گزری ہوئی فلمی شخصیتوں کا پروانہ فلمساز محمد اسحق پروانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ستمبر میں لاہور گیا تو حسب معمول وہاں کے دوستوں سے دعا سلام ہوئی۔ ان دوستوں میں عبد الجبار بھی ہیں جن کا پونچھ روڈ پر ہیر کٹنگ کا بزنس ہے۔ ان کے قریبی عزیز پاکستانی فلمی صنعت کے عروج کے زمانے میں ملتان روڈ پر کسی معروف فلم اسٹوڈیو میں میک اپ آرٹسٹ رہے ہیں۔ میں تو ان سے گفتگو کرنا چاہتا تھا لیکن وہاں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جن سے مل کر بے اختیار تفصیلی نشست کی خواہش کی۔ بات ہی کچھ ایسی تھی۔ نامور فلمی شخصیات کی زندگی میں ان کے بہت سے پرستار ہوتے ہیں لیکن میں نے پہلی مرتبہ ایسا شخص دیکھا جو ان کے دنیا سے گزر جانے کے بعد بھی ان کا سچا پرستار ہے۔

یہ زبانی کلامی نہیں بلکہ اخبارات اور رسالوں کے تراشوں کی صورت ان کو ہمہ وقت سامنے رکھتا ہے۔ باقاعدگی سے ان کی قبروں پر حاضری دیتا اور ممکنہ حد تک ان کی خدمت کرتا رہتا ہے۔ بقول شاعر: ”زندگی میں تو سب ہی پیار کیا کرتے ہیں۔ “ یہ خدمت چند ایک فنکاروں تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک لمبی کہکشاں ہے۔ میانی صاحب کا قبرستان، گلبرگ، میاں میر، بیبیاں پاک دامن، کریم بلاک علامہ اقبال ٹاؤن اور دیگر چھوٹے بڑے قبرستان۔ ایسا بے لوث شخص جو ان فلمی شخصیات کی مغفرت کی دعا کرتا اور خاص طور پر ان کی قبور کی صفائی ستھرائی جن کے لواحقین یا تو مو جود نہیں یا پھر ان کے پاس آنا پسند نہیں کرتے۔ آئیے اس شخصیت سے بات چیت کرتے ہیں :

محمد اسحق پروانہ: ” فلمی موضوعات پر تیس پینتیس سال سے اخباری تراشے فائلوں کی صورت میں آپ کیوں جمع کر رہے ہیں؟“ ۔

” میرا نام محمد اسحق پروانہ ہے۔ میں 1966 سے فلمی لائن سے متعلق ہوں۔ میرے پاس تمام اداکاروں اور اداکاراؤں کا ریکارڈ اخبار اور رسائل کے تراشوں کی صورت میں محفوظ ہے۔ جو فنکار فوت ہو گئے ہیں ان کی قبروں پہ با قاعدہ جا کر فاتحہ خوانی کرتا ہوں۔ جو حیات ہیں ان سے بھی اچھے طریقے سے ملتا ہوں۔ وہ بھی میری عزت کرتے ہیں۔ میں اپنے بچوں کو بھی کہتا ہوں کہ یہ فنکار بہت اچھے لوگ ہیں ان سے ملتے رہنا چاہیے۔ اداکاروں کے علاوہ میرے پاس تمام موسیقاروں اور گلوکاروں کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔ کسی کو پتنگ بازی کا شوق ہوتا ہے تو کسی کو کبوتر بازی کا۔ مجھے یہ ہی شوق ہے۔ میں نے ہر ایک فنکار کی فائل بنا کر رکھی ہوئی ہے جس میں ممکنہ حد تک

دستیاب اخباری تراشے سنبھالے ہوئے ہیں۔ مجھے سرکاری ملازمت سے ریٹائر منٹ لئے دس سال ہو گئے ہیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ میرے پاس کتنا زیادہ ریکارڈ موجود ہے جس کو رکھنا بھی آسان نہیں۔ اب بھی دن کا ایک بڑا حصہ میں اسی کام میں لگا رہتا ہوں ”۔

” ایک ہی کام کرتے کرتے آپ تھکتے نہیں؟“ ۔

” مجھے تو پرانے فلمی ریکارڈ کو سامنے رکھ اور دیکھ کر آکسیجن ملتی ہے۔ میں اس کو بار بار دیکھتا اور پڑھتا ہوں۔ اسی وجہ سے ماشاء اللہ میری صحت بھی اچھی ہے! “ ۔

” اس شوق کا آغاز کیسے ہوا؟“ ۔

” یہ شوق فلم“ شیخ چلی ” ( 1958 ) دیکھنے سے پیدا ہوا۔ یہ پہلی فلم تھی جو میں نے دیکھی۔ اس وقت تو سنیما کا ٹکٹ بھی چھ آنے تھا۔ اس کے بعد“ ماہی منڈا ” ( 1956 ) اور“ سپیرن ” ( 1961 ) دیکھی۔ پھر لالہ سدھیر کی کافی فلمیں دیکھیں جیسے :“ فرنگی ” ( 1964 ) اور میں سدھیر کا پرستار ہو گیا۔ اب تو خیر سنیما ہی بند ہیں یا ٹوٹ گئے لیکن پہلے جب کبھی سدھیر کی کوئی پرانی فلم لگتی تھی تو میں لازمی اس کو دیکھنے جاتا تھا خواہ وہ سنیما کتنی بھی دور کیوں نہ ہو! میرے خیال میں پنجابی فلموں میں“ کرتار سنگھ ” ( 1959 ) اور“ دلا بھٹی ” ( 1956 ) سدھیر کی بہترین فلمیں ہیں۔ اور اردو میں“ باغی ” ( 1956 ) ،“ بغاوت ” ( 1963 ) اور“ آ خری نشان ” ( 1958 )“ ۔

” پہلی مرتبہ فلمی نگار خانے میں جانا کیسا لگا؟“ ۔ عبد الجبار نے سوال کیا۔

” پہلی مرتبہ میں فلم“ بھریا میلہ ” ( 1966 ) کے سیٹ پر گیا تھا۔ یہ اکمل کی فلم تھی۔ شاہ نور فلم اسٹوڈیو کے ساتھ ہی ایک باغ تھا۔ میں نے اکمل، فردوس، نغمہ، منور ظریف اور جگی ملک کو پہلی مرتبہ دو بدو دیکھا تو ہکا بکا ہی رہ گیا۔ اس کے بعد

” روٹی“ ( 1968 ) کی شوٹنگ دیکھی۔ پھر شاہ نور فلم اسٹوڈیو کے پیچھے جہاں آج کل علامہ اقبال ٹاؤن بن گیا ہے وہاں کھیت تھے وہاں ”چاچا جی“ ( 1967 ) کی شوٹنگ دیکھی ”۔

قصہ فلم ”کھڑاک تے کھڑاک“ شروع کرنے کا: ” سلطان راہی سے ملنے کا سب سے پہلے کب اتفاق ہوا؟“ عبد الجبار نے سوال کیا۔

” میں نے 1978 میں ایک فلم شروع کی تھی“ کھڑاک تے کھڑاک ”اس وقت میں نے سلطان راہی کو اس فلم میں کام کرنے کے پیشگی پانچ ہزار روپے دیے۔ وہ اس وقت لاکھ روپے لیتا تھا لیکن میرے انڈسٹری اور دیگر با اثر لوگوں سے تعلقات کی وجہ سے 85000 / میں راضی ہو گیا۔ بعد میں کوئی وجہ ہوئی کہ میری فلم نہ بن سکی۔ سلطان راہی کی کیا بات ہے! اس کو جیسے ہی اس بات کا علم ہوا کہ فلم بند ہو گئی فوراً یہ کہہ کر پیشگی رقم واپس کر دی کہ میں نے تو کوئی کام کیا ہی نہیں! “ ۔

” سلطان راہی صاحب سے پہلی دفعہ ملنے پر آپ نے کیسا محسوس کیا؟“ ۔

” 1978 میں ان سے پہلی مرتبہ ملا تھا۔ وہ ایک بہت اچھے انسان لگے۔ جن لوگوں کا ان سے کاروباری تعلق تھا وہ سب راہی صاحب کے معاملات کی تعریف کرتے تھے“ ۔

” کیا کبھی آپ کسی اداکار یا اداکارہ سے مل کر گھبرائے یا نروس ہوئے؟“ ۔ عبدالجبار نے سوال کیا۔

” میرے ساتھ میرا ایک کزن تھا جو فنکاروں کے ساتھ میری تصویریں بناتا تھا۔ میں کبھی نروس نہیں ہوا۔ آگے بڑھ کر اداکاروں سے کہہ دیتا کہ آپ کے ساتھ ایک تصویر بنوانی ہے خواہ وہ فنکار جتنا مرضی بڑا ہو! میں نے اس دور کے نامور اداکار جیسے لالہ سدھیر، محمد علی، شبنم، ممتاز وغیرہ کے ساتھ بھی اسی طرح سے تصویریں اتروائیں۔ کبھی کسی فنکار نے انکار نہیں کیا۔ البتہ میرا کیمرہ مین کزن خاصا گھبراتا تھا“ ۔

” سب سے پہلے آپ نے نگار ویکلی کب خریدا یا پڑھا؟“ ۔

” شاید چالیس پچاس سال پہلے میں نے کہیں دیکھا اور مجھے بے اختیار اچھا لگا۔ تب سے میں اور میرے دوست نگار خرید کر پڑھتے ہیں۔ اس وقت اس کی بہت کم قیمت تھی۔ تب تو اخبار جہاں بھی ڈیڑھ روپے میں آتا تھا“ ۔

” آپ نے فلمسازی بھی کی۔ اس کا کیا پس منظر ہے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” در اصل مجھے فلموں میں کام کرنے کا شوق تھا۔ میرے حالات اور کاروبار اچھا تھا۔ دوستوں میں بیٹھے بیٹھے مشورہ ہوا کہ چلو فلم بناتے ہیں۔ یوں پنجابی فلم“ کھڑاک تے کھڑاک ”کے خد و خال بنے۔ سلطان راہی اور آسیہ کے اہم کردار تھے۔ بہار ایک کردار کے لئے موزوں تھیں لیکن ایک دوست نے نغمہ کو تجویز کیا۔ نغمہ کے گھر گئے لیکن اس سے ملاقات نہ ہو سکی۔ اسٹوڈیو گئے تو سیٹ پر بھی نہیں ملی۔ ہم لوگ اس کا انتظار کرنے لگے۔ بس آگے قسمت اور نصیب کا کھیل کہ ہم دوست ’ان‘ کے ہاتھوں چڑھ گئے جو نئے اور نا تجربہ کار فلمسازوں کا شکار کر کے اپنے تھوڑے سے فائدے کے لئے دوسروں کا پیسہ خراب کرتے ہیں۔ اس طرح فلمسازی والا پیسہ ٹھکانے لگ گیا۔ حالاں کہ ہم دوست فلمسازی میں سنجیدہ تھے۔ ہم تو ناصرؔ ادیب کے گھر اس سے کہانی لکھوانے کے لئے آٹھ ہزار روپے پیشگی رقم بھی دے آئے تھے۔ وہ ایک بہترین کہانی لکھ رہا تھا۔ ہماری اس فلم کی صرف ایک دن ہی حویلی کے سین کی شوٹنگ ہوئی۔ اس فلم کے ہدایتکار مسعود بٹ تھے“ ۔

” میں نے ایک اور بھی فلم“ رپورٹ ”شروع کی اس کے ہدایتکار بھی مسعود بٹ تھے لیکن پہلی والی فلم کی طرح اس کا بھی وہ ہی حشر ہوا۔ دوسری فلم میں آسیہ کو لیا تھا۔ پہلی فلم میں بھی ہم نے آسیہ کو لینے کا سوچا تھا لیکن ممتاز نے اپنے میک اپ آرٹسٹ کی وجہ سے مصروفیت میں سے وقت نکال کر ہماری پہلی فلم کے لئے تاریخیں دے دیں۔ ممتاز نے ہماری فلم میں گلوکارہ مہناز کا ایک گانا سن کر کہا تھا کہ خواہ کچھ بھی ہو یہ گانا مجھ پر فلم بند ہونا چاہیے۔ اس وقت گلوکارہ کو ہم نے بارہ سو روپے دیے تھے۔ موسیقار کا نام یاد نہیں۔ وہ شاہ نور کے ساتھ سید پور گاؤں کا رہنے والا تھا“ ۔

ایکٹر بننے گھر سے نکلنا:

” یہ حقیقت ہے ( مسکراتے ہوئے ) کہ اکثر لوگ فلموں میں کام کرنے کی سوچ لے کر ہی فلمی دنیا میں آتے ہیں۔ میں بھی اسی وجہ سے فلم انڈسٹری میں آیا تھا کہ ایکٹر بنوں گا۔ جب یہاں ایک دو فلموں کی شوٹنگ دیکھی تو مجھے نظر آیا کہ اس میں ڈائریکٹر کا زیادہ کردار ہے۔ وہ تو ہر ایک اداکار کے ساتھ سختی سے پیش آتا ہے کی ایسے کرو ویسے کرو۔ شروع شروع میں ڈائریکٹر اسلم ایرانی کو دیکھا تو مجھے شوق ہوا کہ میں ڈائریکشن سیکھوں۔

ان سے کچھ سیکھنے کی خاطر میں اسلم ایرانی کے پاس چپراسی بھی رہا۔ میں نے ڈائریکشن سیکھنا شروع کر دی۔ کچھ ہی دن بعد میں نے دیکھا کہ سب اداکار، کہانی نگار، گلو کار، موسیقار اور دیگر افراد بشمول ڈائریکٹر فلمساز کی بڑی عزت کرتے ہیں۔ تب میں نے سوچا کہ فلمساز ہونا چاہیے۔ میرا کاروبار اچھا تھا میں نے گھر میں بتائے بغیر کچھ دوستوں سے مل کر پنجابی فلم“ کھڑاک تے کھڑاک ”شروع کر دی۔ اس میں بڑا کردار سلطان راہی کا سوچا گیا۔ اس کا بھی عروج کا زمانہ تھا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ مجھے اچھے لوگ نہیں ملے۔ بلکہ ہمارے ساتھ ہاتھ ہو گیا اور فلم نہیں بن سکی۔ اگر مجھے اچھی ٹیم میسر آ جاتی تو وہ ایک بہترین فلم ثابت ہوتی“ ۔

ممتاز میری فلم میں :

۔ ”ہم نے فلم کی اوپنگ مہناز کے گانے کی صدا بندی سے کی تھی۔ وہیں کہیں قریب میں جب ممتاز نے وہ گانا سنا تو جہاں کھڑی تھی وہیں کھڑی رہ گئی۔ بے ساختہ فلمساز کا پوچھتی ہوئی میرے پاس آئی۔ جب اسے علم ہوا کہ یہ فلم کی ہیروئن آسیہ پر فلمایا جائے گا تو کہنے لگی کہ آ سیہ کو نہ لو مجھے لو! جتنے پیسے دو گے قبول کر لوں گی۔ مفت چاہو وہ بھی کر نے کو تیار ہوں۔ اجمل میک اپ مین میرا دوست بن گیا تھا۔ ممتاز اس کی بہن بنی ہوئی تھی۔

اس کو میک اپ آرٹسٹ بنانے والی ممتاز ہی تھی۔ اجمل فلم“ ان داتا ” ( 1976 ) کا میک اپ مین تھا۔ اس سے پہلے فلم“ اپنے ہوئے پرائے ” ( 1977 ) بننا شروع ہوئی تھی۔ ممتاز نے اسے اپنے پاس سے پیسے دیے کہ جاؤ اور اسٹوڈیو میک اپ کا ضروری سامان لے آؤ۔ تم ہی اس فلم کے میک اپ مین ہو گے۔ اجمل نے ڈرتے ہوئے کہا کہ اگر پروڈکشن والے نہ مانے تو۔ اس پر ممتاز نے کہا کہ پھر میں یہ فلم ہی چھوڑ دوں گی! یوں وہ میک اپ مین بن گیا۔ اس کے بعد اسے گولڈن جوبلی فلم

” ان داتا“ ملی جس میں وہ ٹیم کے ساتھ لندن بھی گیا ”۔

” اس کے بعد میں نے ایک اور فلم“ رپورٹ ”شروع کی۔ یہاں بھی ایک ہی بل سے دوبارہ ڈسا گیا۔ میں نے یہ دونوں کام گھر سے چوری چھپے کیے اسی لئے فلمساز کے طور اپنے نام کے بجائے محمد اجمل کا نام لکھوایا۔ میں نے ٹائٹل میں اپنے آپ کو محمد اسحق پروانہ منتظم اعلیٰ لکھوایا“ ۔

” آپ کے نام کے ساتھ پروانہ لکھا جاتا ہے۔ اس کی کیا کہانی ہے؟“ ۔

” پروانہ نام کا تعلق بالکل بھی فلم انڈسٹری سے نہیں بلکہ کسی حد تک سیاست سے ہے۔ میں چیرمین پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کا بڑا پرستار تھا۔ تب میں لائلپور ( موجودہ فیصل آباد ) کے یونٹ نمبر 237 ناظم آباد میں رہتا تھا۔ ادھر میرا دفتر تھا اور میں وہاں کا صدر تھا۔ اس وقت تمام لوگ مجھے بھٹو کا پروانہ کہتے تھے۔ وہیں سے میں نے اپنے نام کے ساتھ پروانہ لگانا شروع کیا۔ میں نے بھٹو کے پروانے کی حیثیت سے قیدیں کاٹیں اور کوڑے بھی کھائے۔ یہ پروانہ نام اب بھی چل رہا ہے“ ۔

” اس سے آگے کی اب کیا منصوبہ بندی ہے؟“ ۔

” یہ کہ میرے پاس پچھلا جتنا ریکارڈ ہے وہ سنبھال رہا ہوں۔ صبح سے لے کر شام تک مصروف ہی رہتا ہوں۔ پاکستان اور بھارت کے اداکار، اداکارائیں، موسیقار، گلوکار وغیرہ کی فائلیں بنی ہوئی ہیں۔ کون قتل ہوا، کس نے خودکشی کی، کون حادثاتی موت مرا یہ الگ الگ فائلوں میں میری لائبریری میں ہے“ ۔

” جس شعبے سے آپ ریٹائر ہوئے اس کا نام ہی بڑا خطرناک ہے۔ کہاں وہ محکمہ اور کہاں فنون لطیفہ! “ ۔ میں نے سوال کیا۔

” میں 1987 میں ’سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ‘ المعروف S&GAD میں بھرتی ہوا۔ پانچ سال محکمہ اوقاف، پانچ ہی سال محکمہ جنگلات میں اور پھر مشرف دور میں نیب NAB میں تبادلہ ہو گیا۔ تقریباً پچاس ججوں کے ساتھ میں نے کام کیا۔ وہ کام اپنی جگہ اور میرا شوق اپنی جگہ“ ۔ سب کا قہقہہ۔

” لوگ تو زندہ فنکاروں کے مداح ہوتے ہیں، ان کے آگے پیچھے پھرتے اور ان کے ساتھ تصویریں اترواتے ہیں لیکن آپ دنیا سے گزر جانے والے فنکاروں کی قبروں پر جاتے اور خیال رکھتے ہیں۔ کیوں؟“ ۔

” زندوں کو تو سب پوچھتے ہیں۔ میں بھی قبر والے فنکاروں سے ان کی زندگی میں محبت کرتا تھا۔ فوت ہو گئے تو کیا ہوا؟ میں اب بھی پیار کرتا ہوں۔ یہ محبت تو مرتے دم تک جاری رہے گی۔ ہماری قبر پر کوئی آئے یا نہ آئے ہم تو ان کی قبروں پر ضرور جاتے رہیں گے خواہ مرد ہوں یا خاتون“ ۔

” کمال کی بات کہی۔“ ۔ میں اور عبدالجبار ایک ساتھ بولے۔

” اکمل کو فوت ہوئے 54 سال ہو گئے۔ ہم ان کی برسی منانے جاتے ہیں۔ نگو بیگم کو قتل ہوئے 50 سال ہو گئے ہم وہاں بھی جاتے ہیں۔ یہ تو اپنے من کی بات ہے۔ یہ پیار ہم سے کوئی چھین نہیں سکتا! “ ۔

” پروانہ صاحب! اندازہ آپ کتنے فنکاروں کی قبروں پر جا چکے ہیں؟“ ۔ عبد الجبار نے پوچھا۔

” کبھی حساب نہیں کیا! میں خود میانی صاحب کے قبرستان کے بیچ میں رہتا ہوں۔ میرے نزدیک بھی فنکاروں کی کافی قبریں ہیں جیسے فردوس، اسلم پرویز، مینا شوری، اعجاز درانی، انور کمال پاشا، حکیم شجاع اور تنویر ؔنقوی صاحب۔ یہ میرے بالکل قریب قریب ہیں“ ۔

” نگو کی قبر پر آپ نے پودے لگائے اور کوئی انہیں برباد کر گیا۔ یہ کیا قصہ تھا؟“ ۔ عبد الجبار نے سوال کیا۔

” وہ ایسا ہوا کہ میں نے اپنے وقت کی مشہور رقاصہ نگو کی قبر کو صاف کر کے رنگ روغن کیا اور کچھ پودے لگائے۔ لیکن شاید کسی کو وہ برداشت نہیں ہوا۔ ہمارے لگائے ہوئے پودے اکھاڑ پھینکے۔ گورکن سے پوچھا کہ یہ کیا ہوا کہنے لگا کہ پتا نہیں ان ہی کا کوئی رشتہ دار آیا تھا۔ جب اس کے عزیزوں سے میں نے رابطہ کیا تو اس کی چھوٹی بہن نے کہا کہ ہم تو آپ کے شکر گزار ہیں کہ ہمارا کام آپ کرتے ہیں۔ لہٰذا ہم کیوں قبر کے پودے اکھاڑیں گے؟“ ۔

” جس دن وہ پودے کسی نے اکھاڑے تھے اس دن میں بھی وہاں نگو کی قبر پر فاتحہ خوانی کو آیا تھا“ ۔ عبد الجبار نے کہا۔ ”تو میں نے دیکھا کہ پروانہ صاحب بہت زیادہ غمگین تھے۔ آنکھوں میں آنسو بھی تھے۔ میں نے آپ کو بارہا دیگر فلمی شخصیات کی قبروں کی صفائی ستھرائی کرتے اور پانی لگاتے خود بھی دیکھا ہے۔ واقعی یہ دکھ کی بات ہے کہ آپ کسی فنکار کی قبر کی صفائی کریں اور پودے لگائیں پھر کوئی آ کر برباد کر جائے“ ۔

” بالکل یہ بڑے دکھ کی بات ہے“ ۔

” پروانہ صاحب! کچھ عرصہ قبل ساغرؔ صدیقی، پرنم ؔ الہ آبادی اور حضرت تنویرؔ نقوی کی قبروں پر حاضری دینے عبدالجبار صاحب کے ساتھ آ یا تھا“ ۔ میں نے کہا۔

” جی ( کھڑکی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ) ہاں اس کھڑکی کے بالکل سامنے ساغرؔ صدیقی کا مزار ہے۔ خود ہماری یہ عمارت ڈیڑھ سو سال قدیم ہے۔ ساغرؔ صاحب کے پاس نغمہ نگار احمد راہیؔ او ر ان کی بیگم کی قبریں ہیں۔ پھر زلفی اور اس کی بیگم بھی یہیں مدفون ہیں۔ زلفی نامور مزاحیہ اداکار تھے۔ لندن گئے وہیں انتقال ہو گیا۔ فلم“ محلہ دار ” ( 1970 ) میں زلفی کا مین کردار تھا۔ یہیں ہدایتکار ایم جے رانا اور ان کی بیگم کی بھی قبر ہے۔ فلم“ یکے والی ” ( 1957 ) ان کی ایک یادگار فلم ہے۔ اداکارہ چن چن بھی ادھر ہی ہیں۔ پھر اقبال حسن، اسلم پرویز، یونس ملک کی قبریں یہاں سے قریب ہیں“ ۔

” پاکستانی فلمی صنعت 1980 کی دہائی میں بحران کا شکار رہی آج کے حالات بھی سامنے ہیں۔ کیا یہ سنبھل سکے گی؟“ ۔

” دیکھیں جناب! فلم انڈسٹری کا جو عروج ہم نے دیکھا اس کے واپس آنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا! رات دن شوٹنگ ہوتی تھی۔ اسٹوڈیو ہر وقت آباد اور آؤٹ ڈور شوٹنگ بھی بغیر رکے چلتی تھیں۔ ایم جے رانا کی فلم“ یکے والی ”کی کمائی سے ایشیا کا سب سے بڑا فلم اسٹوڈیو باری بنا۔ اس کے تمام فلور مصروف ہوتے۔ اسی طرح ایم ایس ڈار صاحب کی فلم“ دلا بھٹی ”سے آغا جی اے گل کا ایور نیو اسٹوڈیو بنا جو فلمی ستاروں سے جگ مگ کرتا تھا۔

اس وقت فلم ہی عوام کی واحد تفریح تھی اور سنیما ہاؤس پر اچھی فلم رش لیتی تھی۔ اب وہ بات ہی نظر نہیں آتی۔ سب ایک خواب کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ ہمارے بچپن سے پہلے بھی فلمی دنیا کو عروج حاصل تھا۔ ہم نے بھی اس کو پھلتے پھولتے دیکھا۔ ہم جوان بھی ہو گئے پھر بھی اس کو عروج پر دیکھا۔ میں خود اس وقت سے اسٹوڈیو میں جا رہا ہوں جب خلیل قیصر قتل ہوئے تھے۔ میں پاکستانی فلمی صنعت کا عروج بیان نہیں کر سکتا! “ ۔

” آپ کا پسندیدہ فنکار کون تھا؟“ ۔ عبد الجبار نے سوال کیا۔

” میرا پسندیدہ فنکار لالہ سدھیر تھا۔ مجھے تو اس کی پنجابی اور اردو فلموں کے نام تک زبانی یاد ہیں۔ وہ بے شک اس دور میں بھارتی فلمی اداکاروں کے پائے کا ہیرو تھا“ ۔

” آپ کی پسندیدہ ہیروئن کون تھی؟“ ۔ عبد الجبار نے پوچھا۔ ” سلمیٰ ممتاز کی بہن شمی جو لالہ سدھیر کی بیگم تھی“ ۔ ” یہاں مجھے 1998 کا نگار اخبار نظر آ رہا ہے۔ آپ نے اس کو بھی سنبھال کر رکھا ہے! “ ۔

” میرا تو سرکاری دفتر میں کام ہی اخبارات میں مخصوص خبروں کے تراشے یا صفحات لائبریری کے لئے محفوظ کرنا تھا۔ جب عدالت کے دفتر میں کام کرتا تھا تو جس جج کو کسی خاص تاریخ کے اخبار کی ضرورت پڑتی، اسے کہا جاتا اسحق سے پوچھو! کیا نئے کیا پرانے کیا بہت ہی پرانے۔ ایسے تمام اخبارات میں ہی سنبھال اور ترتیب سے رکھتا تھا۔ میرے پاس تین کمرے اخبارات سے بھرے ہوئے تھے۔ اسی طرح میں نے نگار بھی سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔ کسی وقت کسی چیز کی ضرورت پڑے تو ان سے مل جاتی ہے“ ۔

” پاکستانی فلم انڈسٹری میں کوئی امید کی کرن نظر آتی ہے؟“ ۔ عبد الجبار نے پوچھا۔

” مجھے امید نظر نہیں آتی کہ گزرا ہوا شاندار وقت واپس آ جائے۔ بھارت میں ہماری فلمیں تو اتنی مشہور نہیں ہوئیں جتنے ڈرامے مشہور ہو گئے۔ میں 1884 میں بھارت گیا تو مجھے بتلایا گیا کہ وہاں شادیوں کی تاریخ بھی پاکستانی ڈرامے نشر ہونے والے دن کو سامنے رکھ کر مقرر کی جاتی ہیں۔ اب تو ہمارے ڈرامے پوری دنیا میں مشہور ہو گئے ہیں“ ۔

” اس وقت سینماؤں کی حالت دیکھ کر آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟“ ۔ عبد الجبار نے ایک تکلیف دہ سوال کیا۔

” میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہم نے تو بڑے اچھے سنیما گھر دیکھے۔ ہمیں یہ بھی یاد تھا کہ فلاں سنیما بنا تو اس میں پہلی فلم کون سی لگی تھی؟ سینماؤں میں صفائی ستھرائی کے مقابلے ہوتے تھے۔ فلم دیکھنے والوں کی ہر ممکن سہولت کا خیال کیا جاتا اور واش روم اچھی حالت میں ہوتے تھے“ ۔

” حکومت وقت سے فلم انڈسٹری کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں گے؟“ ۔ عبد الجبار نے پوچھا۔

” کتنی ہی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں فلم انڈسٹری کی بہتری کے لئے کسی نے کبھی سوچا نہ کچھ کام کیا۔ اب موجودہ حکومت کے لئے میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ “ ۔

” نگار ویکلی کے پڑھنے والوں کے لئے کوئی پیغام؟“ ۔

” نگار بہترین فلمی اخبار ہے۔ مستقل مزاجی سے ماشاء اللہ اب تک چل رہا ہے۔ اور بھی فلمی پرچے آئے اور بند ہو گئے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے ہاں پہلے کی طرح سے اردو، پنجابی، پشتو اور سندھی فلمیں بنیں اور دوبارہ نگار ایوارڈ بھی دیا جائے“ ۔

باتیں تو اور بھی ہوتیں لیکن پروانہ صاحب کے ساتھ میں نے اور عبدالجبار صاحب نے میانی صاحب میں فلمی شخصیات سے ملاقات کو جانا تھا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).