سعادت حسن منٹو: افسانہ بو کی چھاتی اور چھاتی کا سرطان

موبائل فون کی گھنٹی بجی ٹرن۔ ٹرن۔ ٹرن۔ دوسری طرف سے ایک مشینی آواز آئی ”خواتین میں چھاتی کے سرطان کا خطرہ روزبروز بڑھ رہا ہے“ ۔ منٹو نے حیرت سے فون کو دیکھا اور فون بند کر دیا۔ تھوڑی دیر حیرت میں ڈوبے رہنے کے بعد دوبارہ فون ملایا۔ دو تین گھنٹیوں کے بعد پھر آواز آئی ”خواتین میں چھاتی کے سرطان کا خطرہ روزبروز بڑھ رہا ہے“ ۔ شدت حیرت سے منٹو گم صم رہ گیا۔ یہ خاتون کیا کہہ ر ہی تھی۔ وہ سوچوں میں گم تھا۔ اچانک وہ جیسے نیند سے بیدار ہوا۔
اس کی نظر ٹی وی سکرین پر پڑی جہاں نوجوان نیوز کاسٹر بازو پر گلابی ربن باندھے کہہ رہی تھی کہ حکومت نے اکتوبر کے مہینے کو خواتین میں چھاتی کے سرطان سے آگاہی دینے کے لیے مخصوص کیا ہے۔ اکتوبر کا پورا مہینہ ہرطرف ایک ہی رنگ چھایا رہا شوخ گلابی۔ تمام اہم عمارات نے گہری گلابی چنری اوڑھ لی۔ مزار قائد ’مینار پاکستان اور اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے ساتھ ساتھ کئی دفاتر گلابی روشنیوں میں بھیگے چمکتے رہے یونیورسٹیوں اور کالجوں کی طالبات اور خواتین اساتذہ کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین گلابی ربن باندھے سڑکوں پر واک کرتی نظر آئیں جن کی حوصلہ افزائی کے لیے کئی مرد حضرات بھی موجود تھے۔
منٹو نے اپنے وکیل کو فون کیا اور حکومت پر مقدمہ کرنے کو کہا۔ مقدمے کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی پورے سوشل میڈیا پر یہ خبر پھیل چکی تھی۔ خواتین سے متعلق کئی ادارے منٹو کے ساتھ کھڑے تھے۔
پہلی پیشی پر لاہور ہائیکورٹ کا احاطہ کھچا کھچ بھرا تھا۔ میڈیا کے نمائندے اپنی گاڑیوں کے ساتھ مکمل کارروائی کے لیے موجود تھے۔ سڑک کے دوسری طرف خواتین کا جم غفیر بازوؤں سر اور گردن کے گرد گلابی ربن باندھے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے موجود تھا
منٹو کی نظر خواتین کے مجمعے پر پڑی تو اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ اتنے میں عدالتی اہلکار نے آواز لگائی سعادت حسن منٹو حاضر ہوں۔
اسپیشل مجسٹریٹ رائے صاحب سنت رام کی عدالت میں مقدمہ پیش ہوا۔ منٹو کے وکیل نے پچھلے مقدمے کے۔ کاغذات پیش کیے جن میں منٹو کے افسانے ”بو“ پر کیے گئے اعتراضات اور عدالتی فیصلے کی کاپیاں موجود تھیں۔ جج صاحب نے منٹو کے وکیل سے پوچھا کہ اتنے عرصے بعد یہ مقدمہ دوبارہ کیوں کھولا گیا ہے۔ وکیل نے جواب دیا کہ منٹو پر افسانہ بو میں لفظ چھاتی استعمال کرنے پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔ سرکاری وکیل نے دخل اندازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو بہت پرانی بات ہے وہ مقدمہ تو ختم ہو گیا تھا۔
تھوڑی دیر وکیلوں کی۔ بحث کے بعد منٹو نے جج صاحب سے اجازت مانگی کہ اسے بولنے کی اجازت دی جائے۔ اجازت ملنے پر۔ منٹو بولا جج صاحب لفظ چھاتی اگر فحش ہے تو آج جگہ جگہ کیوں استعمال ہو رہا ہے۔ کیا زمانہ قیامت کی چال چل گیا ہے یا۔ منٹو کے الفاظ نے پاکیزگی کی چادر اوڑھ لی ہے۔ جس لفظ نے حکومتی ایوان ہلا کر رکھ دیے تھے آج حکومت ہی اس کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ میڈیا ہاؤسز پر اشتہارات چلائے جاتے ہیں تاکہ لوگوں میں شعور بیدار کیا جائے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ منٹو نے یہ بات وقت سے پہلے بھانپ لی تھی کہ عورت کا جسم اتنا ہی انسانی ہے جتنا مرد کا مگر آپ پڑھے لکھے لوگوں نے اسے سمجھنے میں اتنا وقت لگادیا۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد منٹو نے جیب ٹٹولی اور کچھ پیسے نکال کر سامنے رکھے اور بولا جج صاحب یہ وہ دو سو روپے ہیں جو اس مقدمے میں مجھ پر جرمانہ کیے گئے تھے اور میری اپیل پر واپس مل گئے تھے۔ عدالت سے درخواست ہے کہ انہیں سکۂ رائج الوقت کے مطابق کسی بھی ایسے اسپتال کو میری طرف سے عطیہ کر دیا جائے جو خواتین میں چھاتی کے سرطان کا مفت علاج فراہم کرتا ہو۔

