انصاف اور حقوق کے لئے لڑائی کی مجاہدہ: طاہرہ مظہر علی خان


انہوں نے اپنے مرحوم خاوند کو ملنے والا ستارہ امتیاز ٹھکرا دیا۔ اس لیے نہیں کہ وہ حکومت وقت کی توہین کرنا چاہتی تھیں، جس کے بارے میں انہیں یقین ہے کہ وہ ٹھیک ٹھاک کام کر رہی ہے بلکہ اس لیے کہ ساری زندگی تو مظہر علی خان کے ساتھ پاکستان دشمنوں جیسا سلوک کیا گیا تھا۔ کن کی طرف سے؟ ’تقریباً ہر حکومت کی طرف سے۔ اور اب وہ سوچ رہے تھے کہ بیوہ سر ڈھانپے ہوئے ستارہ امتیاز حاصل کرنے کے لیے چلی آئے گی۔ بہت سے لوگوں کا خیال تو یہ بھی تھا کہ اعزاز دینا اس بات کی نشاندہی تھی کہ ریاست نے مظہر علی خان کی خدمات کو تسلیم کر لیا تھا۔ لیکن میں نے کہا نہیں۔ وہ ان کی خدمات کو تسلیم کرنے والے کون ہوتے ہیں؟ ہمیں ان کی تصدیق کی ضرورت نہیں۔ مظہر بھی اسے کبھی قبول نہ کرتے اس لیے میں نے بھی انکار کر دیا۔ ‘

طاہرہ مظہر علی خان سے بالمشافہ ملاقات کے دوران بس یہی ایک موقع ایسا آیا جب وہ تلخ ہوئیں۔ ویسے تو میری ابھی یہ حیرانی ہی کم نہیں ہو رہی تھی کہ میں ایک ایسے خاندان کی فرد سے محو گفتگو تھی جو انٹرویو وغیرہ دینے سے سب سے زیادہ گریزاں رہتے تھے۔ میرے کسی ساتھی کو بھی یقین نہیں آیا تھا کہ انہوں نے اس بات پر رضامندی ظاہر کر دی تھی کہ میں ان کا خاکہ لکھ لوں۔ لیکن اب میں اور وہ، اس عمدہ اور فراخ ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے جو اعلیٰ ذوق کے حامل نوادرات، زیادہ تر مجسموں سے، سجا ہوا تھا۔ میں گندھارا تہذیب کے سنگ تراشی کے ایک نمونے کو دیکھتے ہوئے حیران ہو رہی تھی کہ دونوں میاں بیوی میں سے کون یہ چیزیں جمع کرنے کا شوقین رہا ہو گا۔ عمر کی چھٹی دہائی میں، مبہوت کر دینے والے وقار کے ساتھ طاہرہ میرے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔

جب ہم نے بات چیت شروع کی تو مجھے اندازہ ہوا کہ یہ خاتون تو صرف سیاست میں ہی جیتی ہیں اور یہ کہ ان کے ساتھ خالصتاً ذاتی حوالے سے بات چیت کرنا ناممکن تھا۔ متحدہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ سردار سکندر حیات کی بیٹی، اپنے فرسٹ کزن سے بیاہی گئیں، نوشہ میاں بھی نوابزادے تھے، اس جوڑے کے پاس اقتداری سیاست کے میدان میں اترنے کے لیے ایک با اثر سیاسی خاندان کی مکمل پشت پناہی اور ثروت دستیاب تھی۔ لیکن یہ لوگ تو اقتدار کوایک ایسی شے کے طور پر بنظر حقارت دیکھتے تھے جو کرپٹ کر دیتی تھی۔ یہ لوگ بلند مثالی تناظر میں سوچتے اور بات کرتے تھے، صاف ستھری سیاست، عوامی حقوق، سب کے لیے انصاف، مساوی سلوک، غیر طبقاتی سماج اور عالمی امن۔ تاہم ان لوگوں نے اپنا پیغام عام کرنے کے لیے سیاست کی بجائے لکھے ہوئے لفظ کی قوت کو اہمیت دی۔ یوں مظہر علی خان صحافی بن گئے اور طاہرہ اپنے خاوند کے آدرشوں کی فعال حامی۔

’ہم۔ مظہر، میں اور ہمارے بچے۔ اپنے سارے خاندان یا طبقے سے مختلف اطوار کے حامل تھے۔ ‘ در حقیقت اس گھرانے کے کسی ایک فرد کو دوسرے سے جدا کرنا مشکل تھا۔ یہ ایک دوسرے سے گہری جڑی ہوئی اکائی تھی اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ فاصلے اور حتیٰ کہ موت جیسی حقیقتیں بھی انہیں جدا نہیں کر سکتی تھیں۔

طاہرہ بچپن میں کوئین میری سکول سے پڑھی تھیں۔ ابھی وہ بچی ہی تھیں، بہ مشکل سترہ برس کی، جب ان کی شادی ہو گئی۔ وہ بہت فعال طالبہ تھیں ؛ اچھی پیراک، ماہر رقاص اور ٹینس کی کھلاڑی۔ سکول کے دنوں ہی سے ان کے اندر ایک باغی روح موجود تھی۔ جب وہ ابھی تیرہ برس کی تھیں، تو مشہور رقاص اودے شنکر، ان کے سکول میں آئے اور ان کے اعزاز میں سکول کی بچیوں نے سنگت ناچ کا مظاہرہ کیا۔ تین ماہ کے بعد جواہر لال نہرو لاہور میں تھے۔ طاہرہ نے اپنی استاد سے انہیں سکول میں مدعو کرنے کو کہا۔ استاد نے یہ کہتے ہوئے ان کی بات رد کر دی کہ یہ ایک ’پردہ سکول‘ ہے اور یہاں مردوں کو آنے کی اجازت نہیں۔ یہ دہرا معیار طاہرہ کے لیے ناقابل برداشت تھا اور اپنی استاد کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد انہیں سکول سے چھ ہفتے کے لیے خارج کر دیا گیا۔

طاہرہ کو بچپن ہی میں جواہر لال نہرو، سروجنی نائیڈو اور محمد علی جناح جیسے رہنماؤں سے ملنے کا موقع اپنے گھر پر ہی مل گیا۔ وہ جواہر لال کو خط لکھا کرتی تھیں جن کے لمبے لمبے جواب ان کی طرف سے آتے تھے۔ سترہ برس کی ہونے سے پہلے ہی وہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی ممبر بن چکی تھیں۔

ایک جاگیردارانہ اور رئیسانہ پس منظر کے باوجود کیا چیز تھی جو انہیں سوشلزم اور کمیونزم کے متعلق سوچنے پر اکساتی تھی؟ ’میں نے خود اپنی آنکھوں سے تو کبھی اتنی زیادہ غربت نہیں دیکھی لیکن میں اپنے آس پاس ہونے والی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے اسے محسوس کر سکتی تھی۔ ‘ بچپن میں یہ لوگ ملازمین کے کچھ بچوں کے ہمراہ ایک مولوی صاحب سے قرآن کی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ وہ ملازمین کے بچوں کو زمین پر بیٹھنے کو کہتے جب کہ انہیں صوفے پر بیٹھنے کو کہا جاتا۔ آٹھ برس کی طاہرہ مولوی صاحب سے الجھ پڑیں کہ سب بچے صوفے پر بیٹھیں گے کیونکہ یہ لوگ مل کر کھیلا کرتے تھے۔ آخر کار یہ معاملہ تصفیے کے لیے ان کے والد صاحب تک پہنچا جنہوں نے مولوی صاحب سے کہا کہ وہ تفریق نہ کریں اور سب بچوں کو زمین پر بٹھا یا کریں۔ پھر انہوں نے محسوس کیا کہ ملازمین کے ان بچوں میں سے کچھ بچے بے حد ذہین تھے۔ شاید ان کا اپنا بھائی اتنا ذہین نہ تھا۔ لیکن ان لوگوں کے پاس وہ مواقع نہ تھے جو ان کے بھائی کو میسر تھے۔

تقسیم کے بعد انہوں نے سوچا کہ اب جبر، مصائب، غربت اور نا انصافی باقی نہ رہیں گے اور یہ ملک ایشیا کا سوئٹزرلینڈ بن جائے گا۔ ’لیکن تقسیم کے فوری بعد متروکہ املاک کا سلسلہ شروع ہوا اور ان کے جلو میں کرپشن کا بازار گرم ہو گیا۔ قبل اس کے کہ مہاجرین اپنے کاغذات لے کر آتے مقامی لوگ ان جائیدادوں کی الاٹمنٹ کرا چکے تھے اور یہ اس ملک میں کرپشن کا نقطہ آغاز تھا۔ ‘ طاہرہ نے مہاجرین میں کام کرنا شروع کر دیا جو کہ بہت ہی پر الم تجربہ ثابت ہوا۔

1952 ء میں انہوں نے Democratic Women ’s Associationقائم کی جس کا مقصد خواتین کی حالت میں بہتری لانا اور گھروں کے حصول میں ان کی مدد کرنا تھا۔ انہوں نے زیادہ کام ٹریڈ یونینز کے حوالے سے کیا۔ اس تنظیم کی سیکرٹری کے طور پر انہوں نے ایٹم بم کے خلاف بھی جدوجہد کی۔ ‘ جب جنگ میں دونوں اطراف میں معصوم لوگ مارے جاتے ہیں، تو ایسی جنگ کا کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ ’

طاہرہ کو خواتین کے حقوق کی جدوجہد کرتے ہوئے اب بہت طویل عرصہ ہو چلا ہے۔ یہ پندرہ خواتین تھیں جنہوں نے WAFکی بنیاد رکھی جو اب ایک موثر پریشر گروپ بن چکا ہے۔ وہ تسلیم کرتی ہیں کہ یہ لوگ کوئی بہت بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکیں لیکن ان لوگوں نے خواتین میں ایک خاص حد تک آگاہی ضرور پیدا کی ہے۔ حتیٰ کہ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر اس حد تک دباؤ ڈالا کہ اب وہ خواتین کو اپنے منشور میں جگہ دینے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔ اب انہوں نے الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خواتین کو دو ووٹ دینے کا حق دیں، جیسے تقسیم کے فوری بعد تھا، تاکہ خواتین اپنی خواتین نمائندہ کو چن سکیں۔

جب طاہرہ سے ان کے گرہستن کے کردار بارے بات کی جائے تو وہ زیادہ قائل کر دینے والی لگتی ہیں۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ ایک کامیاب گرہستن ہیں۔ صرف ان کے گھر پر ایک نظر ڈال لینے سے ہی آپ کو اس بات پر یقین آ سکتا ہے۔ انہیں اس بات کی داد دی جانی چاہیے کہ انہوں نے بچوں کی پرورش اس انداز میں کی کہ انہوں نے سماج میں اپنی جگہ بنائی۔ ان میں سے ایک طارق علی عالمی سطح پر مشہور مصنف ہیں۔ انہوں نے اپنے گھر اور کام کے مابین وقت کی تقسیم کرنا سیکھ لیا تھا۔

’میں اس بات کو یقینی بناتی تھی کہ جب میرے بچے سکول جانے کے لیے اٹھیں تو میں ان کے پاس موجود ہوں، میں انہیں تیاری میں مدد دیتی اور انہیں سکول بھیجتی۔ اسی طرح جب وہ گھر لوٹتے تو میں لازماً اس وقت گھر میں موجود ہوتی۔ لہٰذا جیسے ہی وہ لوگ سکول کے لیے نکلتے، میں کپڑے بدلتی اور ٹریڈ یونین کانفرنسوں، ملاقاتوں اور محلوں میں کام کے لیے نکل پڑتی۔ لیکن میں بچوں کے سکول سے لوٹنے سے ایک گھنٹہ پہلے گھر واپسی کو یقینی بناتی تھی۔ ‘

طاہرہ بہت زیادہ تقاضے کرنے والی بیوی نہ تھیں۔ اگر وہ ایسے مزاج کی ہوتیں تو یقیناً ان کے خاوند کی زندگی کسی اور ڈگر پر چل نکلتی کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے۔ برسہا برس تک ان لوگوں نے زندگی یوں بسر کی کہ کھانے پینے کو پیسے پورے پورے ہی ہوتے تھے، برسوں تک وہ ہر جگہ بائیسکل پر جاتی رہیں، سالہا سال انہوں نے خود ہی کھانا بنایا لیکن کبھی حرف شکایت زبان پر نہ لائیں۔ اور وہ اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ خاتون کو بہت زیادہ تقاضا کرنے والا نہیں ہونا چاہیے تاکہ ان کے خاوند کو تقاضے نباہنے کے لیے کرپشن کا سہارا نہ لینا پڑے۔

طاہرہ محسوس کرتی ہیں کہ ان کے لیے اپنے خاوند اور بچوں کے بارے میں بات کرنا آسان نہیں ہے۔ لیکن جب ایک بار بات شروع ہو گئی تو شاید طارق علی ان کا سب سے پسندیدہ موضوع ہے۔ ’طارق میرے لیے ایک دوست زیادہ ہے کہ ہماری عمروں کے بیچ صرف اٹھارہ برس کا فرق ہے۔ اس کی تعلیم حقیقی معنوں میں عمومی نوعیت کی تھی، اس زمانے میں ہم لوگ نکلسن روڑ پر ایک فلیٹ میں رہتے تھے، سجاد ظہیر، سبط حسن جیسے مصنفین اور حتیٰ کہ دیہات سے کسان ہمارے ہاں آیا جایا کرتے تھے اور طارق چار برس کی عمر سے ان لوگوں کے ساتھ بیٹھا کرتا اور ان کی باتیں سنا کرتا تھا۔ وہ گورنمنٹ کالج میں تھا جب اس نے لوممبا کی موت پر جلوس نکالا۔ اس کے بعد وہ ہمارے اصرار پر انگلستان چلا گیا۔ وہ گورنمنٹ کالج سے محبت کرتا تھا اور یہیں رہنا چاہتا تھا۔ بعد میں جب وہ اوکسفرڈ یونین کا پہلا پاکستانی صدر منتخب ہوا تو ہم نے یہ خبر بی بی سی پر سنی۔ یہ چیز کس قدر اہمیت کی حامل ہے اس کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوا جب اگلی صبح مبارکباد دینے والوں کی فون کالوں کا تانتا بندھ گیا۔ ‘

انہوں نے اسی شفیق لہجے میں بات جاری رکھی، ’طارق باہر جاتا آتا تھا اور ہر کام خود سے کرنا پسند کرتا تھا۔ ہم نے اسے کبھی منع نہیں کیا لیکن یہ بات بالکل واضح طور پر بتا دی کہ اسے اپنے لیے خود کمانا ہو گا اور وہ بیٹھ کر کسی نواب کی طرح سیاست نہیں کر سکتا۔ اور اس نے ایسے ہی کیا۔ میرے خیال میں اس نے اس ملک کے ترجمان کے طور پر اچھا کام کیا ہے۔ ‘ لیکن کیا وہ اسے یاد نہیں کرتیں؟ ’ہاں میں اس کے بغیر اداس ہو جاتی ہوں۔ سب سے زیادہ میں نے اسے اس وقت یاد کیا جب ایوب خان نے اسے پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی ہمیں چھ طویل برسوں تک ملک سے باہر جانے دیا گیا۔ ‘

اپنے دوسرے بیٹے کے بارے میں بھی کچھ بتائیں، میں نے انہیں یاد دلایا۔ ’ہاں، ماہر نے بھی بہت کم عمری میں ہی کام کا آغاز کر دیا تھا، ویو پوائنٹ، فرنٹیر پوسٹ اور ڈان میں کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد اب آج کل وہ خلیج ٹائمز میں کام کر رہا ہے۔ وہ بھی بہت اچھا لکھاری ہے۔ ‘

جب ہم اس موضوع پر پہنچے کہ ان کی مظہر علی خان سے ملاقات کیسے ہوئی اور یہ کہ وہ کس قسم کے انسان تھے، تو طاہرہ جو اب تک مسلسل بات کر رہی تھیں کچھ دھیمی ہو گئیں۔ ’وہ میرے کزن تھے۔ بہت عمدہ مقرر، آل انڈیا سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر اور ایک مقبول شخصیت تھے اور میں ان سے بہت متاثر تھی۔ وہ اکثر ہمارے گھر آیا کرتے تھے لیکن انہوں نے کبھی میرا نوٹس نہیں لیا کہ میں بہت چھوٹی تھی۔ بعد میں مجھے ان سے بات کرنے کا موقع ملا اور میں ان سے متاثر ہوتی چلی گئی، پھر جب وقت آیا تو ہم نے شادی کا فیصلہ کیا۔ مظہر بے حد ذہین شخص، بہت عمدہ باپ اور نہایت مسرت بخش خاوند تھے۔ ‘

گزشتہ برس ان لوگوں کی شادی کی پچاسویں سالگرہ تھی۔ پچاس برس ایک طویل عرصہ ہوتا ہے۔ کیا انہوں نے کبھی ان کے ساتھ اکتاہٹ محسوس نہیں کی؟ ’کبھی بھی نہیں۔ درحقیقت مجھے کبھی یہ محسوس ہی نہیں ہوا کہ میری شادی کو اتنا زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ ‘ طاہرہ نے اپنی سیاسی تعلیم مظہر علی خان سے حاصل کی جو ان کے لیے ان کتابوں کا انتخاب کرتے تھے جو انہیں لازماً پڑھنی ہوتی تھیں۔ اس کے بعد جہاں تک نظریات کی بات تھی تو خود ان کی ساکھ ان کے لیے ایک سبق تھی۔ انہوں نے ان سے کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہ کرنا سیکھا اور واقعی میں انہیں بہت قیمت چکانی پڑی۔ بارہ برس تک مظہر کو لکھنے کی اجازت نہ دی گئی جو ان جیسے شخص کے لیے بہت طویل عرصہ تھا۔ لیکن وہ اپنے ایقانات کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھے۔

آج کل وہ اپنے آپ کو کیسے مصروف رکھتی ہیں؟ ’میں پڑھنا بہت پسند کرتی ہوں۔ میں ایک تند خو قسم کی قاری ہوں۔ میں خواتین کے لیے سرگرمیاں منظم کرنے میں مصروف رہتی ہوں۔ مظہر کی وفات کے بعد میں بہت زیادہ کام نہیں کر پائی لیکن مجھے امید ہے کہ میں اس سے نکل آؤں گی۔ ‘ کچھ دیر تک ان کے لیے بات کرنا مشکل ہو گیا۔

پیچھے نظر دوڑاتی ہیں تو طاہرہ اپنی زندگی سے بہت مطمئن ہیں۔ انہوں نے ایک نہایت خوبصورت زندگی بسر کی اور وہ یقین رکھتی ہیں کہ اگر آپ جو کرنا چاہیں وہ کر پائیں تو یہ بہت بڑی چیز ہوتی ہے، کسی مقصد کے لیے جینا، بھلے ہی آپ اس کے حصول میں کامیاب ہو یا نا ہوں اس سے فرق نہیں پڑتا۔

ویسے کیا میں نے ابھی تک یہ ذکر کیا ہے کہ طاہرہ کے ہاں میں نے چائے کا نہایت مزے کا کپ پیا۔ انہوں نے مجھے دوبارہ آنے کی دعوت دی اور میں جلد ہی دوبارہ ان کے ہاں جانے والی ہوں۔ صرف چائے کے لیے نہیں بلکہ خوشگوار بات چیت کے لیے بھی۔

(طاہرہ مظہر علی خان کا یہ انٹرویو 14 ستمبر 1993 کو انگریزی روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ میں شائع ہوا۔ مترجم : ثقلین شوکت)

Facebook Comments HS