واٹس ایپ گروپس کے ممبران کی درجہ بندی


ٹیکنالوجی نے کئی رنگ دیے ہیں، چوپال کا متبادل واٹس ایپ گروپس کی شکل میں آیا ہے جہاں مختلف لوگ ارشادات، فرمودات اور خرافات پیش کرتے ہیں۔

خرافات کو پیش کرنے پر کس کو اعتراض ہو سکتا ہے مگر جس محبت سے پیش کرتے ہیں، وہ کوئی ایسی خوشی کی بات بھی تو نہیں۔ شاعر نے کہا تھا کہ ”اے محبت تیرے انجام پر رونا آیا“ مگر یہاں تو کئی دفعہ آغاز پر ہی رونا آ جاتا ہے۔ ایسے ایسے ارشادات اور تحقیقات سننے کو ملتی ہیں کہ

ان کی عقل کو رووں کہ پیٹوں انہی کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

ان گروپس میں طلاق یافتہ کامیاب شادی کے گر بتا رہے ہوتے ہیں، ڈپریشن کے مریض خوش رہنے کے طریقے بتاتے ہیں، جن کی اپنی صحت برگ لرزیدہ ہے وہ حکمت کے ایسے نسخے بیان کر رہے ہوتے ہیں جن کی حکیم لقمان کو بھی خبر نہ ہوگی۔ کووڈ کی ویکسین سے انسان میں چپ لگانے کی خبر کا پتہ یہیں سے لگا ہے، مانیے جب سے یہ افلاطونی خبر سنی ہے ہمیں چپ ہی لگ گئی ہے۔ بل گیٹس کی طلاق کی حکیمی وجوہات سے لے کر وینا ملک کی اسلامی و غیر اسلامی خدمات پورے ثبوتوں کے ساتھ یہاں پیش کی جاتی ہیں۔ بھرپور زندگی گزارنے کے یونانی طریقوں سے بخشش کے شارٹ کٹ طریقے سب ان گروپوں میں مفت دستیاب ہیں، اور اکثر ان کا معیار بھی مفت ملنے والی چیزوں کے معیار کا ہے۔

ہمارے ایک دوست واٹس ایپ گروپوں میں خوب سرگرمی دکھاتے ہیں سو اس کارکردگی کے بنیاد پر سرگرم واٹس ایپی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ایکٹروں کے معاشقے اور لچھے دار خبریں جن میں میٹھا زیادہ ہوتا ہے بڑے شوق سے شیئر کرتے ہیں۔ ان کی لاغر صحت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ میٹھے کی زیادتی کے کیا اثرات ہیں۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ ایک مقام پر نہیں ٹھہرتے، کوئے یار سے سوئے دار سب ان کی واٹس ایپ کی پیغامات کی مار میں ہے۔ نفسانی خواہشات کو ابھارنے والی ویڈیوز شیئر کرنے کے بعد آخرت کی یاد دلانے کی پوسٹیں شیئر کرتے ہیں۔

یہ ترتیب بعض اوقات تبدیل کر کے آخرت سے ڈرانے کے بعد رغبتی جانب رخ موڑ لیتے ہیں، غرض ادھر ڈوبے تو ادھر نکلے اور ادھر ڈوبے تو ادھر نکلے۔ ہم نے اس تضاد کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے ہمارے لحاظ سے دنیا میں رہ کر آخرت کو یاد کرنا ہے۔ تم نے ڈیجیٹل دور کے مفتی اور شاہ نہیں دیکھے، ایک نے اپنے نام کو قوت باہ کے مترادف سمجھا ہے جبکہ دوسری نے حرام شاہ بن کر بڑا نام کمایا ہے۔ ان لوگوں نے میر کے شعر کو بدل دیا ہے۔ ہمیں سمجھانے کے لیے مزید فرمایا، میر نے کہا تھا کہ

سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

میر صاحب شاعر ہوں گے مگر اب ڈیجیٹل شاطر پائے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی خواب گاہ کے سرہانے پر آہستہ بولنے اور ٹک سونے کی بجائے قبل خوابیدگی حرکات و سکنات ٹک ٹاک پر جاری کر کے میر سے کہیں کر بڑھ کر فالورز حاصل کیے ہیں۔ خیال ہے کہ میر اپنی قبر میں اسی بنا پر روتے روتے سو گئے ہوں گے۔ اس واہ یعنی فالورز کی دوڑ میں یہ رنگ باز کسی مقام و مینار پر پہنچ سکتے ہیں اور وہاں سے کسی سطح پر بھی گر سکتے ہیں۔

سرگرم واٹس ایپی کے مطابق واٹس ایپ گروپس کے ممبر بننے کی بڑی افادیت شاید یہی ہے کہ بے رنگ لوگوں کے وہ رنگ نظر آنے لگ جاتے ہیں جو آپ نے کبھی سوچے بھی نہ ہوں گے ۔ ان کی مدد سے ہم نے واٹس ایپ ممبران کی درج ذیل درجہ بندی کی ہے۔

ڈاکیے و کھیپیے

ڈاکیے کا کام جو ملے آگے پہنچانا ہے۔ منی آرڈر جب پہنچایا جاتا تھا تو کچھ انعام بھی پایا جاتا تھا۔ واٹس ایپ گروپس کے ڈاکیے جو انہیں کہیں سے آتا ہے سب کو آگے پہنچانا باعث انعام و ثواب سمجھتے ہیں۔ کیسا بھی بے سروپا پیغام ہو وہ کسی جانچ کے بغیر آگے بھیج دیں گے۔ علامہ اقبال کے وہ اشعار شیئر کریں گے جو کسی طور شعر ہی نہیں۔ سردیوں میں ٹھنڈے پانی سے نہانے کے ایسے فوائد بتائیں گے جو شاید مردے کے ہی کام آئیں۔

غرض عقل کے استعمال کو خرچ سمجھتے ہیں کہ استعمال سے عقل کے کم ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ اگر ان کی پوسٹ کے بالکل غلط ہونے کا بتائیں تو پہلے تو مانتے نہیں، اگر ثبوت دیں تو کہتے ہیں ہم نے فارورڈ ایز ریسیو کیا ہے اور ہم نے پڑھ رکھا ہے کہ فارورڈ تھنکنگ میں ہی انسانی ترقی ہے۔ اب کوئی ایسے ترقی پسند فارورڈ تھنکرز کا کیا کر سکتا ہے۔ ان کے علاوہ مسلمانوں کو مسلمان کر کے جنت کمانے کے شوقین بھی آپ کو ان گروپس میں ملیں گے۔ کئی دفعہ ایسے پیغامات شیئر کرتے ہیں جن کے شروع میں لکھا ہوتا ہے کہ جب آپ یہ پیغام آگے بھیجنے لگیں گے تو شیطان آپ کو روکے گا۔ ہمیں تو یوں لگتا ہے انہیں روکنے میں نہیں بلکہ بھیجنے میں شیطان کا کردار ہے۔

ایک وقت تھا کہ لاہور سے امرتسر کے لیے ایک سمجھوتہ ٹرین چلتی تھی، اس ٹرین پر کچھ یار لوگوں نے ادھر کا مال ادھر اور ادھر کا مال ادھر لانے کا کاروبار شروع کر دیا، لوگ انہیں کھیپیے کہتے تھے۔ بقول سرگرم واٹس ایپی آپ اس کیٹیگری کو کھیپیے بھی کہہ سکتے ہیں۔

نیوز کاسٹر

انہیں سب سے پہلے خبر بریک کرنے کا شوق ہوتا ہے اور آپ کو پتہ ہے کہ شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا۔ ایک صاحب ہیں کہ ان کو وفات کی خبر بریک کرنے کا بڑا شوق ہے۔ کسی کی سن گن مل جائے کہ بیمار ہے تو مسلسل اس تاک میں رہتے کہ کب خبر بریک کرسکیں۔ اگر بیمار صحتیاب ہو جائے تو ان کا دل بریک ہو جاتا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ایک پیر کے پاس گئے تھے کہ کسی طرح موت کے فرشتے سے رابطہ استوار کروا دیں کہ سب سے پہلے خبر بریک کرنے میں آسانی ہو جائے۔

پانچویں محلے بھی کسی کی وفات کی اڑتی اڑتی خبر پاتے ہیں تو فوراً واٹس ایپ گروپس میں بھیج دیتے ہیں۔ ایسے میں اکثر نام اور رشتہ غلط بتا دیتے ہیں۔ پتہ لگتا ہے کہ مرنے والا خورشید مرد نہ تھا بلکہ خاتون تھیں۔ جس کا باپ بتایا تھا اس سے ان خاتون کو کوئی ظاہراً تعلق نہ رہا تھا۔ لوگ ان کی ان پوسٹ کا اتنا عادی ہو گئے کہ ان کی پوسٹ پڑھے بغیر ”انا للہ و انا الیہ راجعون“ کی تصویر اپنے موبائل فون کی میمری سے نکال کر بھیج دیتے۔ ایک دفعہ خلاف معمول انہوں نے قمری ماہ کے چاند نظر آنے کی خبر بریک کی، خدا جھوٹ نہ بلوائے کئی اصحاب نے اس پر انا للہ وانا الیہ راجعون کا پیغام بھیج دیا۔

قوال و ہم نوا

سنا ہے کہ جیسے کسی زمانے میں سیاسی جلسے جلوسوں میں نعرے لگانے کے لیے لوگ کرائے پر مل جاتے تھے، اس طرح اب واٹس ایپ گروپوں میں یہ ہم نوا کرائے پر دستیاب ہوتے ہیں۔ اپنے سیاسی لیڈر کی تعریفی ویڈیوز اور بیانات کی بھرمار کرتے ہیں اور اختلاف پر اخلاق کو لات مارنے میں دیر نہ لگائیں گے۔ خود کو سب کا خدمت گار بیان کریں گے اور نعرہ لگائیں گے کہ سب دا سجن سب دا بیلی مگر ٹلی ہمیشہ اپنے مفاد سے وابستہ کھڑکھڑا رہے ہوں گے ۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنا مفاد دیکھ کر خود ہی بغیر کرائے کے رضا کارانہ فری دستیاب ہیں۔ ہمارے ایک اور دوست کے بقول جو چیز فری ہے وہ گری ہوگی۔ یہ ہمنوا عیار طبع خریدار دیکھ کر اپنی تمام متاع کے ساتھ بک جاتے ہیں۔ ہمیں ان کے بکنے پر کوئی اعتراض نہیں مگر بکنے پر ضرور اعتراض ہے۔

قوال کی تان جیسی بھی ہوا، ہم نوا نے تالی مارنی ہے۔ یہ تالی عام تالی سے فرق ہے، عام تالی جو کہ مسرت کا اظہار کرتی ہے، اس میں ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر لگتی ہیں۔ ہم نواؤں کی دونوں انگلیاں کھلی ہوتی ہیں اور ہتھیلیاں آپس میں ٹکراتی ہیں کہ ان کا مقصد آواز بلند پیدا کرنا ہوتا ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ جو نیت امام کی وہی میری، اگر امام اچھا ہو تو ٹھیک مگر کئی ہم نواؤں کے امام ایسے ہیں کہ رکعتوں کی تعداد گڈ مڈ کر دیتے ہیں، جہاں کھڑے ہونا ہوتا ہے وہاں بیٹھ جاتے ہیں۔ وقت بے وقت تکبیر کہہ دیتے ہیں کہ ان کے نزدیک تکبیر کہنے سے سب کچھ حلال ہو جاتا ہے۔

کچھ سال قبل ایک فصلی امام سے عید کی نماز پر واسطہ پڑ گیا تھا۔ عید کی نماز پڑھائی تو تکبیریں غلط سلط کر دیں۔ نمازیوں نے نماز کے بعد اعتراض کیا تو نمازیوں کو کہنے لگے، آپ بادشاہ لوگ ہیں، کوئی بات نہیں، بندہ بشر ہوں غلطی ہو جاتی ہے ویسے بھی ہمارے جد امجد حضرت آدم سے بھی تو غلطی ہو گئی تھی۔ دوبارہ نماز پڑھائی تو وہ بھی غلط پڑھا دی۔ اس پر بادشاہ لوگ سلام سے قبل ہی ان سے بغلگیر ہو گئے اور جد امجد کی غلطی کو ان کی غلطی سے ملا کر دونوں غلطیوں کا ان سے خوب بدلہ لیا۔ بخدا واٹس ایپ گروپ والے اگر ایک جگہ کسی طرح اکٹھے ہو جائیں تو اکثر ایسی خاطر تواضع کی خبریں ملتی رہیں۔

اصیل مرغ

یہ اپنے خیالات کو ہی درست اور توپ سمجھتے ہیں، سو ہر دم دوسروں پر تھوپ نے کی کوشش کرتے ہیں۔ عموماً سیاست کو مذہب جانتے ہیں اور مذہب کو سیاست سمجھتے ہیں۔ اپنے خیالات کی برتری کے اتنے قائل ہوتے ہیں کہ کسی کو گھائل کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔ اصیل مرغ چونچوں اور پنجوں سے حملہ آور ہوتے ہیں، اگر مخالف ڈٹا رہے یا زیادہ مخالف اکٹھے ہو جائیں تو پھر میدان یعنی واٹس ایپ گروپ چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔

بحث کے بہت شوقین ہوتے ہیں۔ ہمارے ایک کرم فرما بحث کے اتنے شوقین ہیں کہ آپ کسی موضوع پر ان کی رائے پوچھیں تو کبھی نہ بتائیں گے۔ ایک دفعہ ہمارے اصرار پر الٹا ہم سے ہی پوچھنے لگے کہ آپ کی اس پر کیا رائے ہے؟ ہم نے کہا یہی تو آپ سے ہم پوچھ رہے ہیں کہ آپ کی کیا رائے ہے، اس کا جواب دینے کی بجائے آپ نے ہم پر سوال داغ دیا ہے۔ کہنے آپ کے سوال کے جواب کے لیے ہی پوچھ رہا ہوں۔ آپ کا جو بھی خیال ہے، میرا اس سے مخالف خیال ہے۔ آئیے، اب بحث شروع کرتے ہیں۔

دکان دار

واٹس ایپ آج کل کاروبار کا ایک زبردست ذریعہ بن گیا ہے، سو گروپس میں حکیم، دکاندار، مرغ فروش سب اپنا مال بیچتے ہیں۔ علاج بالغذا، کلونجی کے کمالات، سلاجیت کی کرامات، رشتے کرانے والی خالہ، امتحانات میں گارنٹی شدہ کامیابی، سب آج کل واٹس ایپ گروپس میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے پیغامات کا آغاز اپنے اندر بڑی ترغیب رکھتا ہے جیسے نو سو نوے سالہ تجربہ کار حکیم کا پیغام ”پڑھنا ضرور اپنی نسلیں سنوارنے کے لیے“ ، اب یہ نسلیں بگاڑنے میں بھی انہی کا ہاتھ تھا۔ ان حکیموں کے کشتوں نے کچھ کی پشتیں لگوا دیں اور باقیوں کے کشتوں کے پشتے لگوا دیے۔ یہ نو سو نوے سال کے تجربے کی ہمیں سمجھ نہ آئی تو کہنے لگے کہ ہم سورج کی طرح ہیں، لوگوں کو فیض آب کرتے ہیں سو نوری سال کی اکائیاں ہم میں شامل ہیں۔

محکمہ خفیہ

واٹس ایپ گروپس میں ایک تعداد محکمہ خفیہ کی ہوتی ہے۔ یہ محلے کی خالہ کی طرح سب سن گن رکھتے ہیں۔ چپ چاپ سنتے ہیں، بولتے اور جواب نہیں دیتے مگر ان کی نظر خوب ہوتی ہے۔ کبھی آپ ان سے بات کریں تو علم ہو گا کہ گروپس میں خوب وقت صرف کرتے ہیں کہ تمام افواہوں اور افسانوں سے بھرپور آگاہی رکھتے ہوں گے ، بولتے نہیں مگر آنکھیں اور کان خوب کھلے رکھتے ہیں۔

نوٹ

گو یہ درجہ بندی اپنی طور پر مکمل و حتمی نہیں مگر استاد لوگ امتحانی پرچوں میں استعمال کر سکتے ہیں۔ مزید درجے بھی بنائے جا سکتے ہیں کہ وقت کے ساتھ نئی جہتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔

Facebook Comments HS

عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینئرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینئرنگ میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے شعبہ کمپیوٹر سائنس میں پڑھاتے ہیں۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور فلاحی کاموں میں دلچسپی ہے۔ آس پاس بکھری کہانیوں کو تحیر کی آنکھ سے دیکھتے اور پھر لکھتےہیں، اس بنا پر کہانیوں کی ایک کتاب "اوراقِ منتشر" کے نام سے شائع کی ہے۔ اپنے چھوٹے بھائی لیفٹیننٹ ضرار شہید کے نام پر قائم ضرار شہید ہسپتال، برکی روڈ لاہور کے ذریعے سے فلاحی کاموں سے وابستہ ہیں۔

atif-mansoor has 82 posts and counting.See all posts by atif-mansoor