پہنچ گئے، یہاں بھی ہمیں زیادہ تر اپنے جیسے لوگ ہی نصیب ہوئے بلکہ بعض اوقات تو ہمیں ان لوگوں کے مقابلے میں اپنا آپ بہت گنہگار، لبرل یعنی بھٹکا ہوا محسوس ہوتا۔

یونیورسٹی کے بعد پرفارمنگ آرٹ اور متوازی تھیٹر کے ساتھ سرکاری چینل میں بطور پروڈیوسر کام کرتے ہوئے تصویر کے دوسرے رخ سے تعارف ہوا، جس نے چودہ طبق روشن کر دیے اور گزشتہ زندگی میں خود سے بنائے نظریاتی ہوائی قلعے اور بت پاش پاش ہونے شروع ہو گئے،

اس دوران ہم نے ملکی سیاست پر بھی نظر دوڑانی شروع کر دی، نظریاتی طور پر نیم حکیمی کے اس دور میں عمران خان نے ہمیں متاثر کرنا شروع کیا، اس کی پرجوش تقریریں، شخصیت اور اس پر اس کی بطور کرکٹر ہیرو کی تاریخ اس کی بہت سی کمیوں پر پردہ ڈال رہی تھی،

خیر یہ وقت جلد ہی گزر گیا کیونکہ ملکی تاریخ، ماضی میں کیے گئے سیاسی بلنڈرز، مارشل لاز اور فوجی آمروں کے ”احسانات“ سے کافی حد تک شناسائی شروع ہو چکی تھی، ۔

2008 کے تقریباً اوائل میں ہی عمران خان نے ان باتوں اور نعروں پر بھی یوٹرن لینا شروع کر دیے جو کسی حد تک اس کی سیاسی اور فکری بلوغت کی ساکھ رکھے ہوئے تھے۔ اب ہم نے اس کی ہر تقریر اور انٹرویو کا جائزہ بطور حکمران اس کی اہلیت اور اس کے دعووں اور وعدوں کی صداقت کے لحاظ سے لینا شروع کیا۔ اپنی ناقص رائے میں اپنے چند ہم خیال دوستوں کے ہمراہ ہم جلد ہی اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ ان تلوں میں تیل نہیں،

وقت کے ساتھ عمران خان کے وعدے اور دعوے بلند و بانگ ہوتے گئے اور ہمارا شک یقین اور یقین یقین محکم میں بدلتا گیا۔ بطور سیاست اور تاریخ کے طالب علم کے، یہ صاف نظر آ رہا تھا کہ ہمیشہ کی طرح ملک کے مقتدر حلقے ایک سیاسی پارٹی کو برباد کرنے پر تل گئے ہیں اور اس نیم مردہ سیاسی نظام میں ظاہری اقتدار کے لئے قرعہ فال عمران خان کے نام نکل چکا ہے، اور عمران خان اقتدار کی ہوس اور وزارت عظمی کے ٹیگ کے شوق میں بتائی گئی ہر بات اور کہے گئے ہر حکم کو بجا لانے کے لئے اتاولے ہو رہے تھے، اقتدار کا کرگس ان کے سر بیٹھنے کو ہے۔

اب یہاں ایک گمبھیر مسئلے نے آن گھیرا، بہت سے بظاہر پڑھے لکھے دوست احباب، لکھاری، اداکار اور دوسرے پروفیشنل شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد وہ سب کچھ دیکھنے سے قاصر تھے جس پر ہمیں شک تھا کہ ہم دیکھ پا رہے ہیں، گرما گرم مباحث معمول بن گئے، اپنے ہی دوستوں سے مختلف خطابات کے ساتھ مزید مطالعہ اور دماغ کھولنے کے مشورے ملنے لگے، عمران خان کے حامیوں میں ایک قدر مشترک ان کا پنجے جھاڑ کر آپ کی سیاسی، فکری اور ذاتی حیثیت پر شدید حملہ تھا، دلائل سے تو شاید ان کا کوئی ازلی بیر معلوم ہوتا تھا، عافیت اسی میں ہوتی تھی کہ خاموشی اختیار کی جائے۔

امریکہ آنا ہوا تو یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا تھا، مقتدر حلقوں کے میڈیا پر شدید پروپیگنڈے کا سونامی زیادہ تر امریکی پاکستانیوں کو بہا لے گیا تھا، لیبر کلاس سے لے کر ڈاکٹرز انجینئرز سب میڈیا کے ایک مخصوص حلقے اور آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنسز کے متاثرین ہی نظر آئے۔

ہمارا تھیسز تو بہت سیدھا تھا کہ عمران خان وزارت عظمی نہیں سنبھال سکتے، ان کے تمام وعدے اور دعوے خالی ڈھول کی مانند ہیں، پاکستان کے مسائل کا ان کے پاس کوئی حل نہیں، وہ ڈیپ اسٹیٹ کی نمائندگی کر رہے ہیں، ملکی خارجی معاملات میں وہ بالکل پیدل ہیں، معیشت سے انہیں واسطہ نہیں، عمران خان کا اقتدار ملک کے لیے ایک ڈیزاسٹر ثابت ہو گا، اپنا کوئی وعدہ پورا کرنا تو دور کی بات یہ نارمل چلتے معاملات کو بھی بگاڑ دیں گے، سیاسی اور بیوروکریٹک مشینری سے ناواقفیت ان حلقوں میں ایک طوائف الملوکی کا سا سماں پیدا کر دے گی، وزارت عظمیٰ کی حیثیت ایک ربڑ سٹیمپ کی ہو کر رہ جائے گی، جب جب یہ ناکام ہوں گے تو یہ سارا ملبا پچھلی حکومتوں پر ڈالنے کی کوشش کریں گے وغیرہ وغیرہ۔

لیکن ان تمام باتوں کے ساتھ جو ہم صدق دل سے امانت سمجھ کر جہاں تک ہماری آواز جاتی تھی ہم پہنچا رہے تھے، وہیں پر اندر ایک تھوڑا سا ڈر بھی تھا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ہی غلط ہیں، اتنے بڑے بڑے لکھاری، پروفیشنلز، صحافی، اساتذہ اور آرمی افسر وغیرہ کہیں ٹھیک ہی نہ کہہ رہے ہوں؟ وہ انگریزی میں کہتے ہیں نا ”چانس آف ایرر“ ۔

لیکن سلام ہے اس مرد مجاہد عمران خان کو جس نے اپنے گزشتہ تین سال سے زائد اقتدار میں ہمیں ہر ہر قدم پر سچا ثابت کیا، ہمیں اپنی سیاسی بصیرت پر اعتماد بڑھا، پاکستان میں بسنے والے بہت سے عمران خان کے حامی دوست ہم سے باقاعدہ معافی مانگ چکے ہیں اور ہماری دوستی پہلے سے بھی مضبوط ہو گئی ہے، (البتہ امریکی پاکستانی چونکہ پاکستانی حکومت کی پالیسیوں کے براہ راست متاثرین میں نہیں آتے اور پاکستانی سیاست زیادہ تر کے لیے (اس میں تمام لوگ شامل نہیں) محفلوں میں وقت گزاری اور منہ کا ذائقہ بدلنے کے علاوہ کچھ نہیں اس لیے یہاں ابھی تھوڑا وقت لگے گا)

عمران خان صادق و امین ہے کہ نہیں، اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا لیکن عمران خان نے وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد ہمیں صادق و امین ثابت کر دیا،


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments