مسلسل چوسا جانے والا آم آدمی


خبروں میں ہمیشہ سنا ہے کہ اس بات کا عام آدمی پر فرق نہیں پڑے گا۔ بجٹ کا عام آدمی پر اثر نہیں ہو گا۔ مہنگائی عام آدمی کے لیے نہیں ہے یہ عام آدمی ہے کون، ہماری طرح انسان ہے یا کوئی مافوق الفطرت شے کہ اس پر کسی چیز کا، کسی بات کا اثر نہیں ہوتا، اسے گرمی نہیں لگتی وہ ہر مشکل جھیل سکتا ہے یا پھر وہ گونگا، بہرہ، اندھا ہے۔ اس کے بوڑھے ماں باپ نہیں، معصوم بچے، منتظر بیوی نہیں ہے۔ کیا وہ کوئی لوہے کے پنجر سے بنا ہے یا مٹی کا مادھو ہے، کیا وہ کبھی بیمار نہیں پڑتا، کیا وہ زندہ بھی ہے یا صرف ہیولا ہے آخر ہے کیا؟ کیونکہ ہر آنے والی حکومت عام آدمی کا خیال رکھتی ہے اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچانا چاہتی، اس کے لیے تمام سہولیات بہم تیار رکھتی ہے۔

ہر سال دو بجٹ پیش کیے جاتے ہیں اور ہر بجٹ کے اعلان کے بعد ایک جملہ سننے میں آتا کہ اس بجٹ کا عام آدمی پر اثر نہیں پڑے گا، بجٹ کا عام آدمی پر اثر نہیں پڑے گا، اس میں عام آدمی کا خیال رکھا گیا ہے۔ اب سوچیں جو بھی مہنگائی ہوگی اس کا اثر تو عام آدمی پر ہو گا نہیں پھر تو یقیناً عام آدمی بہت خوش قسمت ہے جس پر مہنگائی کا اثر بھی نہیں ہو گا اور وہ ”حال مست کھال مست“ محاورے کی تفسیر بنا رہے گا کیونکہ آج کل تو ہم جیسوں کا بھی حال یہ ہے کہ عزت کی چادر سر ڈھکو تو پیر ننگے اور پیر ڈھکو تو سر ننگا، اور ہر وقت مہنگائی کا رونا، سودا لینے جاؤ تو ہارٹ اٹیک کا ڈر ہوتا ہے۔ مہنگائی کا گراف بڑھتے دیکھ کر اپنے اخراجات کم کرتے کرتے ضروری کاموں تک محدود ہو گئے۔ اس کا مطلب ہے ہم عام آدمی قطعی نہیں بلکہ مرزا غالب بھی انہی حالات سے دوچار تھے جبھی تو شعر کہہ گئے

بسکہ دشوار ہے ہر کام آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

ہم نے سوچا عام آدمی کی اصطلاح کے لیے گوگل چاچا سے پتہ کرتے ہیں شاید وہی کچھ روشنی ڈال سکیں تو یہ تعریف ملی ”عام آدمی ایک بندھی ٹکی زندگی جیتا ہے۔ صبح کام پر جاتا ہے، شام کو تھک کر گھر آتا ہے اور اس کوشش میں رہتا اور اس کوشش میں رہتا ہے کہ اس کی کمائی اس کے اہل خانہ کی تمام ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو، روز جیتا ہے اور روز مرتا ہے یعنی کوشش کرتا ہے۔ یہ متوسط طبقے کا آدمی ہوتا آپ اس میں غریبوں کو شامل کر سکتے ہیں“ ۔ چلیں بھئی یہ تو معلوم ہوا عام آدمی کیا ہے۔

ہم نے دو چار عام آدمیوں سے ملاقات کی اور ان کی خوشحالی پر انھیں مبارکباد دی تو وہ پھٹ پڑے مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، علاج کا رونا رونے لگے بڑی حیرانی ہوئی کہ یہ تو عام آدمی ہیں پھر انھیں کیوں فرق پڑ رہا ہے اس کا مطلب عام آدمی کوئی الگ ہی مخلوق ہے۔ کیونکہ عام آدمی حکومت کا لاڈلا تو ہے ہی سیاست دانوں کی آنکھ کا تارا بھی ہوتا ہے۔ جب ہی وہ ہر تقریر ہر خطاب میں عام آدمی کی بھلائی کا سوچتے ہیں، انھیں روٹی کپڑا اور مکان دینے کا تہیہ کرتے ہین، عام آدمی کی زندگی سنوارنے کے لیے پریشان ہوتے ہیں تاکہ عام آدمی انھیں ووٹ دے کر کامیاب کرے۔ عام آدمی کے لیے بھٹو اب تک زندہ ہے، کپتان نجات دہندہ ہے، شیر ہر مشکل سے نجات دلائے گا، شاید عام آدمی لکیر کا فقیر ہے وہ ساری عمر لکیر ہی پیٹتا رہ جاتا ہے اور اس کے ووٹ سے کامیاب ہوئے سیاست دان بہت آگے نکل جاتے ہیں۔

ہمارے ہمسایہ ملک میں تو ایک عام آدمی نے ”عام آدمی پارٹی“ بنالی اور بے نتھے حکمرانوں کی ناک میں نکیل ڈال دی ہمارے ملک میں عام آدمی کب بیدار ہو گا ہم تو اپنے سیاستدانوں سے بس یہی کہیں گے

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے
یہ تو معلوم ہو گیا کہ عام آدمی ایک خیالی ہیولا ہے جو بہت مطمئن اور پر سکون ہے باقی سب باتیں ہیں۔

انگریزی میں عام آدمی مینگو پیپل کہلاتے ہیں یہ اصطلاح فلموں میں ایکسٹرا کا رول ادا کرنے والوں کو کہا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں عام آدمی، آم کی طرح چوسا جا رہا ہے ایک دن ایسا ہو گا کہ چوسا ہوا عام آدمی کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہو گا اب بھی وقت ہے عام آدمی بیدار ہو جائے گی بچ جائے گا ورنہ موت تو ہر آدمی کا مقدر ہے

آدمی کیا کیا جتن کرتا ہے صرف
ایک تختی ایک کتبے کے لیے

Facebook Comments HS