قوت مشاہدہ کی طاقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میڈیکل طلباء سے متعلق یہ لطیفہ اکثر کسی نہ کسی سوشل میڈیا کی پوسٹ پہ مل ہی جاتا ہے جس میں ایک پروفیسر صاحب سب ہونہار اور غریب کا مفت علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے ہمراہ کسی ڈیڈ باڈی پہ تجربہ کر رہے ہوتے ہیں۔ پہلے دن ہی طلباء کو سبق سکھانے کی غرض سے ایک تجربہ کرتے۔ کہ اپنی انگلی اس ڈیڈ باڈی کی ناک میں گھسیڑ کر منہ میں ڈال لیتے ہیں اور سب طلباء کو یہی عمل دہرانے کو حکم صادر فرماتے ہیں۔ کسی کو یہ دیکھتے ہی ابکائی آئی ’کسی کا دل خراب ہوا اور کوئی منا بھائی کی طرح گیلے فرش کا بہانہ کر کے گر گیا۔ مرتے کو ماریں شاہ مدار‘ سب کو ہی اس ناخوشگوار عمل سے گزرنا پڑا۔ جب سب اپنی اپنی باری بھگتا چکے تو پروفیسر صاحب اپنی شان بے نیازی سے گویا ہوئے کہ ڈاکٹری میں سب سے ضروری اور اہم کام ’مشاہدہ‘ ہے۔ آپ لوگوں نے غور نہیں کیا کہ میں نے ڈیڈ باڈی کی ناک میں کوئی اور انگلی ڈالی تھی اور منہ میں دوسری انگلی۔

ایسے کئی ایک واقعات ہیں جو تواتر سے ہمارے گرد وقوع پذیر ہوتے آ رہے ہیں لیکن بہت ہی کم توجہ ان کی باریک بینی سے مشاہدے کی طرف جاتی ہے۔ اس جہاں کی ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ یہاں سب ایک جیسے نہیں ہیں ورنہ جو حضرت انساں خلد کی یکسانیت سے بیزار ہو گیا وہ یہاں کی یکسانیت سے بیزار ہو کے کہاں جاتا۔ چند احباب کو قدرت خداوندی خاص قوت مشاہدہ ودیعت کرتی ہے اور اس مشاہدے کے بل بوتے پہ وہ ایسا شاہکار تخلیق دیتے ہیں کہ ہر کسی کو وہ اپنے ہی من کی بات لگتی ہے۔

جب سے باوا آدم کو خلد سے نکالا گیا وہ اور ان کے بعد آنے والے سب لوگ تب ہی سے کام کاج جیسی مشقت میں جتے ہوئے ہیں۔ کام کے دوران سامان ’ہتھیار‘ اوزار ’برتن یا کوئی بھی ٹھوس چیز جب بھی گرتی تھی تو زمین ہی کی طرف گرتی تھی۔ درختوں سے پھل پک کے ہمیشہ زمین پہ ہی گرتا رہا۔ اس کا نظارہ بہت سوں نے کیا ہو گا۔ کئی حضرات نے باغ میں‘ امب چوپن ’جاتے ہوئے جب پتھر پھینکے تو آم زمین کی طرف ہی لپکا۔ ان سب اور کئی حضرات میں لیکن صرف ایک نیوٹن ہی کی قوت مشاہدہ تھی کہ جس نے کشش ثقل کا راز پا لیا تھا۔

یہ کشش ثقل اتنی ثقیل ثابت نہ ہوئی کہ ایک ہی جگہ پہ بندے کو بٹھا کے رکھ لے۔ اپنی سیلانی طبیعت کے باعث شہر بہ شہر گھومنے کے دوران بس یا ٹرین کا سفر ہم سب نے کسی نہ کسی موقعے پہ ضرور کر رکھا ہو گا۔ راستے میں آنے والے چھوٹے سٹاپ ’مسافروں کی دھکم پیل‘ سامان کی ترتیب اور سب سے ضروری پھیری والے اور ان کی مخصوص اصطلاحات اور پاٹ دار آواز بھلا کس نے نہیں سنی۔ اور جس وقت پھیری والوں کا رواج تھا تو اس دور کی بس کی بھی کیا شان تھی کہ نہ بس چل رہی ہے ’نہ بس چل رہا ہے۔ ان پھیری والوں کے طریقہ واردات کو شاعری میں انور مسعود صاحب نے ایسا پرویا کہ وہ ہر مشاعرے میں بھی اپنی نظم‘ جہلم دا پل ’سنائیں تو داد دیے بغیر کوئی نہ رہ سکے۔

داد کی بات ہو تو موسیقی اور فلم بینی کی چاشنی کے بغیر اس میں رنگ نہیں بھرا جا سکتا۔ جنہوں نے لاریوں میں سفر کیا ہے انہی نے سینما میں بھی ایک آدھ فلم دیکھ رکھی ہے۔ کہ اس عمر میں سینما کا تجسس کھینچے لیا جاتا تھا۔ آج بھی سپر ہٹ ڈرامے کی آخری قسط سینما میں چلائی جاتی ہے۔ وہاں کے مشاہدے کو بابا جی اشفاق صاحب نے اس خوبصورتی سے بیان کیا کہ بے اختیار نئے سرے سے ان کی بتائی ہوئی بات کے تناظر میں سینما جانے کو دل لوچنے لگتا ہے۔

جب بندہ فلم کے دوران سینما ہال میں داخل ہوتا ہے تو سب بتیاں بند ہونے کے باعث اس کے لئے اپنی نشست تک پہنچنا مشکل ہوجاتا۔ ابھی اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں جاری ہی ہوتی ہیں کہ سینما ہال کا ہرکارہ آپ کا سیٹ نمبر دیکھ کر ٹارچ آن کرتا ہے اور روشنی کے اس ہالے کی مدد سے آپ کی راہنمائی کرتا ہوا آپ کو آپ کی مطلوبہ سیٹ تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ معاملہ بھی کم وبیش سب سینما بین حضرات کے ساتھ پیش آ چکا ہوتا لیکن اس مشاہدے سے جو کھڑکی بابا جی اشفاق صاحب نے کھولی وہ بھی کمال کی ہے کہ اگر کبھی زندگی میں ایسے اندھیرے چھا جائیں کہ راستہ سجھائی نہ دے تو روشنی کے اس ہالے (اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات) کی طرف رجوع کرنا چاہیے ’وہ نور ہدایت ضرور آپ کو اپنی منزل تک پہنچا دے گا۔ لیکن اس کے لئے تردد کرنا پڑے گا کہ خود ہمت کر کے پہل کرنی ہو گی۔ سینما کے ہرکارے تک جائیں گے تو وہ روشنی کے ہالے سے سمت بتائے گا۔

ہر وقوع پذیر ہونے والا واقعہ اپنے آپ میں کچھ سبق رکھتا ہے ’ہر ہونی اپنے اندر کوئی عبرت رکھتی ہے‘ ہر شخص خود میں اک داستاں لیے بیٹھا ہے ’کہیں دور اگر نہ بھی جائیں اور اپنی ہی ذات کے عرفان کی تلاش کریں تو مشاہدات کا اک نیا جہان کھل جائے گا۔ ہر مشاہدہ کسی سبق یا کسی انجام تک پہنچائے گا اور یونہی چلتے چلتے بیڑی منزل کے پار لگ جائے گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments