قدامت پسندی
قدامت پسندی جس کو انگریزی میں conservatism کہا جاتا ہے، لاطینی زبان کے لفظ conservatiro سے ماخوذ ہے جس کے معنی محافظ کے ہیں۔ اپنی اقدار اور روایات کے محافظ کو روایت پرست، قدامت پرست یا قدامت پسند کہا جاتا ہے۔ قدامت پسندی سے مراد سیاسی، سماجی، اخلاقی روایات پر ڈٹے رہنا، تبلیغ و ترویج کرنا اور ان کی حمایت کرنا ہے۔
انسان فطرتاً مہم جو، جدت پسند، حریص اور یکسانیت سے بیزار واقع ہوا ہے۔ انسان کے حریص ہونے کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ جنت جیسی جگہ پر بھی اسے بیزاریت محسوس ہونے لگی اور پھر جب زمین جیسی آزاد فضاء میں قدم رکھا تب بھی اسے سکون میسر نہ ہوا اور لحظہ بہ لحظہ نت نئے تجربات اور نئی چیزوں سے آشنائی اس کا مشغلہ بن گئی اور ظاہری طور پر اس میں مضائقہ بھی نہیں کیونکہ تنوع اس کائنات کا حسن
ہے۔
ہم نے قدامت پسندی کو روگ اس لئے کہا ہے کہ اس کا تعلق ہم اقدار اور کلچر میں ڈھل جانے کو نہیں لے رہے بلکہ اس کا مقصد صرف نظریات اور مختلف تصورات کو قبول کرنے اور انہیں اپنی عملی زندگی میں لاگو کرنے میں جھجک محسوس کرنے کی حد تک لیا جا رہا ہے۔
یعنی دنیا میں اگر کوئی چیز متعارف کروائی گئی ہے اور ظاہری طور پر وہ آپ کی معاشی اور سماجی زندگی کے لئے فائدہ مند معلوم ہوتی ہے تو آپ کو اپنی حدود اور متعین شدہ روایات کے اندر رہتے ہوئے اسے قبول کرنے میں کوئی عار محسوس کرنے کی ضرورت نہیں۔ فرض کریں اگر ہم انگریزی زبان اور اس کے نفاذ کی بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ ادب ہمیشہ زبان کی قید سے آزاد ہوتا ہے تو ادب کو ادب کے پیرائے میں لے کر ہی سمجھا جائے اور اس کو سیکھنے کی کوشش کی جائے۔ انگریزی زبان پر کسی خاص علاقے یا خطے کی اجارہ داری نہیں بلکہ وہ صرف ایک زبان ہے جو ہر اس طبقے کی ہو سکتی ہے جو اسے استعمال کر لے گا۔
رہی بات کسی زبان کے تسلط کی تو بڑی سکرین پر ہمیشہ زبان استعمال ہوگی جو قوم معاشی اور استعماری طور پر خود کو منوائے گی اور ہم ہیں کہ معاشی طور پر کچھ کرنے کی بجائے صرف لفاظی طور پر کسی زبان سے انکاری ہونے کو حب الوطنی قوم پرستی اور روایت پسندی کے لئے ایک بہت بڑی قربانی گردان لیتے ہیں۔ اگر پاپائے روم کا سکہ دنیا پر چل رہا تھا تو رومن زبان اپنی ترویج کے زوروں پر تھی، پھر یونانیوں نے دنیا کو اپنی صلاحیتوں سے متحیر کیا تو یونانی زبان کا بول بالا ہونے لگا۔ جب فرانسیسی دنیا پر قبضہ جمانے کا سوچ رہے تھے تو فرانسیسی زبان کو پرواز کا موقع ملا۔ لاطینی لوگ جب اپنی تحقیق سے دنیا کو نیا سورج دکھا رہے تو لاطینی زبان کو اہم گردانا جانے لگا۔ انہی تمام اسباب کو دیکھتے ہوئے برطانیہ کے لوگ جو اس وقت ایک منتشر قوم کی مانند تھے
اپنی ایک الگ زبان بنانے پر سوچنے لگے جو کہ ان سب زبانوں کا آمیزہ تھی۔ پھر تحقیق و تنقید کا سایہ ان پر مہربان ہوا تو ساری قوموں کو اسی آمیزے کو ہی اہمیت دینا پڑی۔
امریکہ نے اگرچہ دنیا پر اپنا ڈنکا بجانے میں حصہ ڈال لیا ہے لیکن چوں کہ ان کی اپنی الگ سے زبان موجود نہ تھی اس لئے وہ الگ لہجہ اپنا کر ہی خوش ہیں اور وہی الگ لہجہ ہی اب دنیا پر راج کرے گا جلد۔
یہاں یہ سوال ضرور کیا جاسکتا ہے کہ روس اور چائنہ نے بھی تو دنیا پر راج کرنے میں اپنا مقتدرہ حصہ ڈالا ہے تو ان کی زبان کو وہ اہمیت اور مقام کیوں نہیں مل سکا؟
اس سوال کا دو ٹوک جواب ہمارا اپنا موضوع ہی ہے۔ کسی زبان کے عالمی منظرنامے پر مقبولیت کے سفر کو طے کرنے کے لئے اس کا لچک دار، سہل اور موضوع ترین ہونا بہت ضروری ہے جو کہ روسی اور چینی زبان میں نایاب ہیں اور انگریزی زبان میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ انگریزی زبان نے جس بھی خطے اور علاقے کا سفر کیا اسی علاقے کے مخصوص اور مستعمل الفاظ اور استعارات کو اپنانے میں کوئی عار محسوس نہیں کی اور یہی اس کی پھلنے پھولنے کا راز ہے جو اس کو ہر دل عزیز زبان بنانے میں ممد و معاون ثابت ہو رہا ہے۔
اردو زبان میں کسی حد تک یہ خصوصیت ہے لیکن کچھ نابالغ اذہان اس بات کو تسلیم کرنے سے نالاں نظر آتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ شاید اس طرح زبان آلودہ ہو جائے گی حالانکہ ایسا بالکل نہیں۔ ہمارے ہاں قدامت پسندی کا یہ عالم ہے کہ جو صاحب علم لوگ ہیں وہ اپنا مدعا سمجھانے سے قاصر ہیں اور جو لوگ دین کے بارے کچھ نہیں جانتے وہ تبلیغ کر رہے ہیں اغیار کے سامنے اور اسی وجہ سے تو وہ اسلام کا درست امیج پیش کرنے سے رہے۔
اسلاموفوبیا اور اس سے جڑے مختلف مسائل کو مغرب کے سامنے درست انداز میں پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہمارے خطے کو تو سمجھانے کی ضرورت نہیں، ”ہم خیال کو ہم خیال“ بنانے والی بات ہے۔ یہ سب ان لوگوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے جو ہماری تہذیب و تاریخ سے نابلد ہیں اور ان کو ہم یہ سب کسی ایسے واسطے اور زبان کے ذریعے سمجھا سکتے ہیں جو ان کی سمجھ آئے اور اس کے لئے ہمیں ان کی زبان سیکھنے کی ضرورت بھی ضرور پڑے گی۔
دوسرا اہم مسئلہ جو ہمیں درپیش ہے، وہ صنعتی اور معاشی ذرائع کو قبول نہ کرنے کا ہے جو ہمیں مغرب سے معلوم ہوں اور یہ ہماری قوم سے ہونے والی سب سے بڑی کرپشن ہے۔ میں یہاں پر وجاہت مسعود صاحب کی جنگ کے اداریے میں لکھی جانے والی جنوری 2017 کی بات کو ہی شامل کرنا چاہوں گا۔
” اصل کرپشن یہ ہے کہ مسلم قدامت پسند ذہن جدید علم کی بنیاد پر پیداواری، صنعتی اور تجارتی معیشت کی دنیا میں داخل ہونے سے گریزاں ہے۔ مسلم اکثریتی دنیا کے کلچر کی چار بنیادی خصوصیات ہیں۔ تشدد، نا انصافی، اونچ نیچ اور تبدیلی کی مزاحمت۔ یہ ناکامی کا نسخہ ہے۔ “



Wow Sahil Bhai.. ma Sha Allah