معمہ
اخبار کا کاغذ ایسا سفید بھی نہیں ہوتا، اس پر پنسل سے ڈان اخبار میں چھپنے والے کراس ورڈ کے معمے کو حل کرنا عجیب مشکل کام ہوا کرتا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں کراچی میں پڑھتی تھی ایک تو اس کی یاد یہ ہے کہ وہ معمہ کبھی مجھ سے کیا میرے باپ سے بھی حل نہ ہوا۔ یہ ممکن تھا کہ ہم دونوں مل کر اسے حل کر دیتے لیکن یہ ہم دونوں کا مزاج نہیں تھا۔ ابا کا خیال تھا کہ پین سے کراس ورڈ بھرنا غرور کی علامت ہے جب بھی میں نے اسے روشنائی میں نامکمل چھوڑا انھوں نے پھر اسے درخور اعتنا نہ سمجھا۔
وہ خود سائنس کے آدمی تھے لیکن انگریزی ادب، ہندو اور یونانی مائیتھولوجی، تاریخ، جغرافیہ، فارسی، عربی سب جانتے تھے۔ لیکن کراس ورڈ میں جہاں کسی پاپ سنگر، ایکٹر، فلم یا میڈیا پرسنالٹی کا اشارہ ہوتا تو ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوتا۔ کبھی کبھی وہ مجھے آواز دے کر پوچھتے کہ بھئی یہ کیا پوچھ رہا ہے، میں ہرگز نہ بتاتی چونکہ اس کے بعد انھیں یہ خیال ستاتا کہ میں اس خرافات میں اپنا وقت کیوں ضائع کرتی ہوں۔
میں روایت قائم رکھتے ہوئے اب نیویارک ٹائمز کا کراس ورڈ حل نہیں کر پاتی اور وجہ اب بالکل وہی ہے جو کبھی ابا کی تھی۔ مجھے کبھی کبھی لگتا ہے صرف کم کارڈیشین کا نام اور کام جاننے سے میرے ذہن میں کئی اچھے خیالوں کے لیے جگہ کی کمی ہو گئی ہے اس لیے کہ اس کے ساتھ اس کی ماں بہنیں بچے سابقہ شوہر اور سابقہ سوتیلے باپ، جو اب اپنے آپ کو ایک عورت میں تبدیل کرچکے، ہیں سب میرے دماغ میں جگہ لیے ہوئے ہیں۔ ابا نے کس محنت سے میرے ذہن کو ارفع خیالات کے لیے بچایا تھا۔ لیکن افسوس یہاں تو تعمیر میں مضمر تھی اک صورت خرابی کی۔
ایک اور نیا سال شروع ہو گیا ہے اور اس دنیا کا معمہ اب بھی حل نہیں ہوا۔ غربت، بیماری، جنگ، وبا سب کے لیے جواب موجود ہیں لیکن ہمارے ذہنوں پر دولت، نفرت، ہوس اقتدار کے سائے ہمیں صحیح جواب دینے سے قاصر رکھتے ہیں۔
ہر حکومت انسانیت کے مستقبل نہیں اپنے ملک کے مستقبل کے لیے بھی فیصلہ کرنے سے عاری دکھائی دیتی ہے۔ نام نہاد جمہوریتوں میں بھی صرف اگلے الیکشن کو مدنظر رکھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں۔
پہلے سے بد تر طوفان آرہے، جنگل جل رہے ہیں، تتلیوں، کیڑوں مکوڑوں، پرندوں، جنگلی جانوروں سے دنیا خالی ہو رہی ہے۔ اب حشرات الارض میں صرف لال بیگ بچیں گے اور پرندوں میں صرف چکن۔ جن کی بنتی ہے چکن کڑاہی جسے کھا کھا کر انسان موٹاپے سے جلد مر سکیں گے جبکہ جنگ زدہ علاقوں کے بچے چاہے وہ افریقی ہوں، افغانی ہوں یا روہنگیا ہوں فاقوں سے مر رہے ہوں گے۔ آلات جنگ بکتے رہیں گے۔ افریقہ میں بلوغت سے پہلے ہی سپاہی بنائے جانے والے بچوں کے ہاتھ میں وہی ایسالٹ رائفل ہے جو امریکہ میں رکھنے کی آزادی ہے اور جس سے نوعمر لڑکے اپنے اسکول کے ساتھیوں کو مارتے ہیں۔ سینکڑوں ایٹم بم رکھنے والے دوسرے ممالک کو بم نہ بنانے کی تلقین کرتے ہیں اور جن کے ملک میں لوگ گھاس کھا گئے ہیں وہاں یہ بم بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
کئی ملکوں کی معیشت کو بے معنی جنگوں سے برباد کرنے والے اب ان مما لک کے تارکین وطن کو خطرہ تصور کر رہے ہیں۔ دیواریں بنائی جا رہی ہیں۔ لیکن یہ پیش بندی ہے۔ مغرب کو اصل خطرہ ماضی قریب میں گلوبل وارمنگ سے کرہ ارض کے بڑھتے درجہ حرارت، قطبین سے پگھلتی برف سے سمندروں کی اونچی ہوتی سطح اور ساحلی زمینوں کے زیر آب آنے سے ہے۔ وہاں کے لوگ پناہ کے لیے کہیں تو جائیں گے۔ اور پہلی دنیا کا کہنا ہے کہ یہ درجہ حرارت ہے تو ہماری کارستانیوں کا نتیجہ لیکن اے مصیبت زدوں کہیں جاؤ بس ہمارے پاس نہ آنا۔


