سانحہ مری


سیاحتی شہر مری میں وقوع پذیر ہونے والا سانحہ اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گیا۔ ملکی تاریخ میں یہ دن بظاہر برف کی ”سفید چادر“ اوڑھے، لیکن اپنی کیفیت اور تاثر کے باعث سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اس سانحے میں 23 سے زائد افراد مری کی ٹھٹھرتی برفانی شب میں اپنی گاڑیوں میں ہی دم گھٹنے سے لقمۂ اجل بن گئے۔ اس واقعہ کے وقوع پذیر ہونے کے ساتھ ہی سوشل و الیکڑک میڈیا پر وائرل ہونے والے ویڈیو کلپس نے سردی کی لہر کے ساتھ ساتھ رنج و غم اور افسردگی کی لہر نے پوری پاکستانی قوم کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس سانحہ میں انتظامی، اخلاقی اور انسانی مرضی و منشاء اور ہٹ دھرمی جیسے عوامل نے کئی پہلووں پر سوچ بچار کرنے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کی طرف توجہ دلائی ہے۔

ایک عرصہ سے دنیا بھر میں ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں تمام میڈیا ببانگ دہل اس طرف توجہ دلا رہا ہے۔ اور ان خطرناک چیلنجز سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی بنانے اور اس کے عملی نفاذ پرزور دے رہا۔ عالمی، سرکاری و نجی تنظیمیں اور ادارے مختلف میڈیا چینلز پر اس موضوع کی مناسبت سے عوام میں شعور و آگہی کے لیے کوشاں ہیں۔ لیکن ہم ٹھہرے پاکستانی قوم جو کہ جوش میں ہوش کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ اکثریت اپنے جذباتی اور لا ابالی فیصلوں کو زندہ دلی کا نام دیتے ہیں اور زمینی و موسمی حقائق کو یکسر مسترد کر کے اپنے اور اپنے پیاروں کے لئے خود مسائل پیدا کرتے ہیں۔

اس سانحے کے بعد کوئی حکومتی ادارہ اپنی غفلت اور غیر ذمہ داری ماننے سے انکاری ہے۔ آغاز میں تو سیاحوں کے لئے مری شہر میں ناکافی انتظامات کے ادراک کے بغیر وفاقی وزیر سیاحت نے لوگوں کے اس رجحان کو اپنی کامیابی سے تعبیر کیا۔ لیکن جب غیر معیاری اور ناکافی انتظامات کا پول کھلا تو اپنی نا اہلی کو قدرت اور گزشتہ حکومتوں کے غیر معیاری بلدیاتی کاموں پر ڈالتے نظر آتے ہیں۔

دوسری طرف ایسے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے قبل از وقت حکمت عملی بنانے والے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے ) اپنی ذمہ داریوں میں غفلت کو ماننے پر انکاری ہے۔ ادارہ اپنے اس بات پر اڑا ہے کہ تمام سوشل و الیکڑانک میڈیا پر ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا تھا کہ موسم خراب رہے گا اور شدید برفباری کی پیشن گوئی کردی گئی تھی۔ خیر اگر یہ بیان محکمۂ موسمیات کی طرف سے آتا تو چلیں مانا جا سکتا ہے کہ اس ادارہ کا کام ایسے شدید موسموں کے مطلق اداروں کو آگاہ کرنا ہے۔ لیکن این ڈی ایم اے کو اس قبل از وقت آگاہی کے بعد عوام کو محفوظ رکھنے کے لئے عملی اقدامات کرنا تھے، حکمت عملی مرتب کرنا تھی، حکومت وقت کو ان متوقع سنگین موسمی مزاج سے مطلع کرنا تھا، لیکن ایسا کچھ کرنے میں یہ ادارہ ناکام رہا۔ یا کہنا چاہیے کہ غفلت کا مرتکب ہوا۔

ضلعی انتظامیہ نے مری شہر میں سیاحوں کی لا محدود تعداد کو کیوں آنے دیا؟ جب شہر میں صرف 30 یا 35 ہزار گاڑیوں کی گنجائش ہے تو لاکھ سے زائد گاڑیوں کو کیوں شہر میں آنے دیا۔ یہ بد انتظامی کا تاثر حکومتی رٹ کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس سانحہ سے قبل مری کے تجارتی حلقوں کا رویہ تھا کہ انہیں اپنی فروخت اور منافع سے غرض تھی۔ اگر سیاحوں کی آمد کو محدود کرنے کی کوشش کی جاتی تو تاجر اس بات پر سراپا احتجاج ہو جاتے کہ ان کا معاشی استحصال کیا جا رہا ہے۔

اسی لئے تجارتی حلقے موسمی حالات کے ادراک کے بعد بھی شہر میں سیاحوں کی جوق در جوق آمد اور داخلے پر مصر تھے۔ لوگوں کی اکثریت کے باعث شہر کے ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز اپنے کمروں کے منہ بولے بلکہ حد سے بے حد زیادہ کرائے لے رہے تھے۔ اور کہا جاتا تھا کہ ہوٹلوں میں اتنے کرایوں کے وصولی کے باوجود زیادہ تر جگہوں پر بنیادی سہولتیں بھی فراہم نہیں کی جا رہی تھیں۔ یہ کہنے میں مضائقہ نہیں ہو گا کہ مقامی تاجروں اور ہوٹل مالکان کے لئے سیاحوں سے جائز و ناجائز منافع کمانے کا یہ آئیڈیل سیزن ہوتا ہے۔

نہ جانے وہ کتنی دعائیں مانگتے ہوں گے ہر سال اس سیزن میں خوب برفباری ہو اور زیادہ سے زیادہ سے لوگ ملکۂ کہسار کے سفید برف میں لپٹے حسن کا نظارہ کرنے آئیں، اور ایسے میں سیاحت کے نام پر ان کے ”گلشن کا کاروبار“ خوب چلے۔ ہوٹلز نہ ملنے یا منہ مانگے داموں اور پہنچ سے باہر داموں اور شب بسری کی عدم فراہمی کے باعث لوگوں نے اپنی گاڑیوں میں ہیٹر جلا کر رات گزارنے کی کوشش کی۔ ایسے میں وہ شدید سردی سے تو نہیں لیکن بند گاڑیوں میں تازہ ہوا کی کم یابی کے باعث موت کا شکار ہوئے۔ سانحۂ مری کے ہلاک شدگان میں بڑے اور بچے سبھی شامل ہیں۔ جو انتہائی خاموشی کے ساتھ بغیر کسی آتشزدگی، دھماکے، حادثاتی توڑ پھوڑ کے ملک عدم کو سدھار گئے۔

کہا جاتا ہے اس سیزن میں تاجروں کے علاوہ مقامی لوگوں کی اکثریت بھی خود غرضی اور لالچ و حرص کی حدوں کو پار کرتے ہوئے اپنے گھر اپنے شہر میں آئے ہوئے ملک بھر سے آئے ہوئے سیاحوں کی جیبیں خالی کرنے پر تلے ہوتے ہیں۔ معمولی اور عام استعمال کی چیزوں کو بھاری قیمت پر فروخت کر کے خوب چاندی کرتے ہیں۔ اس عام رجحان کا تعلق بھی اس انسانی رویہ کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ گھر آئے مہمان کاروبار سے ہٹ کر انسانیت دوست رویوں کا بھی تقاضا کرتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو طوفان میں گھرے سیاحوں کو مقامی آبادی میں ان مثبت رویوں کا فقدان نظر آیا۔

حالیہ خبروں میں برف ہٹانے والی مشینیں برف ہٹا رہی ہیں اور برفانی طوفان کے باعث گرنے والے درخت اور بجلی کے کھمبے ہٹانے کا کام جاری ہے۔ متاثرہ سیاحوں کو حکومتی اور نجی ادارے اور تنظیمیں محفوظ مقامات پر بنیادی سہولتیں فراہم کر رہی ہیں۔ ہمیشہ کی طرح شدید موسمی حالات میں اور قدرتی آفات میں فوج عوام کی خدمت کے لئے شہر میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ پاک فوج کو سلام ہے۔

آج سانحۂ مری میں اپنے شہریوں کی ہلاکت پر افسردہ ہر باشعور پاکستانی کے کانوں میں یہ بازگشت سنائی دیتی ہے ”حکومتی پالیسیاں اور متعلقہ اداروں کی غیر ذمہ داری و غفلت، اپوزیشن کے حکومت پر نا اہل ہونے کے الزامات کے تیروں کی بوچھاڑ، حکومتی حلقوں کی وضاحتوں اور گزشتہ حکومتوں کی نا اہلی پر رونا، روایتی بیان بازی، تحقیقاتی کمیٹیوں کی تشکیل، سانحہ کے ذمہ داران کو سزائیں دینے کا عزم، عوام کی بے شعوری اور ہٹ دھرمی، مقامی تاجروں اور لوگوں کا خود غرض اور لالچ پر مبنی رویے، آئندہ ایسے سانحات سے بچنے کے لیے اقدامات او ر جامع حکمت عملی مرتب کرنے کا عزم کی۔“ اے رب العالمین میرے ملک پاکستان کا تو ہی حامی و ناصر ہو۔

Facebook Comments HS