چلی میں بائیں بازو کا صدارتی امیدوار کامیاب


لاطینی امریکہ کے ملک چلی میں 35 سالہ سوشلسٹ راہنما گیبریل بورک نے 19 دسمبر کو ملک کے صدارتی الیکشن کے دوسرے راونڈ میں واضح اکثریت حاصل کر کے ملک کے سب سے کم عمر صدر کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ ملک کو سامراجی تسلط سے آزادی دلوانے اور سماجی تبدیلی برپا کرنے کے لیے قائم کیے گئے بائیں بازو کے اتحاد کے امیدوار اور سابق طالب علم راہنما گیبریل بورک نے صدارتی انتخاب کے دوسرے راونڈ کی انتخابی مہم کا آغاز اس للکار کے ساتھ کیا تھا کہ اگر چلی سامراجی نیو لبرل ازم کا گہوارہ تھا، تو اب یہ اس کی قبر ہو گا۔

چلی کا فاتح بائیاں بازو دنیا بھر کے ترقی پسندوں کی تو جو کا مرکز بنا ہوا ہے اور بلا شعبہ وہ عالمی یکجہتی اور بھرپور تعاون کا مستحق ہے۔ ایک عرب پتی حکمران کو ہرانے والا گیبریل بورک محلات اور ڈرائینگ روموں کے لیڈروں کے برعکس اپنے ملک کے گلی محلوں کے باسیوں کے ہردلعزیز راہنما کے طور پر ابھرا ہے اور ان کو یہ شہرت ایک احتجاجی رہنما کے طور پر ملی ہے۔ وہ حالیہ چند برسوں میں سامراجی تسلط اور نیو لبرل ازم کے خلاف زبردست مظاہروں کے دوران ایک ہیرو بن کر ابھرا ہے۔ چلی میں بائیں بازو کی ابھرتی ہوئی احتجاجی سیاست نے حالیہ چند برسوں میں ملکی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جس نے اور ایک عرب پتی صدر کی سبکدوش ہونے والی حکومت کو ایک نئے آئین پر ریفرنڈم کرانے پر مجبور کر دیا تھا۔

براعظم جنوبی امریکہ کے مغربی کنارے پر واقع ایک پٹی نما ملک چلی کی کل آبادی تقریباً 2 کروڑ اور رقبہ 219، 930 مربع میل ہے۔ قدرتی و سائلز سے مالا مال چلی دنیا میں تانبا (کاپر) پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ 1540 ء میں سپین نے چلی پر قبضہ کر کے اپنی کالونی بنا لیا تھا اور 300 برس تک اس کے معدنی ذخائر و خام مال کو بڑی بے دردی سے لوٹا۔ غیر ملکی تسلط کے خلاف چلین عوام نے 1810 ء سے 1826 ء تک آزادی کی بھرپور جنگ لڑی اور 18 ستمبر 1818 ء کو اسپین سے آزادی کا اعلان کر دیا۔ بعد ازاں 1830 ء کی دہائی میں چلی ایک نسبتاً مستحکم آمرانہ جمہوریہ کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔

بیسویں صدی کے آغاز سے لے کر 1970 ء کی دہائی تک چلی میں جمہوریت کا عمل دیکھا گیا، جس سے ملک میں تیزی سے صنعت کاری ہوئی، شہری آبادی میں اضافہ ہوا اور ملکی معیشت کو وسعت دینے کے لیے تانبے کے ذخائر کو ترقی دی گئی، جس سے کان کنی بڑھی اور برآمدات میں اضافہ ہوا۔ 1960 ء اور 1970 ء کی دہائیوں کے دوران چلی نے شدید سیاسی پولرائزیشن اور ہنگامہ آرائی کا سامنا کیا۔ جب 1973 ء میں چلی میں سلواڈور ایلینڈے کی منتخب سوشلسٹ حکومت نے ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کی لوٹ کھسوٹ اور ملک کے انتظامی معاملات میں بے جا مداخلت روکنے کے لیے انہیں قومی ملکیت میں لینے کا سلسلہ شروع کیا تو امریکی آشیرباد سے ہونے والی فوجی بغاوت کے ساتھ ملک میں جمہوری عمل کا بستر گول کر دیا گیا۔ ملک کے فوجی آمروں نے سلواڈور ایلینڈے کی جمہوری طور پر منتخب بائیں بازو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور ڈکٹیٹر آگسٹو پنوشے کی 16 سالہ فوجی آمریت قائم ہو گئی۔

دنیا کے بدنام زمانہ ڈکٹیٹر جنرل آگسٹو پنوشے نے ملک کے 3,000 سے زائد سیاسی کارکنوں کو ہلاک اور ایک ہزار سے زائد کو لا پتا کر دیا۔ ظالم فوجی ڈکٹیٹر نے منتخب صدر سلواڈور ایلینڈے کو قتل کر کے اس کی لاش صحراوں میں دبا دی اور ملک کے قومی شاعر اور ادب کا نوبل ایوارڈ حاصل کرنے والے نامور ادیب پبلو نیرودا کو زہر دے کر ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔ اس کی حکومت بعد ازاں 1990 ء میں، 1988 ء میں ہونے والے ریفرنڈم کے نتیجے میں ختم ہوئی اور اس کی جگہ سینٹر لیفٹ اتحاد نے ملک کا نظام سنبھالا اور 2010 ء تک حکومت کی۔ اس کے باوجود کہ چلی میں معاشی استحکام رہا، لیکن ڈکٹیٹر دور کی پالیسیوں کے تسلسل، سامراجی تسلط اور معاشی ناہمواری کی وجہ سے ملک کے مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات، بالخصوص کسانوں اور مزدوروں کا استحصال عروج پر پہنچ گیا۔

جنرل آگسٹو پنوشے کے دور میں کمیونسٹ پارٹی پر دوبارہ پابندی لگا دی گئی تو اس نے انڈر گراؤنڈ تنظیم قائم کر کے مسلح جدوجہد کا آغاز کر دیا۔ مزدوروں میں تو پارٹی پہلے ہی مقبول تھی، لیکن ڈکٹیٹر کے خلاف مسلح جدوجہد نے بہت سے نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کیا۔ ملک میں بڑھتی ہوئی پرائیویٹائزیشن اور سامراجی تسلط نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا تو 2006 ء میں تعلیم کی نجکاری کے خلاف چلی بھر کے طلباء نے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا۔

ان احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے میں چلی کے کمیونسٹ پارٹی نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ بچوں کے سیاہ اور سفید اسکول یونیفارم کی وجہ سے ان کی عوامی جدوجہد کو ”پینگوئن انقلاب“ کہا گیا۔ اسی پینگوئن انقلاب کی سیاست میں طالب علم راہنما ایراسی ہاسلر اور جاویرا رئیس اس تحریک کے ہیرو بن کر ابھرے۔ 31 سالہ اکانومسٹ اور کمیونسٹ پارٹی کی ابھرتی پوئی راہنما محترمہ ایراسی ہاسلر نے مئی 2021 ء کے لوکل باڈی الیکشن میں ملکی دارالحکومت سنتیاگو کے میئر کا الیکشن جیت کر اور جاویرا رئیس کو لو ایسپیجو کے میئر کا الیکشن جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔

چلی کی کمیونسٹ پارٹی نے لوکل باڈی الیکشن میں زبردست کارکردگی دکھائی اور ملک بھر میں گراس روٹ لیول پر اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ تقریباً 50 سال گزرنے کا باوجود چلی ابھی تک 1973 ء کی فوجی بغاوت اور جنرل پنوشے کی آمریت کی میراث سے متاثر ہے، جو 1973 ء سے 1990 ء تک جاری رہی۔ ملکی سیاست سے بدنام زمانہ ڈکٹیٹر پنوشے کے دور کے نشانات مٹانے کے لیے ملکی آئین کو دوبارہ لکھنا بہت ضروری تھا۔ اس لیے حکومت کو آئینی کنونشن منعقد کروانے پر مجبور کرنا کمیونسٹ راہنما جاویرا رئیس اور دیگر ترقی پسندوں کی زبردست فتح تھی اور بائیں بازو کے اتحاد کی جانب سے نئے آئین کی تشکیل کے لیے حاصل کردہ کامیابیاں بتاتی ہیں کہ یہ سلواڈور ایلینڈے کی میراث ہے جو مستقبل کی تشکیل کرے گی۔

چلی کے عوام نے مئی 2021 ء میں اپنے ملک میں دائیں بازو کے میئرز منتخب کرنے کے برعکس، سینٹیاگو میں یراسی ہاسلر اور دیگر شہروں میں ریئس اور جاڈو جیسے کمیونسٹ میئرز منتخب کر کے خواتین کے کردار کو اپنی پالیسیوں کا مرکز بنا دیا، جس میں انہیں فرنٹ لائن میں لانے کا میکانزم بھی شامل ہے۔ چلی کے ترقی پسند اپنے ملک میں خواتین کے خلاف تشدد سے نمٹنے کے لیے اور 50 سالہ خوف کی فضا کو ختم کر نے کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ بلا لحاظ رنگ، نسل، اور مذہب کے اپنے ملک میں سماجی برابری کی بنیادوں پر معاشرے کی تشکیل نو کرنا چاہتے ہیں۔

چلی کے نوجوان انقلابی راہنماؤں ایراسی ہاسلر، جاویرا رئیس اور گیبریل بورک نے 2011 ء اور 2013 ء میں ملک میں ثانوی اور یونیورسٹی تعلیم کو نشان زر بنانے والی عدم مساوات پر بڑے پیمانے پر احتجاج کی قیادت کی۔ جاویرا رئیس نے اسی عرصے کے دوران چلین کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ طلباء تحریک کے دوسرے راہنما جو اس وقت چلی کے اہم سیاست دان بن چکے ہیں، بالخصوص کیملا والیجو اور کیرول کیریولا کے ساتھ ساتھ محترمہ ایراسی ہاسلر پہلے ہی کمیونسٹ تھے اور پارٹی میں بھرپور کردار ادا کر رہے تھے۔

طلباء کے مظاہروں نے زور پکڑا تو ان کے ساتھ ساتھ تانبے کی کانوں میں کام کرنے والے کان کنوں اور دیگر شعبوں کے مزدوروں نے بھی اپنے مطالبات منوانے کے لیے مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ملک میں محنت کشوں اور طلباء کے درمیان بڑھتے ہوئے اتحاد سے ملکی سطح پر مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس نے ملکی اشرافیہ کے ایوانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، جنہوں نے 1990 ء میں پنوشے کے زوال کے بعد سے نہ تو ملک کے لیے نیا آئین لکھنے کی زحمت کی اور نہ ہی سامراج کے تسلط اور نیو لبرل گھٹن سے نکلنے کا راستہ نکالا۔

اکتوبر 2019 میں، ہائی اسکول کے طلباء نے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے پر احتجاج کیا۔ مظاہروں کی یہ لہر، جو تقریباً ایک دہائی سے جاری تھی، اس نے چلی کی سیاسی زندگی کی تاریخ روشن کر دی۔ ”یہ 30 پیسو نہیں ہے، یہ 30 سال ہے“ کے نعرے کے ساتھ سکولوں کے بچوں نے ملک میں سماجی انصاف اور نئے آئین کی ضرورت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

چلی میں 2021 ء کے لوکل باڈی اور صدارتی انتخابات میں کمیونسٹوں نے ”خوف کے بغیر ووٹ دیں“ کے نعرے کے تحت حصہ لیا۔ یہ نعرہ ملک میں گھٹن کی ایک طویل تاریخ سے آیا تھا، جسے ملکی سطح پر بہت پذیرائی ملی۔ چلی کی کمیونسٹ پارٹی پر تین بار پابندی لگائی گئی اور اس کے اراکین کو تین ادوار میں ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا، جن میں 1927 ء سے 1931 ء، 1948 ءسے 1958 ء اور 1973 ء سے 1990 ء کے عرصے شامل ہیں۔ بار بار کی ان پابندیوں نے کمیونسٹ پارٹی کو انڈر گراؤنڈ تحریک منظم کرنے پر مجبور کیا۔

بدنام زمانہ ڈکٹیٹر آگسٹو پنوشے کی آمریت نے ہزاروں ترقی پسند کارکنوں کو ہلاک کیا، جن میں کئی اہم رہنما بھی شامل تھے۔ چلی کے معاشرے کا ایک بڑا حصہ سلواڈور ایلینڈے کی منتخب سوشلسٹ حکومت کی جانب سے نافذ کی گئی اصلاحات سے متاثر تھا، جو بنیادی طور پر جنرل پنوشے کی آمریت کے دوران پیدا ہونے والی عوامی نفرت کا نتیجہ تھی۔ اس کے باوجود کہ کمیونسٹ پارٹی ملک بھر میں بلدیاتی نظام میں گہری جڑیں بنا چکی ہے اور دارالحکومت سینتیاگو سمیت بہت سے شہروں میں میئر تک کا انتخاب جیت چکی ہے، لیکن ڈکٹیٹر پنوشے کا خوف اب بھی اس قدر ہے کہ چلی میں مشکل وقتوں میں انقلابیوں کے ساتھ کھڑے رہنے والوں کو بہت ہمت والے انسان سمجھا جاتا ہے۔

چلی کے حالیہ صدارتی انتخابات میں ملکی عوام کے پاس دو بالکل متضاد مستقبل کے درمیان انتخاب کرنا تھا۔ ان میں ایک تو سٹیٹسکو کو برقرار رکھنے کا تھا جس کے لیے کاسٹ شکاگو اسکول فری مارکیٹ اکانومسٹ کا چھوٹا بھائی تھا، جس نے آمر جنرل پنوشے کے دور میں مرکزی بینک چلایا، اور ظالم ڈکٹیٹر کے لیے کھلے عام معافی مانگتا رہا۔ چلین عوام کے لیے دوسری چوائس موجودہ سسٹم کا متبادل، 35 سالہ نوجوان سوشلسٹ راہنما گیبریل بورک تھا، جو گلی محلے اور سڑکوں پر رہنے والوں کا امیدوار تھا، ایک منفرد انقلابی راہنما جو سامراجی نیو لبرل پالیسیوں کے خلاف زبردست مظاہروں کے حوالے سے جانا جاتا ہے، جس نے چلی کو حالیہ برسوں میں ہلا کر رکھ دیا تھا اور جس نے سبسٹین پنیرا کی سبکدوش ہونے والی حکومت کو اس کی جگہ لینے کے لیے ایک نئے آئین پر ریفرنڈم کرانے پر مجبور کر دیا تھا۔

درحقیقت، چلی کے انقلابیوں، سوشلسٹوں اور کمیونسٹوں کی طرف سے ان کی انتخابی جیت کو صرف ایک واقعہ کے طور پر نہیں لیا جا سکتا، جیسا کہ بورزوا یا پھر لبرل جمہوریت کو دیکھتے ہیں، جو ایک باکس ٹک کرنے کی مشق ہے اور ہر چند برس بعد ہوتی ہے۔ اس انتخاب کو درحقیقت 2019 ء میں چلی کی سڑکوں پر شروع ہونے والی عوامی بغاوت کے بعد ایک قدم آگے بڑھانا تصور کیا جاتا ہے۔ گیبریل بورک کی فتح کی تقریر، بائیں بازو کے اتحادیوں بالخصوص کمیونسٹ پارٹی کے جشن منانے والے بیانات، سینٹیاگو کی سڑکوں پر لاکھوں لوگوں کی ریلیاں اور نعرے، سبھی نے سماجی تبدیلی کے لیے اس جاری عملی جدوجہد کا ان الفاظ کے ساتھ حوالہ دیا ہے کہ ”ہم جاری رکھیں گے۔“

چلی جیسے ملک میں ان الفاظ کا ایک اور دلکش مفہوم ہے جس کی 48 برس قبل منتخب سوشلسٹ حکومت کو ڈکٹیٹر پنوشے نے 1973 ء میں خون میں ڈبو دیا تھا۔ آج چلی کے لوگوں نے اس سلواڈور ایلینڈے کو دوبارہ منتخب کرتے ہوئے سوشلسٹ راستے کا انتخاب کیا ہے۔ اس وقت سلواڈور ایلینڈے کے انتخاب سے انکار کیا گیا کیونکہ، امریکی حکمت عملی اور جنگی جنون کے حامل ہنری کسنجر کے الفاظ میں واشنگٹن اپنے لوگوں کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے کسی ملک میں سوشلسٹ انقلاب ہوتے ہوئے نہیں دیکھے گا۔ آج چلی کے ان ووٹروں نے اس کے منہ پر طمانچہ دے مارا ہے اور تاریخ کو ایک نئے جذبے کے ساتھ 1973 ء کے مقام پر واپس لا کر ایک بار پھر ملکی سماجی ڈھانچے کی تشکیل نو کا عہد کیا ہے اور اس کی ذمہ داری نئے منتخب صدر پر ڈال کر ملکی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکی سامراج نے لاطینی امریکہ میں آج تک بائیں بازو کی حکومتوں کو کمزور کرنے، غیر مستحکم کرنے اور ان کا تختہ الٹنے کے لیے بارہا مداخلت کی ہے۔ اس نے وینزویلا میں 2002 ء میں ہیوگو شاویز کے خلاف بغاوت سے لے کر غیر منتخب چارلیٹن جو آن گوائیڈو کو بطور صدر تسلیم کرنے تک بار بار پرتشدد بغاوتوں کی سرپرستی کی ہے۔ اس کا ہاتھ ایکواڈور سے رافیل کوریا کو جلاوطن کرنے اور برازیل میں گزشتہ صدارتی انتخابات میں لولا کو لڑنے سے روکنے کے لیے استعمال کیے جانے والے ”قانون سازی“ میں واضح طور پر نظر آتا تھا۔

اس نے 2019 ء میں بولیویا میں ایوو مورالیس کا تختہ الٹنے والی فوجی بغاوت میں کلیدی کردار ادا کیا، اور وہاں لوئس آرس اور پیرو میں پیڈرو کا سٹیلو کی فاتحانہ طور پر دوبارہ منتخب ہونے والی سوشلسٹ حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کی موجودہ کوششوں میں گھناؤنا کردار ادا کیا، اور مداخلت کا گھناؤنا کھیل اب تک جاری رکھے ہوئے ہے۔

جیسا کہ نو منتخب سوشلسٹ صدر گیبریل بورک کے پہلے خطاب کے الفاظ بتاتے ہیں، چلی ایک نیو لبرل منصوبے کے لیے سامراج کی آزمائشی دوڑ تھی جس نے تب سے پوری دنیا میں تباہی مچا رکھی ہے۔ ڈکٹیٹر پنوشے کی مخالفت کرنے پر چلی کے عوام پر وحشیانہ جبر نے شکاگو اسکول کے ماہرین اقتصادیات کو ملٹن فریڈمین کی قیادت میں پورے ملک پر نجکاری اور ڈی ریگولیشن کے اپنے نظریے کو مسلط کرنے کے لیے آزادی دی۔ سامراجی ملٹی نیشنل کارپریشنوں کے استحصال، پرائیویٹائزیشن اور نیو لیبرل پالیسیوں کی بدولت ملک میں بے روزگاری بڑھیں، اجرتیں کم ہوئیں، غربت میں اضافہ ہوا، عوامی فلاح کے منصوبے بند ہو گئے اور عوامی خدمات ختم ہو گئیں اور امیر امیر تر ہوتے گئے۔

سامراج کی جانب سے اس تجربے کو کامیاب سمجھا گیا، جس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ریگنومکس اور برطانیہ میں تھیچرزم کے لیے بلیو پرنٹ کا کردار ادا کیا۔ چلی کی عوام نے ان استحصالی حربوں کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے، اور اپنے ملک کو سامراجی استحصال سے آزادی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد پر ملکی نظام کی تشکیل نو کا سگنل دے دیا ہے۔ اب سماجی تبدیلی کی یہ جدوجہد چلی تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اس کے اثرات خطے کے دیگر ممالک پر بھی پڑیں گے اور ان ممالک کے عوام کو سامراج سے آزادی اور استحصال سے پاک معاشروں کے قیام کے لیے صف بندی کی ترغیب ملے گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

پرویز فتح (لیڈز-برطانیہ)

پرویز فتح برطانیہ کے شہر لیذز میں مقیم ہیں اور برٹش ایروسپیس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ وہ برطانیہ میں ساوتھ ایشین ممالک کے ترقی پسندوں کی تنظیم ساوتھ ایشین پیپلز فورم کورڈینیٹر ہیں اور برطابیہ میں اینٹی ریسزم اور سوشل جسٹس کے لئے سرگرم ہیں۔

pervez-fateh has 31 posts and counting.See all posts by pervez-fateh

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments