ہم کرپشن کے سوال پر آئیڈیلزم کا شکار ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ میں 2021 میں اب تک 638 فائرنگ کے واقعات ہو چکے ہیں جس میں 34 فائرنگ کے واقعات اسکولوں میں ہوئے ہیں۔ امریکی اپنے بچوں اور جانوروں کے معاملے میں بہت حساس واقع ہوئے ہیں اور ہر طرح سے ان کا خیال رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ اب تک خود کار ہتھیاروں پر پابندی نہیں لگا سکے جو ان کے بچوں کا قتل عام کر رہی ہے؟ وجہ اعلی درجے پر کرپشن ہے۔

نیشنل رائفل ایسوسی ایشن اربوں روپے ان سینیٹرز پر خرچ کرتی ہے تاکہ وہ خود کار ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کا قانون پاس نہ کریں۔ یہ ایسوسی ایشن ان سینیٹرز کی الیکشن مہم پر پیسہ خرچ کرتی ہے، اشتہارات چلاتی ہے اور رشوت کی شکل میں نقد پیسہ بھی اس میں شامل ہے۔

اسی طرح بڑی دوائیاں بنانے والی کمپنیاں، لاس اینجلس پولیس ڈپارٹمنٹ، نیو یارک پولیس ڈپارٹمنٹ اور دیگر کئی ادارے کرپشن کی انتہا کو چھوتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن پھر بھی یہاں ایک عام آدمی تعلیم، صحت اور روزگار کے کسی مسئلے کا شکار نہیں ہے۔

بجلی، پانی، سڑکیں، اسکول اور اسپتال سمیت سب ترقیاتی کام ہوتے ہیں اور بہت عمدہ معیار پر بنائے جاتے ہیں۔ کرپشن یہاں بھی یقیناً تھوڑی بہت ہوتی ہو گی۔

اب ہم ملیشیا کی طرف چلتے ہیں۔ مہاتیر محمد نے کل ملا کر 24 سال ملیشیا پر حکومت کی اور انتہائی سمجھداری سے ملکی معیشت اور معاملات چلائے اور ملیشیا کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ مہاتیر محمد کا بیٹا ملیشیا کی ارب پتی شخصیات میں شامل ہے۔

مہاتیر کا بیٹا موخزانی مہاتیر ابتدا میں ایک معمولی سا پیٹرولیم انجینئر تھا اور ایک کمپنی میں ملازمت کرتا تھا۔ پھر ایک دن موخزانی مہاتیر  نے اپنی آئل کی کمپنی کھول لی۔ اعلی شخصیات سے رابطے اور باپ کے اثر و رسوخ کی بدولت اس کی کمپنی کو آرڈر ملتے گئے اور دیگر کئی کمپنیوں سے معاہدے ہوتے چلے گئے۔ آج موخزانی مہاتیر ارب پتی ہے لیکن ملک ترقی کرتا گیا۔ مہاتیر محمد پر بھی کرپشن کا الزام لگتا رہا ہے لیکن مجموعی طور پر مہاتیر کی خدمات ملایشیا کے لئے تاریخ میں زندہ رہیں گی۔

ان تمام باتوں، مثالوں اور سیاق و سباق کا مقصد آپ کو یہ سمجھانا تھا کہ ہم کیوں مثالیت ( آئیڈیلزم) کا شکار ہیں؟ چین میں کرپشن پر سزائے موت تک دی جاتی ہے لیکن پھر بھی وہاں بہت کرپشن ہے۔ میں کرپشن کے حق میں دلائل نہیں دے رہا بلکہ یہ بات سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اگر ترقیاتی منصوبے، اسکول، اسپتال، سڑکیں، موٹر وے، بجلی اور گیس کے منصوبے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے والی چیزیں اگر کرپشن کے خوف سے منجمد ہو جائیں تو وہاں کا وہی حال ہوتا ہے جو عمران حکومت نے پاکستان کا کیا ہے۔

دور عمرانی میں غالب والی ”کوئی امید بر نہیں آتی، کوئی صورت نظر نہیں آتی“ نازک صورتحال ہے۔ ہم یہ بھی گورا کر لیتے اگر عمرانی دور میں کرپشن کم ہو جاتی لیکن ”آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک“ ۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی موسٹ کرپٹ ملکوں کی فہرست میں 2018 میں پاکستان کا نمبر 180 ملکوں کی فہرست میں 118 تھا اور اب صادق اور امین حکمراں کے دور میں 124۔ یعنی عمرانی دور میں کرپشن اور بڑھی ہے۔

کنٹینر پر کھڑے ہو کر صرف اپنے ذاتی مفاد اور کرسی کی خواہش میں ملک کے مفاد کو پس پشت ڈال کر معصوم عوام کو گمراہ کیا گیا۔ ملک رک گیا ہے، معیشت پر نزع کا عالم طاری ہے، سی پیک پر کام بہت سست روی کا شکار ہے، شبر زیدی نوید دے چکے کہ پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے، زمبابوے والی صورتحال ہوا چاہتی ہے کہ جہاں مہنگائی کی وجہ سے لوگ کافی کافی پینے کے روپے سے بھری ہوئی گڈیاں دیتے تھے۔

بجلی معافی، پانی معافی، گیس معافی۔ لوگ چائے کی کیتلی میں پانی گرم کر کے چلو بھر پانی میں نہا کر کام پر نکل رہے ہیں اگر ملازمت بچی ہے تو۔

منی بجٹ آیا چاہتا ہے، اس کے بعد جو ہو گا، وہ میں یہاں لکھ کر آپ کی نیند دشوار نہیں کرنا چاہتا بس فیض کا یہ شعر لکھے دیتا ہوں،

ہاں تلخی ایام ابھی اور بڑھے گی
ہاں اہل ستم مشق ستم کرتے رہیں گے!


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments