ایک کہانی نئی پرانی
~ کہانی ہے، تو اتنی ہے، فریب خواب ہستی کی
کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہو جائے
سید طارق مشہدی، میرے چچا نے جب چچا ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی کے لیے کچھ لکھنے کے لیے کہا تو جذبات کی ذہن پر یلغار ہو گئی۔ حلق میں آنسوؤں کا گولہ سا پھنس گیا۔ ایک مسکراتا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ 5 جنوری 2021 کو جو اچانک پتا چلا کہ وہ اس دنیا میں نہیں رہے، ایسا لگتا تھا دل غم سے پھٹ جائے گا۔ ہمیشہ خاموش رہنے والے چچا جان خاموشی سے رخصت ہو گئے۔ جو لوگ ان کو قریب سے جانتے ہیں وہ اس بات سے واقف ہیں کہ ان کو موت پر خاموشی سے آنسو بہانا پسند تھا۔ میں نے پہلی بار ان کو دادی امی کی وفات پہ آنسو بہاتے دیکھا۔
میں کوئی بہت بڑی لکھاری نہیں ہوں اپنے چچا کی طرح درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوں، اور ان ہی کے شعبہ ایجوکیشن میں وزیٹنگ لیکچرار ہوں۔ افسوس صد افسوس کہ ان کی زندگی میں یہ سلسلہ نہ ہو سکا۔ مجھے ہمیشہ بہت فخر محسوس ہوتا ہے جب میرے چچا جان کا ذکر بہت اعلیٰ الفاظ میں کیا جاتا ہے۔ ایجوکیشن شعبہ کے تقریباً تمام فیکلٹی ممبران ان کے ہونہار شاگرد ہیں، ان کا ذکر پرنم آنکھوں سے کرتے ہیں۔
ان کی شاگرد میڈم زاہدہ عزیز سیال صاحبہ، میڈم سائرہ صاحبہ، میڈم فرح لطیف صاحبہ، ڈاکٹر بشیر صاحب، چیئرمین جناب ڈاکٹر خالد خورشید صاحب و دیگر خاص انسیت رکھتے ہیں اور اکثر و بیشتر کہتے ہیں کہ استاد محترم کا ایک خاص مقام ہے۔
وہ نا صرف بہترین استاد تھے بلکہ شاعر اور مصنف بھی بہت اعلیٰ پائے کے تھے۔ مگر ہم سب کے برعکس مشتہر ہونا پسند نہیں تھا، جیسا کہ ہم کچھ بھی نیا کرتے ہیں تو خواہش ہوتی ہے کہ ہر شخص خاص توجہ سے دیکھے اور سراہے مگر وہ ان سب چیزوں سے پاک تھے۔ اگر وہ استاد نہ ہوتے تو علم و ادب میں ان کا الگ مقام ہوتا۔ بہرحال جو ہوتا ہے وہ منظور خدا ہوتا ہے۔ اس کا ثبوت ان کی تصانیف ہیں۔ ان تصانیف میں سے ”حصار خواب“ سے میرا پسندیدہ اقتباس پیش خدمت ہے :
میرے دشت دل کے غبار میں جو روشنی سر شام ہے
یہ چراغ ہے تیری یاد کا جو جلا ہوا لب بام ہے
ہیں شباہتیں تیری ہر طرف، ہے تیرا جمال ہی ہر سو
یہ خیال ہے مجھے ہر گھڑی، یہی سوچنا میرا کام ہے
نہ وصال ہے نہ فراق، نہ ہیں قربتیں نہ ہیں دوریاں
یہ بڑی عجیب ہے کیفیت، نہیں جس کا کوئی بھی نام ہے
یہ کھلا ہے راز کہ سوچنا، بڑا جرم ہے میرے شہر میں
ہے سزا بڑی اس جرم کی، یہاں فیصلہ سرعام ہے
ہے اک مقام جو وصل کا ، تو ہے اک مقام فراق کا
یہ وصال و ہجر کا سلسلہ، یہی زندگی کا نظام ہے
میرے لفظ ٹھہرے ہیں نارسا، میری سوچ بھی رہی بے اثر
مجھے ہر قدم پہ گماں یہی، یہ ہنر مرا ابھی خام ہے
بچپن کی یاد میں سب سے خوبصورت یاد اکٹھے جہانیاں میں چھوٹی بڑی عیدین منانا ہے۔ وہ دن بہت ہی خوبصورت تھے میں اور ان کی صاحبزادی زنیرہ فاروق ہم اتنی باتیں کرتے تھے کہ چچا جان دھیمے مسکراتے لہجہ میں کہتے کہ لگتا ہے پورا سال باتیں جمع کرتے ہیں۔ اکثر رات کو چائے پر کسوٹی کے لیے نشست لگتی اور میری کوشش ہوتی کہ میں ان کی ساتھی بنوں کیونکہ ان کے پاس علم زیادہ ہے۔ ایک اور خوبصورت یاد ان کے گھر رہنا ہے۔ اپنی طبعیت کے برعکس بہت اصرار سے لے کر جاتے تھے۔
بہت دھیمے اور محبت بھرے انداز میں مخاطب کر کے بات کرتے۔ میں جب بھی ان کے یہاں جاتی تو ابو (سید خالد مشہدی) اصرار کرتے کہ گڑیا (میرا پیار کا نام) کو وقت پر جگانا، چھٹیوں کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ سویا رہے۔ تو چچا جان اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں جگاتے ہوئے کہتے اٹھ جاؤ بھی گڑیا۔ ہمارے دادا سید ابراہیم مشہدی کیونکہ مطالعہ کے دلدادہ تھے تو یہ شوق ہم سب کے جینز میں آیا ہے۔ اپنی گھریلو لائبریری سے کتابیں پڑھنے کے لئے دیتے، یہ ان کی تربیت کا ایک انداز تھا۔
کئی بار درس و تدریس کے دوران کسی لفظ کا لغوی معنی جاننا ہوتا تو فوراً سے ان کو فون لگایا جاتا اور ایک کلک سے بھی پہلے جواب مل جاتا مثال کے طور پر ایک بار ”ڈرامہ“ کا لغوی معنی معلوم کرنا تھا میں نے ان کو فون کیا تو پوچھا فوراً بولے ”تمثیل“ ۔ ایسی بہت سی مثالیں اور یادیں ہیں جو رہ جاتی ہیں اور ہیرے جیسے لوگ منوں مٹی تلے دفن ہو جاتے ہیں۔
چچا جان بہت ہی کم وقت کے لیے اس دارفانی میں آئے تھے اور بہت سی یادیں چھوڑ گئے۔ بہت یاد آتے ہیں۔
ہم سب کا آپس میں تعلق اتنا گہرا ہے کہ الحمدللہ ہم انہیں والد کی جگہ دیتے ہیں میری شادی سید قرار حسین شاہ جو کہ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں، خاص دلچسپی سے اور محبت سے ملتے بھی تھے اور مشورے بھی دیتے تھے۔
یادوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو تھمتا نہیں صفحات پر صفحات بھر جائیں مگر یادیں نہ تھمیں۔
میری ان کے لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو روشن کریں، روز قیامت ان کا معاملہ حضور ﷺ کے شفاعت یافتہ لوگوں میں کریں اور ان کو جنت اعلیٰ مقام عطا کریں اور ہم سب کو صبر جمیل عطا کریں۔ آمین یارب العالمین۔
~ آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
(آمین ثم آمین)


بہترین تحریر
Excellent work done respected Madam….. Our great teacher and great research supervisor and a man of great qualities…… Thanks for the sharing…. May you be always so creative writer…