ہر بار عوام ہی ذمہ دار کیوں؟
مری میں شدید برفباری اور سیاحوں کے رش کی وجہ سے صورتحال انتہائی خراب ہو گئی ہے اور 20 سے زائد افراد کی گاڑیوں میں اموات کے بعد سیاحتی مقام کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔ مری کی صورت حال کو مانیٹر کرنے کے لیے قائم کنٹرول روم کے ذرائع کے مطابق شہر میں 1 لاکھ سے زائد گاڑیاں داخل ہوئیں اور لوگ گاڑیاں سڑکوں پر کھڑی کر کے چلے گئے۔ جبکہ مری میں رات سے بجلی کی فراہمی بند ہے، گاڑیاں سڑکوں پر ہونے کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، ہیوی مشینری سے برف کی کٹائی کا عمل جاری ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مری میں گاڑیوں میں لوگ چھوٹے بچوں کے ساتھ پھنسے ہوئے ہیں اور گاڑیوں میں لوگوں کے پاس کھانے پینے کے لیے سامان بھی نہیں ہے۔ دوسری جانب ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ مری میں برفانی طوفان کے باعث اب تک 21 ہلاکتیں ہو چکی ہیں، کلڈنہ کے مقام پر سرچ آپریشن جاری ہے مگر شدید مشکلات ہیں، سڑکوں پر برف کے باعث ریسکیو 1122 کا عملہ پیدل چل کر سرچ آپریشن کر رہا ہے، سڑکوں پر بہت زیادہ برف ہے جس سے ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات ہیں۔
وزیر داخلہ شیخ رشید کے مطابق مری میں ایف سی اور رینجرز کو بھی امدادی کارروائیوں کے لیے طلب کر لیا گیا ہے، اس کے علاوہ پاک فوج کے دستے بھی طلب کر لیے گئے ہیں۔ مری جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں، صرف کمبل، ادویات اور کھانے پینے کا سامان لے جانے والوں کو جانے کی اجازت ہو گی، پیدل جانے والوں کے لیے بھی راستے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے مجموعی طور پر سارے حادثہ کا ذمہ دار عوام کو قرار دیا ہے کہ اس موسم میں بیوی بچوں سمیت گھر سے کیوں نکلے؟ مری اور نتھیا گلی کے درمیانی راستے میں ہی برفباری کے باعث سیکڑوں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں اور سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے نا تو پنجاب اور نا ہی کے پی حکومت کی انتظامیہ موقع پر پہنچی ہے۔
عوام کو چاہیے کہ آئندہ جب بھی سردیوں میں مری یا گلیات جانا ہو تو پہلے وزیر داخلہ پاکستان، چیئرمین این ڈی ایم اے ، چیئر مین میٹ آفس، ڈی سی پنڈی، ڈی پی او راولپنڈی، انچارج ٹریفک پولیس مری ہوٹل ایسوسی ایشن گلیات اور کور کمانڈر راولپنڈی کو کال کر کے پوچھ لیں کہ جانا چاہیے یا نہیں۔ یہ تمام اکابرین گاڑیوں کی تعداد گننے میں کافی مصروف ہوتے ہیں اس لیے وہ آپس میں بات چیت کر کے کوئی ایکشن نہیں لے سکتے اور نہ ہی کوئی اقدام کر سکتے ہیں اس لیے عوام کا فرض ہے کہ ان سب سے رابطہ کرنے کے بعد ہی مری جانے کا فیصلہ کریں۔ ہاں اگر جانے کا فیصلہ کر ہی لیں تو ایک گاڑی میں صرف ایک شخص ہی جائے تاکہ مذکورہ بالا افسران گاڑیوں کی تعداد گن کر ٹویٹیں کرتے رہیں۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں برفباری کے دنوں میں سیاحت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس کے پیش نظر انتظامات کیے جاتے ہیں مگر مری میں جو ہو رہا ہے وہ مقامی انتظامیہ، متعلقہ محکموں اور حکومت کی بدترین نا اہلی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ تحفظات کے باوجود خوشحالی دکھانے کے لئے سیاحوں کو مری جانے دینا ناکام ریسکیو سروس اور ناکام پالیسیاں ہیں، فی الحال باڑیاں اور کلڈنہ تک کی صورتحال میڈیا پر آ رہی ہے، گلیات کی دیگر جگہوں سے تاحال کوئی رپورٹ نہیں آئی۔ ذمہ داروں کو استعفیٰ دینا چاہیے یا نہیں۔ اس کا مطالبہ موجودہ حکومت اپوزیشن میں ہوتی تو ضرور کرتی۔
مری میں 24 گھنٹوں کے دوران 17 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی جسے 10 سالوں کے دوران ریکارڈ برفباری قرار دیا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مری میں 3 جنوری سے اب تک 32 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی ہے اور 94 ملی میٹر بارش بھی ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مری میں اس وقت درجہ حرارت منفی ایک ہے اور شہر میں مزید بارش و برفباری کا بھی امکان ہے۔
آج صبح سے بھی مری میں ہلکی برفباری جاری ہے جو کل صبح تک جاری رہنے کا امکان ہے تاہم کل دوپہر تک برفباری کا سلسلہ تھم سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق انہوں نے بالائی علاقوں میں برفباری کی پیش گوئی کی تھی، مغربی ہواؤں کے باعث مری میں وقفے وقفے سے برفباری جاری ہے۔ مری میں دو سے تین دن کے دوران درجہ حرارت مزید گر سکتا ہے۔ اگر محکمہ نے بتا دیا تھا تو پھر حکومت نے سیاحت کی اجازت کیوں دی؟
تمہیں خزانہ بھرنے کی پڑی ہے
ہاں موت سامنے کھڑی ہے
فواد چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں بڑے فخریہ انداز میں بتایا تھا کہ موجودہ سیاحت سے حکومت نے 929 ارب منافع کمایا۔ عام طور پر مری میں 40 ہزار گاڑیاں داخل ہو سکتی ہیں اس سے زیادہ نہیں۔ حکومت کے کہنے پر لاکھوں لوگوں نے میری کا رخ کیا خوشحالی اور آمدنی میں اضافہ کرنے میں کتنے لوگ جان سے گئے یہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ مگر ابھی بھی ساری ذمہ داری عوام پر ڈال دی گئی ہے کہ وہ خراب موسم میں گھر سے کیوں نکلے۔ جبکہ حکومت موسم میں شدت کی اطلاعات سے آگاہ تھی۔
ذاتی طور پر اگر میرے پاس برفباری انجوائے کرنے کا بجٹ ہوتا تو میں بھی جاتی۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اپنی فیملی کے ساتھ روٹین سے ہٹ کر اچھا وقت گزارے۔ اس لیے وہ ہل اسٹیشن کا رخ کرتا ہے مگر پاکستانیوں کے لیے ہر موسم میں ناقص انتظامات باعث موسم سزا بنا دیے گئے ہیں چاہیے وہ گرمیوں میں مون سون کی بارشیں ہی کیوں نہ ہوں۔ یوں لگتا ہے کہ جان بوجھ کر سڑکوں سے بروقت برف نہیں ہٹائی گئی تاکہ بڑا سانحہ رونما ہو، جس کا فائدہ اٹھایا جائے۔
کیا ریاست کا کام صرف ٹیکسوں کا نفاذ اور ان کی وصولی ہے اور عوام پر مہنگائی مسلط کرنا ہے۔ اس حکومت کے پاس ہر بات، ہر حادثہ، مہنگائی اور مسائل کا جواز موجود ہے، جس کے پردے میں یہ اپنی نا اہلی کو چھپانے کی بھونڈی سی کوشش کرتے ہیں۔ مون سون کی بارشوں میں بھی کوئی حادثہ ہوا ہے تو ذمہ دار پبلک ہے، باہر کیوں نکلی، غیر محسوس طور پر ہر برے کام اور بڑے حادثے کی ذمہ دار پبلک ہے، اگر حکومت نے کچھ نہیں کرنا اور ریاست نے اپنی ذمہ دار نہیں اٹھانی تو پھر ان کا وجود چہ معنی۔


