طاقت کا بدلتا ہوا توازن

خدا کی زمین واقعی ان پر تنگ کر دی گئی تھی۔ کینسر کی مریضہ بیوی لندن کے ایک ہسپتال میں تڑپ رہی تھی۔
باپ توہین آمیز انداز میں اپنے ساتھ اپنی بیٹی کو بھی گرفتار ہوتے دیکھ رہا تھا۔
اڈیالہ جیل میں تین بار کے منتخب وزیراعظم نواز شریف شدید پریشانی اور بے بسی کے ساتھ جیل سپرنٹنڈنٹ کو درخواست کر رہا تھا کہ میری اہلیہ کلثوم نواز کی سانسوں کی ڈور کٹنے والی ہے براہ کرم مجھے فون پر آخری بات کرنے دی جائے۔
جیل سپرنٹنڈنٹ کی آنکھیں بھر آتی ہیں اور وہ کچھ کہے بغیر اپنے کمرے کی طرف جا کر فون ملا لیتا ہے اور ایک فون کال کی اجازت کے لئے التجا کرتا ہے لیکن دوسری طرف سے ایک کرخت آواز اسے ڈانٹ کر اپنے کام سے کام رکھنے کا حکم دیتا ہے۔
انہی دنوں ایک سہ پہر کو کلثوم نواز کی موت کی خبر موصول ہوتی ہے تو آدھا خاندان جلا وطن ہے اور آدھا خاندان جیلوں میں پڑا ہے کیونکہ وہ ”چور اور ڈاکو“ ہیں
یہ غالباً انسانی تاریخ کی وہ پہلی موت ہے جس کا ”سرکاری سرپرستی“ میں بے ضمیر اینکروں اور بے دماغ کھوپڑیوں کے ذریعے با قاعدہ طور پر طنز و تحقیر گالم گلوچ اور الزام و دشنام کے ساتھ ”جشن“ منایا گیا۔
یہ بھی انہی ستم کیش موسموں کے آس پاس کی بات ہے کہ عمران خان اشارہ پا کر چند سو لڑکوں لڑکیوں کے ساتھ اسلام آباد کے ڈی چوک میں ایک ہڑبونگ مچانے لگتا ہے طاہر القادری قبریں کھودنے کا حکم دیتا ہے وزیراعظم ہاؤس اور پی ٹی وی پر حملے ہوتے ہیں پولیس کے افسروں اور سپاہیوں پر ایک غول لاٹھیاں برسانے لگتا ہے
شیخ رشید جلاؤ اور آگ لگا دو کا بیانیہ جاری کرتا ہے خادم رضوی فیض آباد بند کر دیتا ہے عامر لیاقت حسن نثار اور گیلا تیتر جیسے لوگوں کو اینکروں اور صحافیوں کا روپ دے کر سکرینوں پر بد ترین بہتان طرازی الزامات اور گالم گلوچ کے لئے بٹھا دیا جاتا ہے منتخب وزیراعظم پر ایک شخص جوتا پھینک کر ”جہاد“ کرتا ہے خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی جاتی ہے احسن اقبال کو کافر کہہ کر گولی مار دی جاتی ہے شاہد خاقان عباسی اور سعد رفیق کو کرپٹ کہہ کر جیلوں میں ڈالا جاتا ہے اور رانا ثناء اللہ کو ہیروئن کا سمگلر بنا دیا جاتا ہے
بات صرف سیاسی ساتھیوں تک نہیں رہتی بلکہ جو حق گو صحافی اور لکھاری ہوتے ہیں ان میں سے کسی کا روزگار چھینا جاتا ہے کسی کو گولی ماری جاتی ہے کسی کو اٹھا لیا جاتا ہے کسی کے بچے پر گاڑی چڑھا دی جاتی ہے اور کسی کو کسی سول افسر کے ذریعے حملے سے ”خبردار“ کر دیا جاتا ہے۔
ریجیکٹڈ اور ڈان لیکس کے ساتھ بدنام زمانہ ثاقب نثار بھی میدان میں اتارے جاتے ہیں جن کے عدالتی فیصلے بعد میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی جج رانا شمیم اور جج ارشد ملک کی گواہیاں اگل دیتا ہے۔
یہی وہ تراشا ہوا بد ترین منظر نامہ تھا جس سے ہائبرڈ ریجیم کا وہ اژدھا برآمد ہوا جس نے اس ملک کی تہذیب سے روایت اور جمہوریت سے معیشت تک سب کچھ ہڑپ کر لیا۔
لیکن اب کے بار ارتقائی عمل اور بدلتے ہوئے منظر نامے نے عام لوگوں کو روایتی پروپیگنڈے کے ذریعے ذہن سازی کی بجائے پس منظر سے شناسائی اور حقائق کے ادراک کی طرف موڑ دیا اور یہی وہ عوامل تھے جس نے آئین و قانون کی بالادستی اور سول سپر میسی کے بیانیے کو مبالغہ آمیز طاقت فراہم کر دی جو نواز شریف کے ڈٹنے کی بنیاد بنا۔
پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ خود کو جتنا طاقتور سمجھ رہی تھی اتنی طاقتور وہ اب رہی نہیں لیکن اس سے بھی بڑی حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے حریفوں کو جتنا کمزور سمجھتے رہے اتنے کمزور وہ رہے بھی نہیں۔
اور اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ بیانیے اور پارٹی کو ایک لمحے کے لئے بھی فکری یا عددی فقدان کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ مقبولیت کی جانب گامزن دکھائی دیے۔
گویا طاقت کے توازن نے نہ صرف نواز شریف کی اہمیت (بلکہ اس کے سیاسی رفقاء کی اہمیت کو بھی) بڑھایا بلکہ نئے سیاسی منظر نامے اور ڈیولپمنٹ کی بنیاد بھی یہی عنصر یعنی ”طاقت کا توازن“ بنا جس نے فوری طور پر خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو ”آر ٹی ایس سسٹم“ اور ”ڈسکہ دھند“ جیسی قباحتوں سے اب کے بار محفوظ رکھا۔
گو کہ ان غیر متوقع انتخابی نتائج کو بارڈر پار کے معاملات سے جوڑنے کی کوشش بھی کی گئی لیکن در اصل یہ اپنے خلاف سامنے آنے والے عوامی ردعمل سے توجہ ہٹانے کے لئے منصوبے کے تحت ایک شو شہ چھوڑا گیا جسے سنجیدہ فکر طبقات نے کوئی اہمیت دینا بھی گوارا نہیں کیا۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ گزشتہ مہ و سال میں جمہوری قوتوں خصوصاً نواز شریف اور اس کے خاندان اور سیاسی رفقاء نے ناقابل بیان صعوبتوں اور مشکلات کا سامنا کیا لیکن ماننا پڑے گا کہ انہی حالات سے سول سپر میسی کی دیو ہیکل سیاسی طاقت بھی برآمد ہوئی جو خالی خولی نعروں اور جذباتی آئیڈیل ازم کی بجائے شعور اور حقائق کے ادراک سے لیس عوامی قوت بنا۔
یہی منظر نامہ ہی ہے جس نے ریاست کے اندر طاقت کے روایتی پلڑے کو نہ صرف بہت حد تک ہلکا کر لیا بلکہ دوسرے پلڑے کو طاقت اور اہمیت بھی فراہم کرنا شروع کیا۔ جس سے روایتی طور پر آمرانہ قوتوں کے مددگار منطقے بھی جمود سے نکلنے لگے۔
مثلا اگر اعلی عدلیہ میں ثاقب نثار جیسے لوگ بیٹھے نظر آئے تو وہاں جسٹس فائز عیسی بھی دلیر منصفی کا علم لہراتا دکھائی دیا۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ”فتوحات“ اور وہاں حسن نثار اور ارشاد بھٹی جیسے قبیلے کی آمد اور طوفان تہمت طرازی کے ذریعے ایک بازار گرم ہوا تو دوسری طرف سوشل میڈیا اور یو ٹیوب چینلز پر موجود حق گو اور بہادر لکھاریوں اور یوٹیوبرز نے فرسودہ بیانیے اور اس کے علم برداروں کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔
یہی کام (لیکن ایک اور قرینے سے) وکلاء ڈاکٹر اور طالبعلم تنظیموں نے بھی آگے بڑھانا شروع کیا جس نے رائے عامہ کو مثبت حوالے سے حد درجہ متاثر بھی کیا۔
گویا آمرانہ قوتوں کے مقبوضہ منطقے اب یا تو مکمل طور پر مقبوضہ رہے نہیں یا جمہوری قوتوں کو متبادل مورچے ہاتھ آئے جس کا وہ بروقت اور بھرپور فائدہ بھی اٹھانے لگے
جس نے طاقت کو توازن کی جانب دھکیلا۔
اب اگر ہم ایک غیر جذباتی انداز سے موجودہ منظر نامے خصوصاً مسلم لیگ کے ساتھ ریاستی رویے کا بغور جائزہ لیں تو اس میں پہلے کی نسبت ایک واضح تبدیلی کا عنصر نمایاں ہے یعنی ریاستی جبر بہت حد تک مفقود ہو چلا بلکہ تازہ ترین خبریں تو اسٹیبلشمنٹ اور بیانیے کے علمبردار جماعت مسلم لیگ نون کے درمیان گفت و شنید اور ڈیولپمنٹ کے اشارے بھی دینے لگا ہے۔
لیکن اس حقیقت کو سمجھنا ہو گا کہ نئے رابطے اور اشارے اسٹیبلشمنٹ کے کسی محبت کا شاخسانہ ہرگز نہیں بلکہ یہ سب کچھ طاقت کے توازن اور پلڑوں کی برابری سے پھوٹنے لگا ہے اس لئے نواز شریف کو غیر ضروری طور پر رویے میں نرمی کی قطعاً ضرورت نہیں کیونکہ حالات فطری طور پر بیانیے کے حق میں رواں دواں ہیں اور اسے اپنے فطری ٹریک سے اتارنا کم از کم دانشمندی نہیں ہوگی۔
یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہیے کہ وقت کی تبدیلی اور اس سے پیدا ہونے والے طاقت کے توازن نے پہلے فریق کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے جس سے بعض لوگ خوف اور عدم تحفظ کے معنی بھی نکالنے لگے ہیں لیکن ضروری یہ ہے کہ معاملات کو کئی عشرے پہلے کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے موجودہ حالات اور نئی فضا کے تناظر میں دیکھا جائے۔
اگر چہ دانشور حضرات کا ایک موثر حلقہ اس حوالے سے قدرے خوف کا شکار ہے کہ نئے منظر نامے سے اسٹیبلشمنٹ کہیں بیانیے کی تحلیل اور اپنی بقا کا سامان پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہو جائے لیکن اس حقیقت کو کیسے جھٹلایا جا سکتا ہے کہ نواز شریف اپنے اقتدار سے اپنی اہلیہ تک بہت کچھ گنوا بیٹھا ہے۔ خاندان اور ساتھیوں کی قید و بند توہین آمیز سلوک اور بد ترین میڈیا ٹرائل اسی ہائبرڈ ریجیم کے منصوبے سے پھوٹے تھے جس کے مد مقابل نواز شریف ڈٹ کر کھڑے ہو گئے تھے اور اسی منظر نامے نے اسے مبالغہ آمیز مقبولیت سے بھی ہمکنار کیا۔
اس لئے کیسے ممکن ہے کہ پسپا ہوتے حریف سے کمزور شرائط پر معاملہ کیا جائے۔
گو کہ لندن سے قریبی رابطوں کی دعویداری ہرگز نہیں لیکن پورے اعتماد کے ساتھ اتنا ضرور بتاتا چلوں کہ اب کے بار اقتدار اور حکومت کو ایک ثانوی اور غیر اہم موضوع کی حیثیت حاصل ہے (بلکہ اسے شفاف انتخابات سے منسلک کر دیا جاتا ہے) جبکہ اہم ترین اور ضروری نکات وہی ہیں جن کے لئے طویل اور خوفناک ریاستی جبر کا سامنا کیا گیا۔

