ہم، طالبان اور افغانستان (مکمل کالم)


ہمارا تعلق پاکستان کی اس نسل سے ہے جس کا بچپن، لڑکپن اور جوانی افغان جنگ کی خبریں سنتے اور سہتے گزر گئی۔ 24 دسمبر 1979 کو جب سوویت فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں تو اس وقت پاکستان میں مارشل لا نافذ ہوئے دو سال ہو چکے تھے۔ اگلی ایک دہائی تک ہم نے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان پر جو خبریں سنیں وہ یا تو افغان جہاد کے بارے میں ہوتی تھیں یا پھر ملک میں نظام اسلام کے بارے میں۔ 1989 میں کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے اور روسی فوجیں بالآخر واپس چلی گئیں، سوویت یونین ٹوٹ گیا اور ہمارے ملک میں جمہوریت بحال ہو گئی۔ افغانستان کا مسئلہ مگر حل نہ ہو سکا۔ روسیوں کے جانے کے بعد وہاں خانہ جنگی شروع ہو گئی، برہان الدین ربانی صدر اور گلبدین حکمت یار وزیر اعظم تو بن گئے مگر ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار رہے، دونوں نے اپنے اپنے جتھے بنائے اور ملک پر قبضے کی غرض سے آپس میں لڑائی جاری رکھی۔ اس دور میں ریاستی عملداری نام کی کوئی چیز نہیں تھی (ویسے افغانستان اس لفظ سے زیادہ تر نا آشنا ہی رہا)، جس کا بس چلتا وہ اپنے علاقے میں ناکہ لگا کر ’حکومت‘ قائم کر لیتا اور آنے جانے والی گاڑیوں سے بھتہ وصول کرنا شروع کر دیتا۔ ان ناکوں سے گزرنے والے یہ بھتہ دینے پر مجبور تھے، کوئی زیادہ احتجاج کرتا تو اس سے مار پیٹ کی جاتی اور جو بہت شور کرتا اسے گولی مار دی جاتی۔ حالات یہ ہو چکے تھے کہ جو چیز پاکستان سے ایک روپے میں ملتی وہ قندھار پہنچتے پہنچتے چار روپے کی ہو جاتی۔ یہی حال پاکستانی سرحد چمن سے افغانی سرحد سپن بولدک تک کا تھا، یہ کل سولہ کلومیٹر کا سفر بنتا ہے جس میں سے آٹھ کلومیٹر افغانستان کے اندر طے کرنے کے لیے بھی افغان تاجروں کو مقامی جنگجوؤں کو بھتہ دینا پڑتا تھا۔
ان حالات میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے افغانستان کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ قندھار کے ایک نواحی گاؤں سنگیسار کی سفید مسجد میں ملا عمر نامی ایک شخص نے پچاس افراد سے ایک حلف لیا کہ وہ افغانستان میں امن کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے سوویت افواج کے خلاف جہاد میں حصہ لیا تھا اور ان میں سے زیادہ تر کسی مدرسے میں معلم تھے یا امام مسجد۔ ابتدائی طور پر ان چالیس پچاس افراد کے پاس کوئی وسائل تھے اور نہ ان کی تنظیم کا کوئی نام۔ دو لوگ جو ان میں نمایاں تھے ان میں ملا عبدالسلام ضعیف (جو بعد میں پاکستان میں افغانستان کے سفیر بنے) اور ملا عبدالستار تھے۔ انہوں نے اپنے پرانے موٹر سائیکل تنظیم کو بطور چندہ پیش کیے اور ملا عبد السلام ضعیف نے اپنی کل جمع پونجی مبلغ دس ہزار افغانی جو اس وقت ایک امریکی ڈالر کے برابر تھے، تنظیم کی نذر کر دیے۔ اس کے علاوہ ان مٹھی بھر لوگوں کے پاس تیرہ عدد کلاشنکوفیں تھیں۔ ملا عمر کی قیادت میں ان لوگوں نے اپنی تنظیم کے لیے وسائل اور افرادی قوت اکٹھی کی، وہ چونکہ بے حد سادہ زندگی گزارتے تھے اس لیے مدرسے کے نوجوان ان سے بہت جلد متاثر ہو گئے اور یوں ان کا حلقہ اثر تیزی سے وسیع ہوتا چلا گیا۔ علاقے میں قدم جمانے کے بعد انہوں نے مقامی جنگجوؤں کو پیغام بھجوایا کہ وہ اپنے اپنے ناکے ہٹا دیں۔ اس پیغام کو کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ سب سے پہلا ناکہ جو اس تنظیم نے مختصر سی جنگ کے بعد ہٹوایا وہ سنگیسار سے کچھ ہی دور تھا۔ اس کامیابی نے تنظیم کے حوصلے بڑھا دیے اور پھر انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ 1995 کے وسط تک، یعنی اپنے قیام کے محض چھ سے سات ماہ کے اندر، اس تنظیم نے افغانستان کے اکتیس صوبوں (اب تعداد چونتیس ہے) میں سے اٹھارہ پر قبضہ کر لیا۔ یہ تنظیم بعد میں افغان طالبان کے نام سے مشہور ہوئی۔
یہ واقعہ میں نے حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’ہم، طالبان اور پاکستان‘ سے لیا ہے۔ یہ کتاب نامور اور سکہ بند صحافی حبیب اکرم نے لکھی ہے اور ان کتابوں میں سے ایک ہے جنہیں، بقول فرانسس بیکن، مکمل تندہی اور غور سے پڑھنا چاہیے۔ پہلے ہی ہلے میں اس کتاب کا ایک چوتھائی حصہ میں پڑھ چکا ہوں اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اس موضوع پر یہ غالباً اردو کی پہلی کتاب ہے جس میں مصنف نے افغانستان کے پورے مسئلے کا ایک ’کیپسول‘ سا بنا کر پیش کر دیا ہے۔ اگر آپ تاریخ کے طالب علم ہیں، افغان امور کے ماہر ہیں یا پاکستان کے فکر مند شہری ہیں، تو سمجھیں کہ یہ کتاب آپ ہی کے لیے لکھی گئی ہے۔ اس میں افغانستان کی مختصر سی تاریخ بیان کی گئی ہے، موجودہ حالات کا پس منظر بتایا گیا ہے اور پھر امریکی فوج کے انخلا کے بعد کی صورتحال کا آنکھوں دیکھا احوال لکھ دیا گیا ہے جو تا حال کوئی دوسرا صحافی کتابی شکل میں نہیں لکھ سکا۔
یہ کتاب ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے جو عام طور پر میڈیا رپورٹنگ میں ہمارے سامنے نہیں آتے، حبیب اکرم نے ان واقعات کو نہایت عمدگی کے ساتھ بیان کیا ہے اور اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ ان کے اپنے نظریات ان واقعات کے بیان میں آڑے نہ آئیں۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا، لکھاری عام طور سے لکھتے ہوئے بھٹک جاتے ہیں مگر حبیب اکرم نہ بہکے اور نہ بھٹکے بلکہ صراط مستقیم پر چلتے ہوئے انہوں نے اپنی کتاب مکمل کی اور نتیجہ قاری پر چھوڑ دیا جیسے کہہ رہے ہوں کہ بھیا میں نے تو آپ کے سامنے افغانستان کے حالات دیانتداری سے بیان کر دیے، اب تجزیہ آپ خود کیجیے کہ ہمارا مستقبل کیا ہو گا!
اس کتاب میں بیان کردہ واقعات میں سے ایک نتیجہ جو میں نے اخذ کیا وہ یہ ہے کہ ملا عمر بلاشبہ ایک نیک نیت حکمران تھے جو نہ صرف افغانستان کو پرامن بنانا چاہتے تھے بلکہ وہاں ایک خالص اسلامی نظام بھی رائج کرنا چاہتے تھے۔ ان پر یہ الزام غلط تھا کہ امریکی حملے کے بعد وہ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر فرار ہو گئے۔ اس بارے میں حبیب اکرم لکھتے ہیں کہ ابتدائی طور پر یہی سمجھا گیا تھا کہ وہ شکست کے بعد بھاگ گئے ہیں لیکن بعد میں پتا چلا کہ وہ قندھار کے نواح میں تنہا رہے اور وہیں سے طالبان کی قیادت کرتے رہے۔ تاہم ملا عمر سے اندازے کی ایک بھیانک غلطی ہوئی جب نائن الیون کے بعد جب امریکہ نے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا، ملا عمر نے یہ مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا، انہیں یقین تھا کہ ’امریکہ کے پاس افغانستان پر حملے کا کوئی منطقی جواز نہیں۔ انہوں نے اپنی مجلس مشاورت کے سامنے تجزیہ پیش کیا کہ اسامہ بن لادن کا نیویارک حملوں میں ملوث ہونے کا ایسا کوئی ثبوت امریکہ کے پاس نہیں جو کسی عدالت میں پیش کیا جا سکے۔ اس لیے صرف دس فیصد امکان ہے کہ امریکہ افغانستان پر حملہ کرے گا اور اگر حملہ ہو گا بھی تو وہ محدود ہو گا۔‘ ملا عمر کا یہ تجزیہ کسی تبصرے کا محتاج نہیں۔ باقی تاریخ ہے۔
اپنے دوست کی لکھی ہوئی کتاب پر تبصرہ کرنا ایک مشکل کام ہے کہ اس میں تنقید کی گنجائش کم ہوتی ہے مگر وہ دوست ہی کیا جو دیانتدارانہ رائے نہ دے۔ سو میری دیانتدارانہ رائے وہی ہے جو میں نے بیان کر دی، رہی بات تنقید کی تو میرے خیال میں حبیب اکرم نے جہاں اہم واقعات بیان کیے ہیں، بہتر ہوتا اگر وہ ان کے حوالہ جات بھی لکھ دیتے۔ اسی طرح سوویت یونین حملے کا ذکر بھی انہوں نے سرسری انداز میں کیا ہے اور یہ فرض کر لیا ہے کہ قاری کو افغان جہاد کے بارے میں بتانے کی چنداں ضرورت نہیں حالانکہ افغانستان کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے سویت یونین کے حملے کے اسباب بیان کرنا ضروری تھے۔ ان دو اعتراضات کے علاوہ مجھے کتاب میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔ حبیب اکرم نے 2022 کے لیے اگر کوئی عہد نامہ بنایا تھا کہ امسال وہ کوئی بڑا کام کریں گے تو وہ سمجھیں کہ یہ کام انہوں نے جنوری میں ہی کر لیا ہے۔ اب بقیہ سال وہ اطمینان سے سو کر گزار سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada