راول پنڈی چھاؤنی اور نجی سکول


راول پنڈی چھاؤنی میں ٹیپو روڈ پر ایک نجی سکول کو اس وقت سیل کر دیا گیا جب کہ پرائمری سکول کے بچے اس وقت سکول کے اندر ہی موجود تھے۔ سکول سیل ہونے کی خبر پر چھوٹے چھوٹے بچے خوف کے مارے چیخ و پکار کرتے رہے بالآخر قریبی دکان داروں نے آ کر سکول کھلوایا، اتنی دیر میں بچوں کے والدین بھی پہنچ گئے اور انہوں نے احتجاج کیا۔ یاد رہے کہ راول پنڈی چھاؤنی سے نجی سکولوں کو باہر نکلنے کا حکم مل چکا ہے۔ اس کی ڈیڈ لائن بھی ختم ہو چکی ہے۔ اس معاملے پر بات کرنے سے قبل ریاستی عدالتوں کو ان بے غیرتوں کو چوک میں جوتے مارنے چاہئیں جنہوں نے ننھے منے بچوں کے ساتھ یہ ظلم کیا۔ یہ خوف اکثر بچوں کے ساتھ ہمیشہ رہے گا۔ بہت سے بچوں کے ساتھ یہ خوف ممکن ہے عمر بھر رہے۔ کچھ کے لیے یہ نفسیاتی عارضہ بھی بن سکتا ہے۔ اس کا کون ذمہ دار ہو گا؟ مجھے اس واقعے پر اتنا افسوس ہوا کہ بیان سے باہر ہے۔ میرے بچے تو اس سکول میں نہیں پڑھتے تاہم میں ان بچوں میں اپنے بچے دیکھتا ہوں۔ کیسا کٹھور دل آدمی ہو گا جس نے ان ننھے پرندوں کو قید کیا ہو گا۔

دوسری بات : راولپنڈی کینٹ میں سب سے زیادہ اسکولز ہارلے سٹریٹ میں ہیں جو یقیناً ایک رہائشی کالونی ہے۔ ساتھ ہی فوجی دفاتر اور ہسپتال ہیں۔ یقیناً ان سکولوں یا وہ سکولز جو بالکل فوجی تنصیبات کے ساتھ ہیں انہیں وہاں سے ختم کرنا چاہیے۔ تاہم ہر گلی محلے کے سکول اور وہ سکولز جو کوسوں دور ہیں انہیں بھی ختم کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ کیا حکم صادر کرنے والوں نے سوچا ہے کہ ان بچوں کا مستقبل کیا ہو گا؟ گھروں میں موجود خواتین جو بچوں کو قریب کے سکول میں نرسری یا پریپ پڑھوانے کے لیے بھیج دیتی تھیں۔ وہ اس مسئلے سے کیسے نمٹیں گی۔ کیا حکومت یا عدالت کے پاس اس کا متبادل موجود ہے؟ مجھے نہیں یاد کہ حکومت نے پچھلے چالیس برسوں میں کوئی نیا ایف جی یا گورنمنٹ سکول بنایا ہو راولپنڈی کینٹ میں۔ یہاں مجھے بول فلم کا ایک ڈائیلاگ یاد آ گیا اس میں کچھ ترمیم کرتا ہوں کہ ”اگر نئے سکولز بنا نہیں سکتے ہو تو پرانے ختم کیوں کر رہے ہو؟

عدالت خدارا نسلہ ٹاور کے مکینوں کی طرح غریبوں کے بچوں کے ساتھ ظلم نہ کرے اور فیصلے پر نظر ثانی فرمائے۔ بچے یوں بھی ہمارے سماج کا سب سے مظلوم طبقہ ہے۔ پچھلے چوہتر برس میں نجی چینلز کی ایک قطار لگ گئی لیکن بچوں کا کوئی چینل نہ کھل سکا۔ کیا ریاست اپنے بچوں کی تربیت کے لیے ایک چینل کا بوجھ بھی برداشت کرنے سے قاصر ہے۔ چینل کی عدم موجودگی کی صورت میں بچوں کو ان چینلز پر اکتفا کرنا پڑتا ہے جو کیبل پر دستیاب ہیں جن پر زیادہ تر ہندی ڈبڈ کارٹونز دکھائے جاتے ہیں۔ کیا ہمیں معلوم نہیں کہ بچوں کی عمر کا سب سے حساس مرحلہ 3 سے 9 برس کا ہوتا ہے۔ کیا شخصیت سازی کے لیے ہم ہندوستانی زبان اور ثقافت پر اکتفا کریں گے؟ پی ٹی وی پر بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں زیادہ تر دکھایا جانے والا پہلے سے موجود یو ٹیوب چینلز سے شاید خریدا گیا ہے۔ پڑھانے والے اساتذہ کا اپنا تلفظ درست نہیں۔ خدارا بچوں کو سکھا نہیں سکتے تو بگاڑیں تو نہیں۔ یہی اگنورڈ طبقہ جسے آپ قوم کا مستقبل کہتے ہیں کل کلاں اس قوم کے لیے ایک بوجھ بن سکتا ہے۔ نجی سکولوں کی تعلیم گردی اپنی جگہ تاہم ریاست کو اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے اور آبادی کے تناسب سے سکولز بنانے چاہئیں۔ افسوس ہوتا ہے کہ ہر حکومت بنی ہوئی گلی پر ایک اور گلی، بنی ہوئی سڑک پر ایک اور سڑک بنا دیتی ہے، لیکن سکول نہیں بناتی۔ خدارا ان بچوں کو اپنے بچے سمجھیے اور غریبوں کے مسائل حل کیجیے۔

Facebook Comments HS