الزام ریپ کا اور ثبوت لغویات کے


جیسا کہ میں نے گزشتہ دو کالموں میں یہ ذکر کیا تھا کہ دسمبر کے آخر میں ہم سب پر رانا تنویر صاحب کا ایک کالم ”جماعت احمدیہ کے قائد کے اہل خانہ پر ریپ کے الزامات“ کے نام سے شائع ہوا۔ اس کالم کے مطابق فون پر ایک خاتون نداء النصر اور جماعت احمدیہ کے سربراہ کے درمیان ہونے والی گفتگو سامنے آئی ہے اور اس گفتگو میں اس خاتون نے یہ الزام لگایا ہے کہ اسے بہت سے افراد نے ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔ چونکہ اس بارے میں بہت سی آراء سننے اور پڑھنے کو مل رہی ہیں، اس لیے اس کالم میں بھی خاکسار اس گفتگو کے ایک اہم حصہ کے بارے میں کچھ حقائق پیش کرے گا۔

اس کالم میں رانا تنویر صاحب نے لکھا ہے کہ

”ندا النصر نے اسے بتایا کہ اگر وہ جماعت کے اندر کوئی کارروائی نہیں کر رہا تو وہ پولیس کے پاس جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ نہیں ہو گا اور لوگ چند دنوں میں بھول جائیں گے۔“

اور ندا ء النصر نے اپنی ایک ٹویٹ میں اپنے دعوے پیش کیے ہیں۔ اس میں اس حوالے سے یہ لکھا ہے

”The Ahmadiyya leadership has not taken my allegation seriously and has asked me to stay silent instead of offering me a proper investigation or allowing me to go to Police“

ترجمہ: جماعت احمدیہ کی قیادت نے میرے الزامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور بجائے اس کے کہ صحیح تحقیقات کی جاتیں یا مجھے پولیس کے پاس جانے کی اجازت دی جاتی مجھے خاموش رہنے کو کہا۔ ”

دوسرے الفاظ میں اس الزام کا لب لباب یہ ہے کہ نداء النصر کا یہ دعویٰ ہے کہ انہیں ہزاروں مرتبہ ریپ کیا گیا تھا اور ظاہر ہے کہ ریپ کی قانونی تحقیقات تو کسی بھی ملک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی کر سکتے ہیں اور آخری فیصلہ اس ملک کی عدالتیں ہی کر سکتیں ہیں کہ ریپ کا الزام درست ہے کہ نہیں ہے۔

اس لحاظ سے یہ ایک سنجیدہ الزام ہے کہ نداء النصر کے بقول نہ جماعت احمدیہ کی قیادت خود اس کی تحقیقات کر رہی تھی اور نہ ہی ملک کے قانون کے مطابق نداء النصر کو پولیس کے پاس جانے کی اجازت دے رہی تھی۔ لیک ہونے والی یہ آڈیو یوٹیوب کے کئی چینلز پر موجود ہے۔ ہم اس حوالے سے اس آڈیو کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا یہ الزام درست ہے کہ نہیں۔

اس آڈیو کے شروع کے منٹوں میں ہی یہ آواز واضح سنائی دے رہی ہے کہ نداء النصر کو کہا جا رہا ہے

” اس کے علاوہ جو ظلم ہوئے ہیں وہ ظلم تم ظاہر کر سکتی ہو۔ لیکن باقاعدہ فورم پر جا کر ظاہر ہونا ہوتا ہے ظلم۔ جس کے لیے درخواست دینی پڑتی ہے یہ ہے ظلم مجھ پر ہوا۔ اس کا مداوا کیا جائے۔“

نہ صرف یہ بلکہ اس کے چند لمحوں بعد نداء النصر کو یہ کہا گیا کہ تم نے اتنے برس یہ سوال نہیں اٹھایا جو تمہیں اٹھانا چاہیے تھا۔ اور اس کے جواب میں نداء النصر اپنی یہ غلطی تسلیم کرتی ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ کسی بھی ملک میں ریپ کی شکایت کے لئے سب سے باقاعدہ فورم اس ملک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور اس ملک کی عدالتیں ہی ہو سکتی ہیں جو اس مجرمانہ فعل کی باقاعدہ تحقیقات کر سکتی ہیں۔ ورنہ اس وقت تک وہ جماعت احمدیہ کے سربراہ کو تو شکایت کرچکی تھیں۔ اور انہیں بتایا جا رہا ہے کہ نہ صرف تم قانونی طور پر اپنی شکایت کر سکتی ہو اور اپنے پر ہونے والے ظلم کے مداوے کا مطالبہ بھی کر سکتی ہو بلکہ یہ کام تو تمہیں ایک طویل عرصہ پہلے کرنا چاہیے تھا۔

میرے لئے یہ بات باعث حیرت ہے کہ جو آڈیو خود نداء النصر نے لیک کی ہے اس کے مطابق تو انہیں یہ بتایا جا رہا تھا کہ ان کو باقاعدہ فورم پر اپنی شکایت درج کرانے کا حق حاصل ہے۔ اور یہ کام انہیں ایک طویل عرصہ پہلے کرنا چاہیے تھا، پھر یہ دعویٰ کس بنیاد پر پیش کیا جا رہا ہے کہ جماعت احمدیہ کی قیادت نے انہیں مجبور کیا ہوا تھا کہ وہ باقاعدہ اپنے الزامات کی رپورٹ درج نہ کرائیں۔

یہ بات بھی نا قابل فہم ہے کہ اس مرحلہ پر انگلستان میں جماعت احمدیہ کی قیادت کس طرح نداء النصر کو اپنی رپورٹ درج کرانے سے روک سکتی تھی۔ اس آڈیو میں وہ سخت ترین الفاظ میں جماعت احمدیہ کے نظام پر اپنے عدم اعتماد کا اظہار کر چکی تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب ان کا نداء النصر پر کوئی کنٹرول نہیں تھا اور وہ کسی طرح بھی ان کے تسلط میں نہیں تھیں۔ اس رپورٹ کو درج کرانے کے لئے انہیں اپنے کمرے سے بھی باہر جانے کی ضرورت نہیں تھی وہ فون پر اپنی گفتگو منقطع کرتیں اور انگلستان میں ریپ کی شکایت تو ای میل کے ذریعہ آسانی سے درج کرائی جا سکتی ہے۔ نداء النصر اس سہولت سے فائدہ اٹھا کر چند منٹوں میں یہ رپورٹ درج کرا سکتی تھیں۔

لیکن جب نداء النصر نے یہ سنا اور خاص طور پر جب انہیں یاد دلایا گیا کہ انہوں نے اپنے الزام کے حق میں کوئی گواہی نہیں پیش کی۔ اس پر انہوں نے پہلے یہ کہا

” گواہیاں آتی ہیں جب ثبوت نہیں ہوتے۔ میں نے ثبوت پیش کیے ہیں۔“

لیکن شاید یہ کہنے کے بعد انہیں یاد آیا کہ انہیں نے ریپ کا کوئی ثبوت پیش ہی نہیں کیا۔ اور انہوں نے جو کہا اس کے اصل الفاظ یہ تھے

” اچھا ریپ کو ایک طرف کریں۔ میں جو ثبوت پیش کر چکی ہوں اس میں بہر حال لغویات ثابت ہو رہی ہے۔ آپ تو کہہ رہے ہیں کہ میں نے لغویات پر بھی عہدوں سے نہیں ہٹانا۔ ای میل اور واٹس اپ وہ لغویات تو clearcut black and white ثابت ہو رہا ہے۔ برٹش کورٹ کوئی نہیں مانے گا۔ آپ برٹش کورٹ کے سپریم ہیڈ نہیں ہیں، برٹش کورٹ کوئی عدالت نہیں مانے گی اس میں لغویات نہیں ہیں۔ ”

گویا الزامات ہزاروں ریپ کے لگائے گئے تھے اور جب قانون کے پاس جانے کی اور ثبوت اور گواہی کی بات ہوئی تو نداء النصر نے خود کہا کہ اچھا ریپ کو ایک طرف کریں مجھے ای میل اور واٹس اپ پر لغو پیغامات تو بھجوائے گئے تھے۔ ہمیں یہ علم نہیں کہ وہ جن پیغامات کا ذکر کر رہی ہیں ان کے الفاظ کیا تھے؟ لیکن ظاہر ہے کہ ریپ کرنے اور لغو پیغام بھجوانے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ رانا تنویر صاحب نے لکھا تھا کہ نداء النصر نے کچھ پیغامات پولیس کے حوالے کیے ہیں لیکن خود اس خاتون کا اعتراف ہے کہ ان پیغامات میں صرف لغو باتیں تھیں۔ جہاں تک مجھے اردو کا علم ہے بے معنی اور بے مقصد بات کو لغو کہا جاتا ہے۔ اگر ہر لغو بات پر پولیس گرفتار کرنے لگی تو دنیا کی آدھی آبادی پس زنداں ہو گی۔

ان پیغامات میں کیا لکھا ہے اور کیا نہیں لکھا، ہمیں یہ علم نہیں لیکن یہ پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ اس کے متعلق خود اس خاتون نے اس آڈیو میں یہ اعتراف کیا کہ اس نے ان افراد کو اس قسم کے پیغامات خود بھجوائے تھے تا کہ یہ عمل شروع ہو اور اس عمل کو اس نے خود حکمت کے تحت initiate کیا تھا۔

اور رانا تنویر صاحب نے ذکر کیا ہے کہ اس خاتون کو یہ کہا گیا تھا کہ اگر وہ پولیس کے پاس جائے گی تو کچھ نہیں ہو گا لوگ اس بات کو کچھ دنوں میں بھول جائیں گے۔ تو عرض ہے کہ یہ بات پولیس کے پاس جانے کے بارے میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر اس کا ذکر کرنے کے بارے میں کہی گئی تھی اور اس کے الفاظ یہ تھے

” سوشل میڈیا پر کھلے گا تو دنیا تو چار دن باتیں کرے گی۔“

اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس پونے گھنٹے کی گفتگو سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نداء النصر کو اس بات کا شکوہ نہیں تھا کہ ان کے الزامات پر کوئی تحقیقات کیوں نہیں کی جا رہیں بلکہ انہوں نے اس بات پر ایک سے زائد مرتبہ اس بات پر شدید برہمگی کا اظہار کیا کہ پہلے تو میری بات پر یقین کیا جاتا تھا اور اب میرے الزامات پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا یہ خیال ہے کہ وہ جب اس قسم کے الزامات لگائیں تو خواہ وہ اس کی تصدیق میں کوئی گواہی یا ثبوت پیش نہیں کیا جائے اور جن پر یہ الزامات لگائے جا رہے ہوں وہ ان الزامات کو غلط قرار دے رہے ہوں تو بھی تحقیقات کی ضرورت نہیں ان الزامات کو من و عن قبول کر لینا چاہیے۔

نداء النصر جولائی 2021 میں ہی پولیس میں اپنی شکایت درج کرا چکی تھیں لیکن انہوں نے پانچ ماہ بعد یہ فیصلہ کیا کہ وہ فون پر ہونے والی گفتگو کی آڈیو لوگوں کو بھجوائیں۔ اس کالم کا مقصد یہ نہیں کہ راقم الحروف خود مدعی، وکیل، جج اور جیوری کا کردار ادا کرتے ہوئے کوئی فیصلہ سنائے۔ یہ شکایت چھ ماہ قبل انگلستان کی پولیس میں درج کرائی جا چکی ہے۔ اگر پولیس کو کوئی شواہد ملے تو وہ ملک کے قانون کے مطابق اس بارے میں کارروائی کرے گی۔ لیکن نداء النصر نے کچھ الزامات لگائے ہیں جس کی تردید خود ان کی جاری کردہ آڈیو کر رہی ہے۔ اس پس منظر میں کہ ہر کچھ روز بعد نداء النصر اس بارے میں اپنا موقف پیش کرتی ہیں تو یہ بھی ضروری تھا کہ دوسرا پہلو بھی منظر عام پر لایا جائے۔

Facebook Comments HS

One thought on “الزام ریپ کا اور ثبوت لغویات کے

  • 12/01/2022 at 9:04 صبح
    Permalink

    مشہور جریدے گارڈین کی 16 ستمبر 2016 کی اشاعت میں ایک تحقیق My Own Form of Justiceشائع ہوئی تھی۔ اس میں ماہرین قانون اور ماہرین نفسیات کی یہ رائے درج کی گئی تھی کہ اگر کسی مظلوم کو واقعی نشانہ بنایا گیا ہو تو اس کو قانون کے ذریعہ ہی کارروائی کرنی چاہیے۔ اگر سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک معین کیس کے لئے انصاف کے حصول کی کوشش کی جائے تو اس سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں مثال کے طور پر اسے لائیبل کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اور جب سوشل میڈیا پر اس کی پوسٹ کے جوابات میں ایسی باتیں سامنے آ سکتی ہیں جو نفسیاتی طور پر اس کے لئے نقصان دہ ہوں۔ اور اس آڈیو میں بھی یہی ذکر ہے کہ نداء النصر نے قانون کےپاس جانے کی بجائے بعض لوگوں کے سامنے اپنے الزامات کا ذکر شروع کر دیا تھا۔ اور اس آڈیو میں بھی اسے یہی بتایا گیا تھا یہ طریقہ اس کے لئے فائدہ مند نہیں ہے اور اس کی عزت خلاف ہے۔ لیکن اس گفتگو کے شروع میں ہی اس بات کا ذکر آ جاتا ہے کہ نداء النصر صحیح فورم پر اپنی شکایت درج کر اسکتی ہے اور یہ کام اسے کئی سال پہلے کر لینا چاہیے تھا۔

Comments are closed.