خود کشی کی نفسیات


ایک سوچنے والا ذہن اپنے گرد و پیش سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے ہمارے قریب ایک نوجوان نے خود کشی کر لی تھی۔ اس کے اعزا و اقربا نے اس حقیقت کو مشیت ایزدی سمجھ کر قبول بھی کر لیا تھا۔ لیکن میں آج بھی سوچتا ہوں کہ ایسی کیا وجہ تھی کہ وہ اپنی زندگی ختم کرنے پر تل گیا۔ ہمیں لازمی طور پر اس امر کو مختلف پہلوؤں سے جانچنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسی صورت میں ہم خودکشی کی کی صحیح اور حقیقی تشریحات کر سکتے ہیں اور معاشرے میں اس قبیح فعل کی حوصلہ شکنی کرنے والے اقدامات کو فروغ دے سکتے ہیں۔

ہمارے ہاں گلی محلے میں جب بھی کوئی خودکشی کا شکار ہوتا ہے تو چوکوں میں اس موضوع پر خوب بحث مباحثہ ہوتا ہے۔ ہر کوئی اپنے تئیں اس کی وجوہات پیش کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں اس کے خاندان کی تاریخ سے لے کر اس کے چائے پینے کے انداز تک کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ مجھے اس سلسلہ میں ایملی درخیم یاد آ رہا ہے جو کہ خودکشی کے فعل کو معاشرے کی ساخت اور کلچر کے تناظر میں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ہمارا کتنا بڑا المیہ ہے کہ جب بھی کبھی ہمیں کسی بات کو شماریات کی رو سے بیان کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو ہمیں ہمیشہ مغربی ممالک سے مثالوں کا سہارا لینا پڑتا ہے کیونکہ ہمارے ہاں ادارے بھی اپنی عمر کے اس حصے میں نہیں پہنچے کہ ان کی بات کو قابل اعتماد تصور کیا جا سکے۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اصل اعداد کا بہت کم حصہ اعداد و شمار کی زینت بنتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہمارے ہاں خود کشی کی شرح بہت کم ہے تو اس اعداد و شمار کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں خودکشی کے واقعات منظر عام پر لانے کی بجائے انہیں مختلف سماجی، سیاسی، معاشرتی، اخلاقی اور مذہبی وجوہات کی بناء پر دبایا جاتا ہے۔ یوں ہمارے ہاں کے اعداد و شمار کسی سماجی مظہر کی اصل صورت حال پیش کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

اس حقیقت کے باوجود کہ ہمارے ہاں اعداد و شمار حقیقت سے مختلف ہیں پھر بھی موجودہ اعداد و شمار اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں پچھلی چند دہائیوں میں خودکشی کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور اس کا نشانہ بننے والا سب سے اہم گروہ کی عمر اٹھارہ سے چوبیس سال ہے۔ آج خودکشی موت کا تیسرا بڑا سبب ہے۔ پہلے دو اسباب حادثات اور قتل ہیں۔ ہمارے ہاں خودکشی کی بنیادی وجوہات میں تنہائی، نا امیدی، محبت میں ناکامی، حالات سے بیزاری، اور اسی طرح کی دوسری وجوہات جو انسان کی سماجی زندگی میں ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں۔

لیکن اس سلسلہ میں اٹھنے والا اہم سوال یہ ہے کہ عمر کے لحاظ سے ایک خاص گروہ ہی مسلسل خودکشی کے عمل میں کیوں مبتلا ہے؟ اس صورت حال کو ہم ذاتی خصوصیات مثلاً جھنجھلاہٹ یا دباؤ کے ذریعہ مکمل طور پر واضح نہیں کر سکتے۔ اس سلسلہ میں ہمیں ایک فرد کے رویے کو سماجی قوتوں کے ساتھ تعلق کی بناء پر سمجھنا ہو گا۔ ہمارے لیے آج یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں ہونے والی خودکشیوں کو ذاتی ذہنی حالت کا شاخسانہ گرداننے کی بجائے ان سماجی، تاریخی اور معاشرتی پہلوؤں کا تجزیہ کریں جو کہ اس کا بنیادی سبب بن سکتے ہیں اور انہی کی بنیاد پر ان واقعات کی تشریح کریں۔

ایملی درخیم اس سلسلہ میں بیان کرتا ہے کہ لوگوں کو باندھنے والے سماجی بندھن جب ایک حد سے زیادہ کمزور یا طاقت ور ہو جائیں تو لوگوں کے اندر ان حالات سے نجات حاصل کرنے کا خودکشی ہی ایک ذریعہ باقی بچتا ہے۔ دراصل خودکشی ان عوامل کو دکھا رہی ہوتی ہے جو کہ ایک معاشرے میں پائے جانے والے بنیادی بندھنوں اور رشتوں کی ساخت اور شناخت کو بدل رہے ہوتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں جہاں ایک طرف جدیدیت کا دور دورہ اور ببانگ دہل چرچا ہے تو دوسری طرف روایت پسندی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

اس کشمکش میں ایک عام پاکستانی پسا چلا جا رہا ہے۔ ایک عام انسان ہر دو صورتوں میں اپنے آپ کو ناکام پاتا ہے۔ ایک طرف جب جدیدیت کے ساتھ رابطہ جوڑتا ہے تو مذہب اور روایتی اقدار سے خود کو بے گانہ محسوس کرتے ہوئے خود ستانی کے جذبات کا قیدی ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف ایک انسان جب روایت سے مکمل جڑا رہتا ہے تو سماجی اور معاشرتی روایات اس کو پسماندہ ہونے کا طعنہ دیتے ہیں اور انسان خود کو معاشرے سے کٹا ہوا پاتا ہے۔

یوں تنہائی اور احساس محرومی اس کے لیے ذہنی پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ درخیم خود کشی کو ایک سماجی عمل تصور کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ دو سماجی قوتیں یعنی سماجی میل جول اور اخلاقی ضابطہ کے درمیان تعلق کے بگاڑ کے ذریعہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔ درخیم کہتا ہے کہ خودکشی کی بنیادی طور پر چار اقسام ہیں۔ خودپسندی، بے ضابطگی، بے غرضی، اور قسمت۔

درخیم خودپسندی کو خودکشی کی اہم وجہ سمجھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جن معاشروں میں روایتی اور جدیدی بندھنوں میں کشمکش پائی جاتی ہے ان معاشروں میں انسان اپنے جذباتی تعلق کی بجائے اپنے کام اور ضروریات کی وجہ سے دوسروں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں ایک انسان کے لیے جذباتی، تنہائی، اداسی، اور بے معنویت کے احساسات ایک عام چیز ہیں۔ جب کہ ان کے برعکس روایتی معاشروں میں ایک دوسرے سے میل جول محبت کی وجوہات کی بناء پر ہوتا ہے۔ اسی طرح مذہب سے بیزار لوگوں میں خودکشی کے زیادہ رجحانات پائے جاتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مذہب انسان کے لیے اطمینان کا وسیلہ میسر کرتا ہے۔

بے ضابطگی کی خودکشی سے مراد ہے کہ معاشرے کے اندر عوامل کی یک دم تبدیلی انسان کو جذباتی طور پر غیر متوازن کر دیتی ہے یعنی اگر معاشی بدحالی اگر ایک طرف لوگوں کی خودکشیوں کا سبب بنتی ہے تو دوسری طرف معاشی خوش حالی بھی کسی کی جان لے سکتی ہے۔ ایک طرف ایک سٹاک بروکر کے لیے سٹاک مارکیٹ کا کریش ہونا خودکشی کا باعث ہو سکتا ہے تو دوسری طرف کسی کا لاٹری کا انعام نکلنا بھی اس کی جان لے سکتا ہے۔

قسمتی خودکشی کو ایک طرح سے بے ضابطگی کی خودکشی کے برعکس کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔ اس صورت حال میں ایک شخص قاعدے اور قانون کا اتنا زیادہ اسیر ہو جاتا ہے کہ اس کے لیے زندگی کی ساری رونقیں ختم ہو جاتی ہیں ایسا شخص محسوس کرتا ہے کہ اس کے لیے خودکشی کی نجات کا ایک ذریعہ ہے۔

بے غرض خودکشی کے بارے میں درخیم بتاتا ہے کہ جب ایک خاص گروہ کے اندر سماجی و جذباتی روابط اتنے مضبوط ہو جائیں کہ اس گروہ میں اشخاص کی ذاتی شخصیت مٹ جائے تو ایسی صورت میں افراد کے لیے اپنی ذاتی زندگی سے زیادہ اجتماعی زندگی اور وقار زیادہ اہمیت حاصل کر لیتا ہے۔ ایسی صورت میں ایک انسان کے لیے کسی بڑے مقصد کے لیے اپنی جان گنوا دینا کوئی معانی نہیں رکھتا۔ اس صورت حال کو بعض لوگ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔

مثال کے طور پر دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر  نے جرمنوں میں ایک مضبوط گروہی شناخت پیدا کی جس کے نتیجہ میں ہزاروں افراد  نے صرف اپنی گروہی شناخت کو بچانے کے لیے اپنی ذاتی زندگیاں داؤ پر لگا دیں۔ بے غرض خودکشی کو آج انتہا پسند خودکش حملہ آوروں کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے جو کہ اپنی زندگی کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو ایک خاص نظریہ کے تحت قربان کر دیتے ہیں۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے یا اس کے معاشرے اور دنیا پر کیا اثرات ہوتے ہیں اور با اثر لوگ اس کو کس طرح اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ارباب اقتدار کے ساتھ ساتھ، ہم جیسے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ خود کو اور اپنے ارد گرد موجود لوگوں میں سے کسی کو کسی خاص نظریے کا اس انتہا تک اسیر نہ ہونے دیں کہ وہ دوسروں کی جان کے درپے ہو جائے۔

جہاں پر ایک طرف خودکشی کے ذاتی اور نفسیاتی پہلو ہیں اس کے ساتھ ساتھ خودکشی ایک سماجی اور معاشرتی تبدیلیوں کے محرک کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ پاکستان جس اہم موڑ پر اس وقت کھڑا ہے اس موقعہ پر اس کے اہل دانش کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو نفسیاتی اور اخلاقی شعور کے ساتھ ساتھ سماجی عوامل کا شعور بھی عطا کریں تا کہ خودکشی کے ان عناصر سے بچاؤ کا مناسب سدباب ہو سکے۔

Facebook Comments HS