عورت کو غلطی کے حقوق


writer403@gmail.com

 دو بھائی، دو بہنیں، پانچویں خود نورین اور ماں باپ، کل ملا کر سات افراد کا کنبہ تھا، جس میں نورین نے آنکھ کھولی اور پلی بڑھی۔ والدہ، بنت ِ فاطمہ اور والد، محمد حسنین بھی اچھے تعلیم یافتہ تھے۔ گھر میں بہت سی کتابیں تھیں اور ماحول بھی بڑا علمی ادبی تھا۔ والدہ بے شک پانچ وقت کی نمازی تھیں اور ہر صبح قران شریف کی تلاوت بھی اُن کا معمول تھالیکن والد عید کی نماز کو ہی کافی سمجھتے تھے۔ دونوں میاں بیوی کبھی ایک دوسرے کے عقیدے کے بارے میں بھی کوئی بات نہیں کرتے تھے، نہ اچھی ناہی بُری۔ دونوں میں پیار بھی بہت تھا اور دونوں ایک دوسرے کی عزت بھی بہت کرتے تھے۔ ایک بات اور دونوں میاں بیوی کے درمیان پہلے ہی سے طے تھی کہ بچے جب تک بڑے ہو کرخود فیصلہ کرنے کے قابل نہ ہو جائیں، اُن پر کسی عقیدے کا دباؤ نہیں ڈالا جائے گا۔ پڑھ لکھ کر وہ جو بھی عقیدہ اختیار کرنا چاہیں، اس کا انحصار خود اُن کی صوابدید پر ہو گا۔ اکیلے محمد حسنین کمانے والے تھے، اس لئے گھر میں مالی آسودگی تو نہ ہو سکی، البتہ گزارا اچھا ہوتا رہااور سب بچوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
بڑے ہو کر دونوں بھائی کسی حد تک مذہب کی طرف راغب ہو گئے لیکن نورین سمیت تینوں بہنوں نے معقول سی آزاد روی اختیار کی۔ بھائی حالانکہ دونوں کے دونوں بڑے تھے لیکن محمد حسنین نے انہیں کبھی اجازت نہ دی کہ وہ بہنوں پر کوئی پابندی لگانے کی کوشش کریں، اُن کے معاملات میں دخل انداز ہوں یا کبھی اُن پر حُکم چلا سکیں۔ یہی وجہ تھی کہ تینوں بہنیں تعلیمی میدان اور تعلیمی اداروں، ہر جگہ پُراعتماد رہیں۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعدنورین نے ایک مقامی انگلش سکول میں ٹیچنگ شروع کر دی۔ وہیں وہ اپنی دوسری کولیگز کے ساتھ مل کرایک ایسی تنظیم کا حصہ بن گئی جو عورتوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہی تھی۔ تنظیم کا یک نکاتی ایجنڈا ہر معاملے میں برابری کے حقوق کا حصول تھا۔ اسی ضمن میں اُن کی تنظیم حقوق ِنسواں کی علم بردار دوسری تنظیموں کے ساتھ مل کرسیمینارز بھی منعقد کرتی رہتی تھی۔ ان تنظیموں میں کچھ پڑھے لکھے اور اعلیٰ عہدوں پر فائز مرد حضرات بھی شامل تھے۔ نورین کی کولیگز نے بے شک اُسے ابتدا ء میں ہی خبردار کر دیا تھا کہ وہ ان مَردوں سے بچ کر رہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ سب کے سب گفتگو تو بہت اچھی کرتے ہیں،ہمارے کاموں میں بڑھ چڑھ کر مددگار بھی ثابت ہوتے ہیں، مگران میں کچھ لوگ منافق بھی ہیں۔ وہ باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن دل سے عورتوں کو برابری کے حقوق دینے پر رضامند نہیں ہیں۔ موقع ملنے پر خواتین کا استحصال کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ مگر پھر بھی، ایسے ہی ایک
سیمینار میں، جب نورین کا سامنا عابد زاہد سے ہوا تو وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ عابد زاہد نہ صرف یہ کہ حقوق ِنسواں کا ایک بڑا حامی تھا بلکہ وہ ایک قابل اور انتہائی کامیاب وکیل بھی تھا۔
دو چار ملاقاتوں کے بعد ہی وہ ایک دوسرے کے کافی قریب آ گئے۔ مگر جب عابد زاہد نے اُسے شادی کی درخواست کی تو نورین نے یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ کسی ایسے گھر میں نہیں رہنا چاہتی جو اُس کی ملکیت نہ ہو یا اُس کی ملکیت میں اُس کا حصہ نہ ہو۔ عابد زاہد کی وکالت اچھی چل رہی تھی اور وہ ایک معقول گھر کا مالک تھا۔ اُس نے نورین کو پیش کش کی کہ وہ نکاح کے وقت ہی گھر کی ملکیت میں اُسے حصہ دار بنا لے گا۔ مگر نورین کی ضد تھی کہ وہ حصہ خود اس کی محنت کی کمائی سے خریدا ہوا ہونا چاہئیے۔ اور جب تک وہ ایسا نہیں کر سکتی وہ شادی کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس لئے دونوں کو شادی کے مقام تک پہنچنے میں پانچ سال لگ گئے۔
نورین نے پہلے تو اپنی تنخواہ سے بڑا حصہ بچایا، پھر کچھ والد صاحب سے ملا، باقی بینک سے قرضہ لیا اور عابد زاہد کے ساتھ مل کر گھر خریدا۔ پھر دونوں نے سادگی سے شادی کر لی۔ عابد زاہد نے نکاح نامے میں لکھ کر دیا کہ زندگی کے ہر مرحلے پر اور ہر معاملے میں نورین کو اُس کے برابر حقوق حاصل رہیں گے۔
اب تو اُن کی شادی کو بھی کئی سال گزر چکے تھے۔ عابد زاہد کی وکالت بھی خوب چمک رہی تھی اور نورین بھی اُسی سکول میں وائس پرنسپل کے عہدے تک پہنچ گئی تھی۔ سب ملنے جلنے والوں میں وہ ایک مثالی جوڑا سمجھے جاتے تھے۔ عام الفاظ میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ نہایت خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے۔ تہہ شدہ پروگرام کے تحت اگلے سال وہ بچہ پیدا کرنے کے لئے بھی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
اُس شام عابد زاہد کو ایک بار پھر کام کی زیادتی کی وجہ سے دیر تک اپنے چیمبر میں رکنا پڑا۔ اس لئے اُس نے کال کر کے نورین کو بتا دیا تھا کہ وہ شام کے کھانے پر اُس کا انتظار نہ کرے۔ ایسا پہلے بھی کئی بار ہو چکا تھا اس لئے نورین نے اس بات کو کوئی خاص اہمیت نہ دی۔ اُس نے گھر کے دیگر کام نمٹائے، کھانا کھایااور عابد زاہد کے انتظار میں، ٹی وی لاؤنج میں آ بیٹھی۔
نورین اُس وقت ٹی وی دیکھ رہی تھی جب عابد کی گاڑی کی آواز آئی۔ جب تک عابد اپنی چابی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تب تک نورین دروازے کے پاس پہنچ چکی تھی۔ شادی کے بعد سے عابد کا یہ معمول چلا آ رہا تھاکہ وہ اندر داخل ہوتے ہی پہلے نورین کو گلے لگاتا، اُس کا ایک لمبا بوسہ لیتااور پھر باقی کام کرتا۔ دونوں میں طے تھا کہ اگر کوئی ناراضگی وغیرہ بھی چل رہی ہوتو بھی یہ سین ایسے ہی چلے گا۔ گلے،شکوے، شکایات اگر دونوں میں سے کسی کو ہوں گی تو بھی اُن پر بات بعد میں کی جائے گی۔ اس لئے نورین بھی اسے دروازے کے پاس ہی ملتی تھی۔ اُس دن بھی عابد اندر داخل ہوا تو نورین اسی انتظار میں تھی کہ اب وہ اُسے گلے لگائے گا اور پھر ایک لمبا بوسہ ہو گا۔ مگر اُس دن ایسا نہیں ہوا۔ عابد نے اندر آتے ہی سخت تھکاوٹ کا اعلان کیا اور کپڑے بدل کر سیدھا نہانے چلا گیا۔ نورین کو ایک شاک لگا اور وہ بجھ سی گئی۔ وہ واپس ٹی وی لاؤنج میں آ کر بیٹھ گئی۔ پچھلے ایک سال کے دوران آج تیسری چوتھی بار ایسا ہوا تھااور ہر بار ایسے موقع پر عابد نے نہانے میں بھی ضرورت سے زیادہ دیر لگائی تھی۔ آج پھر ایسا ہی ہوا۔ جب عابد کو نہاتے ہوئے کافی وقت گزر گیا تو ایک غیر واضح سے خدشے نے نورین کے دماغ پر دستک دی۔ وہ کپڑوں کی الماری کی طرف گئی اور تیز روشنی میں عابد کے آج والے کپڑے نکال کر اُن کا نہایت توجہ سے جائزہ لینے لگی۔ عابد کی قمیض کے کالر پر لپ سٹک کا ہلکا سا نشان دیکھ کر اُس کا ماتھا ٹھنکا۔ سونگھا تو قمیض اور کوٹ سے کسی نسوانی پرفیوم کی خوشبو آ رہی تھی۔ نورین نے خود کبھی ایسا پرفیوم استعمال نہیں کیا تھا، ناہی یہ لپ سٹک کا نشان اُس کا تھا۔ وہ اپنے طور پر ممکنہ واقعات کا اندازہ لگانے لگی۔

وہ پھر سے ٹی وی لاؤنج میں آ کر بیٹھ گئی اور اگلے اقدام کی تیاری کرنے لگی۔ اگر عابد ایک اعلیٰ پائے کا وکیل تھا تو نورین نے بھی انسانی نفسیات کا بڑا عمیق مطالعہ کر رکھا تھا۔ اس ضمن میں وہ نئے نئے مضامین بھی پڑھتی رہتی تھی۔ اُس نے اچانک حملے کا منصوبہ بنا لیا۔
عابد نہا کر باہر نکلا تو نورین نے بغیر کسی تمہید کے سیدھے سیدھے پوچھ لیا”کیا نام ہے اُس عورت کا؟”۔
۔ "کس عورت کی بات کر رہی ہو تم؟” عابد نے انجان بنتے ہوئے اور کسی حد تک حیرت زدہ لہجے میں اُلٹا سوال کر دیا۔
۔ "جس کے بدن کی مَیل اپنے جسم سے اُتارنے کے لئے تم اتنی دیر تک نہا رہے تھے”۔ نورین نے نہایت پُراعتماد لہجے میں جواب دیا
۔ "تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے نورین۔ تمہاری پہلی ملاقات سے لے کر آج تک تمہارے سوا کسی عورت کی میرے جسم تک رسائی نہیں ہوئی”۔ عابد نے سمجھانے والے انداز میں نورین کو جواب دیا۔
لیکن نورین کہاں رکنے والی تھی؟ اُس نے تو ذہنی طور پر مکمل تیاری کی ہوئی تھی، بولی”جی نہیں۔ بالکل نہیں، میرے پاس تو اس امر کا مکمل ثبوت موجود ہے کہ آج تم کسی عورت کے بدن سے فیضیاب ہو کر آ رہے ہو”۔
۔ "تم زیادتی کر رہی ہو نورین۔ کیا ثبوت ہے تمہارے پاس ایسے بیہودہ الزام کا؟”۔
۔ "ثبوت ہیں اور پکے ثبوت ہیں۔ کچھ خود تمہاری غلطی سے ظاہر ہوئے ہیں اور زیادہ تر تمہارے دفتر کے عملہ نے فراہم کئے ہیں۔ یاد کرو تم نے مجھے خود بتایا تھا کہ مجرم کتنا بھی ہوشیار کیوں نہ ہو، وہ کہیں نہ کہیں اپنے جرم کے نشانات چھوڑ جاتا ہے۔ سو تم سے بھی کافی کوتاہیاں ہوئی ہیں اور کچھ اُس عورت سے بھی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ نشان اُس عورت نے دانستہ بنا دئیے ہوں”۔
عابد کو یہ تو اندازہ نہیں تھا کہ اُس نے خود کیا ثبوت فراہم کر دیا ہے مگر دفتر کے عملے کا تکّا عین نشانے پر لگا۔ وہ سوچ میں پڑ کر فوراً خاموش ہو گیا۔ تب نورین نے نہایت اطمینان سے کہا”اگر تم سچ سچ بتا دو تو اپنی بدنامی سے بچ جاؤ گے۔ اور ہو سکتا ہے میں تمہیں معاف بھی کر دوں۔ لیکن مزید جھوٹ بولنے کی صورت میں تمہیں بہت بُرے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا”۔
عابد ڈر گیا۔ اس طرح کے معاملے میں اُس کی بدنامی ہو تو اُس کی سماجی حیثیت پر سیاہی کے دھبے پڑسکتے تھے اور اس کی وکالت بھی برے اثرات کا شکار ہو سکتی تھی۔ وہ ایسے نقصانات اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔ پھر وہ نورین کی طبیعت سے بھی واقف تھا کہ وہ جو کہہ رہی ہے، اگر اُسے ضرورت پڑ جائے تو کر بھی گزرے گی۔ وہ فورا ً نورین کے قدموں میں جا بیٹھا”مجھے معاف کر دو نورین۔ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی”۔
نورین جو اُس کے اعتراف سے اندرونی طور پر اور بھی رنجیدہ ہو گئی تھی خود پر قابو پاتے ہوئے ذرا مزاحیہ انداز میں بولی”اچھا؟ تم
سے غلطی ہو گئی۔ چلو ذرا تفصیل سے بتاؤ،یہ غلطی ہوئی کیسے؟”۔
عابد چہرے پر معصومیت طاری کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا”تم یقین کرو نورین۔ اگر تم میری جگہ ہوتیں۔ مطلب تم بھی میری طرح ایک جوان مرد ہوتیں تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ تمہارے ساتھ بھی یہی کچھ نہ ہوتا، جو میرے ساتھ ہوا۔ اُس لڑکی کو اگر حُسن اور جنس کا شاہکار کہا جائے تو یہ بہت ہی کم ہو گا۔ وہ تو کشش کا ایک ایسا سمندر تھی کہ سخت سے سخت دل بھی اس کی طرف کھنچا چلا جائے۔ اس لئے میں بھی خود پر قابو نہ رکھ سکا۔ اب تم مجھے جو مرضی سزا دو۔ میں اُف نہ کروں گا”۔
۔ "اب تم یہ بھی کہو گے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے؟”۔
۔ "بالکل، پہلی اور آخری بار ہوا ہے۔ آئندہ کبھی نہیں ہو گا۔ بس تم ایک بار مجھے معاف کر دو۔ میں پھر کبھی ایسی کسی عورت کو قریب بھی نہیں آنے دوں گا”۔ اور وہ نورین کی طرف التجائیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
۔ "ایسا پہلی بار ہوا ہے،یہ بھی جھوٹ ہے۔ لیکن میں پھر بھی تمہیں معاف کرنے کے لئے تیا ر ہوں۔ البتہ میری ایک شرط ہے”۔
۔ "مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے۔ بس تم مجھے ایک بار معاف کر دو”۔
نورین وہیں بیٹھے بیٹھے بڑے تحمل سے بولی”ٹھہرو ٹھہرو، پہلے میری شرط تو سُن لو۔ میں ایسا کرتی ہوں۔ میں بھی ایسی ہی ایک غلطی کر لیتی ہوں، ہمارا حساب برابر ہو جائے گااور ہماری زندگی بھی معمول پر آجائے گی”۔
عابد نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے۔ "خدا کے لئے میرے جرم کی سزا خود کو مت دو”۔
۔ "نہیں نہیں، سزا کیسے ہوئی؟ میں تو اسے انجوائے کروں گی”۔
عابد یک دم پھر سے ایک روایتی مرد بن گیا”بالکل نہیں! میں تمہیں کسی صورت بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں دوں گا”۔
۔ "اچھا؟ تو وہ جو نکاح نامے میں برابری کے حقوق کی شق لکھی ہے۔ ہر معاملے میں اور ہر طرح سے برابری کے حقوق؟”۔
۔ "میں نے تمہیں ہر طرح سے برابری کے حقوق دئیے ہیں، لیکن اس معاملے میں نہیں دے سکتا”۔
اب وہ جیسے بالکل روایتی مرد بن گیا تھااور سخت غصے میں تھا۔ البتہ نورین اُسی طرح اطمینان سے بیٹھی ہوئی تھی۔ "ٹھیک ہے! پھر دوسرا کام کرتے ہیں۔ تم مجھے طلاق دے دو۔ اس گھر میں آدھا حصہ میرا ہے۔ ہم اپنا اپنا پورشن علیحدہ کر لیتے ہیں”۔
۔ "میں سارا گھر تمہارے نام کرنے کو تیار ہوں مگر خدا کے لئے طلاق کی بات نہ کرو۔ میں تمہارے بغیر مر جاؤں گا نورین۔ میں تم سے بے انتہا محبت کرتا ہوں”۔
۔ "محبت تو میں بھی کرتی ہوں تم سے، اور اگر یہ برابری کا حق استعمال کر لوں گی تو میری تم سے محبت اور بھی بڑھ جائے گی۔ میری زندگی میں توکوئی اور مرد کبھی تھا ہی نہیں۔ البتہ تم جس محبت کا دعویٰ کر رہے ہو وہ تو کسی دوسری عورت کا جسم دیکھ کر اپنا چہرہ ہی چھپا لیتی ہے”۔
۔ "میں بھٹک گیا تھا نورین! خدا کے لئے مجھے ایک بار معاف کر دو۔ یقین کرو اس کے بعد تم مجھے پہلے سے بھی بہتر پاؤ گی”۔
۔ "دیکھو! مسٹر عابد زاہد! مجھے اس وقت زیادہ دُکھ یہ سوچ کر ہو رہا ہے کہ میں نے نکاح کے وقت ہی کیوں خود تمہیں طلاق دینے کا حق نہیں لکھوایا؟ اس لئے اب تمہارے پاس دو ہی راستے ہیں۔ یا تو مجھے بھی ویسی ہی غلطی کا حق دو یا پھر مجھے طلاق دو۔ اور مت بھولو کہ اگر تم مجھے طلاق نہیں دو گے تو پھر میں عدالت میں جانے سے پہلے اخبارات کے دفاتر کا رُخ کروں گی۔ ٹی وی چینلز پر جاؤں گی۔ اپنی تنظیم کو حرکت میں لاؤں گی اور تمہاری بدنامی کا ایسا اشتہار لگاؤں گی کہ تمہاری پریکٹس تو تباہ ہو گی ہی، ہو سکتا ہے تمہیں ملک چھوڑ کر ہی بھاگنا پڑے۔ اس لئے دوسری صورت میں تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ تم مجھے طلاق دے دو۔ سب کچھ ہمارے درمیان ہی رہے گا۔ میں سب سے یہی کہوں گی کہ طلاق دونوں کی رضامندی سے ہوئی ہے۔ اب فیصلہ تمہارے ہاتھوں میں ہے”۔
عابد جانتا تھا کہ اگر معاملہ عدالت میں گیا، اخبارات اور ٹی وی چینلز پر اچھالا گیا تو حقیقتا ً ایسا ہی ہو گا جیسا کہ نورین کہہ رہی ہے۔ لیکن اپنی طرح کی غلطی کا حق اس نے نورین کو پھر بھی نہیں دیا۔ البتہ، انتہائی ٹُوٹے ہوئے دل سے ہی سہی، مگراسے طلاق دینے کے لئے تیار ہو گیا۔ دوسرے دن کاغذات تیار کروا لئے گئے۔ دونوں کے دستخط ہو گئے تو نورین نے طلاق نامہ لے جا کر متعلقہ محکمے میں طلاق رجسٹر کرا لی۔ واپس گھر پہنچی تو عابد وہیں تھا۔ نورین اُس کے پاس گئی اور سامنے بیٹھ کر بولی”اس سے پہلے کہ ہم گھر کی تقسیم کے بارے میں بات کریں، میں تمہیں کچھ بتانا چاہتی ہوں”۔
عابد حیرت اور تجسس سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر بربادی اور شرمندگی جلی حروف میں لکھی ہوئی تھی۔ نورین نے بات آگے بڑھائی”تم جو اتنے بڑے وکیل بنے پھرتے ہو، ایک ٹکے کا دماغ نہیں ہے تمہارے پاس۔ میری زندگی میں نہ تمہاری آمد سے پہلے کبھی کوئی مرد تھا اور نہ تمہاری بیوی بننے کے بعد کوئی آسکتا تھا۔ میں تو تم سے صرف برابری کا حق مانگ رہی تھی۔ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ تمہاری بیوی ہوتے ہوئے میں کسی اور مرد کو اپنے جسم پر ہاتھ بھی رکھنے دیتی۔ انتقاماً بھی نہیں۔ مگر افسوس! تم جو اتنی محبت کا دعویٰ کرتے تھے تم مجھے اتنا بھی نہ جان سکے۔ کاش تم صرف ایک بار مجھے کہہ دیتے کہ جاؤ نورین! جو جی چاہتا ہے کرو، جس کے ساتھ سونا چاہتی ہو سو جاؤ۔ جو غلطی میں نے ایک بار کی ہے تم بے شک دس بار کر لو، لیکن مجھ سے طلاق نہ مانگو تو میرا سر فخر سے تن جاتا۔ لیکن نہیں، تم اپنے تمام دعووں کے باوجود اپنے اندر کے پدرسری معاشرے کے اُس روایتی مرد کو نہ مار سکے جو ہر طرح کی قربانی صرف عورت سے ہی طلب کرتا ہے”۔
عابد زاہد ایک دم سے خوش ہو گیا”ہم طلاق واپس کر سکتے ہیں۔ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہے نورین۔ میں تم سے بے انتہا پیار کرتا ہوں لیکن افسوس میں تمہاری ذات میں چھپی ہوئی اس عظیم عورت کو نہ پہچان سکا”۔
۔ "اب تو سب پردے اُتر چکے ہیں مسٹر عابد زاہد۔ اب میری طرف سے واپسی کے تمام رستے بند ہو چکے ہیں۔ اگر کوئی گنجائش باقی ہوتی تو میں طلاق رجسٹر کرانے نہ جاتی۔ اب تو تم بس یہ فیصلہ کرو کہ اس گھر کو تقسیم کیسے کرنا ہے؟”۔
۔ "میں اس گھر کو تقسیم نہیں کروں گا نورین۔ میں اسے ایسے ہی چھوڑ جاؤں گا۔ تم چاہو تو سارا گھر استعمال کر سکتی ہو۔ تم کہو گی تو میں اپنا حصہ تمہارے نام لکھ دوں گا اور یہاں سے چلا جاؤں گا”۔
۔ "جو شخص صرف لفظوں کی حد تک بھی مجھے برابری کا حق دینے کا حوصلہ نہ رکھتا ہو، میں اُس کی کوئی خیرات لے لوں گی؟ یہ تم نے سوچا بھی کیسے؟ اب بس یہی بہتر ہے کہ ہم دو اچھے انسانوں کی طرح اس گھر کا بٹوارا کر لیں۔ جب تمہارا موڈ ہو گا مجھے فون کرکے بتا دینا۔ ابھی تو کچھ دنوں کے لئے میں اپنے ماں باپ کے گھر جا رہی ہوں۔ اور سنو! مجھے اس بات کا کوئی دُکھ نہیں ہے کہ ہماری علیحدگی ایسے موقع پر ہوئی ہے جب میں ماں بننے کا پروگرام بنا رہی تھی۔ اور میں عمر کے اُس موڑ پر پہنچ چکی ہوں جہاں سے ایک نیا آغاز کرناشاید بہت ہی مشکل ہو۔ مجھے تو یہ سوچ سوچ کر دُکھ ہو رہا ہے کہ میری کولیگز کتنا سچ کہتی تھیں کہ حقوق ِنسواں کا عَلم اٹھائے ہوئے بھی اکثر مرد ایسے ہیں جو اپنی نزدیکی خواتین کو برابری کے حقوق دینے کے لئے تیار نہیں۔

ذرا سوچو اگر میری جگہ کوئی ایسی عورت ہوتی جس کے پاس نہ اپنا ٹھکانہ ہوتا اور نہ ہی آمدنی کا کوئی ذریعہ، تو وہ کتنی مجبور ہوتی؟ اور تم اُس کا کس قدر استحصال کرتے؟ شاید اس کے سامنے ہی دوسری عورتوں کو بھی لے آتے۔ شکریہ میرے ماں باپ کا، جنہوں نے مجھے مشکل حالات میں بھی تعلیم دلائی اور ہر طرح کا اعتماد دیا۔ تاکہ میں اپنی زندگی اپنی آزادی سے جی سکوں۔ ورنہ اس پدرسری معاشرے میں کوئی مرد مجھے عزت سے جینے نہ دیتا”۔
اُس نے پرس اٹھایا اور باہر نکل گئی۔

Facebook Comments HS