ریکوڈک اشو: لشکری رئیسانی بھی سرگرم

آج کل بلوچستان میں ریکوڈک کا موضوع زیر بحث ہے جس کی وجہ بنی تھی پیر 27 دسمبر کو ہونے والا صوبائی اسمبلی کا وہ، ان کیمرا، اجلاس جس میں اراکین اسمبلی کو اس پراجیکٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی، نواب اسلم رئیسانی کے دور میں ( 2008 سے 2013 تک) میں مائننگ کا لائسنس نہ ملنے پر ٹی سی سی نے ثالثی کے دو بین الاقوامی فورمز سے رجوع کیا تھا جن میں سے انٹر نیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (ایکسڈ) نے کمپنی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے پاکستان کو مجموعی طور پہ چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا بلوچستان میں سونے اور تانبے کے سب سے بڑے ذخائر ریکوڈک منصوبے کے حوالے حکومت پاکستان چھ ارب ڈالر کے جرمانے کی ادائیگی سے بچنے کے لئے ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کے دو شراکت داروں میں سے ایک شراکت دار سے دوبارہ معاہدہ کرنے کی تجویز زیر غور ہے اور اسی حوالے سے بلوچستان اسمبلی کا ان کیمرا اجلاس ہوا تھا۔
اس اجلاس کے بعد سے اب تک صوبے میں ریکوڈک منصوبے کا موضوع زیر بحث ہے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل نے ریکوڈک کے منصوبے میں بلوچستان کو 50 فیصد شئرز دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی ترقی کے نام پہ استحصال، بلوچستانیوں کے تحفظات دور کیے جائیں تو ہی ریکوڈک معاہدے پہ حمایت کا سوچ سکتے ہیں گیس سے ملک میں بڑی بڑی صنعتیں قائم اور بڑے شہر آباد ہو گئے لیکن سوئی ڈیرہ بگٹی کے لوگ آج بھی کھانا پکانے کے لئے لکڑی جلاتے ہیں، یہاں اعتماد کے فقدان نے بلوچستان میں احساس محرومی، ناراضگی پیدا ہوئی ہے اسی ناراضگی سے بغاوت اور بغاوت سے لوگوں نے آزادی کے جھنڈے اٹھا لئے ہیں شنید میں آیا ہے کہ شنید میں آیا ہے کہ ریکوڈک منصوبے کے نئے معاہدے میں بلوچستان کو 25 فیصد، 25 فیصد وفاق کو جبکہ 50 فیصد متعلقہ کمپنیوں کے ہوں گے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی سمجھتی ہے کہ بلوچستان کا حق 50 فیصد ہے دوسری جانب اپنے دور حکومت میں ٹیتھیان کاپر کمپنی کو مائننگ کا لائسنس نہ دینے والے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور، ان کیمرا اجلاس، کا بائیکاٹ کرنے والے واحد رکن بلوچستان اسمبلی نواب محمد اسلم رئیسانی کا کہنا ہے کہ ریکوڈک کو ایک منصوبے کے تحت بیچنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ریکوڈک بلوچستان و بلوچ قوم کا قیمتی اثاثہ ہے اسے کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا، سیندک منصوبے سے نہ مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچ سکا اور نہ ہی بلوچستان کی حالت بدل سکی، ایک اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے کہنا ہے کہ حکومت فوری طور پہ ریکوڈک معاہدے کو عوام کے سامنے لائے تاکہ عوام میں پائی جانے والی تشویش، تحفظات اور خدشات دور ہو سکیں، حکومت کو چاہیے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
بلوچستان کے وسائل کو کوڑیوں کے دام فروخت کرنے کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے جس کی ہم کسی صورت اجازت نہیں دیں گے، صوبے میں زیر بحث مذکورہ معاملے پہ سینئر سیاستدان اور سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی بھی سرگرم ہیں انھوں نے بلوچستان ہائی کورٹ کے بار کونسل کے ریکوڈک کے متعلق اجلاس کے اگلے روز بعد بار کونسل کے عہدیداروں سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی اور قانونی چارہ جوئی سمیت تمام آئینی و جمہوری اقدام اٹھانے کا عزم کیا ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی پارٹی نے ایم پی ایز کے مفاد کو مدنظر رکھا اور اس اہم معاملے پہ خاموشی اختیار کئی رکھی تو وہ اکیلے ہی قانونی جنگ لڑیں گے گزشتہ دنوں انھوں نے اندرون بلوچستان کا دورہ بھی کیا اور ڈیرہ اللہ یار میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ریکوڈک سمیت تمام معدنی وسائل بلوچستان کے عوام کی ملکیت اور آنے والی نوجوان نسل کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔
بند کمروں میں ہونے والے فیصلے پراسرار و مشکوک ہوتے ہیں جس پہ صرف نظر نہیں کی جا سکتی بلوچستان پاکستان کی اکائی ہے مگر 72 سال سے صوبے کو ایک کالونی کے طور پہ چلایا جا رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ سی پیک ہو گوادر یا سیندک کا منصوبہ بلوچستان کے وسائل کو ہمیشہ لوٹا جاتا رہا ہے اور آج ریکوڈک کے حوالے سے مشکوک فیصلے کیے جا رہے ہیں جس پہ بلوچستان کے عوام خاموش نہیں رہیں گے ہم عدالت بھی جائیں گے اور اگر ضرورت پڑی تو عوامی تحریک بھی چلائیں گے ان کا کہنا تھا کہ آج بلوچستان کے حالات انتہائی مخدوش ہیں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے جبکہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جبکہ بارڈر کی بندش سے مکران ڈویژن کے عوام کا معاشی قتل ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج اگر ریکوڈک ذخائر کی مالیت 300 بلین ڈالر ہے تو اگلے پچاس برس میں اس ان ذخائر کی مالیت ساڑھے چھ ہزار بلین ڈالر ہوگی، ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے سینئر سیاستدان اور سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی سمیت تمام اہل بلوچستان فکر مند ہے اور ماضی کے تجربات و مشاہدات کے نتیجے میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس منصوبے سے بھی بلوچستان کے حصے میں کچھ نہیں آئے گا اور نہ ہی بلوچستان کی حالت بدل سکے گی ایسا نہیں کہ بلوچستان کے لوگ پاکستان سے پیار نہیں کرتے یا بلوچستان کی ترقی نہیں چاہتے بلکہ سیندک و سوئی گیس کے ذخائر سے بلوچستان کو اس کا جائز حصہ آج دن تک نہیں مل سکا ہے جس کے باعث صوبے کے عام لوگ ہوں یا سیاستدان ہوں وفاق کے بلوچستان کے معدنی وسائل کے فیصلوں پہ یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں اس اعتماد کے فقدان کے خاتمے کے لئے وفاق پاکستان کو ہی ۔۔۔۔کچھ کرنا ہو گا تاکہ بلوچستان کے معدنی وسائل سے ملک بھی ترقی کرے اور بلوچستان کی تقدیر بھی بدل سکے

