سردیوں کا ادبی حل



بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ایک وسیع و عریض خطہ، یعنی کل پاکستان کے تینتالیس فی صد حصے پر مشتمل صوبہ ہے۔ لیکن بد قسمتی سے بلوچستان کا نام سنتے ہی احساس محرومی اور پسماندگی کا برجستہ احساس ہو جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کہ بلوچستان کو اب بھی ایک کالونی کی طرح کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہو نے کے باوجود صوبے کے لوگ گیس، بجلی، صاف پانی اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ بادل ناخواستہ اگر مقتدرہ کی یہی روش برقرار رہی تو مبادا بلوچستان اور پسماندگی آپس میں ضم ہو کر مرکب امتزاجی بن جائے۔

دراصل، ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ خطہ نہ صرف سیاسی شعبدہ بازوں، طفیلیے صفت سرداروں اور حریص سماج دشمن بیرونی قوتوں اور قومیت پرستی کے نام پر پروردہ لسانی گروہوں کی آماجگاہ رہا ہے بلکہ قدرتی آفات، غذائی قلت، ماحولیاتی تبدیلی اور شدید قحط کا مسکن بھی رہا ہے۔ بلوچستان کی آب و ہوا گرم اور خشک رہی ہے، جبکہ سردیوں میں کڑاکے کی سردی ہوتی ہے۔ سردیوں میں شہری علاقوں کے لوگ گیس جلا کر اور دیہاتی علاقوں کے لوگ جنگلات کاٹ کر گزر بسر کرتے ہیں، جب کہ تونگر لوگ بازار سے توانائی کی ضروریات پورا کر لیتے ہیں۔ شومئی قسمت سے سردیوں میں ہر سال کی طرح اس سال بھی گیس کے قلیل دباؤ نے لوگوں کو پریشان حال کر دیا ہے۔ یہ صرف ہم بلوچستانی ہی جانتے ہیں کہ سردیوں میں بلوچستان کا موسم نقطۂ انجماد اور درجۂ اعتماد دونوں سے گر جاتا ہے۔ دسمبر، جنوری اور فروری کے مہینے جیب پر بہت بھاری ثابت ہوتے ہیں۔ حکومت وقت نے بھی، لوگوں کی نبض شناس ہوتے ہوئے بلوچستان کے غیور عوام (جس میں بھاری بھرکم بلوں کی ادائیگی کی وجہ سے ہم نہ رہے ) کے ساتھ سلو میٹر کے نام پر شطرنج کا کچھ ایسا کھیل کھیلا، کہ بندہ مجبور گیس جلائے نہ جلائے، اپنی آمدنی کا کثیر حصہ بل کی ادائیگی کو تقدیر الہٰی یا ریاستی جبر سمجھ کر صرف کرنا پڑتا ہے۔ بہ صورت دیگر اگلی دفعہ وہ عظیم الجثہ بل آئے گا کہ پہلی جھلک سے بندہ ساکت اور چند لمحے بعد انگڑائیاں لے کر اس سراب میں گم ہو کر بے ساختہ کہے : اے رازق، بزرگ و برتر! آخر تو نے مجھے پاکستان کا مالیاتی خسارہ کم کرنے اور بلوں کی ادائیگی کے لیے پیدا کیا ہے یا اپنی عبادت کے لیے؟ کم از کم روز محشر بندہ مجبور کی تقصیروں کو طشت ازبام کر کے شرمندہ نہ کریں۔

روز محشر جب میرا پیش ہو دفتر عمل
تو بھی شرمسار ہوں، مجھے بھی شرمسار کر

آج جنوری شروع ہونے کو ہے۔ سرد ہوائیں سر پھٹ چل رہی ہیں اور سیٹیاں بجاتی ہیں۔ بھیگی بھیگی راتیں ہیں، بوندا باندی ہو رہی ہیں، نیلے آسمان نے دہشت کا کالا لباس پہن لیا ہے، بجلی چمکتی ہے، ہر طرف افق پر گھنگھور گھٹائیں نظر آ رہی ہیں۔ لیکن نہ جانے فی الحال کھل کر برسنے سے کیوں گریزاں ہیں؟ آخر اس نے تو بل نہیں بھرنا ہے۔ شاید وہ حکم الٰہی کے منتظر ہیں، مگر بندہ مجبور اس کے تانے بانے بھی گیس کی قلیل دباؤ سے ملا کر شانت ہوجاتا ہے کہ اسی میں ہماری بھلا ہے، لیکن کریں تو کیا کریں؟

ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی
چاہے ہیں سو آپ کریں ہیں، ہم کو عبث بدنام کیا

دل چھوٹا نہ کریں۔ کیا ہوا۔ گیس کا بحران ہے، کڑاکے کی سردی ہے، اور بس؟ اللہ نے انسان کو قوت متخیلہ، سوچنے اور سمجھنے کی بے پناہ صلاحیت کیوں ودیعت کی ہے؟ بندہ مجبور اگر ادیب یا ادب پسند ہو تو اس کی تجاویز خارج از دلچسپی نہیں ہوں گی۔ تکیہ کو ٹیک لگا کر سستا لیں ؛ آنکھیں بند کر لیں ؛ اور ٹانگ کو ٹانگ پر رکھ کر آہستہ آہستہ گھمانا شروع کر لیں۔ یہ عمل جاری رکھیں۔ اس دوران میں مستقل مزاجی کا خاص خیال رکھیں۔ ویسے بھی ہم غربت، پسماندگی، احساس محرومی، ناخواندگی، ضعیف الاعتقادی، تقلید پرستی اور سائنس بیزاری میں بلا کے مستقل مزاج ہیں۔ دریں اثناء اگر آپ کی سوچ کی رفتار کے ساتھ ساتھ پاؤں گھمانے کی رفتار بھی بڑھ جائے تو جلد یا بدیر آپ پر منکشف ہو جائے گا کہ اگر شدید سردی کا موسم ہو اور حرارت کا معقول ذریعہ نہ ہو تو منٹو، عصمت چغتائی اور بلونت سنگھ کے افسانے ؛ داغ، جرات، انشاء اور میرا جی کی شاعری سے افاقہ ممکن ہو گا۔

پہلے پہل مجھے اس مجرب اور آزمودہ نسخے کے انکشاف پر بے اختیار ہنسی آئی اور بالا مذکورہ نسخے پر سے اعتماد بھی اٹھنے لگا۔ دریں اثنا ضمیر کی آواز آئی کہ صرف ایک بار آزمانے میں کیا حرج ہے۔ اب منصوبے پر عمل کرنے کا وقت شروع ہوا، تو الماری کی راہ سدھار لی، منٹو کے افسانوں کا مجموعہ اٹھا کر کمبل میں ایک طرف دبک کر ”کالی شلوار“ پڑھنا شروع کر دیا تھا کہ وسط تک پہنچنے ہی رگوں میں مچھلیاں تیرنے لگیں، اور کچھ دیر میں نا مانوس حدت انگیز کیفیت محسوس کی۔ اب مجھے آہستہ آہستہ یقین آ رہا تھا کہ نسخہ تو واقعی کارگر ثابت ہو رہا ہے۔ اب میں جسمانی طور پر یہیں ہوں اور روحانی طور پر افسانے کے کرداروں، اور تہہ در تہہ رنگین معاملوں میں گم ہو کر گیس کی نہیں بلکہ اپنی شباب کی حرارت سے محظوظ ہو رہا ہوں۔ افسانہ ختم ہوتے ہی میں کمبل اوڑھے بغیر، پسینے سے شرابور ہوں، اور ٹمٹماتے گیس کی طرف فاتحانہ انداز سے دیکھ رہا ہوں کہ پڑھنے کو ابھی تک بہت کچھ باقی ہے۔ بل نے تو یوں ہی آنا ہے، کہیں سے ادھار لے کر بھر لیں گے۔

نوٹ! یہ نسخہ صرف جوانوں کے لیے کارگر ہے۔ چھوٹے اور بوڑھے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر پاؤں گھما کر اپنے مسئلے کا حل اپنی عمر کے مطابق خود نکالیں۔

Facebook Comments HS