کاش کی حسرت مکینی اور فرزند چاہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری اکثریت کاش کے گھروندوں کی حسرت مکین ہے۔ ہم یوسف تو نہیں، پر ہم میں سے ہر ایک اس بات پر مصر ہے کہ اسے فرزند چاہ (کنویں کا بیٹا) کہا جائے جو اپنوں کے ہاتھوں کنویں میں دھکیلا گیا ہے۔ ایسی کشتی کا سوار جس کو ہمiشہ اس کا مانجھی ڈبو دیتا ہے۔ ایسا غیر مومن جو کئی بار ایک ہی بل سے ڈسا گیا ہے۔

ہماری کل معاشرت، سیاست سے لے کر حاکمیت تک یوسف کے بھائیوں سے متاثر نظر آتی ہے۔ ایک باپ کی اولاد ہوتے ہوئے بھی اپنی حسرتوں کے مسکن میں خود کو نظر بند کیے ہوئے۔ کینہ و حسد سے لبریز اپنے خون کے رشتوں کو چاہ برد کرنے کو بیتاب۔ لاکھ ہزیمت اٹھانی پڑے تو بصد مسرت قبول، لیکن دل آشفتہ کو سکون تب ہی میسر ہو پاتا ہے جب کسی مونس کی بیتابی کا بہم مشاہدہ ممکن ہو۔

عجب نہیں کہ جس دن میڈیا نے دکھایا کہ ایک نومولود کو کسی کتے نے اسپتال پہنچا کر اس کی جان بچائی ہے، اسی دن یہ گمان کر لیا گیا ہو کہ ایسی حرکت کو کتوں والی حرکت کہتے ہیں کہ جس کا انسانوں کی روش سے کوئی تعلق نہیں۔ انسان کو بھلا کہاں شوبھا دیتا ہے کہ وہ حرکات کرے جو کتوں میں پائی گئی ہوں۔

انسان کا تو شیوا ہے کہ ایک دوسرے کو کاٹ کھالیں۔ یہ انہی کی ہنر مندی ہے کہ اذیت پسندی میں سکون اور سکونت اختیار کرنا سیکھ گئے ہیں۔ پیاسے بچوں کے بلکنے کی قیمت لگانے کا ہنر بھی کوئی ان سے سیکھے۔ ایسے ظالم کے یذیدیت بھی ان کے سامنے انگشت با دندان نظر آتی ہے۔ ان کو پیاسوں کی بیعت تک نہیں چاہیے۔ بیعت تو خالی ہاتھ پر لی جاتی ہے، یہ تو خالی ہاتھوں کو جھٹک دیتے ہیں۔

مری میں پھنسی وہ ایک کار کہ جس میں ایک بچی کے ہاتھ میں سلانٹی کا پیکٹ تو تھا پر وجود جاں بلد۔ وہ پرسکون لاشیں کہ جیسے ایک مسافت سے تھک کے سو گئے ہوں گویا، کیا مرنے سے پہلے بھی اتنی پرسکون رہی ہوں گی ۔

سوچتا ہوں کیا اب بھی ساکنان مری سکون سے سو جاتے ہوں گے ۔ کیا مری کی راہوں پر بکھرے مرگ زار سے اب بھی ان بے نواؤں کی صدائیں، چیخیں ان کو بے چین نہیں کرتیں۔

اگر نہیں تو پھر فرزند چاہ کا تو خدا حافظ رہے گا مگر انسان کو نوید دے دیں کہ وہ اپنی حسرتوں کے مسکن میں مر کیا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments