سدھارت نے ثائنہ نہوال سے اپنی ٹویٹ پر معافی مانگ لی
یہ الفاظ ہیں رنگ دے بسنتی فلم سے شہرت پانے والے بالی وڈ اداکار سدھارت کے جن کے ذریعے انھوں نے منگل کی شب ٹوئٹر پر انڈیا کی بیڈمنٹن سٹار ثائنہ نہوال سے اپنی ہی ایک ‘سیکسسٹ’ یعنی صنفی طور پر متعصبانہ قرار دی جانے والی ٹویٹ پر معافی مانگی جس میں انہوں نے ذومعنی الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
یہ تنازعہ کیسے اور کیوں شروع ہوا؟
حیران کن بات یہ ہے کہ انڈیا کی فلم اور سپورٹس انڈسٹری سے جڑے دو سٹارز کے درمیان ٹوئٹر پر یہ تنازعہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی ذات سے شروع ہوا۔
واضح رہے کہ ثائنہ نہوال جو بیڈمنٹن میں اولمپک میڈل جیتنے والی انڈیا کی پہلی کھلاڑی ہیں دو ہزار بیس میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کر چکی ہیں جب کی سدھارت کا شمار ایسے فلم سٹارز میں ہوتا ہے جو انڈین وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی پر تنقید کرنے سے نہیں چوکتے۔
https://twitter.com/Actor_Siddharth/status/1480962679032324097
یہ معاملہ شروع ہوتا ہے پانج جنوری کو جب وزیر اعظم نریندر مودی انڈین پنجاب کے ضلع فیروزپور میں ایک ریلی سے خطاب کرنے جا رہے تھے جہاں اپوزیشن جماعت کانگریس کی حکومت ہے۔ وزیراعظم کا قافلہ سرحدی گاؤں حسینی والا سے 30 کلومیٹر پہلے ایک فلائی اوور پر 15 سے 20 منٹ تک پھنس گیا تھاکیوں کہ وہاں مظاہرین نے سڑک بلاک کر دی تھی۔
اس واقعے کو سکیورٹی کی کوتاہی قرار دیا گیا اور حکمران بی جے پی کے حامیوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس دوران وزیر اعظم کی زندگی کو خطرہ بھی ہو سکتا تھا۔ یہی بحث انڈین سوشل میڈیا پر بھی نظر آئی جہاں ثائنہ نے بھی لکھا کہ اگر ایک ملک اپنے وزیر اعظم کی حفاظت نہیں کر سکتا تو پھر عوام خود کو کیسے محفوظ تصور کر سکتے ہیں۔
سدھارت کا ثائنہ کو جواب اور ذومعنی لفظ کا استعمال
ثائنہ کی جانب سے ٹوئٹر پر اس رائے کے اظہار پر سدھارت کی جانب سے ردعمل دیا گیا جس میں انھوں نے ایک ایسے انگریزی لفظ ‘کاک’ کا استعمال کیا جس کے معنی مرغے کے طور پر بھی لیے جا سکتے ہیں اور مردانہ عضو کے طور پر بھی۔ یاد رہے کہ ثائنہ بیڈمنٹن چیمپیئن ہیں جس میں شٹل کاک کا استعمال ہوتا ہے۔
سدھارت نے لکھا کہ ‘کاک چیمیئن آف دی ورلڈ۔۔۔شکر ہے انڈیا کو محفوظ رکھنے والے موجود ہیں۔’
چھ جنوری کو کی جانے والی اس ذومعنی ٹویٹ نے انڈین سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر دیا اور سدھارت کو سیاسی اکھاڑے کے دونوں اطراف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
انڈین گلوکارہ چنمئی سریپڈا نے سدھارت کے جملے کو انتہائی ناگوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘تم نے وہی کیا جس کے خلاف عورتیں لڑائی لڑ رہی ہیں۔’ انڈیا میں نیشنل کمیشن برائے خواتین کی جانب سے ٹوئٹر کو باضابطہ درخواست دی گئی کہ سدھارت کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بلاک کر دیا جائے۔
یہی نہیں بلکہ ان کی جانب سے مہاراشٹرا ریاست کی پولیس کے نام بھی درخواست بھیجی گئی کہ سدھارت کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
سدھارت کی جانب سے وضاحت کی کوشش
تنقید بڑھی تو سدھارت نے دس جنوری کو وضاحت دینے کی کوشش کی۔ اس بار انھوں نے لکھا کہ ان کے جملے سے غلط مطلب اخذ کیا جا رہا ہے کیوں کہ انھوں نے انگریزی محاورے ‘کاک اینڈ بل’ کا اشارہ دیا تھا یعنی مرغے کی بات ہو رہی تھی۔
سدھارت نے لکھا کہ ‘کچھ اور سمجھنا بلکل بھی درست نہیں ہے اور میری کسی کی بے عزتی کرنے کی کوئی نیت نہیں تھی۔’
لیکن اس وضاحت نے جلتی پر تیل کا کام دکھایا اور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ انڈین ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز میں اس پر بحث ہونا شروع ہو گئی۔
ثائنہ نہوال کی جانب سے رد عمل میں انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو کہا گیا کہ ‘وہ جملہ اچھا نہیں تھا۔’ انہوں نے کہا کہ وہ (سدھارت) بہتر الفاظ کا انتخاب کر سکتے تھے لیکن شاید ٹوئٹر پر ایسے الفاظ سے لوگ نوٹس ہونا پسند کرتے ہیں۔’
سدھارت نے اپنی دونوں ٹویٹس کو ہی ڈیلیٹ کر دیا یعنی جس میں پہلے ذومعنی جملہ لکھا گیا تھا اور بعد میں کی جانے والی وضاحت کی ٹویٹ بھی ہٹا دی گئی۔
سدھارت کی معافی
منگل کی رات سدھارت کی جانب سے ثائنہ نہوال کے نام معافی بھری ٹویٹ لکھی گئی جس میں انھوں نے لکھا کہ وہ اپنے مذاق پر معافی مانگتے ہیں۔
سدھارت نے لکھا کہ ‘آپ سے اختلاف کے باوجود مجھے کوئی حق نہیں کہ میں اس طرح کی زبان کا استعمال کروں چاہے مجھے آپ کی کسی بات سے کتنا ہی دکھ اور مایوسی کیوں نہ ہوئی ہو۔
‘اگر ایک مذاق کی وضاحت کرنی پڑ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اچھا مذاق ہی نہیں تھا۔ لیکن لفظوں سے کھیلنے کے پیچھے ایسی کوئی بدنیتی نہیں تھی جیسا کہ لوگ سمجھ رہے ہیں۔ نا تو اس کا جنس سے کوئی تعلق تھا اور نا ہی میرا ارادہ عورت ذات پر حملہ کرنے کا تھا۔’
سدھارت نے لکھا کہ انہیں امید ہے کہ ثائنہ انہیں معاف کر دیں گی۔

