مری سانحہ کا ذمہ دار کون?


آج سارا دن سوشل میڈیا پر دل دہلا دینے والی خبریں چلتی رہیں اور ابھی تک چل رہی ہیں۔ مری میں ہونے والے المناک حادثے پر ہر کوئی غمزدہ ہے۔ ہر آنکھ اشکبار ہے۔ اس انہونی پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ ساری فوم متاثرہ خاندانوں کے غم میں شریک ہے اور دعا گو ہے، کہ رب کائنات ان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور جانے والوں کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے آمین۔ کون جانتا تھا کہ وہ جو خوشی خوشی گھر سے برفباری دیکھنے جا رہے ہیں اسی برفباری میں ابدی نیند سو جائیں گے۔ اس اچانک آنے والی قدرتی آفت نے کئی گھر اجاڑ دیے۔ کئی گھروں کے چراغ بجھا دیے۔

لوگ خوفزدہ ہیں جو بچ کے نکل آئے ہیں وہ چوبارہ اس طرف نہ جانے کا سوچ رہے ہیں۔ قدرت کی ستم ظریفی پر نوحہ کناں ہوئے کے ساتھ ساتھ حکومت کی نا اہلی اور بر وقت امداد نہ پہنچانے کا رونا رو رہے ہیں۔ ہر ایک کے ذہن میں طرح طرح کے سوال سر اٹھا رہے ہیں۔

جب مری کے حالات کے بارے میں حکومت بخوبی آگاہ تھی تو

اتنے زیادہ سیاحوں کو مری میں داخل کیوں ہونے دیا؟
رستے بند کیوں نہ کر دیے گئے، حکومت کہاں سو رہی تھی؟

کسی بھی انہونی اور ناگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کمیوں نہ کیے گئے۔ جو رستے اس سا نئے کے بعد بند کیے گئے وہ پہلے بند کیوں نہ کیے گئے۔ ہمیشہ پانی سر سے گزر جاننے کے بعد ہی ہمیں ہوش کیوں آتی ہے۔ اس المناک حادثے کا ذمہ دار ہر کوئی ہے، سب سے زیادہ ظالم تو وہ ہیں جنہوں نے لوگوں کو مصیبت میں مبتلا دیکھ کر فوراً ہوٹلوں کے دام بڑھا دیے، کھانے پینے کے ریٹ دوگنے چوگنے کر دیے، ہم تو اس قدر بے حسی اور انسانیت سے عاری قوم ہیں کہ انسانی مجبوریوں پر اپنے کاروبار چمکاتے ہیں، اس قدر جذبات سے عاری ہیں کہ مرتے ہوئے لوگوں کی ویڈیوز بناتے ہیں اور سوشل میڈیا پر چلانے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاتے، یہ اس قوم کا وتیرہ بن چکا ہے کہ بجائے اس کے کہ کسی مظلوم کی مدد کریں، تماشا دیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے ان کا دل بھی خوف خدا سے نہیں کانپتا۔

انسانی لاشوں کے ڈھیر پر سیاسی جماعتیں بھی اپنی سیاست چمکانے کے لیے میدان میں کود پڑی ہیں، ایک دوسرے کو طعنے دیے جا رہے ہیں، حکومت کی نا اہلی اور سستی کا رونا رویا جا رہا ہے، اب ان کو کون سمجھائے کہ اگر دل میں اتنا ہی درد ہے تو جاؤ ان مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرو، بجائے ایک دوسرے کا گریبان پکڑنے کے مل کر کام کرو۔

بے شک اس کی سب سے بڑی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، کہ وہ لوگوں کو لمحہ بہ لمحہ صورتحال سے آگاہ رکھے، باہر کے ملکوں میں لوگ گھر سے موسم اور ہائی ویز کی مکمل صورتحال جان کر سفر پہ نکلتے ہیں اور دوران سفر گاہے بگاہے ریڈیو پر اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہو تا ہے کہ فلاں شاہراہ بند ہے، فلاں پر کام ہو رہا ہے لہذا متبادل رستہ اختیار کریں، اور یہاں پر نہ حکومت کو پرواہ اور نہ عوام کو احساس ہے کہ اتنے خراب موسم میں ہم چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ جب کہ ایک ہفتے سے ٹی وی پر اور اخباروں میں مسلسل خبریں آ رہی ہیں کہ مری میں حالات بہت ناگفتہ بہ ہیں اور سیاح زیادہ ہونے کی وجہ سے بہت سی گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں، اس کے باوجود بھی لوگ نہ سمجھیں اور فیملیز کے ساتھ نکل پڑیں، تو پھر اس کی ذمہ دار حکومت نہیں ہم خود ہیں، اور یہ سراسر خود کشی کے مترادف ہے۔

ان ایوان بالا میں بیٹھے ہوئے وزیروں۔ مشیروں کو عوام کی مشکلات کی کوئی پرواہ نہیں، آج یہ ہیں کل کوئی اور ہو گا، لیکن اس ملک پر چھائی ہوئی اندھیری رات میں روشنی کی کرن تب تک نہیں پھوٹے گی، جب تک ہم خود کو اور اپنی سوچ کو نہیں بدلیں گے، اپنا اچھا برا خود نہیں سوچیں گے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments