عطا ء اللہ عیسٰی خیلوی اور نو دولتیا کلچر

میرے چچا مرحوم شیخ علی میاں عوامی گلوکاروں عطاء اللہ عیسٰی خیلوی اور منصور ملنگی کے بہت بڑے مداح تھے۔ اب تو دیہاتوں میں بھی گاڑیاں عام ہو چکی ہیں، اس وقت بہت سارے گاؤں میں بھی صرف چند انتہائی خوشحال زمینداروں کے پاس موٹر سائیکل ہوتے تھے۔ چچا بڑی شان سے اپنے موٹر سائیکل پہ علاقہ میں سفر کرتے۔ ان کے موٹر سائیکل کی صفائی ستھرائی کے لیے ایک ملازم مقرر تھا۔ بعد میں تو انھوں نے ایک شخص کو موٹر سائیکل کا باقاعدہ ڈرائیور مقرر کیا۔ خیر۔ ریڈیو کا سیٹ عموماً لوگ لاہور یا ملتان سے منگواتے اور ٹیپ ریکارڈر سعودیہ عرب حج کے لیے جانے والے کسی صاحب کے ذمہ لگا دیا جاتا وہ آتے ہوئے جاپانی ٹیپ ریکارڈر لیتا آتا۔
چچا نے بھی منگوا لیا اور اپنے پسندیدہ گلوکاروں کی کیسٹیں بھی خرید لائے جو ہر بازار میں نہیں ملتی تھیں۔ اب دن کے اوقات تو اپنی فصلوں کی دیکھ بھال اور علاقہ کے عوام کے تنازعات کو ایک ہی دن کے پنچایتی فیصلوں کے ذریعے حل کرنے میں گزر جاتا۔ اس وقت دیہات کے عوام میں چھوٹے چھوٹے معاملات پہ عدالتوں کی طرف رجوع کرنے کا رجحان بہت کم تھا۔ لوگ پنچایتی فیصلوں کے ذریعے بڑے بڑے تنازعات اور جائیدادوں اور رشتوں کے جھگڑے ایک ہی دن میں حل کر لیتے۔ رات کو چچا ڈیرہ اوطاق پہ ٹیپ ریکارڈر پہ منصور ملنگی کا گایا ہوا گیت ”نی اک پھل موتیے دا مار کے جگا سوہنیے“ یا عطاء اللہ عیسٰی خیلوی کا گایا ہوا گیت ”بال بتیوں نی ماہی ساکوں مار سنگلاں نال“ سنتے۔
چندی پور گاؤں کا جو کونا گاؤں کے پاس گزرتی سڑک کے ساتھ جا لگتا وہاں اسی سالہ بوڑھی خاتون ماسی گھکی کا گھر تھا۔ گھر کیا تھا ایک مٹی کا بنا کچا کمرہ جس کے اردگرد کوئی چار دیواری نہ تھی۔ کمرے کے باہر مٹی کا چولہا اور سامنے بیری کا بہت بڑا درخت۔ کمرہ میں دو ہی افراد رہتے۔ ماسی گھکی اور اور اس کا نوے سالہ شوہر۔ تعلیمی اداروں کی تعطیلات میں راقم بہاول پور سے چندی پور چلا جاتا۔ ماسی گھکی کے پاس ایک بہت پرانا ٹیپ ریکارڈر تھا اور ٹوٹل صرف ایک کیسٹ وہ بھی عطاء اللہ عیسٰی خیلوی کی۔
سارا دن وہ کیسٹ ٹیپ ریکارڈر پہ چلتی رہتی۔ میں بھی کبھی کبھی وہاں جا کے بیری کے نیچے پڑی چارپائی پہ بیٹھ جاتا۔ گیت چل رہا ہوتا۔ ”کس دیس پیا ہمیں چھوڑ گئے۔ پیا لوٹ کے آنا بھول گئے“ ۔ عشق کا کوئی روگ تو تھا نہیں لیکن عیسٰی خیلوی کے گانے کا انداز اور اس گیت کے میوزک میں کوئی جادو تھا میں کافی دیر تک اسے سنتا رہتا۔ چندی پور بس سٹاپ پہ ٹریکٹروں کی ورکشاپ کے مستری کے کانوں میں جیسے ہی عطاء اللہ عیسٰی خیلوی کے گانے کے بول پڑتے اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔
اس نے علاقہ یزمان کی کسی خاتون کے ساتھ عشق و محبت کی شادی کی۔ بعد میں وہ شادی قائم نہ رہ سکی۔ خاتون واپس چلی گئی اور مستری صاحب اس کی یاد میں عیسٰی خیلوی کے غمگین گانے سنتے رہتے اور روتے رہتے ساتھ ساتھ ٹریکٹروں کے فالٹ درست کرنے کا کام بھی کرتے رہتے۔ اچھا، میری نانی اماں بھی عطاء اللہ عیسٰی خیلوی کو سنتے ہوئے رو پڑتی تھیں۔ میں نے پوچھا، نانی اماں آپ کیوں روتی ہوتو وہ کہتیں کہ جب یہ بچھڑنے کے غمگین بول بولتا ہے تو مجھے تمہاری مرحومہ ماں اور تمہاری مرحومہ خالہ یاد آ جاتی ہیں۔
گزرے سال 2021 میں سوشل میڈیا پہ قوال برادران کی کچھ ویڈیوز نظروں کے سامنے گزریں جس میں وہ ایک ہی قوالی ”دل غلطی کر بیٹھا ہے“ بار بار گا رہے ہوتے اور قیمتی کپڑوں میں ملبوس کچھ نوجوان ان پہ کرنسی نوٹوں کی بارش کر رہے ہوتے اور ساتھ ساتھ جھوم رہے ہوتے۔
آج 3 جنوری 2022 کو خبریں سننے دیکھنے کے لیے ایک ٹی وی چینل آن کیا تو ہیڈ لائن تھی ”عطاء اللہ عیسٰی خیلوی کے ساتھ گانا گانے کی ضد پہ نوجوانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑے“ ۔ عیسٰی خیلوی تقریب چھوڑ کر چلے گئے۔ عرض ہے کہ پاکستان اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں ابھرنے والی نئی مڈل کلاس کے نام پہ ایک نیا کلچر وجود میں آ رہا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ تو مہذب ہیں لیکن کچھ نئی نئی ملنے والی دولت کے نشہ میں چور ہیں۔
چاچا منا بہاول پور کی سڑکوں پہ اپنا موٹر رکشہ مخصوص لائن میں چلا رہا ہوتا ہے لیکن سائیڈ میں جگہ ہونے کے باوجود عقب سے آنے والی کاروں سے بار بار اور مسلسل ہارن بجائے جاتے ہیں گویا چاچا منا کو کہہ رہے ہوتے ہیں ”اوئے غریب آدمی اپنا رکشہ سڑک سے نیچے اتارو“ ۔ اس پہ چاچا منا بڑا چیں بچیں ہوتا ہے تو میں اسے کہتا ہوں ”چاچا! بار بار ہارن دینے والے کا مائنڈ سیٹ یہ ہے کہ اس نے کار خریدتے وقت سڑک بھی ساتھ خرید لی ہے لہذا تم غریبوں کو کوئی حق نہیں سڑک پہ آنے کا۔“
جنوبی ایشیا میں یہ جو کروڑوں افراد پہ مشتمل نئی مڈل کلاس وجود میں آئی یہ ایک مثبت معاشی تبدیلی بھی ہے لیکن اسی مڈل کلاس کا کچھ حصہ مجرمانہ مائنڈ سیٹ کا حامل ہو کر اپنے رویوں سے معاشرے میں عدم توازن بھی پیدا کر رہا ہے۔ اصل میں ان کے اندر ایک سوچ پائی جاتی ہے کہ وہ اپنی دولت سے پولیس، عدالت اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں، افسران اور سرکاری اہلکاروں کو خرید سکتے ہیں۔ یہ خرید سکتے ہیں یا نہیں یہ تو الگ موضوع ہے لیکن یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ یہ نو دولتیے اپنی دولت کے زور پہ اور قیمتی تحفے تحائف دے کر کچھ پولیس افسران، ججوں، سول بیوروکریٹس یہاں تک کہ فوجی افسران کے ساتھ بھی اپنے تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ سوائے چین کے جنوبی ایشیا کے دیگر تقریباً تمام ممالک میں آپ کو قانون کی خلاف ورزیاں اس لیے عام نظر آتی ہیں کہ ایسا کرنے والے خود کو طاقتور سمجھتے ہیں اور قانون کی خلاف ورزی میں فخر اور ایک گونہ تسکین محسوس کرتے ہیں۔
اگر آپ جنوبی ایشیا بشمول انڈیا اور پاکستان کے نو دولتیا کلچر کا تقابل امریکہ اور یورپ کی مڈل کلاس کے ساتھ کرتے ہیں تو آپ کو واضح فرق یہ ملے گا کہ وہاں قانون امیر غریب سب کے لیے برابر ہے۔ آپ چاہے دولت کے جتنے بھی ذخائر رکھتے ہیں۔ قیمتی گاڑیوں کے مالک ہیں۔ آپ کو قانون کا اتنا ہی احترام کرنا ہو گا جتنا وہاں کے عام لوگ کرتے ہیں۔ گو کہ زیادہ پرامید تو نہیں ہوں پھر بھی جنوبی ایشیا کے ممالک کی مقامی مقتدرہ قوتوں کو مشورہ دوں گا کہ اگر آپ اپنے ملک میں بدنظمی، انتشار، نا انصافی، ظلم اور عدم توازن کا خاتمہ چاہتے ہیں تو پھر آپ اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں خاص طور پہ پولیس افسران اور ججوں کا مائنڈ سیٹ ایسا بنا دیں کہ جہاں کسی غریب آدمی سے کوئی غلطی ہو جانے پہ قانون فوراً حرکت میں آ جاتا ہے وہاں مڈل اور اپر کلاس کے لیے بھی کسی قسم کی گنجائش یا معافی نہ ہو۔ جہاں تک جنوبی ایشیا میں مڈل کلاس کے پھیلاؤ کا تعلق ہے تو یہ ایک اچھی بات ہے کہ غربت کم ہو اور لوگ خوشحال ہوں لیکن جو لوگ نئی نئی دولت ملنے کے زعم میں مجرمانہ ذہنیت کے حامل ہو جائیں پھر ان کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون کا نفاذ بلا تفریق دولت مند و غیر دولتمند ہو۔

